گورنر سندھ تبدیل۔’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
ڈاکٹر عشرت العباد خان اپنی 14سال کی گورنری مکمل کر کے رخصت ہوئے۔ وہ سندھ کے 30ویں گورنر تھے ، انہیں کم عمر گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے میعاد کے اعتبار سے بھی ان کا ریکارڈمستقبل میں شاید کوئی نہ توڑ سکے ۔ میاں نواز شریف نے کراچی سے تعلق رکھنے والے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کردیا۔ تبدیلی نہ تو حیران کن اور نہ ہی اچانک ہوئی۔ ماضی قریب کے حالات اور واقعات کی گہما گہمی ، الزامات کی گولا باری اور سیاسی صورت حال اس جانب اشارہ کر رہی تھے کہ ڈاکٹر عشرت العباد کی عشرت کے دن گنے جا چکے، انہیں کسی بھی وقت اس عہدے سے رخصت کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی صورت حال اس بات کی متقاضی تھی کہ موصوف کو رخصت کردینا ہی مناسب ہی مناسب تھا لیکن نواز شریف کسی مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے ۔عشرت العباد کی رخصتی کے آثار اس وقت تمایاں ہوگئے جب ان کی اپنی سابقہ جماعت کے منحرف یا سابق ساتھی اور پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے اپنی توپوں کا رخ ان کی جانب کیا اور ان پر شدید قسم کے الزامات عائد کیے ۔رہی سہی کثر اس وقت پوری ہوگئی جب کمالی الزامات کے جواب میں خاموش طبع ، نرم مزاج، دھیمے لب و لہجہ رکھنے والے عشرت العبادنے جوابی بم کے گولوں کی بارش مصطفیٰ کمال پر کر ڈالی اور وہ پھٹ پڑے ، ان کا لب و لہجے، انداز ،زبان ، جملے ماضی کے عشرت العباد سے قطعی مختلف تھے۔ دیکھنے اور سننے والوں نے جب ڈاکٹر عشرت العباد کی وہ گفتگو سنی توانہیں اُسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ بس اب گورنر صاحب کی ہوئی چھٹی۔ غلط یا صحیح اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ جنہوں نے برسوں ایک ہی تھالی میں کھایا، ایک ہی لیڈر کو دیوتا اور گرو کا درجہ دیتے رہے ہوں، ایک ہی تالاب میں اشنان کرتے رہے ہوں ،ایک نے 14 سال گورنری کے مزے لو ٹے تو دوسرابھی اسی قائد کے کاندھوں کا سہارا لے کر کراچی جیسے بڑے شہر کا مختار کل ٹہر ہوا۔ سب کچھ حاصل کر لینے کے بعد اب ایک دوسرے کے مردمقابل دست گریباں ہیں۔ دال میں کچھ تو کالا ہے۔ اس بات کا فیصلہ بھی آنے والا وقت ہی کرے گا۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سندھ 14 سال گورنر ی کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے۔ان کی اس خصوصیت و انفرادیت کو شاید ہی کوئی تبدیل کر سکے گا۔ 14سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا ، اس دوران انہوں نے صدر جنرل (ر) پر ویز مشرف ، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی حکومت کے تین سالوں میں گورنری کے ایسے جوہر دکھائے کہ کسی نے بھی انہیں اس عہدے سے ہٹانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہاانہوں نے آپ کواس قدر مستحکم اور مضبوط کر لیا تھا کہ حکومتیں آتی رہیں ، حکومتیں جاتی رہیں اور وہ گورنری کے منصب پر خوبصورتی سے براجمان رہے۔گویا راوی نے 14سال عشرت کی قسمت میں عشرت ہی عشرت لکھ دی تھی اور موصوف نے عیش و عشرت سے زندگی گزاری جس لمحے گورنری کا سلسلہ منقطع ہوا اُسی لمحہ تمام تر سرکاری پرٹوکول کے ساتھ یہ جا اور وہ جا ۔ ان کی رخصتی کے لمحات دیکھ کر پرویز مشرف کی ایوان صدر سے رخصی یاد آگئی۔اسے کہتے ہیں سیاست، ایک وہ بھی سیاست تھی کہ مسند وزارت عظمیٰ سے جیل کی سلاخیں اور جیل سے سیدھے جدہ منتقلی ، اپنا اپنا انداز اور اپنی اپنی سیاست۔

ڈاکٹر عشرت العباد کو کیوں ہٹایا گیااس کی وجوہات کوئی پیچیدہ اور نہ سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اُن سے جس نے جو کام بھی لینا تھا وہ لے لیاگیا تھا اب وہ کسی کے کام کے نہیں رہے تھے۔ان کی حیثیت گنے کے اس پھوسے کی سی ہوگئی تھی جس سے جوس نکال لیا گیا ہو۔ انہیں جس نے جنم دیا تھا، گورنر کی کرسی کے لیے انتخاب کیا تھا اُسی نے انہیں اپنی اپنا ماننے سے انکار کردیا،یہی نہیں بلکہ اپنے قبیلے سے خارج کر کے قبیلے والوں سے کہا کہ خبر دار اب اس شخص سے کوئی تعلق نہ رکھنا اب اس شخص سے ہمارا اور ہماری جماعت کا کوئی لینا دینا نہیں۔ جس جماعت سے اس کا تعلق تھا اس کے بھی حصے بخرے ہوگئے ایک لندن میں باقی کراچی میں اور وہ بھی باہم دست و گریباں ۔ نون لیگ اپنابنانے کا تیار نہیں گورنری سے فارغ کرنے میں بھی پس و پیش، زرداری صاحب نے اپنے دور میں جو کام لینا تھا ان سے لے لیا اب ان کے اور ان کی جماعت کے کام کے بھی نہیں رہ گئے تھے۔ میاں صاحب وقت کا انتظار کررہے تھے کہ جوں ہی موقع ملے موصوف کو چلتا کروں۔ڈاکٹر عشرت بہ اخلاق انسان تھے، نرم مزاجی، شگفتہ بیانی، دھیمہ لہجہ رفتہ رفتہ تعلقات ہر سطح کے بڑے بڑے لوگوں سے ہوگئے تھے۔ان میں سیاسی،غیر سیاسی، عسکری، بیوروکریٹس ، تاجر اور دگیر شامل تھے۔کچھ عرصے سے تعلقات نا خوشگوار تھے،گورنر صاحب ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، کبھی کوئی بہانہ کبھی کوئی مشکل ، کبھی کوئی عذر ،آخر لندن کے باسی کب تک ان کی بہلانے پسلانے میں آتے، گزر بسر مشکل ہوگئی تھی۔ انہیں بہت ڈرایا دھمکا یا لیکن انہوں نے بہت سے کام نہیں کیے پھر تو نوبت علیحدگی تک آنا ہی تھی۔ مصطفی کمال کو کہی سے خبر ملی کہ موصوف تو دوہری شہریت رکھتے ہیں ، خبر کیا ملی یہ سب ایک ہی تھالی کے چ ب ہیں اب راہیں جدا ہوگئیں تو کیا ہوا۔ دوہری شہریت تو اپنی جگہ اور بے شمار قسم کے الزام در الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی کے نون لیگیوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ الطاف حسین کے ان دونوں سابقہ چیلوں کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کوئی نہ کوئی رنگ ضرور لائے گی۔ میاں صاحب کراچی سے تعلق رکھنے والے بزرگوں پر زیادہ مہربان رہے ہیں، یہاں کی جوان قیادت پر ان کی نظر کم ٹہرتی ہے۔ نہال ہاشمی پر نہیں معلوم وہ کیسے نہال ہوگئے۔ شاید ان کے سفید بالوں سے دھوکا کھا گئے، انہیں لگا کہ یہ بھی ستر کے پھیرے میں آچکے ہیں۔

جسٹس سعید الزماں صدیقی پرمیاں صاحب اس وقت سے مہربان ہیں جب جسٹس صاحب نے پرویز مشرف کے پی سی او کے احکامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اس وقت وہ چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ جسٹس صاحب کا یہ اقدام جمہوریت کے لیے تو بہتر تھا ہی میاں صاحب کے لیے یہ پسندیدہ فعل تھا۔ بس میاں صاحب نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے ہی جسٹس صاحب کو اپنی نظروں کا تارا بنا لیا تھا لیکن کیا کیجئے ہمارے ملک میں ہمیشہ وفادار اور مشکل کا ساتھی ہونا علمیت اور قابلیت پر حاوی آتا رہا ہے۔ میاں صاحب کی واپسی ہوئی ، پرویز مشرف رخصت ہوئے، صدارتی انتخاب میں ایک جانب پیپلز پارٹ کے امیدوار زرداری صاحب تھے تو دوسرے جانب میاں صاحب کو کسی مضبوط امیداوار کو لانا تھا چنانچہ جسٹس صاحب آزاد حیثیت میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نون کے مشترکہ امیدوار ٹہرے۔ میاں صاحب کو علم تھا کہ زرداری صاحب کا پلڑا بہت بھاری ہے ، ان کا مخالف امیدوار کچلا جائے گا لیکن جسٹس صاحب کی حمایت کر کے ان پر اپنی حمایت کا لیبل لگا دیا۔زرداری صاحب فاتح قرار پائے اور پانچ سال ایوان صدر کو اپنی موجودگی سے فیضیاب کرتے رہے۔2013 کے انتخابات میں میاں صاحب نے مرکز کو قابو کرلیا ، پنجاب تو تھا ہی ان کا ، پاکستان پیپلز پارٹی میدان سے باہر ہوکر صرف سندھ تک محدود ہوگئی۔ اب دوبارہ صدر کے انتخابات کا مرحلہ آیا، زرداری صاحب نے اپنی مدت پوری کر لی تھی ، صدارت کی کرسی خالی ہوگئی ۔ اس بار میاں صاحب کے پاس بہت واضح اختیار اور طاقت تھی، اگر وہ کمزور سے کمزور شخص کو بھی صدارت کے لیے کھٹر ا کردیتے تو وہ صدر بن جاتا ۔ یہ بات تھی 2013ء کی اس وقت جسٹس صاحب اس قدر کمزور نہ تھے، عمر بھی کم رہی ہوگی۔ ان کا نام بھی اس عہدے کے لیے گردش کرتا رہا اور وہ ہر اعتبار سے مناسب تھے۔اعلیٰ تعلیم ، تجربہ ، بہ اصول بہ کردار، ایماندار اور پاکستان سے محبت کرنے والا محب وطن سب کچھ تو تھا ان میں پر ایک چیز کی کمی تھی وہ نون لیگ کے رکن نہیں تھے، نہ ہی میاں صاحب کے دربار کا حصہ تھے۔ عین وقت پر نہیں معلوم کس نے میاں صاحب کو کیا پٹی پڑھائی کہ علمیت ، قابلیت، لیاقت،اصول پسندی، بہ کرداری شکست کھاگئی اور وفاداری،جان نثاری اور درباری ہونا سبقت لے گیا۔ کراچی کے ایک اور بزرگ جو میاں صاحب کے بہت پرانے ساتھیوں اور وفاداروں میں سے تھے وہ میاں صاحب کا انتخاب ٹہرے ، میاں صاحب نے پاکستان کی صدارت کا تاج ان کے سر سجا دیا ، ممنون حسین باقاعدہ نون لیگی تھے جب کہ جسٹس صاحب نے باقاعدہ نون لیگ جوائن نہیں کی تھی۔فیس بک کے ایک دوست شاعر ضیاء شہزاد نے خدمتِ عالی کے عنوان سے یہ قطعہ کہا جو دلچسپ ہے ؂
ہیں کس قدر شریف ہمارے یہ حکمراں
تھالی میں رکھ کے دیتے ہیں لوگوں گورنری
حق بھی نمک کا دینے میں کرتے نہیں ہیں چوک
دیتے ہیں یہ صلے میں بھی منصب صدارتی

جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی 80کے قریب قریب کے ہوچکے ہیں، ضعیفی، کمزوری، بیماریاں وغیرہ وغیرہ کے باوجود میاں صاحب نے ان سے ملاقات کر کے یہ نہیں دیکھا کہ جسٹس صاحب کس حال میں ہیں، بقول جسٹس صاحب میاں صاحب نے فون کیا اور اپنا فیصلہ سنا دیا، اگر میاں صاحب نے اپنے کسی نہال ہاشمی جیسے درباری کو ان کے پاس بھیجا بھی ہوگا تو اس درباری کی کیا مجال کہ وہ یہ رائے دیتے کہ میاں صاحب ان کی صحت کی صورت حال کیا ہے اور آپ ان پر کیسی بھاری ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ جسٹس صاحب نے بھی گھر آئی نعمت کو ٹھکرانا مناسب نہ سمجھا اور خوشی خوشی میاں صاحب سے قبول ہے ، قبول ہے ، قبول ہے کہہ دیا۔ اﷲ جسٹس صاحب کو یہ بوجھ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، انہیں ہمت اور طاقت دے ، انہیں تمام تر بیماریوں سے شفاء کاملہ عطا فرمائے اور وہ کراچی اور اہل سندھ کی خدمت کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت تو ان کی خدمت کرنے کا ہے نہ کہ وہ بیچارے ہمارے صوبے کی خدمات کریں۔ جمعہ ۱۱نومبر کو انہوں نے حلف بھی اٹھا لیا ہے اور سابقہ گورنردن کی روشنی میں حکومتی ادب و آداب کے ساتھ رخصت ہوچکے ہیں ، انہیں دبئی یا لندن چلے ہی جانا تھا اوروہ دبئی چلے بھی گئے اس لیے کہ یہاں رہنا اب ان کے لیے آسان نہ ہوتا۔ وہ اور ان کے بیوی بچے گورنر ہاؤس کی خوشگوار آ ب وہوا کے عادی ہوچکے تھے ایسی آب ہوا اور ایسا ماحول اب انہیں میسر آنا ممکن نہیں ہوتا۔بہت ممکن تھا کہ انہیں پرویز مشرف کی طرح عدالتوں کے چکر لگانا پڑجاتے، اس لیے انہوں نے مناسب یہی جانا کہ سرِ دست سابق صدر زرداری اور پرویز مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک سے باہر خوش گوار فضاء کے مزے لیے جائیں۔ ابھی ان کا ہوائی جہاز کراچی کی فضاؤں کو خیرباد کہتا ہوا دبئی کی فضاؤ ں میں داخل ہی ہوا ہوگا کہ سینیٹر نہال ہاشمی نے رخصت ہونے والے گورنر اور متحدہ پرتیروں کی برسات کردی ۔ان کے خلاف ایسا زہر اگلا ، ایسی زبان اور جملے استعمال کیے ، محسوس ہوتا تھا کہ جس زہر کو انہوں نے عرصہ دراز سے اپنے اندر بہ مشکل تمام دباکر رکھا ہوا تھا اسے حلف برداری کی تقریب ختم ہوتے ہی اگل دیا ۔ نہال ہاشمی کی کیا حیثیت رہ گی جب وفاق نے اور نون لیگ نے اس شخص کے بیان کو اس کی اپنی ذاتی رائے قرار دے کر رد دیا۔ اس بات کا اعلان باقاعدہ نون لیگ کی خاتون وزیر اطلاعات نے میڈیا پر کیا۔موصوف کا خیال ہوگا کہ وہ اس قسم کی زہر افشانی کر کے میاں صاحب کا دل جیت لیں گے لیکن تدبیریں کام نہ آسکی الٹا ان کی پوزیشن خوداپنی جماعت میں جو پہلے ہی کچھ نہ تھی رہی سہی بھی جاتی رہی۔ بقول میرتقی میرؔ ؂
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

نہال ہاشمی کا سیاست میں کیا مقام و مرتبہ ہے سب کو معلوم ہے،سیاست کے کھلاڑیوں کی مصیبت یہ ہے کہ یہ نمبر بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، کبھی کبھی ان کی ہوشیاری اور چالاکی الٹی ان کے گلے پڑجاتی ہے۔ان کی حیثیت یہ ہے کہ یہ اپنے حلقے سے کونسلر کا الیکشن نہیں جیت سکتے، میاں صاحب نے انہیں پنجاب کی سیٹ پر سینیٹر محض اس وجہ سے بنایا کہ میاں صاحب کو کراچی کا کوئی بندہ سینٹ میں ایسا درکار تھا جو سندھ اور کراچی سے تعلق رکھتا ہو ۔ عشرت العباد میں خامیاں ہوں گی لیکن ان کے خلاف نہال ہاشمی کی بد زبانی کو بشمول ان کی جماعت کے کسی سیاسی جماعت نے اچھا تصور نہیں کیا سب نے ان کے بیان کی مذمت کی۔ متحدہ کے تمام دھڑوں نے تو کرنی ہی تھی۔ نئے گورنر اپنی ذات میں انتہائی شریف النفس انسان ہیں۔ لکھنؤ کے رہنے والے ہیں۔ جامعہ کراچی، لکھنؤ اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے، جج ہوئے پھر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے جج اورپھر چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ نواز شریف صاحب کی دوسری مرتبہ کی حکمرانی میں پرویز مشرف نے سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا تختہ الٹا اور حکومت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پی سی او کے احکامات جاری کیے جس کے تحت عدلیہ کے تمام ججوں کو پی سی او کے تحت حلف لینے کا پابند بنا یا گیا لیکن جسٹس سعید الزماں صدیقی نے پرویز مشرف کے اقدامات کے آگے سر نہیں جھکا یا اور پی سی او کا حلف لینے کے مقابلے میں گھر چلے جانا مناسب جانا۔ ان کے اس عمل سے لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت و احترام گھر کر گیا جو آج بھی پایا جاتا ہے۔ انہوں نے جسٹس (ر) افتخار چودھری کی طرح کھلے بندوں پرویز مشرف کی سیاسی مخالفت بھی نہیں کی، نہ ہی کسی جماعت میں شامل ہوئے ،اپنا الگ تشخص برقرار رکھا۔ جو سچ اورصحیح ہوتا اسے درست کہتے جو غلط ہوتا اُسے غلط کہتے۔ ان کے اسی عمل کا نتیجہ ہے کہ میاں صاحب نے سندھ کے گورنر کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ یقینا میاں صاحب کو کچھ اندازہ ضرور ہوگا کہ جسٹس صاحب کی عمر کیا ہے اور ان کی صحت کی صورت حال کیا ہے لیکن انہوں ان سب باتوں کے باوجود انہیں اس منصب پر فائز کیایہ ان کا بڑا پن ہے۔اگر نون لیگ کے کسی اور نہالی پر نہال ہوجاتے تو سندھ کے سیاسی حالات مختلف ہوتے۔ اچھا ہی ہوا کہ انہوں نے ایک غیر سیاسی شخصیت کو اس اہم عہدے کے لیے منتخب کیا۔جسٹس سعید الزماں صدیقی کو اگر بر وقت یہ اعزاز دے دیا جاتا تو یقینا سندھ کی صورت حال ہر اعتبار سے بہتر ہوتی۔اب جب کہ خود نواز حکومت کے پاس ڈیڑ سال باقی ہے ، سندھ کے حق میں یہ فیصلہ مناسب توہے لیکن بہت دیر ہوچکی ہے۔ معروف شاعرداغؔ دہلوی کے مطابق ؂
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہر باں آتے آتے

کہتے ہیں کہ جتنے منہ اتنی باتیں ، نہال ہاشمی کی زہر افشانی کے علاوہ بھی سو شل میڈیا پر بے شمارلوگ اپنے اپنے طور پر جسٹس صاحب کی صحت کے حوالے سے مزاحیہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ در اصل جس وقت جسٹس صاحب کے باقاعدہ گورنر مقرر کرنے کا اعلان ہوا اور میڈیا ان کے گھر پہنچا جہاں نون لیگ کے نمائندے کے طور پر نہال ہاشمی بھی وہاں موجود تھے جسٹس صاحب کی جو جہلک اس وقت میڈیا نے دکھائی ، اس وقت وہ عام لباس میں میڈیااور سرکاری کارندوں کو خدا حافظ کہنے اپنے گھر کے دروازے پر آئے اس میں وہ بہت ہی کمزور اور لاغر سے نظر آئے۔ اس پر ایک بھونچال آگیا ان کی عمر ، صحت اور ظاہری صورت حال کا چرچا ہر ایک کی زبان پر آگیا حالانکہ حلف برداری کی تقریب میں جس میں انہوں نے سوٹ پہنا ہوا تھا وہ اس قدر کمزور اور لاغر دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ آج کل ان کی طبیعت ناساز ہو،کراچی میں موسم کی تبدیلی کے باعث نزلہ، زکام، بخار اور دیگر وائرس پھیلا ہوا ہے ، کچھ دن میں وہ صحت مند ہوجائیں گے اور معمول کے کام انجام دینے لگیں گے۔ سوشل میڈیا میں اس صورت حال پر دلچسپ مکالمے ، مزاحیہ انداز میں جملے بازی کاچرچا ہورہا ہے۔ کہا گیا ’اچھے انسان ہیں بزرگ ہیں سندھ کے ساتھ مذاق چلتا رہتا ہے‘، مرتضیٰ گھنگرو نے جملہ کسا کہ ’واہ میاں صاحب ایک صدر دیا صدر ممنون حسین کہا سندھ کو نمائندگی دی۔ اب جسٹس سعید الزماں صدیقی گورنر سندھ بنا کر احسان کیا گیا ہے‘۔طیب اقبال نے اس صورت حال اچھوتے انداز سے بیان کی اور حکومت پر جملہ بھی کسا انکا کہنا ہے کہ ’عام سی نوکری کے لیےNTSٹیسٹ گورنر اور صدر کے لیے صرف نبض چلنی چاہیے‘۔ اسحاق خان اسحاق کا مزاق دیکھئے ’زرداری نے قائم علی شاہ کو ہٹا کر بڑی زیادتی کی ورنہ کمال کی جوڑی بنتی‘۔ایک اور مزاق دیکھئے جو عبد الحکیم خلجی نے کیا لکھتے ہیں ’ نئے گورنر سندھ کی حالت دیکھ کر حکومت کو ان کے پرٹوکول میں ایک عدد ایمبولینس ، ایک عدد ڈاکٹر اور ایک نرس کا اضافہ کرنا چاہیے‘۔ رعنا مظہر حسین کی سنیئے کہتے ہیں’گورنر سندھ سعید الزماں کی صحت کی صورت حال دیکھ کر ان کی تقریب حلف برداری آغا خان اسپتال کی ایمرجنسی میں منعقد کر وانے پر غور داکٹروں کی چھٹیاں منسوخ‘۔ نسیم خان نسیم نے کہا کہ ’قابل انسان ہیں لیکن وقت گزرنے کے بعد ان سے کام لینے کا فیصلہ کیا ‘۔یہ سب کچھ مزاق ہے ، اﷲ جسٹس سعید الزماں صدیقی کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے، انہیں عمر صحت کے ساتھ عطا فرمائے ۔ (12نومبر2016ء)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 753 Articles with 640171 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
14 Nov, 2016 Views: 272

Comments

آپ کی رائے