ٹرمپ فاتح ۔ہیلری کو شکست

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

ڈونالڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن

پروگرام کے مطابق امریکہ کے انتخابات کا نتیجہ آجانے کے فوری بعد مجھے ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح اور ہیلری کلنٹن کی ناکامی پر لکھنا تھا۔ انہی دنوں میں ایک مضمون ’مکتوباتی ادب‘ کے حوالے سے لکھ رہا تھا ، سوچا کہ کسی طرح اسے مکمل کر لوں پھر امریکیوں کے فیصلے پر قلم اٹھاؤں گا۔ ابھی یہ دو موضوعات گردش میں تھے کہ اچانک سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان کی عشرت کا خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔ میرے نذدیک یہ سیاسی عمل اچانک تو تھا لیکن غیر معمولی ہر گز نہیں تھا۔ اس لیے کہ ایسا تو ہونا ہی تھا، بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ البتہ لمحہ موجود میں نئے گورنر جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کی صحت اور ان کی ظاہری کیفیت دیکھ کر اس اہم عہدے کے لیے ان کا انتخاب کرنے والے کی سنجیدگی اور اس کی ذہنی صحت پر حیرت اور پریشانی ضرور ہوئی۔ چنانچہ اپنے دونوں کالموں کو پسِ پشت ڈال کر پہلے ڈاکٹر عشرت العباد کی رخصتی اور نو منتخب گورنر جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کی تقرری کے بارے میں لکھنا ضروری جانا اور یہ کالم بعنوان’’گورنر سندھ تبدیل۔’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘ لکھا جو سوشل میڈیا پر آ ن لائن ہوچکا ہے۔

امریکہ میں انتخابات معمول کی کاروائی ہوتے ہیں، نہ لڑائی ، نہ جھگڑا، نہ سرپھٹول،نہ گولی، نہ دھماکے ، معمول کی سرگرمیاں ہوئیں اور ہار جیت ہوگئی۔ امریکہ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں صدارتی نظام حکومت کے ساتھ جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ ہر چار سال بعد امریکی اپنے نئے حکمران کاانتخاب کرتے ہیں۔ انتخابات میں جلسے ، جلوس، شور، شرابا، ڈیبیٹ، مذاکرے ہوتے ہیں جن میں امیدوار اپنے اپنے حق میں دلائل دیتے ہیں اور بس ۔ لیکن ہمارے ملک کا تو بابا آدم ہی نرالا ہے، انتخابات میں ہنگامہ آرائی، مارپٹائی، مخالفین کے لیے خراب سے خراب القابات و جملوں کا استعمال ، یہاں تک کہ خون خرابے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آتے ہیں پاکستانی عوام ایک عجیب قسم کے خوف اور ڈر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں اس قسم کی صورت حال پیش نہیں آتی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کی عمر کم اور فوجی حکمرانی کی عمر زیادہ رہی ہے۔ ہمارے جمہوری اور عسکری حکمرانوں نے جمہوریت کے لیے عوام کے ذہنوں کو تیار ہی نہیں کیا۔

بات امریکہ کے حالیہ انتخابات کی کرنا ہے جس میں امریکہ کی ایک خاتون ہیلری کلنٹن جو شائستہ، ملنسار، خوش اطوار، خوش مزاج، خوش خلق، خوش بیان، مؤدب، مہذب، سیاسی سوچ ، سیاسی فکر اور سیاسی سمجھ بوجھ کی مالک ہیں ، امریکی سیاست اور علمی تعلقات کاادراک رکھتی ہیں ، سیاسی خاندان کی بہو یعنی سابق امریکی صدر کی شریک حیات ہیں، امریکی حکومت میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں کا مقابلہ امریکہ کے ایک ارب پتی شخص ڈونالڈ ٹرمپ سے ہوا جسے پیسے بنانیکی مشین کہا جاتاہے ،وہ بزنس کوترقی دینے کے گُر تو جانتا ہے لیکن سیاست میں کوراہے، اس کے اثاثوں کی مالیت 3.7 ارب ڈالر بتائی جارہی ہے ،دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں اس کا نمبر 324واں ہے جب کہ امریکہ میں امارت کے اعتبار سے وہ 156ویں نمبر پر ہے ۔ عادات و اطوار کے اعتبار سے وہ بد تہذیب، بد اطوار، اوچھے پن کا مالک، فحش کلامی کرنے والا، دشنام طراز، دریدہ دہن، کثیف الطبع، کرخت، اجڈ، شیخی خورا اورچھچورا قسم کا انسان ہے ،عمر 71 ہوچکی ہے ،غیر امریکیوں کو پسند نہیں کرتا حتیٰ کہ اس نے انتخابی مہم کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے گورے اور کالے امریکیوں میں نفرت کی دیوارکھڑی کرنے جیسا حربہ بھی استعمال کر ڈالا، گویا متعصب ذہنیت کا حامل بھی ہے۔ اس کی رائے میں امریکہ میں موجود اقلیتی عوام امریکہ پر بوجھ ہیں اور مسلمان دہشت گرد ۔ گزشتہ تین دہائیوں میں وہ 3500مقدمات میں ملوث ہوا،یہ مقدمات اس کے کاروبار کے حوالے سے ہوئے۔ اس کی آمدنی کا کوئی ٹھکانا نہیں 2015میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو کوئی 38کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا مالک ظاہر کیا۔ ان کی اچھی عادتوں میں ایک اچھی عادت یہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کرتے۔ نیویارک میں پیدا ہوئے ،ٹرمپ کا باپ جرمن اور ماں اسکاٹش تھی، ٹرمپ نے تین شادیاں کیں تینوں کا تعلق شوبیز سے ہے ، وہ خود بھی شوبیز کا آدمی ہے، موصوف ٹی وی نیٹ ورک میں پروڈیوسر اور میزبان بھی رہ چکے ہیں۔تعلیم کوئی خاص نہیں 1968 میں معاشیات میں گریجویشن کیا تھا ۔اپنے والد کے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کے جانشین ہوگئے ۔ٹرپ کی زندگی کی کہانی میں بہت کھوج لگایا کہ کہیں اس کا تعلق سیاسی معاملات، حکومتی مشینری سے وابستگی ، فلاحی اور عوام کی بہتری کے لیے اس کا کوئی کام سامنے آئے لیکن کہیں بھی ایساکچھ نہیں ملا۔

ہیلری کلنٹن ایک پڑھی لکھی ، سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، کہنے کوتو ان کے والد بھی بزنس مین تھے۔ 25اکتوبر 1947کو شکاگو میں پیدا ہوئیں۔ Wellesley Collegeسے گریجویشن کیااور Vale Law Schoolسے J.D کی ڈگری حاصل کی ، عملی زند گی کا آغاز قانون کے پیشے سے کیا، 1975میں بل کلنٹن سے شادی ہوئی، وہ 1993سے 2001 تک امریکہ کی خاتون اول رہیں، اس دوران انہوں نے اپنے شوہر بل کلنٹن کے ساتھ مختلف سیاسی، غیر سیاسی،فلاحی اور صحت و طب کے مختلف کاموں میں عملی حصہ لیا،یہ ان کی سیاسی تربیت کا دور تھا، صدر اوباما صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ہیلری میں سیاسی سوجھ بوجھ دیکھتے ہوئے انہیں سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کر لی اور وہ 2009سے 2013تک اس اہم امریکی عہدے پر کام کرتی رہیں۔ اس اعتبار سے ہیلری امریکہ کی سیاست ، عالمی سیاست ،مسائل اور انتظامی امور میں مہارت کے درجہ پر پہنچ چکی تھیں۔ ہیلری کی سوچ میں سیاسی معاملات کے ساتھ ساتھ بچوں کی فلاح و بہبود کا عنصر نمایاں دکھا ئی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہیلری نے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام بھی کیا اور اس موضوع پر لکھا بھی۔ گویا وہ ایک تخلیق کار بھی ہیں۔ کالم نویسی بھی کی اور کتابیں بھی لکھیں۔ وہ ایک اچھی سلجھی ہوئی ، پختہ قلم کار ہیں ۔ 1995سے 2000کے درمیان Talking it Overکے عنوان سے کالم لکھے۔1996میں بچوں کے حوالے سے ایک کتاب تحریر کی جسےbest seller listمیں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ ہیلری کی دیگر تصانیف میں حسب ذیل شامل ہیں ـ:
1)Dear Socks
2) Dear Buddy
3) Kid's Letters to the First Pet (1998)
4) An Invitation to the White House with History (2000)
5) Beatrice's Goat, 2001
2003میں ہیلری نے اپنی سوانح حیات Living Historyکے عنوان سے تحریر کی، ہیلری کی اس کتاب پراُسے کتاب کے پبلشر کی جانب سے8ملین ڈالر معاوضہ ادا کیاگیا، اس سوانح حیات کی خصوصیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ پہلے ابتدائی مہینے میں اس کتاب کی ایک ملین کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں۔ اس کتاب کے کوئی12زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔

ہیلری اور ٹرمپ کی شخصیت کاتقابلی موازنہ کرنے کے بعد اس بات کااندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ری پبلکنز پارٹی نے ہیلری کے مقابلے میں ٹرمپ کا انتخاب کیوں کیا؟ سیاست کے میدان میں ہیلری کا ٹرمپ سے کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں۔اس کے باوجود ری پبلی کنزپارٹی نے ٹرمپ کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا، سیاست کے حوالے سے ٹرمپ میں وہ تمام خصوصیات نہیں تھیں جو ہیلری میں تھیں،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ’ری پبلیکنز پارٹی‘ کے پاس ہیلری کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی سیاسی شخصیت نہیں تھی؟ محسوس ہوتا ہے کہ ہیلری کے مخالفین نے ٹرمپ کی دولت ، شوبز سے تعلق ، بد اور بیہودہ زبان کے استعمال کر نے کے ماہر ٹرمپ کو ہیلری کے مقابلے کے لیے مناسب جانا ۔ پھر ٹرمپ نے امریکی اور غیر امریکی، کالے اور گورے کی بات کر کے دونوں میں نفرت و تعصب کا بیج بویا ۔ مسلمانوں کے خلاف بات کی، امریکہ میں موجود اقلیتوں کے خلاف بات کی ، اس قسم کی متعصبانہ فضاء نے گورے امریکیوں کے اندر ایک خاص سوچ پیدا کردی جس کا اظہار ووٹ کے ذریعہ سامنے آگیا۔ اس انتخابی مہم کو امریکہ کی صدارتی انتخابی مہم میں سب سے متنازعہ انتخابی مہم کہا گیا۔ میرا تجزیہ یہی ہے کہ ہیلری کی شکست کی دیگروجوہات کے ساتھ ساتھ اہم وجہ یہی رہی کہ ٹرمپ نے گورے امریکیوں کو اکسایا، دیگر اقوام حتی کے کالے امریکیوں سے نفرت دلائی، مسلمانوں کو خاص کر نشانہ بنایا ۔ صدارتی انتخاب کا آغاز ہوا ، ری پبلیکنز کی جانب سے جب ٹرمپ کا نام سامنے آیا تو بے شمار لوگ یہ سمجھے کے ٹرمپ مزاق کررہا ہے کیونکہ اس کا انداز ہی مزاحیہ اور غیر سنجیدگی لیے ہوئے تھا۔ کسی نے اس کی نمائندگی کو سنجیدہ نہیں لیا۔ خیال یہی تھا کہ ڈیموکریٹ کی نمائندہ ہیلری کے مقابلے میں ری پبلیکنز پارٹی کسی قابل سیاست دان کو سامنے لائے گئی لیکن ٹرمپ سنجیدہ ہوتا چلا گیا اور ری پبلیکنز نے اُسے ہی اپنا نمائندہ نامزد کردیا۔ دنیا بھر میں حتیٰ کہ امریکہ میں ہیلری کے صدر بننے کی باتیں ہورہی تھیں، ٹرمپ کا تو کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا۔ نتیجہ دنیا کے لیے حیران کن تھا، یہ فیصلہ امریکی عوام کا ہے ، کسی کو اس سے کیا غرض، مقابلہ کانٹے کا رہا، ووٹوں کی تعداد یا امریکیوں کی اکثریت نے ہیلری کو کامیاب کیا جب کہ امریکی انتخابی نظام نے ہیلری کو شکست اور ڈونالڈ ٹرمپ کو فتح سے ہمکنار کیا ۔ ہیلری کلنٹن کو 59,236903 ووٹ اور ٹرمپ کو 59,085787 ووٹ ملے ۔ٹرمپ کے خلاف امریکہ کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں احتجاج ہورہا ہے، ٹرمپ 20جنوری کو امریکہ کے45 ویں صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ٹرمپ کے خلاف احتجاج ایسے ہی ہے کہ جیسے ہمارے ملک میں ہرشکست کھانے والی جماعت فاتح جماعت کی فتح کو تسلیم نہیں کرتی اور دھاندلی کا الزام لگایا جاتاہے۔ امریکہ میں اب کیا ہوتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے ٹرمپ کی حکمرانی کیسے ہوگی، بعض لوگوں نے مختلف قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ امریکہ میں جمہوریت اور نظامِ حکمرانی کی جڑیں مضبوط اور مستحکم ہیں، وہاں چہرے بدلنے سے نظام یا پالیسی نہیں بدلتی۔ تنہا ٹرمپ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔ امریکی صدر بارک اوبابا نے ٹرمپ کو مزاج بدلنے اور مخالف ووٹرز اور جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا مشورہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ٹرمپ امریکہ کو متحد کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اگر ٹرمپ نے بہت تیر مارا تو وہ اسرائیل اور بھارت سے اور زیادہ قریبی اور محبت کے تعلقات قائم کر لے گا۔ اسرائیلی لیڈروں نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی، ٹرمپ اور مودی کی بہت سے عادات و اطوار ملتی جلتی ہیں دونوں میں دوستی کی پینگیں اور زیادہ بڑھ جائیں گی۔ اس سے کیا فرق پڑے گا۔ بہت ممکن ہے ٹرمپ پاکستان کی امداد بندیا اس میں کمی کر دے۔ اس سے ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ بہتر ہے کہ امداد دینے والے خود ہی قرض یا امداد دینا بند کردیں، تاکہ ہمارے ہاتھوں میں جو کشکول ہے وہ از خود گرجائے ، ہمارے حکمراں تو کشکول کو پھینکنے کے موڈ میں نظر ہی نہیں آتے، قرض لینا ایک خوبی اور متعلقہ وزیر کی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔جو وزیر جتنا زیادہ اور جتنی آسانی سے بیرونی قرضہ ملک کو دلواتا ہے وہ شاباشی اور انعام و اکرام کا مستحق قرار پاتا ہے۔ ہمیں ٹرمپ سے ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کی قطناً ضرورت اس لیے نہیں کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں، ہمارا ایمان اور بھروسہ اپنے پیدا کرنے والے پر پختہ ہے۔ امریکہ سے ہماری کوئی جنگ اور اختلاف نہیں، اگر کوئی اختلاف ہے بھی تو وہ یہ کہ امریکہ ہمارے دشمن پڑوسی ملک کو غیر ضروری طور پر مستحکم اور مضبوط نہ کرے، اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کی جو قرارداد منظور کی ہوئی ہے جس سے بھارت مسلسل راہِ فرار اختیار کررہا ہے، الٹا کشمیری عوام پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑ رہا ہے اس سے باز آجائے ۔ امریکہ ہمیں کچھ نہ دے صرف اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرانے پر بھارت کو آمادہ کردے ہمارے لیے یہی کافی ہوگا۔یہ ایک اچھی مثال ہے جو ٹرمپ نے قائم کی کہ اپنی جیت کے بعد اپنے خطاب میں اس نے ہیلری کی خدمات کی تعریف کی اور تمام امریکیوں کو پیغام دیا کہ وہ رنگ،نسل ،مذہب کی تفریق کے بغیر پوری قوم کی خدمت کریں گے۔امید یہی کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ میں رہنی والی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے جو منفی گفتگو کی اُسے بھی وہ بھلا دیں گے ، کوئی ایسی کاروائی نہیں کریں گے کہ جس سے امریکہ میں رہنے والے کسی بھی غیر امریکی کو پریشانی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ (16 نومبر2016)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 639470 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
16 Nov, 2016 Views: 438

Comments

آپ کی رائے