گودارکا تاریخی جغرافیائی اور معا شی پس منظر

(Abdul jabbar khan, Rajanpur)
بالا آخر پا ک چا ئینہ اقتصا دی راہداری جیساعظیم الشان منصوبہ تکمیل کی منز ل طے کر نے کے لئے چل پڑا ہے جو ایک خو اب تھا وہ حقیقت میں تبدیل ہو گیا یکم نومبر کو 160 سے زائد ٹرکوں کا قافلہ چین کی سر حد سے پا کستا ن میں داخل ہوا جو 6 نومبر کو بلو چستان میں داخل ہوکر گودار پہنچا توکنٹینرز کو بحری جہا ز کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقی مما لک کو روا نہ کیا گیا ۔اس دن کو یاد گا ر اور تا ریخی بنا نے کے لئے پا کستا ن نے باقاعدہ ایک خوب صورت افتتا حی تقریب کا اہتمام 13 نومبر کو کیا جس میں پا کستا ن کی اعلیٰ سول و فوجی قیادت کے علاوہ چینی نما ئندوں اور سفیر نے خصوضی طور پر شر کت کی اس منصو بے کی کا میا بی ایسا ہے جیسے بر ستی آگ میں عا فیت کا را ستہ بنا لینا ہے اس منصوبے کو قومی اداروں خا ص کر پا ک فو ج نے بھر پو ر افر ادی قوت وصلاحیت کے ساتھ کا میا ب کر نے میں اپنا مثا لی کر دار اداکرکے پا کستانی قو م کا سر فخر سے بلندکر دیا ۔اوراس دن ما ضی کی یاد تا زہ کر دی جب پا کستا ن نے 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھما کے کر کے دنیا کو باورکر دیا کہ پا کستا ن کو ئی کمز ور ملک نہیں بلکہ اسلا می مما لک میں سے پہلی ایٹمی طا قت ہے اور اس مادر وطن کی طر ف میلی آنکھ دیکھنے وا لے کو اپنی آنکھو ں سے محر و م ہو نا پڑے گا ۔پا کستا ن کا بچہ بچہ بھا رت کو للکار رہا تھا ہوش میں رہو ہم ایٹمی طاقت ہیں کہیں تمہیں منہ کی نہ کھا نی پڑے۔پا ک چا ئینہ اقتصادی راہداری کی بھارت شدید مخالفت کرتا رہا اور مسلسل بلو چستان کے حا لات خر اب کر نے کے لئے دہشت گردی جیسی گھٹیا حر کت کر رہا ہے اس عظیم منصوبے کے افتتاح سے ایک دن قبل درگا ہ نور انی نور پر خود کش حملہ کروا کر اس منصوبے کو تعطل دینے کی کوشش گئی ۔پا کستا ن کو دنیا میں تنہاہ کر نے والا بھا رت اس عظیم منصوبے مخالفت سے خود دنیا میں تنہا ہ رہے گیا ہے ۔ اور اس منصوبے کی وجہ سے پا کستا ن اقتصا دی طور پر 42 مما لک سے جڑ جا ئے گا ۔ اس یاد گا ر عظیم تا ریخ سا ز دن سے پا کستان نے ایک با پھردنیا پر وا ضع کر دیا کہ پا کستا ن بہت جلد دنیا کے نقشے پر معا یشی طا قت بن کر ابھر ے گا ۔یہ عظیم الشان منصو بہ اور گودارکی بند ر گاہ کو ئی اس صدی کی کو ئی اقتصادی وجغرافیا ئی کھوج نہیں بلکہ یہ گزشتہ صدیوں میں بھی اپنی جغر افیا ئی اہمیت رکھتا تھا اگر تا ریخ پر نظر دوڑایں تو گودار کی ایک پرا نی تا ریخ رکھتا ہے 1781 میں مسقط کے ایک شہزادے نے اپنی جا ن کے خطر ے کے پیش نظر قلات کے حکمرانوں کے پا س پنا ہ لی قلات کے حکمر انوں نے گو دار کی آمدنی شہز ادے کی گز ر اوقات کے لئے گودار کواس کے حوا لے کر دیا حا لا ت بہتر ہو نے پر شہزادہ دوبارہ مسقط چلا گیا اور وہاں کا حاکم بن گیا توشہزادے گودار پر اپنا قبضہ بر قرار رکھا برطا نیہ جب اٹھا رویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے برصغیرمیں داخل ہو کر اپنا قبضہ جما یا تو ریاست کو طو یل بنا نے کے لئے جنوب مغرب کی طر ف پھیل گیا تو اس نے 1839میں گودار کو فتح کر کے اس پر قبضہ کرلیا بعد از ں قلات کے نو ابوں نے 1861 میں گودار کی وا پسی کا مطا لبہ بر طا نیہ سے کر دیا پر انگر یز اس پر مسلسل قا بض رہے قا بض انگر یزوں نے دہلی کو گو دار سے جوڑنے کے لئے مو صلا ت کا نظام ریلوے لا ئین کے ذریعے بنا یا جس کاراجستا ن کے علا قے سے ریل وے لا ئین کا آغا ز کیا گیا جو مو جودہ پا کستا ن کے علا قے ضلع بہا ول نگر فورٹ عبا س سے بہا ول پور ریاست اور مو جو دہ رحیم یا ر خا ن کی تحصیل خا ن پور تک اور پھر دریا سند ھ پر پل بنا کرمغرب کی طر ف گودار لے جا نے کا منصوبہ تھا اسی منصوبے کے پیش نظر خا ن پور کوجنکشن کا درجہ دیا گا اور خان پور سے ریلوے لائین کو آگے لے جا نے کیلئے اس وقت کے وائسرے مسٹر ولیم نے 1911میں اس کا افتتاح کیا اس منصو بیپر جلد کا م شر وع کر کے دریا سند ھ تک لے جا یا گیا ۔آزادی کے بعدانگریز چلاگیاتو اس کے تما م منصو بے ویسے کے ویسے رہے گئے اور گودار پر قبضہ چھوڑا تو گودارمسقط اومان کے پا س چلا گیا 1956 میں پا کستا ن کے وزیر خا رجہ فیروز خا ن نون نے اس کے متعلق تما م کاغذات جمع کر وا ئے اور گو دار کے حصول کی کوشش شروع کر دی اور 1957 میں جب وزیر اعظم بنے تو گودار کے حصول کا معا ملہ اومان سے خوش اسلو بی سے طے پا گئے جس کے لئے مملکت اوما ن کوبا قا عدہ معاوضہ ادا کیا گیا اور تا ریخ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے لئے بھا ری رقم خا ن آف قلات نے بھی دی تھی ۔1958 میں گودار پا کستان میں شا مل ہو گیا تو اس وقت سے لے کر نئی صدی شروع ہو نے تک اس پر کسی حکو مت نے خا ص تو جہ نہ دی پر 1954 میں امر یکی جیکل سروے نے گودار کو ڈیپ پور ٹ کے لئے بہتر ین قرا ر دیا ۔گودار دنیا کا تیسرا گہرا بندر گا ہ ہے جس گہر ائی دوبئی بمبئی چاہ بہاراور دیگربند رگا ہوں سے کہیں زیادہ بلکہ ان سے تین گناہسے بھی زیا دہ ہے اور اس پر سب سے زیادہ 120 جہا ز لنگر انداز ہو کی گنجا ئش ہے پر اب تک اس کی اہمیت کا اندازہ ہما ری حکو متوں کو پہلے کیو ں نا ہو ا۔ 1999میں جنرل پر ویز مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ جما لیا جنرل پر ویزمشرف ہی نے 2002ء میں گودار کے منصو بے کا سنگ بنیاد رکھا جس کو 24کڑوڑ ڈالر کی رقم میں 2007تک مکمل ہو نا تھا جس کا ٹھیکہ سنگاپو ر کی کمپنی کو بین الااقومی بولی کے ذریعے دیا گیا پر یہ منصو بہ التو ع کا شکار رہا پھر 2013 میں اس کمپنی سے ٹھیکہ وا پس لے کر چینی کمپنی کو دے دیا گیا ۔ جس پر چینی کمپنی نے تیزی سے کا م جا ری رکھا ۔یہاں پر ایک با ت اہم ہے کہ چین نے گودار منصوبے سے پہلے ایک دنیا کا بڑا منصو بہ تشکیل دیا جس کو ’’ون بیلٹ ون روڈ ‘‘ سٹر کوں کے ذریعے دیگر مما لک کو چین کے سا تھ جوڑنا تھابنایا گودار اس کی ایک کڑی ہے اور اس سے پہلے افریقہ میں بھاری سرمایا کار ی کر نا اوردنیا کو معا شی طور پر فتح کرنے کا خواب شامل ہے جس کی تفصیل آئندہ کبھی اپنے کا لم میں کروں گا ۔ون بیلٹ ون روڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے چین اور پا کستا ن میں 2015 کو ایکمعاہدے پر دستخط ہو ئے معاہدے کی روح سے خنجر اب کو گودار بند گاہ تک سٹر کوں اور ریلوے لا ئین کے ذریعے ملانا تھا جسے پاک چین اقتصادی راہد اری (سی پیک ) کا نا م دیا گیا ۔سی پیک منصوبے کے تحت چین ابتدائی طور پر گودار میں ایک ارب ڈا لر کی سر ما یا کا ر ی کر کے بندرگا ہ کی توسیع اور گودار میں پا ور پروجیکٹ لگا نا شا ملہیں ۔جبکہ 300 میگا واٹ بجلی کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے اس منصو بے کی تکمیل سے پا کستا ن چین روس افغا نستا ن ایران خلیجی مما لک کے سا تھ افریقی مما لک ایک دوسر سے جوڑ جا ئیں گئے جس سے ان مما لک کو مستقبل کا فی معاشی فا ئدے حا صل ہو نگے ۔اس منصوبے کے فوائد چین اور پا کستان ڈائرکٹ حا صل ہو نگے چین کا 1200 ہز ار کلو میٹر کا سفر کم ہو کر 2800 کلو میٹر تک آ جا ئے گا ۔اور مہنیوں پر مشتمل سفر دنوں میں طے ہو گا جس کی بچت چین کو اربوں ڈا لر میں ہو گی ۔اب پورہ یورپ میں روزانہ 40 لا کھ بیرل تیل جاتا ادھر اکیلا چین 60 لا کھ بیرل تیل روزانہ کی بنیا د پر منگو اتا ہے جس کے لئے ہز اروں ٹر کوں کے قا فلے روزا نہ کی بنیاد پر گودار سے چین اور چین سے گو دار جا ئیں گے ۔جس کی صرف را ہدای کی مد میں پا کستا ن کو 5 ارب ڈا لر ملیں گے ۔ایشا ء اور افریقی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے جہا ں پر باقی براعظموں سے آبا دی کا تنا سب زیا دہ ہے اس کے برعکس یورپ دنیا کی آبادی کا صرف 13 فیصد ہے چین نے روس تک سٹرک اور ریل وے لا ئین کا منصو بہ مکمل کر لیا ہے اب روس گودارکے ذریعے اپنی تجا رت کا آغا ز کر نا چا ہتا ہے ۔یہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ روس چین اور پا کستا ن کا سٹرائجیٹک پا ٹنر ہو نا اور دوستی کے نام سے حا لیہ ہو نے وا لی فوجی مشقیں شا مل ہیں ۔اب دوسری طر ف سنٹر ل ایشاء کی ریا ستیں جو دنیا کا دوسرا بڑاتیل کا ذحیرہ رکھتی ہیں اب ایک طر ف دنیا کا بڑا تیل کا خر یدار چین اب صرف آسان اور سستا راستہ پاکستا ن اور گودار ہیں اب مودی جسیے احمق کو کو ن سمجھا ئے تم اس ملک کو کیسے تنہا ہ کر سکتے ہو جس کی خطے میں اتنی زیادہااہمیت ہو اور دنیا کی ایٹمی ومعا شی طاقتیں جب پا کستا ن پر انحصا ر کر تی ہو ں ۔بجا ئے پاکستان سے جلنے کے اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے ہا تھ جوڑ کر پا کستا ن سے معا فی ما نگ کر منت سما جت کرکے اس منصو بے سے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے اب اس منصوبے میں ایران نے بھی شا مل ہو نے کی خو اہش ظاہر کر دی ۔مستقبل کے آنے وا لے دو سے پا نچ سا لوں میں اس منصوبے بہترین نتا ئج بر آمد ہو نا شروع ہو جائیں گے ۔جس سے پا کستا ن میں خوشحا لی کاایک نیا دور شروع ہو جا ئے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul jabbar khan

Read More Articles by Abdul jabbar khan: 151 Articles with 76593 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2016 Views: 615

Comments

آپ کی رائے