آپ بیتی قسط 4

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
وہ فرنچ کٹ داڑھی والا تھا بڑا فربہی مائل حسن وجمال کا مالک اس کا چہرہ شہزادہ ہیری آف برطانیہ جیسا تھا ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ وہ شہزادہ ہیری ہی ہے پھر میں نے سوچا کہ یہ تو اردو بول رہا ہے کیا شہزادہ ہیری اردو بول سکتا ہے
سب مطلب پرست بن جاتے ہیں لہذا تم مولویوں کی باتوں میں نا آ جانا اس طرح سے حکمرانوں کو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے سے روک دیا جاتا ہے

ابوّ : بیٹا تم منفی باتوں میں اپنے آپ کو اور ہمیں نا الجھایا کرو ہمارے لیے اللہ کافی ہے جو لوگ دنیا کے مال سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں وہ اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں

جی ابو آپ بے فکر ہوجائیں اللہ آپ کو ناکام نہیں کرے گا کیوں کہ آپ اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں خیر خواہی کرتے ہیں اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا انشاء اللہ میں نے ان کو دلاسہ دیا

اللہ تعالی آپ کوجلد مکمل صحت یاب کر دے گا اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ آپ کو نوجوانوں کی طرح صحت مند اور طاقتور بنا دے

ٹھیک ہے بیٹا جاو نماز پڑھو نماز کا ٹائم ہو گیا ہے اور میں نماز کے لیے مسجد کی طرف چل پڑا

مسجد میں تبلیغی جماعت آئی ہوئی تھی میں دیکھ کر خوش ہوا نماز کے بعد میں ان کے پاس بیٹھا

میں اذکار کر رہا تھا تبلیغی بھائیوں کے چہرے دیکھ رہا تھا

" اسلام وعلیکم ایک تبلیغی نے ہاتھ ملائے کیا حال ہے آپ مقامی ہیں ؟

جی وعلیکم السلام الحمدللہ جی میں اسی گاوں کا ہوں

" آپ نے کبھی وقت لگایا ہے جماعت میں

جی نہیں بس ایسے ہی تبلیغی بھائیوں کی نصرت کا موقع مل جاتا ہے

" آپ بھی اللہ کے راستہ میں نکلیں کم از کم تین دن ہمارے ساتھ چلیں

در اصل میں جہاد پر یقین رکھتا ہوں میں اس فلسفہ پرعمل کرتا ہوں مانا کہ سکولوں میں کالجوں میں یونیورسٹیوں میں پڑھنا چاہیے پر جہاد کا ہی ہر ایک پیریڈ ہونا چاہیے تاکہ عدل وانصاف قائم ہوسکے تاکہ امن وامان قائم ہو سکے

"تو آپ مجاہد ہیں ایک اور تبلیغی بھائی ہماری طرف متوجہ ہوا

الحمدللہ میں جہاد کے لیے وقف ہوں میرا تعلق جماعت الدعوہ سے ہے
" آپ کشمیر میں گئے تھے محاذ پر

جی نہیں میں افغانستان گیا تھا تقریباََ 20 سال پہلے ٹریننگ کے سلسلے میں

"ہمارے چاچے اور تائے اور ان کے بیٹے بھی جماعت الدعوہ میں ہیں ان کے کئی افراد غازی بھی ہیں اور شہید بھی ہیں اور کئی تو غائبانہ نماز جنازہ کے بعد بھی واپس گھر آگئے پتا چلا کہ غلط فہمی ہوگئی تھی وہ تو ہماری برادری میں ہیں لیکن جماعت الدعوہ میں آکر بڑے امیر بن گئے ہیں ان کے پاس بہت فنڈ آتا ہے اس میں سے اپنے پاس بھی رکھ لیتے ہیں آٹا گندم چاول گھی کے کنستر اور روپیا پیسہ بھی ان کے پاس بہت ہوگیا ہے اور بڑی بڑی اور چمکدارچمچماتی ہوئی گاڑیوں کے مالک بن گئے ہیں اس نے کہا

وہ فرنچ کٹ داڑھی والا تھا بڑا فربہی مائل حسن وجمال کا مالک اس کا چہرہ شہزادہ ہیری آف برطانیہ جیسا تھا ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ وہ شہزادہ ہیری ہی ہے پھر میں نے سوچا کہ یہ تو اردو بول رہا ہے کیا شہزادہ ہیری اردو بول سکتا ہے

آپ بھی جہاد دشمنوں والی بات کر رہے ہیں جو لوگ بے دین ہیں کافر ہیں ان کے پاس جو اتنا مال ہوتا ہے گاڑیاں جاگیریں اور بڑی کمپننیوں کے مالک ہیں بیش بہا بینک بیلنس اور وہ ڈنکے کی چوٹ پر لوٹ مار کرتے ہیں میں نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا

"ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں جہاد کرنا سب مسلمانوں کا فرض ہے اگر ہم جہاد نہیں کریں گے تو لوگوں کا جینا محال ہو جائے گا جہاد کا ایک پیریڈ ہونا چاہیے اورآپ کے کہنے کے مطابق ہر پیریڈ ہی جہاد کا ہونا چاہیے تو باقی کام کون کرے گا اس نے کہا

ہمارے جتنے بھی مسلمان بھائی ہیں سب یہی بات کرتے ہیں بھئی میں تو تعلیم کے لحاظ سے بات کررہا ہوں میں آپ کو مثال دے کر سمجھا تا ہوں جتنے بھی لوگ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں سب کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ پڑھ لکھ کر کامیاب بزنس مین بن جائے گا یا اس کو اچھی نوکری مل جائے گی بزنس میں کامیاب ہونے کے لیے سال ہا سال تک اپنے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے حتیٰ کہ 16 سال تک روزانہ سکول بھیجا جاتا ہے اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں کتابوں کا خرچہ یونیفارم کا خرچا پک اینڈ ڈراپ کا خرچہ حالانکہ جہاد تو بزنس سے کہیں زیادہ اہم ہے بزنس یعنی کام تو جہاد کی نرسری ہے کام سے اوپر درجہ ہے محنت کا محنت سے اوپر درجہ ہے مشقّت کا اور مشقّت سے اور درجہ ہے جدّو جہد کا اور اس کے بعد جہاد کا درجہ ہے اور بزنس میں کامیاب ہونے کے لیے16 سال تک پڑھنا چاہیے اور جہاد میں کامیاب ہونے کےلیے ظاہر ہے زیادہ پڑھائی کی ضرورت ہے اسی لیے تو اللہ نے سب مسلمانوں پر دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں دوسرے لفظوں میں یہ پانچ پیریڈ ہیں جو سب مسلمانوں پر اٹینڈ کرنا ضروری ہے اور تمام عمر یہ پیریڈ اٹینڈ کرنا ضروری ہیں کیوں کہ ڈگری آخرت میں ملنی ہے

آپ لوگ دیوبندی ہیں اور دیوبندیوں کا ملک ہے افغانستان کیوں کہ طالبان دیوبندی ہیں اور بریلویوں کا ملک ہے عراق وہاں سنیوں کی حکومت ہے اور ایران شیعوں کا ملک ہے اور شام میں بھی شیعوں کی حکومت ہے حالانکہ وہاں سنیوں کی اکثریت ہے اور ہمارا ملک ہے سعودیہ ہے ہماری جذباتی وابستگی سعودیہ کے ساتھ ہے اس طرح امت مسلمہ فرقہ پرستی میں گرفتار ہیں
میں نے تبلیغی بھائی کو افسوس سے جواب دیا

اللہ کا فرمان ہے کہ " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نا ہو جاو یہ آیت سب فرقوں والے پڑھتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں کرتا

بھائی یہ اسلام کی تبلیغ ہے ہم فرقہ پرستی کے خلاف ہیں ہم تو سارے بھائیوں کو تبلیغ کرتے ہیں ہم تبلیغ کرتے رہیں گے کرتے رہیں گے حتیٰ کہ 80 فیصد لوگ نمازی بن جائیں گے اور جو باقی لوگ نماز نہیں پڑھیں گے ان کو ڈنڈے مار مار کر نماز پڑھائیں گے ان حالات میں اگر ہم بے نمازوں پر سختی کریں گے تو جو یہ تبلیغ کر رہے ہے اس کام سے بھی جائیں گے اس لیے حکمت سے کام لینا ہوگا تبلیغی بھائی نے کہا

یہ علم حاصل کرنے کے لحاظ سے ٹھیک ہے لیکن اسی کام کو جہاد قرار دے لینا کہ جی ہم جو یہ کام کر رہے ہیں یہ جہاد ہی ہے کیا کوئی آدمی بستر اٹھا کر 40 دن کے لیے یا 4مہینے کے لیے یا ایک سال بیرون ملک کے لیےچلا جائے اس کو جہاد تونہیں کہا جاسکتا جہاد کے لیے علماء کو مل بیٹھ کر اصلاحات کرنی چاہئیں اورقرآن و حدیث کے مطابق اصلاحات کرنی چاہئیں کیا یہ جو نصاب آپ پڑھتے ہیں یہ سکولوں میں چل سکتا ہے ؟ میں نے کہا

"ہم حق پر ہیں میں نے تو بڑی تحقیق کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تبلیغی جماعت والے حق پر ہیں
اور آپ جماعت الدعوہ والوں کے بارے میں جانتے نہیں ہیں آپ کو ان کہ اصل حقیقت کا نہیں پتا ہے اور کہ رہے ہیں کہ جماعت الدعوہ والے حق پر ہیں جب میں نے حق کی جماعت اہلحدیث کو قرار دیا تھا تو تبلیغی بھائی نے جواب دیا اور اس نے بھی کہا کہ ہمارا حج کے بعد سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے 20 لاکھ کا مجمع ہوتا ہے تو کیا یہ سارے گمراہ ہیں اور اب تو بزرگوں نے چاروں صوبوں میں اجتماعات کرنے کا حکم دیا ہے اور لہذا چاروں صوبوں میں اجتماعات ہوتے ہیں کیا یہ لاکھوں کروڑوں لوگ غلط ہیں جھوٹے ہیں کیا اتنے سارے لوگ بے وقوف ہیں ?

یہی بات تو دعوت اسلامی والے بھی کہتے ہیں اور جماعت اسلامی والے بھی کہتے ہیں اور آپ بھی یہ مثال دے رہے ہیں اور شیعہ اور مرزائی تو کہتے ہیں کہ شیعہ اور مرزائی تیسری قوم کہاں سے آئی تو کیا وہ لوگ بھی صحیح ہیں میں نے کہا

"ان کی بات ہی چھوڑو وہ تو ہیں ہی کافر جو ان کو کافر نہیں مانتا وہ بھی کافر ان کے امیر صاحب نے گفتگو ختم کرنے کا کہا اور کہا سب کھانا کھالیں مجھے بھی انھوں نے دعوت دی تھی

جزاکم اللہ خیرََا میں گھر سے کھا کر آیا ہوں اور میں گھر آکر کھانا کھا کر سوگیا



-----------------------------------------------------------------------




تبلیغی جماعت جب میں چھوٹا تھا سکول میں پڑھتا تھا تو میرے والد محترم نے عزم کرلیا کہ میں نے اللہ کے راستہ میں نکلنا ہے اورتبلیغی جماعت کے ساتھ چلے گئے ابھی ہم نئے نئے اپنے چاچو سے علیحدہ ہوئے تھے ہمیں گھر بھی وہ ملا تھا جو ہماری داد جی کی کام کاج کرنے کی جگہ تھی وہاں ان دنوں بھینس باندھتے تھے وہ ایک 5 مرلے کا پلاٹ ہے اس میں دو کچے کمرے بنے ہوئے تھے ایک کمرہ ادھیڑ کر پکاّ کمرہ بنایا گیا اس میں ہم نے میرے بہن بھائیوں نے رہنا شروع کیا تھا اس وقت قرض بھی سر پر تھا اور میں بھی کمائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور دوسرے بہن بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں

ابو تمام تر رکاوٹوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے تبلیغی جماعت میں چلے گیے امی نے اس بات پر بڑا احتجاج کیا تھا کہ میں ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو اکیلی کیسے پالوں گی

تیرے ابو چلے گئے ہیں تبلیغی جماعت کے ساتھ اب مجھے زیادہ تنگ مت کرنا اور سکول میں جاکر بھی محنت سے پڑھائی کرنا امی نے کہا

جی امی جی میں نے کہا اور ٹی وی دیکھنے چلا گیا اور میرے ساتھ طارق بھی تھا جو میرا چھوٹا بھائی ہے اس بات سے بے خبر کہ امی چھوٹے بچوں کے ساتھ اکیلی گھر میں ہیں اور ان دنوں چاچی نسرین کے گھر ٹی وی دیکھنے جاتے تھے جو ہماری برادری کی چاچی لگتی ہے اس عورت کے لچھن شروع دن سے ہی ایسی عورتوں جیسے ہیں جو آزاد خیال اور بے دین لوگوں کے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے جیسا دیس ویسا بھیس جو لوگوں کا فیشن ہوتا ہے ویسا اپناو جیسا لوگ کھاتے ہیں کھاو جیسا لوگ پہنتے ہیں ویسا پہنو وغیرہ وغیرہ

ایک دن چاچی نسرین نے مجھ سے فلرٹ کیا اور بہکی بہکی باتیں کیں اور مجھے کہا کہ تم نامرد ہو میں اس وقت موڈ میں ہوں میں ٹی وی دیکھنے گیا تھا تو میں نے ان کو وعظ ونصیحت کی تو اس نے کہا مہاراج جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کروں کہ لگتا ہے انگور کھٹّے ہیں اور تیرے تاثرات سے پتا چلتا ہے ساری عمر تیرا یہی حال رہے گا اور پھر اس نے منہ میں کچھ پڑھا اور کہا میں نے تیری جنم کنڈلی دیکھی ہے تیری تو قسمت ہی بہت خراب ہے تینوں کدرے وی ڈھوئی نئیں ملنی [تمھیں دنیا میں کہیں بھی خیر نہیں ملے گی کوئی اچھا سبب نہیں لگے گا ]

مجھے اس کی کوئی بات پلّے نہیں پڑی تھی میں شرماتا ہوا گھرآگیا ان دنوں اس کا خاوند یونس بیرون ملک گیا ہوا تھا اور وہ چار بچّوں کے ساتھ گھر میں رہتی تھی میں جب بھی ان کے گھر ٹی وی دیکھنے جاتا تھا تو ابومجھے کان سے پکڑ کرگھر لے جاتے تھے اور پٹائی کرتے تھے کہ تم پڑھائی میں دھیان کیوں نہیں دیتے ہو ٹی وی کیوں دیکھتے ہواس وقت لگ بھگ میری عمر 12 سے 14 سال ہوگی

میں اور طارق پھپھو کے گھر بھی جاتے تھے اور ٹی وی دیکھتے تھے پھپھو کو ہم سے پیار تھا لیکن اتنا نہیں کیوں کہ پھپھو بھی ابّو کے تبلیغی جماعت کے ساتھ جانے کی وجہ سے ناراض سی رہتی تھیں

فاروق میں نے تمھیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ یہاں آکر ٹی وی نا دیکھا کرو تمھارا ابّوہمیں بھی غصّہ ہوتا ہے پھپھّو کبھی کبھار بول پڑتیں

ہم ایک دودن نہ آتے اور دوسرے لوگوں کے گھرجاکر ٹی وی دیکھ لیا کرتے تھے اور گھرمیں والدین سے بہانا کردیا کرتے تھے

ایک دفعہ میرے ساتھ عجیب واقعہ پیش آگیا اس وقت ہم دوسرے گھر میں شفٹ نہیں ہوئے تھے میری والدہ نے مجھے ایک روپیے کا ٹھیپہ دیا اور کہا کہ جاو باہر جاکر کھیلو موسم بہت صاف تھا بارش تھوڑی دیرپہلے ہی رکی تھی مجھے آج محسوس ہوتا ہے کہ میری والدہ نے مجھے ٹرانس میں لے لیا تھااور میں ایسے گاوں سے باہر کی طرف جارہا تھا جیسے کوئی سحر زدہ بچہ جاتا ہے آگے سے آرائیوں کا ایک لڑکا آرہا تھا اس کے ساتھ ایک کتّا تھا اس لڑکے کا نام مجھے یاد نہیں ہے اس کا نام غالباََ سکندر تھا

اس نے مجھے کتّے سے ڈرایا اور کہا کہ اگر تو نے میری بات نہیں مانی تومیرے ایک اشارے پر کتّا تمھیں چیر پھاڑ دے گا وہ اٹھارہ سال کا جوان تھا اس کی نیّت مجھ پر خراب ہوگئی تھی اس نے میرے ساتھ بد فعلی کر ڈالی اور میں خون میں لت پت گھر پہنچا اور امّی نے مجھے بستر میں سلا دیا اور کہا کہ ابّو کو مت بتانا ورنہ وہ تمہھیں مار ڈالیں گے کیوں کہ اسلام میں اس کام کی سزا یہی ہے جو تو نے کیا ہے میں اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکا اور ان دنوں مجھے اتنی سمجھ نہیں تھی کیوں کہ یہ پرائمری سے پہلے کی بات ہے جب ابوّ کو پتا چلا تو ان کو امی نے کئی بہانوں سے اس واقعہ سے بے خبر رکھا کہانی اس طرح بدل دی کہ یہ لکڑیوں میں کھیل رہا تھا اور اس کو چوٹ لگ گئی ہے اس نے مجھے خود بتایا تھا کہ میں نے چھلانگ لگائی اور میرا پاوں پھسل گیا اور میں ایک نوکیلی لکڑی پر پیٹھ کے بل گر پڑا ابّو میرے بارے میں شک میں مبتلا ہوچکے تھے

اس واقعہ نے میرا جینا محال کر دیا تھا جیسے اس لڑکی کا ہوتا ہے جس کی عزّ ت کوئی اوباش لوٹ لیتا ہے اور لوگ لڑکی کو ہی قصور وار قرار دیتے ہیں سب گھر والے مجھ سے نفرت کرنے لگے تھے اس لڑکے سکندرکے گھر والوں نے اسے کراچی بھیج دیا تھا اور اس کے دوسرے بھائی کا نام سکندر رکھ دیا تھا جو اس سے بڑا تھا اور یوں میری امی نے اور سکندر کی امی نے ایک بڑی لڑائی ہونے سے بچا لی تھی لیکن پھر بھی ایک فوج ٹینکوں سمیت ہمارے گاوں میں آئی تھی اور ہمارے گاوں کے آس پاس انھوں نے مورچے نکال لیے تھے اس وقت ضیا ء الحق صاحب کی حکومت تھی اور ان دنوں فوج ٹریننگ کر رہی تھی لیکن کمال چالاکی سے اس کے والدین نے اسے بچا لیا تھا اور ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا جس کی بنا پر ہم ان پر کوئی کیس کرتے مگر ایک تباہ کن سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا جس میں ہماری مخالف پارٹی نے مرزائیوں کی خدمات حاصل کر لی تھیں

جان بچی تو لاکھوں پائے

اس وقت میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں امی کی سازش تھی کیوں کہ مجھے امی نے مجھے کہا کہ لاہور کی طرف سجدہ کرو امی جی مجھے درد ہو رہا ہے یہاں پٹی لگا دو امی نے مجھے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ تمھارا زخم سڑ جائے گا اس میں گھمبیر لگ جائے گا اور تم مر جاو گے امی واقعی میں مر جاوں گا ایک تو تو معصومیت بڑی جھاڑتا ہے چل آرام سے اس طرف کو جھکو میں تیرا زخم دیکھتی ہوں اور ہاتھ سے پکڑ کر مجھے امی نے لاہور کی طرف جھکا دیا اور میں ننگا ہو کر جھک گیا اور امی نے فاتحانہ لہجے میں کہا دیکھا مین نے لاہور کی طرف سجدہ کرایا کے نہیں ضدّی باپ کی ضدّی اولاد اور مجھے روتا چھوڑ کر کمرے میں چلی گئیں اور کچھ پیسے لائی اور کہا کہ جاو جا کر کھاو پیئو جان بچی تو لاکھوں پائے میں پھر بھی کچھ سمجھ نا پایا اور پیسے لے کر دکان پر چلا گیا

میرے ساتھ کوئی بھی بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا گاوں کے لوگ مجھے منحوس قرار دیتے تھے اور ہمارے ازلی دشمن تایا اسلم کی لڑکی نے میرے ساتھ ایک عظیم ظلم کیا وہ مجھ سے بڑی تھی اس کا نام خدیجہ تھا اس نے مجھے جانوروں کے ساتھ بدفعلی کا شرمناک اندوہناک کھیل کھلایا وہ جادو پڑھ کر مجھے ایسے جانوروں پر چھوڑ دیتی تھی جیسے کسی بیل کو گائے اور گھوڑے کو گھوڑی پر چھوڑا جاتا ہے اور ایک بار چاچے انور نے ہمیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھ لیا وہ میری طرف غصّے سے بڑھا اور میں خوف سے کانپنے لگا ------------------------------------------------- جاری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32823 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2016 Views: 1946

Comments

آپ کی رائے