ہارٹ ایشیا کانفرنس میں شرکت اور بھارت کا شرمناک رویہ

(Anwar Abbas Anwar, )
ہارٹ ایشیا کانفرنس کا نعقاد پاکستان میں بھی ہوا تھا اور پاکستان نے بھی میزبانی کا شرف حاصل کیا تھا ،لیکن ایسا برتاؤ کسی بھی رکن ملک کے ساتھ اختیار نہیں کیا گیا تھا،حتی کہ بھارت کے ساتھ بھی نہیں، جیسا برتاؤامرتسر میں ہونے والی ہارٹ ایشیا کانفرنس میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کے ساتھ روا رکھاگیا ہے۔اگر مہمان کے لیے کوئی اصول و ضوابط ہوتے ہیں تو میزبان کے لیے بھی کچھ آداب جینوا کنونشن میں طے ہیں۔ لیکن اصول و ضوابط کار اور آداب ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے ،جن میں کچھ شرم ہوتی ہے اور کچھ حیا ہوتی ہے، جن کے ضمیر مردہ ہوں جن میں شرم اور حیا نام کی کوئی شے موجود نہ ہو توان کا طرز عمل بھارت کی بے حیا اور بے شرم مودی سرکار جیسا ہی ہوتا ہے۔
ہمارے ملک کے بہترین صحافی،دانشور ،تجزیہ نگار اور اینکر نصرت جاوید جنہیں میں لاڈ پیار سے ’’ تلقین شاہ‘‘ کہتا ہوں ،نے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ’’ ہارٹ ایشیا کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا ہے میری ناقص رائے یہ ایک مایوس سیاستدان کا اپنی کوتاہئیوں ،کمزوریوں اور ناکامی کو تسلیم کرنے کے محض پاکستان کو ان کا ذمہ دار ٹھہرانے کی سفارتی حوالوں سے ایک احمقانہ کوشش تھی،اس بدکلامی کو نظرانداز کرنا ہی ایک مناسب رویہ تھا ‘‘

میں تو مکمل طور پر اپنے’’ تلقین شاہ‘‘ یعنی نصرت جاوید سے متفق ہوں کہ اگر اسے نظرانداز کردیا جاتا تو اشرف غنی اور مودی گٹھ جوڑ کے لیے یہی کافی ہوتا کیونکہ ہماری جانب سے کلی طور پر نظرانداز کیے جانے صورت میں وہ اپنی موت خود مرجاتے، اسے پنجابی میں کہتے ہیں’’ گڑ دے کے مارنا کہ سپ وی مرجائے تے لاٹھی وی بچ جائے‘‘لیکن ہمارے میڈیا اور سیاستدانوں نے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی جانب کیے رکھا اور اپنے بیانات اور اپنے تجزیوں کی تان اس بات پر توڑی کہ حکومت کل وقتی وزیر کارجہ کا تقرر کرے۔بندہ پوچھے کہ کل وقتی وزیر خارجہ نے کون سا تیر مار لینا تھا۔

اشرف غنی نے زبان کھولتے وقت حامد کرزئی کی طرح ہماری مہربانیوں ،میزبانی اور ابتلا کے ایام میں ہمارے تعاون کا بھی رتی بھر پاس نہیں کیا، لحاظ نہیں رکھا اس کا پاکستانی قوم ، حکمرانوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغانستان پر سب سے زیادہ مہربان مقتدرہ قوت کو دکھ ہوا ہے، مجھے تو کچھ فرق نہیں پڑا اور نہ ہی آئندہ کسی ایسی گفتگوؤں سے فرق پرے گا کیونکہ مہربانی کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ جس پر مہربانی کی جا رہی ہے آیا وہ اس ظرف کا مالک بھی ہے یا نہیں۔

افغان صدر کا یہ کہنا کہ پاکستان اپنی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد اپنے پاس رکھے اور اس کے عوض وہ اپنے اندر موجود دہشت گردوں کو ’’قابو‘‘ کرنے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھے تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس کانفرنس مین نریندر مودی نے کہا کہ ہماری ساری توجہ دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں سے نمٹنے پر دینی ہوگی ،کیونکہ دہشت گردی اور دہشت گرد افغانستان اور خطے کے ا من کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر افغان ناظم الاامور کو ملک بدر کرے اور اس کے پیچھے پیچھے افغان مہاجرین کو بھی افغانستان کے اس پار دھکیلے ، ان پر اٹھنے والے اخراجات بھی طلب کرے، یہ کونسا نیکی کرنے کا زمانہ ہے۔عالمی برادری نے کونسی ہماری مدد کی ہے جو اب کرے گی یہ سب پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ایک نکتہ ایجنڈا پر متفق ہیں، اشرف غنی کو بھارت کا تعاون یاد ہے اور وہ اسے سراہتے وقت کہتا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ہمارے ساتھ غیر مشروط تعاون کیا ہے۔

ابھی حال ہی میں ایک سینئر طالبان لیڈر نے تسلیم کیا ہے کہ اگر ہمیں (انہیں) پاکستان میں پناہ گاہیں نہ دستیاب ہوتیں تو وہ ایک مہینہ بھی چلنے کے قابل نہ ہوتے،اشرف غنی جیسا بے ظرف انسان بھول گیا کہ انہیں پناہ دینے اور افغان مہاجرین کی مدد کرنے کی پاداش میں ہمیں کیا قیمت چکانا پری ہے؟ان کی حکومت پر تو سوالیہ نشان لگء ہوئے ہیں کیونکہ طالبان ان کے زیر کنٹرول علاقے سے کہیں زیادہ علاقہ پر حکمران ہیں انہیں اپنی حکومت کی رٹ قائم کرنے ، اور افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے تربیتی مراکز بند کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل دینا جچتا ہے۔

افغانستان اور بھارت باہم ملکر پاکستان کو خطے میں تنہا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں،اس حقیقت کے باوجود کہ ہارٹ ایشیا فورم اسی باتوں کے لیے نہیں بنایا گیا پھر بھی دونوں ممالک نے یک زبان ہوکرہماری قربانیوں اور میزبانی کی مہربانیوں کو بالائے طاق رکھ کر ہمیں مطعون کرنا ضروری جانا ،پاکستان افغانستان کو اپنا برادر اسلامی ملک سمجھتے ہوئے اور اپنا پڑوسی ہونے کے ناطے ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ کسی طور افغانستان میں امن قائم ہو جائے یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہر پلیٹ فارم پر کہا ہے کہ پاکستان ان تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جو افغانستان میں امن قائم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے،مگر کیا کیا جائے افغانستان کی کٹھ پتلی قیادت کا جو ہمارے ان خیالات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے، اور ہمارے مقابلے میں بھارت کی چوپڑی چکنی باتوں اور دعوؤں کو سچ سے تعبیر کرتی ہے۔

پاکستان شروع دن سے اس کوشش میں کہ طالبان سے مذکرات کرکے افغان حکومت امن کے قیام کو یقینی بنائے لیکن افغان کٹھ پتلی حکمران اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر اس طرف آنے کو تیار نہیں جس کا یقیننا خمیازہ افغانستان کو بھگتنا ہوگا۔افغانستان اور بھارت سمیت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے یا اسے تقسیم در تقسیم کرنے کی خواہش کرنے والے اپنے ناپاک اور مذموم ارادوں میں ناکام و نامراد ہی رہیں گے۔ انشا اﷲ، اور ہمارے حکمرانوں کو آئندہ ہارٹ ایشیا کانفرنس میں حساب کتاب برابر کرنے کی پوری قوت سے تیاری کرنی چاہیے۔

سوال زیر بحث ہے کہ جنرل راحیل شریف نے عوام میں انتہا کی حدوں کو چھوتی ہوئی اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیوں نہیں کیا؟ راحیل شریف نے حکمرانوں کے ساتھ نرم لہجہ کیوں اختیار کیا؟حکومت اور حکمرانوں پر کھلے عام اور درپردہ تلخ ترین تنقید کرنے کے باوجود سکیورٹی کے حوالے سے ڈان لیکس پر خاموش رہنے کی پالیسی کیوں اپنائی؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anwer Abbas Anwer

Read More Articles by Anwer Abbas Anwer: 203 Articles with 94082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2016 Views: 476

Comments

آپ کی رائے