طیارہ حادثہ اور مظلوم جنید جمشید شہید

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
گذشتہ ہفتے پی آئی اے کی پرواز 661 کو حویلیاں کی پہاڑیوں میں گر کر حادثہ ہوا جس میں47 قیمتی جانوں نے شہادت کا رتبہ پایا ،ان شہداء میں ملک کے سابق گلوکار معروف مبلغ اسلام جنید جمشید ؒ اور ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ بھی شہید ہوگئے اس قومی سانحہ نے ساری قوم کوایک بار پھر غم زدہ کر گیاتادم تحریر 8افراد کی شناخت ہوئی جبکہ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 39افراد کے لوحقین اپنے پیاروں کے جسد خاکی وصول کرنے کیلئے ڈی این اے رپورٹ کے منتظر ہیں ،اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین از حد لازم ہے کیونکہ کئی بار ایسے سانحات ہوگئے اگر ابتداء ہی سے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی تو یقیناً ایسا اب کی بار نہ ہوتا ،ایسے حادثات سے ایک قومی ادارہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے ۔اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے حکومت کس حد تک متحرک ہے اس کی اندرونی کہانی بتاتی ہے کہ چند دن افسوس اورشور وغل کے بعد خاموشی چھا جائے گی ۔

قومی ،صوبائی ،سیاسی،سماجی،فلاحی ،کاروباری سطح پر اس سانحہ پر رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے وزیر اعظم پاکستان نے جنید جمشید سمیت تمام شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی ،ملک پاکستان کے معروف جیدعلم دین مفتی تقی عثمانی نے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ جنید جمشید ؒخوش اخلاق، ملنسار شخصیت کے مالک تھے آج ہر شخص جنید جمشید ؒکے صدمے کو اپنا صدمہ سمجھ رہا ہے ۔ جنید جمشید کی خواہش تھی کہ انھیں دارلعلوم کراچی میں دفن کیا جائے خاندانی اور دارلعلوم ذرائع کے مطابق شہیدؒ کی خواہش کے مطابق انھیں دارلعلوم میں ہی دفن کیا جائے گا۔اس حادثہ میں شہید ہونے والے جنید جمشیدؒ کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے جس کاخلاصہ اگر سطر میں تحریر کیا جائے تو یہ ہوگا کہ جنید جمشید نے گناہ کی دنیا سے نیکی کی دنیا کی طرف ہجرت کی، اس ہجرت پر وہ موت تک قائم رہے ،بلکہ ان کا مشن تھا کہ میں نے گائیکی کی دنیا میں نوجوانوں کو گناہ کی طرف مائل کیا اب دعوت وتبلیغ کے عالمی غیر متنازع پلیٹ فارم سے نوجوانوں کو دین کی دعوت دوں گا ،یہ ایساعزم صمیم تھا کہ اس پر جنید جمشیدشہیدؒ ڈٹ گئے ،معاشی حالات سخت خراب ہوئے یہاں تک کہ والد کی بیماری پر دوائی لینے کیلئے ان کے پاس رقم نہ تھی مگر جنید جمشیدؒ نے جو ہجرت اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کرنے کیلئے کی تھی اس پر ڈٹے رہے اور اﷲ سے مدد مانگتے رہے ،دوسری طرف ایک مشروب کمپنی نے انھیں ایک گانے پر چار کروڑ کی آفر تھی جسے جنید جمشید ؒ نے پاؤں کی ٹھو کر سے ٹھکرادیا ،ان کی زندگی اب معصیت سے نیکی کی طرف آچکی تھی وہ گناہ کی دنیا سے بیزار ہو چکے تھے انھوں نے دعوت وتبلیغ کے پلیٹ فارم سے خوب فائدہ اٹھایا ،نوجوانوں کو دین اسلام کی دعوت شب وروز دیتے رہے ،اسی مشن پر گامزن رہتے ہوئے وہ پاکستان سمیت دنیا بھرکے تبلیغی دوروں میں مصروف رہے لاکھوں لوگوں نے جنید جمشیدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور لاکھوں مسلمان نوجو انوں نے آپ ؒ کی دعوت سے متاثر ہو کر گناہ کی دنیا کو ترک کیا ۔وہ دعوت وتبلیغ میں ہمہ تن گوش مصروف تھے کہ انھیں اسلام آباد قومی اسمبلی کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینا تھا وہ خطبہ کی غرض سے بذریعہ پی آئی اے پروازپر گذشتہ دن اسلام آباد آرہے تھے کہ ان کا طیارہ فضائی حادثے کا شکار ہوگیا ۔اس خبر کا غم سارے پاکستان نے محسوس کیا مگر کچھ ناعاقبت اندیش، جاہل،فتنہ پرور لوگوں نے دروغ گوئی کا سہارا لیتے ہوئے جنید جمشید ؒ کی کردار کشی شروع کردی ان پر ایسے ایسے جاہلانہ،خودساختہ فتوے فٹ کرنا شروع کر دئیے ہیں جس کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا ۔یہ منفی ترین،شرم ناک مہم سوشل میڈیا پر ایک خاص فرقہ پرست ذہنیت کے حامل عناصر نے چلائی جن کاکاروبار فرقہ پرستی نام پر چمک رہا ہے اگر یہ فرقہ پرستی کاد ہندہ چھوڑ دیں تو ان کے گھروں میں فاقے ڈھیرے ڈال لیں یہ وہی لوگ ہیں جنھیں ہمیشہ قوم نے مسترد کیا ۔ان کی حیثیت انتشار پسند عناصر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ،سوشل میڈیا پر یہ مہم اب بھی چل رہی ہے اور حکومت آنکھیں بند کر قومی ترانہ کے بعد سب سے معروف ترانہ دل دل پاکستان پڑھنے والے قومی ہیرو ،مبلغ اسلام جنید جمشید ؒ کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے(ہم ایسے عناصر کو چند الفاظ میں کہنا چاہتے کہ رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات کا ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص دنیا چھوڑ جائے تو اس کی برائیاں نہ کرو بلکہ اس کو اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کرو ۔جنید جمشید ؒکی زندگی تو سب مسلمانوں کے سامنے ایک کھلی کتاب ہے ،اگران سے اگر بطور انسان سے غیر شعوری طور پر سہواً غلطی سرز ہوئی تھی تو انھوں نے الاعلان معافی مانگی جب کوئی معافی مانگ لے تو اﷲ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں تو اس کی مخلوق اور اعلیٰ مقام کے حامل مسلمان معاف کیوں نہیں کرتے؟ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کسی کی مرضی کا نام نہیں بلکہ اسلام اﷲ و رسول ﷺ کی تعلیمات واحکامات کا نام ہے ) ،ہماری اس سلسلے میں رائے ہے کہ جنید جمشید ؒ کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انھیں اہم قومی ایوارڈ دیا جائے اور شہید جنید جمشید ؒکے خلاف غلط مہم چلانے والوں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

ہم سمجھتے ہیں قوم نے جس طرح حالیہ طیارہ حادثہ کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرکے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل دید ہے ۔قوم کو مزید منظم ومربوط ہونے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی اسلام اور پاکستان دشمن اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔آخر میں ہم جنید جمشید شہیدؒ کی فروغ اسلام کے سلسلے میں پیش کی گئی خدمات کو دل کی اتھاہ گہرائیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور نوجوانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ جنید جمشید شہید ؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گناہ کی دنیا سے نیکی کی دنیا کی طرف ہجرت کریں تاکہ ان کی زندگیاں بھی اسلام کی خوشبو سے معطر ہو کر سب لوگوں کیلئے مشعل راہ کا باعث بن سکے،اﷲ کے حضور عاجزانہ درخواست ہے کہ اے رب رحیم وکریم جنید جمشید ؒ سمیت تمام شہدائے کی مغفرت فرما کر انھیں رفاقت نبی ٔ مہربانﷺ نصیب فرما (امین ثما امین) ٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 160011 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2016 Views: 512

Comments

آپ کی رائے