اے رہبر ملک و قوم بتا یہ کس کا لہو ہے کون مرا

(Kunwar Aslam Shahzad, Karachi)
ابتدا اس رب کے بابرکت نام سے جس نے مجھے اور اس سارے جہاں کو پیدا کیا اور لاکھوں درود و سلام رحمت للعالمین"محمد"صلی اللہ علیہ وسلم پر جن نے انسانوں کو اک کتاب"قرآن" سے روشناس کرایا اور جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ شیطان کے ابتداء سے لیکر انتہاء تک"راہ حق سے راہ باطل تک" کی تمام روداد اور طے کر دیا دو گروہ ہونگے اک"راہ حق"پر چلنے والے اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کا دوسرا"گروہ شیطان" باطل کا نمائیندہ طے کر دیا۔

"راہ حق سے راہ باطل تک"

"اے رہبر ملک و قوم بتا یہ کس کا لہو ہے کون مرا"
ابتدا اس رب کے بابرکت نام سے جس نے مجھے اور اس سارے جہاں کو پیدا کیا اور لاکھوں درود و سلام
رحمت للعالمین"محمد"صلی اللہ علیہ وسلم پر جن نے انسانوں کو اک کتاب"قرآن" سے روشناس کرایا اور
جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
شیطان کے ابتداء سے لیکر انتہاء تک"راہ حق سے راہ باطل تک" کی تمام روداد اور طے کر دیا دو گروہ ہونگے
اک"راہ حق"پر چلنے والے اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کا دوسرا"گروہ شیطان" باطل کا نمائیندہ طے کر دیا۔
"داستان قربانی تصویروں کے آئینے میں"16 دسمبر 1971 کا دن کا سوچتا ہوں دیکھتا ہوں
تو آنکھوں سے آنسوں دل سے آہ نکلتی ہے،خون کے آنسو دبانے سے بھی نہیں دبتے کیوں؟
اسلئے کہ میں پاکستانی تھا ہوںاور رہونگا کیونکہ میں نے تو دینے کا وعدہ کیا تھا اور دیا اس ملک کو جان دی،مال دیا،عزت اور آبرو میری مائوں،بہنوں،بیٹیوں کی لٹیں اور 14 اگست 1947 کو پاکستان کو دنیا کے نقشے پر لایا اور قائد "محمد علی جناح" کو بنایا" مادر وطن"محترمہ فاطمہ جناح" کو بنایا اور قائد ملت"خان لیاقت علی خاں" کو مانا۔
یہ عظیم الشان شخصیات وہ ہیں جنھوں نے وطن کو سب کچھ دیا اصول،دیانت،شرافت،لیاقت،وقار دیا مگر سمجھوتا نہیں کیا،بکے نہیں،جھکے نہیں اور انگریز کو خبر بھی نہ ہوئی کہ قائد اعظم یک مہلک مرض میں مبتلاء ہیں ورنہ بقول انگریز حکمرانوں کےاگر ہمیں خبر ہوتی کی "محمد علی جناح"کو مہلک بیماری ہے تو ہم
ان کے مرنے کا انتظار کرتے اور پاکستان کو آزاد نہ کرتےمگر ہم نے ان سب کے ساتھ کیا کیا؟
بیمار تھے تو ایمبولینس نہ پہنچی،دوسرے کو شہید کروا دیا اور مادر وطن کے ساتھ پہلے اسے "ایوب خان"
صدر مملکت پاکستان نے "را"کا ایجنٹ قرار دے دیا تو جب "آمروں" نے ان کو نہ بخشا تو اب کسی کو بھی"را"
کا ایجنٹ قرار دینا کون سا مشکل کام ہے اور پھر گھر میں نظر بلند رکھا اور جب "ریڈیو پاکستان" سے قوم سے خطاب کرنے لگیں تو نشریات بند کر دی گئیں اور پھر قتل کر دیا گیا اور کسی کو منہ بھی نہ دیکھنے دیا گیا؟
قائد اعظم کے وہ تاریخی الفاظ"مجھے نہیں معلوم تاھ میری جیب میں کھوٹے سکے موجود تھے"۔
میرے جیسے نالائق کی سمجھ میں یہ بات اس کے بعدآ گئی کہ آخر 24 سال 4ماہ اور 2 دن بعد میرا
وطن"پاکستان" دو لخت ہوگیا۔آہ میرا وطن اے قائد اعظم میں شرمندہ ہوں ،مگر میں کیا کروں،کس سے فریاد
کروں،کس عدالت میں جاؤں،کس سے انصاف مانگوں۔سچ کہتا ہوں تو غدار بنا دیا جاتا ہوں،اے میری روحانی
ماں"فاطمہ جناح جب تجھے "را" کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا تو میں کیا بیچتا ہوں""اے قائد ملت"لیاقت علی خان"
تجھے شہید کر دیا گیا جب تیرے قاتل آج تک نہ مل سکے اور "مادر وطن" کے قتل کا کیس داخل دفتر کر دیا گیا تو پھر میں بھی اپنا معاملہ "اللہ" کے سپرد کرتا ہوں"بے شک وہ انصاف کرنے والا ہے"
آج اسی لئے اپنا فرض ادا کر رہا ہوں اور "پاکستانی" عوام کو تصویروں کے ذریعے حقائق سے آگاہ کر رہا ہوں۔
کیا لمحہ تھا،جب جنرل یحییٰ پاکستان میں رہنے والوں کو دریائوں،جنگلوں اور سڑکوں پر جنگ لڑنے اور بےبہا کامیابیوں کی نوید سنا رہا تھے،عین اسی وقت بی بی سی ریڈیو ایک دلخراش خبر نشر کر رہا تھا
افواج پاکستان نے میدان میں ہتھیار ڈال دیے ہیں یہ میرے کان سن رہے تھے بہت چھوٹا تھا،گھر میں ایسا لگ رہا تھا میت ہو گئی ہو،سب غمگین والدہ،والد۔بھائی جان،باجی کاٹو تو خون نہیں۔والدہ چیخیں آہ میرا وطن آج دو لخت ہو گیا اللہ غارت کرے ان کو،اللہ نہیں چھوڑے گا جس نے یہ کیا ہے امی جان آپ کیوں رو رہی ہیں اک زور کا تھپڑ منہ پر پڑا پوچھتا ہے کیوں رو رہی ہوں،تمھیں کیا معلوم بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے تمھیںمیرے بھائی،بہن
شہید ہوئے تھے مجھ سے پوچھو،قبریں چھوڑ کر آئے ہیں زمیندار تھے،حویلی تھی کیا اس لئے چھوڑا تھا توڑ دو۔
وہ تھپیڑ آج تک یاد ہے مجھکو بھول نہیں پاتا ہوں یہ تھی میرے گھر والوں کی "پاکستان" سے دلی محبت"
پاکستان کا ریڈیو پاک فوج کی فتح کی نوید سنا رہاتھا اور بی۔بی۔سی افواج پاکستان کے ہتھیار ڈالے کی خبر دے رہا تھا۔کیا لکھوں الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں،آنکھوں کے نیچے اندھیرا چھا رہا ہے،انگلیاں کام نہیں کر رہیں۔
کان سن نہیں پا رہے،ٹانگیں کانپ رہی ہیں مگر حقیقت تو یہی ہے دل نے کہا،نہ مانے سے کیا ہوگا؟
پاکستان کا پرچم سرزمینِ ڈھاکہ میں سَر نِگوں ہو گیا ۔ جنرل نیازی اپنا ریوالور کھولتے ہیں اور گولیوں سے خالی کر کے جنرل اروڑا کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں ۔ جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سرِ عام اتارے جاتے ہیں ۔ اُن کا چہرہ گہرے سمندر کی طرح ساکت رہتا ھے ۔ ہجوم کی طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ھے ۔ جنرل نیازی اپنی جیپ کی طرف آتے ہیں جس کا بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کر رکھا ھے ۔
قصاب ، بھیڑیے اور قاتل " کا شور بلند ہوتا ھے ۔ جنرل نیازی اپنی گاڑی میں بیٹھنے والے ہیں ۔ ایک آدمی محاصرہ توڑ کر آگے بڑھتا ھے اور اُن کے سر پر جوتا کھینچ کر مارتا ھے ۔
ہائے ! یہ رسوائی ، یہ بےبسی اور یہ بےچارگی ، یہ ذلت اور یہ ہزیمت ۔
ہماری تاریخ نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ "
( مضمون " سقوطِ ڈھاکہ " بقلم الطاف حسن قریشی ۔ ہفت روزہ " صحافت 14 دسمبر 1977 ۔ )
دسمبر 1971 کے واقعہ سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، دنیا نے سازش کی، بھارت نے مداخلت کی بنگالی غدار نکلے اور 16 دسمبر2016 کو بھی ہم ترانے بجا کر گزار رہے ہیں، وہ دشمن پیدا کس نے تھے،ان سانپوں کو کسنے اور کیوں پالا اور ابھی تک دشمن کے بچے تو دور کی بات،اپنی ساری قوم کے بچوں کو جو تعلیم دے رہے ہیں۔اس سے دشمن ہی بن سکتے ہیں۔ یا پھر دولے شاہ کے چوہے۔ایسے مذہبی انتہا پسند اور تنگ نظر وطن پرست،دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کرنے والوں کیا تم کو پتا ہے،کہ پاکستان کے 8 کروڑ بچے آج بھی ناخواندہ ہیں؟ شرم اور بے حسی کی کوئی حد ہونی چاہئے
ذولفقار علی بھٹو ، یحی خان اور سقوط ڈھاکہ
پانچ جولائی بھٹو کے اقتدار کے خاتمے اور جنرل ضیاء کے طویل اقتدار کے شروع ہونے کے حوالے سے جانا جاتا ہے. ہماری قوم تصویر کو ایک ہی رخ سے دیکھنے کی عادی ہے، کیا بھٹو کا ہٹایا جانا بے سبب تھا؟ کیا بھٹو کی پھانسی سے اس کے گناہ دھل گئے؟ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار بھی جنرل ضیاء ہی تھا؟. اسی آخری نقطے پر، ایک تحقیقاتی جائزہ.
تاریخ چنگیز اور ہلاکو کی تلوار کی طرح بے رحم ہوتی ہے، یہ عباوں، قباوں اور پگڑیوں کی لاج نہیں رکھتی، محرم اور مجرم کو بیچ چوراہے پر کپڑے اُتار کر چھوڑ جاتی ہے۔ تاریخ کے صفحات ہمیں مشرقی پاکستان، اور ان ہستیوں کے متعلق کیا حقائق بتاتے ہیں چند حقائق پیش خدمت ہیں۔ میری کوشش رہی ہے کہ میں ان حقائق کا ذکر کروں جن کو فیکٹ آن ریکارڈ کہا جاتا ہے، یعنی جن سے کوئی دوست یا دشمن باوجود اختلاف کے انکار نہ کر سکے
یہ مضمون بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے.
اول، مجیب، بھٹو اور مشرقی پاکستان کے حق میں یحی خان کا کردار
دوئم، بھٹو اور یحیی کے تعلقات
سوئم، بھٹو کا مجیب اور مشرقی پاکستان کے لئے کردار
یحی خان نے بنگالیوں کی شکایات کم کرنے کی کوشش کی۔یحی خان پہلا چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر مملکت تھا جس نے بنگالیوں کی آرمی میں بھرتی کی حوصلہ افزائی کی، اور آرمی میں بنگالیوں کی تعداد دوگنی کر دی۔ یحی خان پہلا اور آخری شخص تھا جس نے بنگالیوں کے احساس محرومی کا ادراک کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں بنگالی چیف سیکیٹری اپائنٹ کیا۔
اسکی شخصیت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یحی خان سیاسی طور پر ایک نااہل شخص اور ایک کمزور شخصیت کا مالک تھا جبکہ بھٹو بلا کا شاطر، ذہین اور خاندانی رئیس، یحی خان بھٹو کے زیر اثر تھا یہ دونوں ہی بلا کے شراب نوش تھے اور اکھٹا شراب و کباب کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے، یحی خان بھٹو کے گھر اسکی تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔1971 کے الیکشن اور اسکے بعد پیدا ہونے والے حالات میں یحی خان نے مشرقی پاکستان کا
مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور صدر ہوتے ہوئے خود شیخ مجیب سے ملنے بنگلہ دیش گیا، اور مجیب سے منت سماجت کی حد تک درخواست کی کہ وہ بھٹو سے ملے، اور شیخ مجیب کو منا بھی لیا جبکہ دوسری طرف بھٹو عوامی لیگ کی واضع اکثریت کو ماننے سے صاف انکار کر چُکا تھا۔ بھٹو نے ملکی وحدت کے خلاف کئی بار بات کی جو اس کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مثلا اُدھر تم ادھر ہم، جو ڈھاکہ گیا میں اس کی ٹانگیں توڑ دونگا، اور جس نے ڈھاکہ جانا ہو وہ یکطرفہ ٹکٹ لے کر جائے۔
یحی نے بہرحال بھٹو کو بھی مجیب سے ملنے پر رضامند کر لیا، گو کہ اس کے لئے یحی کو صدر پاکستان ہوتے ہوئے بھٹو کے گھر لاڑکانہ جا کر اس کو منانا پڑا۔ دوسری طرف یحی خان مجیب کو 67 فیصد اکثریت کے باوجود بھٹو سے مزاکرات پر آمادہ کر چُکا تھا ، لیکن مزاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو نے مزاکرات میں عوامی لیگ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا، حالانکہ بھٹو کی اکثریت صرف 32 فیصد تھی لیکن اس نے مٰغربی پاکستان کی اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے قومی اسمبلی کا سیشن منعقد کرانے کی مخالفت کی، جبکہ یحی خان اس کو کنوینس کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا۔ واضع رہے کہ آئینی طور پر نیشنل اسمبلی کے سیشن میں ہی عنان اقتدار دوسرے حکومت کو منتقل کی جاتی ہے، بقول احمد رضا قصوری "اگر یہ سیشن ہو جاتا تو آج خوشحال متحدہ پاکستان ہوتا"۔
اس صورتحال میں یحی خان کے پاس کوئی اور آپشن نہ تھا کہ کسی سیٹلمنٹ تک پہنچنے تک بحیثیت صدر قومی اسمبلی کا سیشن ملتوی کر دے۔ یہ سیشن ملتوی ہونا بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کو سڑکوں پر لے آیا، کیونکہ ان کی 67 فیصد اکثریت کے باوجود ان کو حکومت نہیں دی جا رہی تھی۔ اسکی وجہ سے بنگلہ دیش میں حالات اور خراب ہوئے اک نفرت جو عرصے سے پک رہی تھی ابھرکر سامنے آ گئی لہذا حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے یحی خان نے لیفٹننٹ جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان بھیجا۔ ٹکا خان اپنے متشدد مزاج کی وجہ سے مشہورھا، تاثر یہ ہے کہ یحی خان نے بھٹو دوستی میں بھٹو کے ایما پر ٹکا خان کو ڈھاکہ بھیجے جانے کے لئے چُنا کیوں کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکا خان بھٹو کا چہیتا اور لاڈلہ بن کے منظر عام پر اُبھرا۔
ٹکہ خان کو اسکی ریٹائرمنٹ کے فورا بعد بھٹو نے اپنا وزیر دفاع بنا لیا، اور بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد ٹکا خان پیپلز پارٹی کا سیکیٹری جنرل بنا دیا گیا، ٹکا خان بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی پیپلز پارٹی میں اسی عہدے پر قائم اور بے نظیر کا قریبی مشیر رہا، اس کے پاس یہ عہدہ 2002 میں اس کے انتقال تک رہا۔
یحی خان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی، یہ امر قابل غور ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے چند یوم بعد 20 دسمبر 1971 کو ہی یحی خان نے صدارت اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے استعفی دے دیا۔
یہ نقاط تاریخی حقائق ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لکھ رہا ہوں ان کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
آپ ان تاریخی حقائق سے بھٹو، یحی اور ٹکا خان کا کردار، اور سقوط ڈھاکہ سے متعلق کیا اخذ کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے، جو نتیجہ میں نکال سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ""سقوط ڈھاکہ کا واحد اور براہ راست فائدہ جس شخصیت کو تھا وہ بھٹو تھا۔""
پانچ جولائی بھٹو کے اقتدار کے خاتمے اور جنرل ضیاء کے اقتدار کے شروع ہونے کے حوالے سے جانا جاتا ہے. ہماری قوم تصویر کو ایک ہی رخ سے دیکھنے کی عادی ہے،
کیا بھٹو کا ہٹایا جانا بے سبب تھا؟
کیا بھٹو کی پھانسی سے اس کے گناہ دھل گئے؟
سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار بھی جنرل ضیاء ہی تھا؟
اس آخری نقطے پر، بھٹو کے گن گانے والوں کے لئے ایک تحقیقاتی جائزہ.
ذولفقار علی بھٹو ، یحی خان اور سقوط ڈھاکہ
تاریخ چنگیز اور ہلاکو کی تلوار کی طرح بے رحم ہوتی ہے، یہ عباوں، قباوں اور پگڑیوں کی لاج نہیں رکھتی، محرم اور مجرم کو بیچ چوراہے پر کپڑے اُتار کر لا کھڑا کرتی ہے۔ تاریخ کے صفحات ہمیں مشرقی پاکستان، اور ان ہستیوں کے متعلق کیا حقائق بتاتے ہیں میں نے چند حقائق پیش خدمت ہیں۔ میری کوشش کورں گا کہ ان حقائق کا ذکر کروں جن کو فیکٹ آن ریکارڈ کہا جاتا ہے، یعنی جن سے کوئی دوست یا دشمن باوجود اختلاف کے انکار نہ کر سکے۔
"سقوط ڈھاکہ کا واحد اور براہ راست فائدہ جس شخصیت کو تھا وہ بھٹو تھا۔"
اکثریت کی بات ہمیشہ مانی جاتی ہے اور مشرقی پاکستان کے افراد دینا کے وہ واحد افراد ہیں جنھوں نے اقلیت سے جان چھڑائی اور آخر کار میرا ملک،میرا وطن دو لخت ہو گیا اب اور ہمت نہیں کچھ لکھ سکوں،ہمت جواب دے گئی ہے ۔تاریخی حقائق آپ کے سامنیں ہیں فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے ۔
اک شخص وہ ہے جسکے بیٹے،بیٹاں،مائیں،بہنیں،بھائی،بزرگ مر رہے تھے لاشے اٹھ رہے تھے شدت جذبات میں
نعرہ لگا دیا اور "را" کا ایجنٹ بنا دیا گیا دوسری طرف وہ جنھوں نے کہا نہیں کر کے دکھا دیا"پاکستان"توڑ دیا۔
کون محب وطن ہے کون غدار اسکا مقدمہ میں تو"اللہ کی عدالت پہ چھوڑتا ہوں" اور اپنے رب سے دعا گو ہوں
"اے میرے رب پھر اس ملک کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں بچا لے میرے "پاکستان" کو بچا لے،بچا لے،بچا لے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kunwar Aslam Shahzad

Read More Articles by Kunwar Aslam Shahzad: 10 Articles with 4777 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2016 Views: 632

Comments

آپ کی رائے