پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے عوام کو بے وقوف بنایا

(عابد محمود عزام, Lahore)
٭……جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ سے خصوصی گفتگو
 لیاقت بلوچ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں۔ ٹھنڈے اور دوستانہ مزاج کی وجہ سے ملک کے مذہبی اورسیاسی حلقوں میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان مصالحتی کوششوں کی بنا پر وہ 1996ء سے 1997ء تک ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1985ء، 1990ء اور 2002ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے ایوان زیریں میں پارلیمانی پارٹی کی قیادت بھی کی۔11مئی 2009ء کو امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے انہیں قیم جماعت مقرر کیا۔ ملکی و غیر ملکی سیاست پر ان کی رائے کو کافی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ عابد محمود عزام نے ان سے اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک، پاناما لیکس کیس، حکمرانوں کے احتساب سے متعلق جماعت اسلامی کے موقف، جماعت اسلامی کی کرپشن فری مہم، حکومت کی قرضے لینے کی پالیسی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید، شام اور مسلم ممالک میں خانہ جنگی، اس سے متعلق او آئی سی اور عالم اسلام کی ذمہ داریوں، بھارت کا پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ، مذہبی جماعتوں کے اتحاد اور ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی، جو نذر قارئین ہے۔

عابد محمود عزام: سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے پاکستان آتے ہی حکومت مخالف تحریک نے ایک بار پھر جان پڑ گئی ہے، اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے لیے سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ حکومت مخالف اس تحریک کے مقاصد کیا ہیں اور یہ تحریک کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے؟ اور کیا جماعت اسلامی بھی اس تحریک کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتی ہے؟
لیاقت بلوچ: زرداری صاحب حکومت مخالف تحریک چلانے کی بات کر رہے ہیں اور مختلف جماعتیں اس تحریک کا حصہ بھی بن رہی ہیں، لیکن ابھی تک حکومت مخالف اس تحریک کی صورتحال واضح نہیں ہے۔ اپوزیشن کا احتجاج تو ہوتا ہی رہتا ہے، اپویشن جماعتیں مل بیٹھ کر کوئی نہ کوئی فیصلہ کرتی رہتی ہیں۔ حکومت مخالف تحریک تو پہلے سے ہی جاری ہے، اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواچکی ہیں اور پاناما لیکس کے معاملے میں حکمرانوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کرچکی ہیں۔ اب زرداری صاحب مشترکہ طور پر حکومت مخالف تحریک چلانے کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس کی صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہے، جب صورتحال واضح ہوجائے گی تو پھر جماعت اسلامی اس میں شامل ہونے کا سوچے گی۔

عابد محمود عزام: پاناما لیکس کا معاملہ کئی ماہ سے لٹکا ہوا ہے، یہ معاملہ کون اور کیوں لٹکا رہا ہے؟ کیا پاناما لیکس کیس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا یا موجودہ حکومت کا سارا دور اسی طرح گزر جائے گا؟
لیاقت بلوچ: حکومت پاناما لیکس معاملے کو جان بوجھ کر لٹکارہی ہے۔ اگر حکومت چاہتی تو عدالتی کمیشن بن جاتا، لیکن حکومت نہیں چاہتی۔ اپوزیشن نے ٹی او آرز پر اتفاق کرلیا تھا، لیکن حکومت نے اتفاق نہ کیا۔ پی ٹی آئی بھی عدالت گئی، لیکن فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بنیادی بات عدالتی کمیشن کا قیام تھا، عدالتی کمیشن قائم کیا جاتا اور تحقیقات کی جاتیں، لیکن اب معاملہ کچھ گھمبیر ہوگیا ہے۔ حکومت تو پہلے ہی اس معاملے کو لٹکانا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن کا پہلے اتفاق تھا، لیکن بعد میں اپوزیشن کا بھی نہ تو عدالت میں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں موقف ایک رہا۔ جماعت اسلامی کا شروع سے موقف واضح ہے کہ پاناما لیکس میں جن کا نام آیا ہے، سب کا احتساب کیا جائے۔ پاناما پیپرز میں 770 افراد کے نام آئے ہیں، جنہوں نے ملک سے دولت بیرون ملک لے جاکر آف شور کمپنیاں بنائی ہیں۔ ان کا احتساب ہونا چاہیے، لیکن یہ سب اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتا۔ ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ اگر ان پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی جاتی ہے تو شور مچایا جاتا ہے۔

عابد محمود عزام: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکمرانوں کے احتساب کے لیے عوام کو بڑی تحریک برپا کرنا ہوگی۔ کیا جماعت اسلامی کے پاس حکمرانوں کے احتساب کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل ہے؟
لیاقت بلوچ: جماعت اسلامی کا شروع سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ جو قصوروار ہو اسے سزا دی جائے۔ پاناما لیکس کے معاملے میں حکومت، پارلیمنٹ اور عدالت کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ اگر یہ ادارے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے تو احتجاج کے لیے سڑکیں موجود ہیں۔ فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔ پاناما لیکس کے معاملے میں سب عوام کو بے قوف بنا رہے ہیں۔ نہ حکومت فیصلہ کرنا چاہتی ہے اور نہ اپوزیشن اس معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ حکمران سب سے زیادہ عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ بہت سی جماعتیں احتساب اور تحقیقات کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر تحقیقات اور احتساب کا عمل شروع ہوا تو بہت سے نام سامنے آئیں گے۔ آف شور کمپنیز میں کسی بھی مذہبی شخصیت کا نام نہیں آیا ہے۔مذہبی شخصیات پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی ہے۔ جن لوگوں پر کرپشن ثابت ہوئی ہے، ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوام کرپٹ لوگوں کے چہرے سب کے سامنے بے نقاب کریں۔ اگر عوام دیانتداری کے ساتھ اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں تو بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ اگر عوام چاہیں تو حکمرانوں کا احتساب کرسکتے ہیں۔

عابد محمود عزام: جماعت اسلامی کی کرپشن فری مہم کس حد تک کامیاب ہوئی ہے؟
لیاقت بلوچ: جماعت اسلامی کا موقف بڑا واضح ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ کرپشن کا خاتمہ ہوگا تو ملک ترقی کرسکے گا۔ کرپشن ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ ملک کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، جس سے نجات حاصل کیے بغیر پاکستان ترقی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی ہمیشہ سے کرپشن کے خاتمے کی کوشش کرتی رہی ہے، الحمدﷲ جماعت اسلامی کی کرپشن فری مہم سے عوام میں شعور آیا ہے۔ پبلک بھی کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی زبان بولنے لگی ہے۔ جماعت اسلامی کی کرپشن فری مہم عوام کے دلوں کی آواز بن چکی ہے اور یہ مہم عوام کوکرپٹ مافیا کے خلاف بیدار کر نے میں انتہائی مفید ثا بت ہو ئی ہے۔ جماعت اسلامی کی یہ مہم جاری ہے اور انشاء اﷲ جاری رہے گی۔

عابد محمود عزام: موجودہ حکومت نے اپنے دور حکومت میں قرضے لینے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ 30جون 2018ء تک 12ارب 53کروڑ ڈالر کا مزید غیر ملکی قرض لینے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ آپ موجودہ حکومت کی قرضے لینے کی اس پالیسی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور آپ کی نظر میں حکومت کا موجودہ دور کس حد تک کامیاب رہا ہے؟
لیاقت بلوچ:حکومت اپنے دور میں ناکام ہوچکی ہے۔ بدامنی بڑھتی جارہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت بڑھتی جارہی ہے۔ عوام کی حالت بد تر سے بدترین ہوتی جارہی ہے۔ وفاق اور چاروں صوبوں کی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہیں۔ عوام کو مزید مشکلات کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ حکمران قرضوں پر قرضے لیے جارہے ہیں۔ سود کی لعنت بڑھتی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت نے قرضوں پر 35 کھرب سود ادا کیا ہے۔ ان قرضوں کی وجہ سے عوام پر ٹیکس بڑھتا ہے اور عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوتی ہیں، لیکن حکومت عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کی بجائے مزید قرضے لاد رہی ہے۔

عابد محمود عزام:قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید کو 5000 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں کہ اس معاملے میں کون قصوروار ہے اور حکومت کی عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
لیاقت بلوچ: قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بے گناہ ہے، اس کی قید سراسر ظلم ہے۔ عافیہ صدیقی کی قید حکمرانوں اور خصوصاً عافیہ صدیقی کو امریکا کے ہاتھوں بیچنے والے پرویز مشرف کے ماتھے پربدنما داغ ہے۔ امریکا ایک بے گناہ خاتون پر ظلم ڈھا رہا ہے، لیکن انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں بھی خاموش ہیں۔ عافیہ صدیقی کی قید امریکی حکمرانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہمارے حکمرانوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ حکمرانوں کو عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کو رہا کروانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ عافیہ صدیقی کو فوری رہا کیا جائے۔

عابد محمود عزام: شام میں ایک عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے، شام کو ان حالات تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے اور شام ان حالات سے کس طرح نکل سکتا ہے؟
لیاقت بلوچ: معاملہ صرف شام کا نہیں، بلکہ عالم اسلام کے اکثر ممالک بدامنی و خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ مسلم دنیا کو ان حالات تک پہنچانے میں عالمی برادری کا ہاتھ ہے۔ شام، کشمیر، فلسطین، افغانستان، عراق سمیت کوئی بھی ایسی جگہ نہیں، جہاں امن قائم ہو۔ مسلم دنیا میں ہر جانب بدامنی ہی بدامنی ہے۔ فلسطین میں یہودیوں نے اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے۔ کشمیر میں نہتے عوام پر ظلم و ستم کیا جارہاہے۔ مسلم دنیا کو ان حالات تک پہنچانے میں عالمی ساشیں شامل ہیں۔ ان کا ہدف عالم اسلام ہے، ان کا ہدف سعودی عرب ہے۔ سازش کے تحت مسلمانوں کو لڑا کر مسلم دنیا میں خانہ جنگی کی آگ لگائی جاتی ہے۔ ان حالات میں اتحاد امت کی انتہائی زیادہ ضرورت ہے۔ سب کو مل کر اتحاد امت کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر امت متحد نہ ہوگی تو یونہی امریکا و یورپ کی سازشوں کا شکار ہوتی رہے گی۔ دشمن ہمیں کبھی شیعہ سنی کی بنیاد پر لڑاتے ہیں تو کبھی مسلکوں کی بنیاد پر لڑاتے ہیں اور ہم لڑتے رہتے ہیں۔ شام میں بھی یورپ نے شیعہ سنی دو دھڑوں میں لڑوا کر اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں۔

عابد محمود عزام: دنیا بھر میں اسلامی ممالک بدامنی کا شکار ہیں، جبکہ یورپ پر امن ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ مسلم دنیا کے حالات کس طرح بہتر ہوسکتے ہیں اور او آئی سی کو اس حوالے سے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
لیاقت بلوچ: امریکا و یورپ نے پوری اسلامی دنیا میں بدامنی کی آگ لگائی ہے اور یہ آگ لگا کر خود دور سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے حالات بہتر کرنے کے لیے سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران کو آگے آنا ہوگا۔ یہ چاروں ممالک اسلامی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ چاروں ممالک مل کر مسلم دنیا کے حالات بہتر کر سکتے ہیں۔ او آئی سی مسلم دنیا کی نمائندہ تنظیم ہے، جسے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے، اگر یہ چاروں اہم ممالک اپنی ذمہ داری ادا کریں تو او آئی سی بھی اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے ادا کرسکتی ہے۔

عابد محمود عزام: لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی سے لے کر پاکستان میں دہشتگردی کروانے تک بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جارحانہ رویہ روا رکھا ہے اور وقتاً فوقتاً بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی بھی روک دیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر بھارت نے پاکستان کا پانی روک دیا ہے، جس سے مختلف اضلاع کی لاکھوں ایکڑ زمینوں پر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
لیاقت بلوچ: بھارت نے کبھی پاکستان کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھا، بلکہ ہمیشہ جارحانہ رویہ اپنایا ہے۔ بھارت نے ابھی تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان کو دو لخت کرنے سے لے کر کشمیر میں مظالم کی نئی تاریخ رقم کرنے تک، پاکستان میں سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزی سے لے کر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروانے تک ہمیشہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ بھارت ایک عرصے سے کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ بھارت نے آبی جارحیت کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے۔ وقتاً فوقتاً پاکستان کا پانی روک دیا جاتا ہے، جس سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زمین کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے میں پاکستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے سامنے بھارت کی منافقت کا پردہ چاک کرے۔ بھارت کو بے نقاب کرے اور کشمیر کے معاملے پر واضح موقف اختیار کرے۔ اپنی آواز عالمی سطح پر اٹھائے، عالمی محاذ پر سفارتی پالیسی واضح اور مضبوط کرے اور اس کے ساتھ ایک مستقل وزیر خارجہ بھی بنایا جائے جو دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرے۔

عابد محمود عزام: پاکستان میں حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں، جن پر پاکستان کی مذہبی جماعتیں سراپا احتجاج ہوتی ہیں، جیسے سندھ میں قبول اسلام سے متعلق قانون اور اس سے پہلے بھی اسی قسم کے قوانین پاس کیے جاتے رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو کیا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے؟
لیاقت بلوچ: حکمران بیرونی دباؤ پر وقتاً فوقتاً غیر شرعی قوانین بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یورپ، امریکا اور این جی اوز حکومت سے اپنی بات منوالیتے ہیں۔ ان کا ہدف پاکستان کا سلامی تشخص ہے، یہ سب پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے نمائندے میڈیا میں بھی ہیں، اسٹیبلشمنٹ میں بھی ہیں اور ریاست کے دیگر شعبوں میں بھی مضبوط حیثیت میں ہیں۔ یہ لوگ وقتاً فوقتاً پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کی ثقافت اور مزاج کے منافی قوانین لانے کی کوشش کرتے ہیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ ایسے میں دینی جماعتوں کو الگ الگ کوشش کرنے کی بجائے متحد ہوکر کوشش کرنی چاہیے۔ ایسے حالات میں دینی جماعتوں کا متحد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر دینی جماعتیں متحد نہیں ہوں گی تو سیکولر قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ہماری شروع سے کوشش رہی ہے کہ کسی طرح دینی جماعتیں مل کر جدوجہد کریں۔ اسی مقصد کے لیے ملی یکجہتی کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا، اب بھی کوشش ہے کہ کسی طرح تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور سب دینی جماعتیں متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔

عابد محمود عزام: آئندہ الیکشن میں مذہبی جماعتوں کا مجلس عمل یا کسی اور نام سے کوئی اتحاد ممکن ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی کوششیں ہورہی ہیں؟
لیاقت بلوچ: آئندہ الیکشن میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے امکانات موجود تو ہیں، لیکن فی الحال واضح نہیں۔ کوشش بھی ہے کہ کسی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد سامنے آسکے۔ میں نے گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملاقات کی تھی، جس میں اسی حوالے سے بات چیت بھی کی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آئندہ الیکشن تک کیا صورتحال سامنے آتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419516 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2017 Views: 373

Comments

آپ کی رائے