مسئلہ کشمیر،اقوام متحدہ اور پاکستان!

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
تاریخ کے اوراق د یکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے کئی حکمرانوں کی طرف سے کشمیر کاز کے حوالے سے خوش آئند باتیں کی گئی ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے کشمیریوں سے گہری قربت کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کشمیریوں کے ساتھ اشتراک عمل کے حوالے سے مشاورت اور ہم آہنگی کا فقدان واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو '' یک جان و یک قلب''قرار تو دیا جاتا ہے، لیکن پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے حکومت پاکستان اور کشمیریوں کو '' ایک پیج'' پر لانے کی ضرورت اب شدت سے درپیش ہے۔یہاں کشمیری رہنمائوں اور نمائندوں کی رہنمائی اور نمائندگی کی اہلیت و صلاحیت کا محدود ہونا بھی واضح طور پر سامنے آ چکا ہے۔آج کشمیری رہنما بھی اس بات کے شاکی ہیں کہ ''آخر پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے کیا؟''مختصر یہ کہ عالمی سطح پر کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم مہم کے ساتھ یہ بات بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اور حکمت عملی کو کشمیریوں کی حقیقی نمائندگی کرنے والوں کی مشاورت سے بہتر اور موثر بنانے پر توجہ دی جائے۔عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پا کستان کی پالیسی اور حکمت عملی کو بہتر اور موثر بنانا ناگزیر ہے،اس '' ہوم ورک'' کو پورا کئے بغیر پاکستان کے سربراہان کی خوش کن باتیں محض باتیں ہی رہ جاتی ہیں۔یہ تو کشمیری زبان کا ایک مہاوہ بھی ہے کہ ''کسی کو محض باتوں سے خوش کرنا''۔
اسلام آباد کے ایک اعلی ہوٹل میں وزارت خارجہ کے زیر اہتمام دو روزہ کشمیر سیمیناز منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لئے حل طلب نہیں رہ سکتا،کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری کو بھارت سے سوال کرنا چاہئے،دنیا کی طرف سے بھارت کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اب بہت ہوچکا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے حمایت جاری رکھے گا،انہوں نے کہا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر نظرئیہ پاکستان کا لازمی حصہ ہے،ہمارے دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم ان کی خوشیوں اور دکھوں میں برابر کے شریک ہیں۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت ہر پاکستانی کے عقیدے کا حصہ ہے،پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے متعلق 70سال قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کے بعد جدوجہد آزادی کا ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کشمیرکا مسئلہ ہر عالمی فورم میں اجاگر کیا جائے اور حکومت نے حال ہی میں اس حوالے سے مختلف ملکوں میں کئی وفود بھیجے ہیں۔پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ چار نکاتی فارمولے کی بھی بات کی،جس میں ستمبر2015کو وزیر اعظم نے 2003میں کشمیر اور لائین آف کنٹرول پر سیز فائر کی مفاہمت،طاقت کے استعمال کی دھمکی سے اجتناب،کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا اور سیاچن سے فوجوں کی واپسی کے نکات شامل ہیں۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ کانفرنس میںبرطانیہ، یورپی یونین اور کینڈا سے سکالرز بھی شامل ہوئے۔ آزاد کشمیر کے صدرمسعود خان اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

سلامتی کونسل میں15 جنوری 48 ء سے مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوئی اور 20 جنوری کو ایک قرارداد میں ایک کمیشن برائے ہندو پاک مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان میں ارجنٹائن کے ڈاکٹر ریکارڈوجے سری (پاکستان کا نامزد کردہ) ، چیکو سلاواکیہ کے جوزف کاربیل (بھارت کا نامزد کردہ)، بیلجئم کے آیگرٹ گرایفے،کولمبیا کے ابزٹوجی فرینڈ ہنر اور امریکہ کے جے ہڈل شام تھے۔ 5 جنوری 1949 ء کو کمیشن نے دونوں فریقوں کی رضا مندی سے اپنی دوسری تاریخی قرارداد پیش کی اس کے پہلے حصہ میں جنگ بندی کا ذکر تھا جس پر عمل بھی ہوچکا تھا۔ کمیشن کی عارضی صلح کی قرار داد میں کہا گیا کہ ۔ قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کو جو جنگ کی غرض سے کشمیر میں ہیں ،سب سے پہلے واپس آنا ہوگا، اس شرط کی تکمیل کے بعد پاکستانی افواج اورہندی افواج کا بیشتر حصہ ریاست سے بیک وقت اور ساتھ ساتھ واپس ہوگا، ہندی فوج کا ایک حصہ اس علاقہ میں رہے گا جو متارکہ جنگ کے وقت ہندی قبضہ میں ہو اور آزادکشمیر کی فوج علاقہ آزاد میں بدستور رہے گی، اس کے بعد کمیشن اور ناظم استصواب حکومت ہند و پاکستان کی حکومت کے مشورے سے فیصلہ کرے گا کہ ریاستی اور ہندی فوج کس تعداد میں ریاست میں رہنے دی جائے اور آزاد فوج سے کیا کام لیا جائے۔ کمیشن نے حصہ سوم کی قرار داد میں کہا کہ عارضی صلح کے بعد انتظامات مکمل ہوتے ہی استصواب رائے عامہ ہوگا، ناظم استصواب بین الاقوامی شہرت کے حامی ہوں گے ،جن کی نامزدگی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کریں گے۔ اس کی رسمی تقرری کا اعلان ریاست جموں و کشمیر کی حکومت کرے گی، ناظم آزاد اور بے لاگ استصواب کیلئے ضروری اختیارات کے مالک ہوں گے، اپنے معاونین و مبصرین کی بابت فیصلہ ناظم استصواب خود کریں گے، ناظم کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ باقی ماندہ ہندی فوج اور ریاستی فوج کو کہاں رکھا جائے تاکہ استصواب پر اثر انداز نہ ہوسکے، ریاست سے خارج کردہ اورخارج شدہ باشندگان ریاست باآرام و آزادی واپس آسکیں گے اور ریاست میں اپنے تمام شہری حقوق حاصل کریں گے۔ مسلم مہاجرین کی واپسی کی نگرانی ایک کمیشن کرے گا۔ جس کے ممبران پاکستان کے نامزد کردہ ہوں گے۔ اسی طرح غیر مسلم پناہ گیروں کی واپسی بھی ہندوستان کا نامزد کردہ کمیشن کرے گا،جو لوگ ناجائز مقاصد کیلئے 15 اگست 1947 ء کے بعد ریاست میں داخل ہوئے ہیں وہ ریاست بدر ہوں گے۔ لیکن وہ غیر ریاستی جو جائز مقصد اور جائز سیاسی سرگرمیوں کیلئے آئیں گے، ان پر کوئی پابندی نہ ہوگی۔ یوں مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل آج بھی عالمی برادری کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر درپیش ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے اس خطاب سے پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر سرگرم سفارتی کوششوں کا ایک بار پھر عندیہ ملتا ہے۔تاہم مختلف خصوصی اقدامات کے علاوہ اب تک پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر اپنی موثر سفارتی مہم کے لئے مضبوط بنیادوں کی تعمیر پر توجہ نظر نہیں آ رہی۔تاریخ کے اوراق د یکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے کئی حکمرانوں کی طرف سے کشمیر کاز کے حوالے سے خوش آئند باتیں کی گئی ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے کشمیریوں سے گہری قربت کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کشمیریوں کے ساتھ اشتراک عمل کے حوالے سے مشاورت اور ہم آہنگی کا فقدان واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔کشمیریوں کو '' یک جان و یک قلب''قرار تو دیا جاتا ہے، لیکن پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے حکومت پاکستان اور کشمیریوں کو '' ایک پیج'' پر لانے کی ضرورت اب شدت سے درپیش ہے۔یہاں کشمیری رہنمائوں اور نمائندوں کی رہنمائی اور نمائندگی کی اہلیت و صلاحیت کا محدود ہونا بھی واضح طور پر سامنے آ چکا ہے۔آج کشمیری رہنما بھی اس بات کے شاکی ہیں کہ ''آخر پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے کیا؟''مختصر یہ کہ عالمی سطح پر کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم مہم کے ساتھ یہ بات بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اور حکمت عملی کو کشمیریوں کی حقیقی نمائندگی کرنے والوں کی مشاورت سے بہتر اور موثر بنانے پر توجہ دی جائے۔عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پا کستان کی پالیسی اور حکمت عملی کو بہتر اور موثر بنانا ناگزیر ہے،اس '' ہوم ورک'' کو پورا کئے بغیر پاکستان کے سربراہان کی خوش کن باتیں محض باتیں ہی رہ جاتی ہیں۔یہ تو کشمیری زبان کا ایک مہاوہ بھی ہے کہ ''کسی کو محض باتوں سے خوش کرنا''۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 620 Articles with 318633 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
05 Jan, 2017 Views: 413

Comments

آپ کی رائے