پاکستان اور برطانیہ کا پارلیمانی نظام حکومت

(Muneer Ahmad khan, RYKhan)
پاکستان چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور اس میں برطانوی طرز کا پارلیمانی نظام حکومت رایج کیا گیا اور اس میں جمہوریت اور عوام کی حکومت لانے کا عزم کیا گیا مگر پاکستان میں عام انتحابات وقت پر نہ کرواے گے اور پہلے عام انتجابات انیس سو ستر میں ہوے اور انیس سو بہتر میں صحیح معنوں میں پارلیمانی نظام لاگوں ہوا اور بھٹو صاحب وزیراعظم اور فضل الہی چوھدری صدر بنے اسکے بعد جمہوریت اور فوجی حکومت کی آنکھ مچولی چلتی رہی اب موجودہ دو ہزار سترہ میں پارلیمانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف صاحب ہیں اور صدر ممنون حسین صاحب ہیں اور اب دیکھتے ہیں کہ بر طانیہ اور ہمارے ہاں کیا فرق ہے برطانیہ میں دو جماعتی نظام رایج ہے اور دو چار اور پارٹیاں ہوں گی مگر پاکستان میں رجسٹر ڈ پارٹیوں کی تعداد تین سو سے اوپر جا چکی ہے اور اتنی زیادہ پارٹیوں کی وجہ سے کسی کو واضح اکثریت نہیں مل سکتی اسکے علاوہ برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اور جو عوام سے وعدے کرکے آتے ہیں انہیں کچھ بھی ہو جاے ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی پارٹیوں کے منشور پر عمل کرنے کی کو شش کرتے ہیں اور کبھی پارٹی بدلنے کی کوشش نہیں کرتے جبکہ ہمارے ہاں ہمارے نمایندے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور منتحب ہونے کے بعد پانچ سال تک اپنی عوام کو اپنا چہرہ تک نہیں دیکھاتے اور منشور تو بناتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے اور عوام کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو الیکشن مہم کے دوران دیتے ہیں اور پارٹیاں. بدلنا ہمارے سیاستدانوں کا بہترین مشغلہ ہے ایک جلسہ ایک پارٹی کے پلیٹ فارم سے کرتے ہیں تو اگلا جلسہ دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے کرتے ہیں اور برطانوی اراکین پارلیمنٹ عوام کو جوابدہ ہیں جبکہ پاکستانی اراکین پارلیمنٹ اپنے لیدر کو جوابدہ ہوتے ہیں اور بر طانیہ کا آین غیر تحریری ہے اور وہ روایات پر عمل کرتے ہیں جبکہ ہمارا آین تحریری ہونے کے باوجود ہم عمل نہیں کرتے اسکے علاوہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ کبھی عوام سےبدھوکہ نہیں کرتے اور کبھی جایداد بنانے نہیں آتے انکا وزیر اعظم کراے کے مکان سے آتا ہے اور کراے کے مکان میں ہی واپس چلا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایک دفعہ وزیر اعظم بننے والے کی اتنی جایداد بن جاتی ہے کہ کی نسلوں تک کیلیے کافی ہوتی ہے ان کے منمبران یک جہتی کی بات کرتے ہیں ہمارے اپنی پارٹیوں کی بات کرتے ہیں انکے ہاں عوام ہی سب کچھ ہے اہک پاٹی اچھا کام نہ کرے تو اسکو بدل دیاجاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ہمارا یہاں ایک سوال ہے جب ہمارے ہاں بھی انکا نظام لاگوں ہے تو پھر ہم ان جیسے کام کیوں نہیں کرتے انکی طرح سچ کیوں نہیں بولتے انکی طرح عوام کو عوام کیوں نہیں سمجھتے عوام کو جوبدہ کیوں نہیں ہوتے اور انکی طرح عوام کو ایک کیوں نہیں بناتے وہ غیر مسلم ہوکر اچھے کام کرتے ہیں اور ہم مسلم ہوکر اچھے کام کیوں نہیں کرسکتے موجودہ حکومت کو کیا سکون سے کام کرنے دیاگیا کیا اگر عمران خان کی حکومت آگی تو میآں صاحب انکو کام کرنے دیں گے آ خر کب ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں گے کب سیاسی استحکام دہں گے پاکستان کو کب ہمارے اراکین پارلیمنٹ میں خوف خدا آےگا کہ وہ عیاشیاں چھوڑ کر پاکستان کی غریب عوام کو جوابدہ بنیں گے کب ہمارےہاں صجیح جمہوریت آے گی کب ہم بھی ترقی کامنہ دیکھیں گے اللہ پاک ہمارے اراکین پارلیمنٹ میں عوام کا درد پیدا کرے اور انکو خلفائے راشدین جیسا نظام لاگو کرنے کی توفیق دے آمین-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 159996 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
05 Jan, 2017 Views: 992

Comments

آپ کی رائے