یوپی الیکشن ۲۰۱۷:اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔۔!

(Nazish Huma Qasmi, Mumbai)
آخر یوپی الیکشن کیلئے تمام پارٹیوں میں اتنی ہلچل کیوں مچی ہوئی ہے؟کیوں کہ یوپی ملک کی سب سے بڑی آبادی والا صوبہ ہے اوراسی یوپی اسمبلی الیکشن میں کامیابی وناکامی اس بات کو طے کرے گی کہ 2019 کے لوک سبھا میں دبنگ کون ہوگا۔ جو یوپی کا فاتح ہوگا اسی کا دبدبہ واثر اگلے لوک سبھا الیکشن میں ہوگا۔ یوپی میں فی الحال چار بڑی پارٹیاں ہیں جو الیکشن میں جیت کی دعویدار ہیں۔ حکمراں جماعت سماج وادی ، بی ایس پی، کانگریس اور بی جے پی۔ حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی میں جاری سیاسی گھمسان اور اٹھا پٹک نے اکھلیش یادو کی شبیہ کو مظفر نگر فساد سے عوام کے ذہن کوہٹانے کی کوشش کی ہے۔ ملائم سنگھ نے ایسا کھیل کھیلا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،اگر سماج وادی میں جاری گھمسان کو سوچی سمجھی سازش مان لیا جائے تب بھی سماج وادی کا تنہا حکومت بناپانا مشکل ہے،گزشتہ پانچ سال کی مدت میں اگرچہ اکھلیش بے داغ رہے لیکن سماج وادی پارٹی پوری طرح داغدار ہوگئی ہے۔بہت ممکن ہے کہ موجودہ رسہ کشی صرف اس لئے ہو تاکہ اکھلیش کی شبیہ کو مزید صاف ستھرا بنایا جاسکے لیکن عوام خصوصاً اقلیتی طبقہ اکھلیش کے مظفر نگر کے داغ کو شاید ہی بھلاپائیں گے۔ بھلے سے اس دنگل میں ملائم اکھلیش باہم مل گئے ہوں لیکن شاید ہی اقلیت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انہیں ووٹ دے کر کامیاب کرے گی۔ بی ایس پی کا حال یہ ہے کہ اس نے گزشتہ الیکشن کے مقابلہ تقریباً دو درجن زائد مسلم امیدواروں کو اتار کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ہم ہی انہیں ان کا حق دلانے کا فریضہ ادا کریں گے۔ رہ گئی کانگریس اور بی جے پی تو کانگریس اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کی خاطر مسلمانوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش میں مصروف ہے اور بی جے پی نفرت کی سیاست سے چپک کر مسلمانوں کو ہراساں اور خوف کی نفسیات میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔
ملک کی پانچ ریاستوں میں الیکشن کا بگل بج چکا ہے۔ اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا میں انتخابات ہونے ہیں۔ ان پانچ ریاستوں میں سب سے اہمیت کا حامل یوپی کا الیکشن ہے اور سب سے زیادہ انتظار بھی اسی یوپی الیکشن کا کیا جارہا تھا۔یوپی میں موجود تقريبا سبھی پارٹیوں نے گزشتہ کئی مہینے پہلے سے ہی تیاری شروع کر رکھی ہے،بی جے پی نے یوپی میں بھی مودی جی کو ہی اپنی بیساکھی بنایا ہے،یہاں بھی وہ جگہ بہ جگہ پریورتن ریلی کے ذریعہ عوام تک پہونچ رہے ہیں جب کہ ایس پی نے اکھلیش کی قیادت میں وکاس رتھ کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے،بی ایس پی بھی وقتاً فوقتا کچھ نہ کچھ کررہی ہے،وہیں کانگریس نے راہل گاندھی کے ذریعہ اپنی شبیہ کوسدھارنے کی کوشش کی ہے اورساتھ ہی مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے غلام نبی آزاد کو الیکشن انچارج بنایا ہے۔

آخر یوپی الیکشن کیلئے تمام پارٹیوں میں اتنی ہلچل کیوں مچی ہوئی ہے؟کیوں کہ یوپی ملک کی سب سے بڑی آبادی والا صوبہ ہے اوراسی یوپی اسمبلی الیکشن میں کامیابی وناکامی اس بات کو طے کرے گی کہ 2019 کے لوک سبھا میں دبنگ کون ہوگا۔ جو یوپی کا فاتح ہوگا اسی کا دبدبہ واثر اگلے لوک سبھا الیکشن میں ہوگا۔ یوپی میں فی الحال چار بڑی پارٹیاں ہیں جو الیکشن میں جیت کی دعویدار ہیں۔ حکمراں جماعت سماج وادی ، بی ایس پی، کانگریس اور بی جے پی۔ حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی میں جاری سیاسی گھمسان اور اٹھا پٹک نے اکھلیش یادو کی شبیہ کو مظفر نگر فساد سے عوام کے ذہن کوہٹانے کی کوشش کی ہے۔ ملائم سنگھ نے ایسا کھیل کھیلا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،اگر سماج وادی میں جاری گھمسان کو سوچی سمجھی سازش مان لیا جائے تب بھی سماج وادی کا تنہا حکومت بناپانا مشکل ہے،گزشتہ پانچ سال کی مدت میں اگرچہ اکھلیش بے داغ رہے لیکن سماج وادی پارٹی پوری طرح داغدار ہوگئی ہے۔بہت ممکن ہے کہ موجودہ رسہ کشی صرف اس لئے ہو تاکہ اکھلیش کی شبیہ کو مزید صاف ستھرا بنایا جاسکے لیکن عوام خصوصاً اقلیتی طبقہ اکھلیش کے مظفر نگر کے داغ کو شاید ہی بھلاپائیں گے۔ بھلے سے اس دنگل میں ملائم اکھلیش باہم مل گئے ہوں لیکن شاید ہی اقلیت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انہیں ووٹ دے کر کامیاب کرے گی۔ بی ایس پی کا حال یہ ہے کہ اس نے گزشتہ الیکشن کے مقابلہ تقریباً دو درجن زائد مسلم امیدواروں کو اتار کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور ہم ہی انہیں ان کا حق دلانے کا فریضہ ادا کریں گے۔ رہ گئی کانگریس اور بی جے پی تو کانگریس اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کی خاطر مسلمانوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش میں مصروف ہے اور بی جے پی نفرت کی سیاست سے چپک کر مسلمانوں کو ہراساں اور خوف کی نفسیات میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔

اس الیکشن میں کون فاتح ہوگا۔ اس کا اندازہ ابھی سےلگایا جارہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سماج وادی کی آپسی اُٹھا پٹک اکھلیش کو حکمراں بنانے میں معاون ہوں گی وہیں کچھ لوگ مایاوتی کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ ہی فاتح ہوگی کیوں کہ یوپی میں ان ہی دونوں کا دبدبہ رہتا ہے کبھی یہ تو کبھی وہ ۔ کانگریس بے چاری ان دونوں کے سہارے ہی الیکشن لڑ پائے گی یا تو ایس پی کا ہاتھ تھامے گی یا بی ایس پی۔خبر آرہی ہے کہ اکھلیش کے ایس پی سے گٹھ جوڑ یقینی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یوپی میں ایس پی اور کانگریس محاذ کی سرکار بننی یقینی ہے،اس سلسلہ میں کانگریس نائب صدرراہل گاندھی کی واپسی کاانتظارہے۔کانگریس اور ایس پی کا اتحاد بہت سارے سیکولر ووٹوں کو تقسيم ہونے سے بچا سکتا ہے،بصورت دیگر سیکولر ووٹوں کا منتشر ہونا یقینی ہے لیکن اگر سبھی پارٹیاں تنہا تنہا الیکشن لڑیں گی کوئی متحدہ محاذ نہیں ہوگا تو اس کا راست فائدہ بی جے پی اُٹھائے گی کیوں کہ مسلم ووٹ یہاں اہمیت کے حامل ہیں اگر مسلم ووٹ ہی تقسیم ہوگئے تو بی جے پی کو اس کا فائدہ ملنا یقینی ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ مسلمان کس پارٹی کا دامن تھامیں؟ کسے اپنا مسیحا بنائیں؟ کس پارٹی کو اقتدار سونپیں؟ ان سوالوں کا جواب ماضی میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرنے پر ہے۔بابری مسجد کا زخم بھول گئے ہوں تو کانگریس کو ووٹ دیں اور اگر حالیہ مظفر نگر فساد کے زخم مندمل ہوگئے ہوں تو سماج وادی کا دامن تھام لیں نہیں تو پھر بی ایس پی کو مجبور کریں کہ وہ ایسی سیکولر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرے جو دلت اور مسلمانوں پر مشتمل ہو۔ جن کی بنیادیں ملک کے سیکولر زم کے فروغ کے لئے ہو۔ جہاں نفرت کی سیاست کی بجائے محبت کے پھول نچھاور کئے جارہے ہوں۔ اس پارٹی سے اتحاد کر کے انتخابات لڑا جائے تو ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا نہیں تو مسلم ووٹوں کا بکھرائو بی جے پی کے عزائم کو بلند کردے گا اور وہ فاتح ہوکر ملک کو مزید بھگوارنگ میں رنگ دے گی اور آر ایس ایس کا وہ خواب جو ہندو راشٹر کا تھا شاید پورا ہوجائے۔ یوپی میں ویسے علاقائی پارٹیاں بہت ہیں جو خود کو مسلمانوں کا مسیحا ثابت کرنے کے درپے رہتی ہیں لیکن کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جو ان چاروں کے متبادل قرار پائے۔ فی الحال ایک پارٹی جو بہار الیکشن میں شدید ہزیمت کے اٹھانے کے باوجود اپنے عزم میں پختہ اور حوصلے میں بلند ہے اس پارٹی کو لوگ مجلس اتحاد المسلمین سے جانتے ہیں وہ بھی یوپی میں اپنے امیدوار اتارے گی۔ اگر بی ایس پی مجلس سے اتحاد کرکے یہ انتخاب لڑے تو شاید سماج وادی، کانگریس، بی جے پی کو چاروں خانے چت ہونے سے کوئی نہ روک سکے۔ اور یہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے کہ جب بی ایس پی اپنے سیکولر ازم کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اویسی سے اتحاد کرلے۔کانگریس اگر ایس پی کے ساتھ اتحاد کرلے اور بی ایس پی ایم آئی ایم کے ساتھ ہوجائے تو مسلم نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بی ایس پی کو اقتدار تک پہونچا نے کیلئے اپنا دم خم لگا دیں گے۔فی الحال مسلم نوجوانوں کی پہلی پسند تو ایم آئی ایم ہے کیوں کہ یہ وہ پارٹی ہے جو حقیقت میں سیکولرزم کے مفہوم سے واقف ہے، اب تک اویسی برادران کے خلاف کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا جاسکا ہے کہ اسے سیکولرزم سے خارج کردے،اور جس طرح مایا وتی جی دلت مسلم اتحاد کی بات کرتی ہیں ٹھیک اسی طرح اویسی بھی دلت مسلم اتحاد کے خواہاں ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ تمام پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے موقر علمائے کرام اور مسلمانوں کے دیگر بڑے دینی اداروں کا سہارا لیں اور اپنی جبیں علماء وقت کے آگے جھکاکر مسلمانوں کو رام کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن ہم باشعور عوام سےیہی کہنا چاہتے ہیں کہ ملائم سنگھ گزشتہ انتخابات کے وقت دارالعلوم گئے تھے نتیجہ میں مظفر نگر کا درد ملا۔ مایاوتی بھی سہارنپور اور دیوبند کا دورہ کرکے آئی تھی لیکن وہ بنیادی حقوق جن کا وعدہ انہوں نے وہاں کے پروگراموں میں کیا تھا وہ اپنے دور اقتدارمیں پورا کرنے سےقاصر رہیں محض اپنی شبیہ کےمجسمے اور ہاتھی کے مجسمے بنانے میں پورا پنچ سالہ وقت صرف کردیا تھا اور کانگریس بی جے پی کا تو سوال ہی نہ کریں کیو ںکہ کانگریس اگر مار آستین ہے تو بی جے پی کھلی مسلم مخالف پارٹی۔یوپی کا الیکشن سیکولر ازم کے پاسبانوں کیلئے ایک سخت امتحان ہے اگر یہ امتحان پاس کرگئے تو پھر فرقہ پرستوں کی کمر ٹوٹ جائے گی جو ملک ہندوستان کی سالمیت کیلئے بہت ضروری ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: NAZISH HUMA QASMI

Read More Articles by NAZISH HUMA QASMI : 109 Articles with 46220 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jan, 2017 Views: 300

Comments

آپ کی رائے