بیٹی

(Faheem Shayer, Hub)
پرانے زمانے میں لوگ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے آج میں کو ایک ایسے باپ کی کہانی بتاہوں گا جس نے اپنی بیٹی کو کبھی پیار نہیں کیا لیکن اُس بیٹی نے اپنے باپ لیئے کیا قربانی دی یہ کہانی پڑھ کر ہر ماں باپ خدا سے بیٹی ضرور ما نگیں گے

بیٹی

ایک گاؤں میں باپ اُس کے تین بیٹے اور بیٹی رہتی تھی باپ کو اپنے تینوں بیٹوں سے بہت پیار تھا لیکن وہ اپنی بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا کیوں کہ اُسے بوجھ سمجھتا تھا وہ کہتا تھا بیٹے باپ کا سہارا ہوتے ہیں لیکن بیٹیاں باپ کے لیئے مصیبت ہوتی ہیں اُس نے اپنے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لیکن اپنی بیٹی کو نہ اسکول کی تعلم دلائی اور نہ دین کی تعلم دلائی اُس لڑکی کو قرآن پڑھنے کا بہت شوق تھا اُس نے اپنے باپ سے کہا وہ قرآن پڑھنے مدرسہ جانا چاہتی ہے لیکن اُس کے باپ نے کہا ہمارے خاندان میں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں جاتی وہ لڑکی سارا دن اپنے گھر کا کام کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ کیا ایک لڑکی کی زندگی ایسی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے گھر والوں کا بہت خیال رکھتی تھی یوں ہی سال گزرتے رہے باپ نے اپنے بیٹوں کی شادی کر دی اور پھر بیٹے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصروف ہوگئے پر اُس کی بیٹی ایک ماں کی طرح اپنے باپ کی دیکھ بھال کرتی رہی -

ایک دن اُس کا باپ بہت بیمار ہوگیا کافی دوائی کھانے کے بعد بھی اُسکی طبعیت سہی نہیں ہوئی تو اُسے ہسپتال لے گئے وہاں ایکسرا کرانے کے بعد پتا چلا کے اُس کے دونوں گُردے خراب ہوچکے ہیں اگر جلد ہی گردے کا انتیظام نہ کیا تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے یہ سن کر اُس کی بیٹی بہت پریشان ہوگئی اور ہر روز خدا سے اپنے باپ کی سلامتی کے لیئے دعا مانگنے لگی لیکن بیٹوں کو اپنے باپ کی کوئی پروا نہیں تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے باپ کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی پھر ڈاکٹر نے اُس کے بیٹوں سے کہا اگر دو دن میں تمہارے باپ کو گُردہ ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا تو پھر اُس کو بچانا نہ ممکن ہوجائے گا پھر بھی اُس کے بیٹوں نے اپنے باپ کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا پھر اُس کی بیٹی نے ڈاکٹر سے کہا میرا گُردہ میرے باپ کو دے دو لیکن اُسے بچالو تو ڈاکٹر نے اُس کی بیٹی کا گُردہ اُس کے باپ کو دے کر اُس کی جان بچا لی اس طرح ایک بیٹی نے اپنے باپ کو مرنے سے بچا لیا جب اُس کے باپ کو پتا چلا کہ اُس کی بیٹی نے اُس کی جان بچائی ہے تو وہ اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کہ بہت رویا اور کہا بیٹی مجھے معاف کردو -

دوستوں بیٹیوں کو بوجھ مت سمجھوں بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی کسی نے سچ ہی کہا ہے کے جتنا پیار جتنی خوشی ایک بیٹی دے سکتی ہے ایک بیٹا نہیں دے سکتا-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faheem Shayer

Read More Articles by Faheem Shayer: 12 Articles with 46528 views »
I am a poet and writer .. View More
23 Jan, 2017 Views: 4901

Comments

آپ کی رائے
Faheem Shayer
haqiqt likhe ha ap ni.. bohat ache tahreer ha .....beti rehmat ha lakin hamre galat soch ki waja se hum isy zahmat samjhty hain ....larki maa ho to janat ha behan ho to ghar ki ronaq ha beti ho to ghar ki rehamat barkat ha ......ALLAH pak hum sub per reham farmae or beti ki kadar o kimat samjhne ki bhi tofiq ata farmae ameen .
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 20 2018
Reply Reply
1 Like
Ye Betiyan hoti hee awesome hen.
Allah Pak Tamam betiyon k nasiibon ma dheroon Khusiyan bhar de
By: Asif Hussain, C-GOTH KARACHI on Mar, 13 2017
Reply Reply
1 Like
Beshak
Nice words
By: Rana Saqib aki, UAE on Mar, 12 2017
Reply Reply
1 Like
good
By: umama khan, kohat on Jan, 31 2017
Reply Reply
2 Like
Thanks Sister
By: Faheem Shayer, Hub chowki Balochistan on Jan, 31 2017
1 Like
very nice
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 31 2017
Reply Reply
2 Like
Thanks Abrish anmol
By: Faheem Shayer, Hub chowki Balochistan on Jan, 31 2017
1 Like
Very nice story
By: Samira Baloch, Karachi on Jan, 31 2017
Reply Reply
1 Like
nice
By: Zeena, Lahore on Jan, 27 2017
Reply Reply
1 Like
Thanks
By: Faheem Shayer, Hub chowki Balochistan on Jan, 31 2017
0 Like