پاک افغان تعلقات ایک اہم موڑپر

(Sami Ullah Malik, )
نومنتخب امریکی صدرکی پہلی باقاعدہ ہنگامہ خیزپریس کانفرنس نے امریکی میڈیاکی ایک نئی تاریخ مرتب کردی ہے جس کے بعدامریکا اوراس کے اتحادی ممالک میں بھی امریکاکی نئی بدلتی سیاست کے بعدخاصاتہلکہ برپاہوگیاہے جبکہ امریکی میڈیامیں ڈونلڈٹرمپ کی کامیابی میں روسی ہیکرزکی مددکاواویلابھی زوروں پرہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اوباما نے ایک حکم کے تحت پچاس سے زائد روسی سفارتی عملے کو فوری طورپرملک بدراوردواہم روسی سینٹرزکوبندکرکے روس کوانتہائی سخت پیغام بھی بھیجاہے جس کاروس نے بڑامعنی خیز جواب دیتے ہوئے فی الحاک جوابی کاروائی سے گریزکیاہے۔ امریکاکی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے پیش نظرافغان طالبان سے مذاکرات کیلئے ایک بارپھر افغانستان کوپاکستان کی ضرورت آن پڑی ہے۔ چنانچہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان رابطوں کی تیاریاں شروع کردی گئیں ہیں۔
افغان حکام نے پاکستان کے خلاف بیانات میں نہ صرف کمی بالکل دوستی اورمحبت کے اشارے دیناشروع کردیئے ہیں۔ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس اور ماسکومیں سہ فریقی اتحادکے بعد افغان حکام کوبھی اس بات کاشدیداحساس ہو گیاہے کہ اس خطے میں اب بھارت کااثرو رسوخ کم ہوتاجارہاہے جبکہ روس اورچین پاکستان کے ساتھ نہ صرف کھڑے ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کی بات کووزن بھی دے رہے ہیں اورایران بھی سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی طرف مائل ہورہاہے۔پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے نئے سال کے پیغامات اور مبارکباد کے بعد افغان حکومت نے آپس میں صلاح مشورے شروع کردیئے ہیں۔اس حوالے سے اسلام آبادمیں افغان سفارت کاروں نے افغان رہنماؤں کے دوروں اورپاکستان کے اندراعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں اورکسی نتیجے پر پہنچنے کیلئے سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔

افغانستان میں اب اس بات پراتفاق باقی ہے کہ پاکستان کے دورے کیلئے پہلے عبداللہ عبداللہ جائیں یاپھرصدر اشرف غنی ،تاہم اہم ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ افغان حکومت کی جانب سے پہلادورۂ کریں گے۔ عبداللہ عبداللہ کے دورے کے دوران پاکستانی فوج اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے درمیان بات چیت ہوگی اور اس کے بعدافغان صدرکادورۂ ہوگالیکن قوی امکان ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ اپنے پیش روجنرل راحیل کی پالیسیوں کے تسلسل میں افغانستان کادورۂ کریں گے جہاں وہ افغان آرمی چیف، افغان صدر،چیف ایگزیکٹو اور دیگراہم افراد کے ساتھ ساتھ نیٹوکمانڈروں سے ملاقات کریں گے اور نئے زمینی حقائق کی روشنی میں افغان مسئلے کے پائیدارحل کیلئے اہم مذاکرات کریں گے کیونکہ افغانستان اورپاکستان کیلئے روسی صدرپیوٹن کے خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کی جانب سے ترکی اور افغانستان کے بعض اخبارات کے انٹرویوزمیں افغانستان کی جانب سے امریکاکو٩/اڈے دینے کے بعدمزیدچھ اڈے اضافی دینے اوراسٹرٹیجک معاہدے کے تحت ایک لاکھ امریکی فوج کوکسی بھی وقت افغانستان میں تعینات کرنے کے حوالے سے پہلی بارتشویش لاحق ہوئی ہے اورانہوں نے صاف کہاہے کہ امریکی فوج کی موجودگی میں افغانستان میں نہ امن آسکتا ہے اورنہ ہی اس حوالے سے افغانستان میں بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے، لہنداایسامعاہدہ کرکے موجودہ افغان حکومت نے پورے خطے کوتباہی کے دہانے پرکھڑاکردیاہے۔

ضمیرکابلوف کی شدیدتنقیدکے بعدبھارتی حکام بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ بھارت نہیں چاہتاکہ کہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوں اورروس کی جانب سے ۲۰۱۷ء کے آغازسے امریکاکی افغانستان میں موجودگی کوپہلی باراپنے لئے خطرہ قراردینا نہ صرف پاکستان کی فتح ہے بلکہ اس خطے میں پاکستان کاکرداربھی بڑھ جائے گا اور افغان حکمران جو بھارت کی زبان بول رہے ہیں ،ان کی بولتی بھی بندہوجائے گی اوروہ سلسلہ بھی اب بندہوجائے گا۔اس لئے افغان حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کیلئے پاکستانی آرمی چیف کے ٹیلیفون کونہ صرف غنیمت جاناہے بلکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان حکومت چاہتی ہے کہ جلدسے جلدپاکستانی آرمی چیف افغانستان کادورۂ کریں کیونکہ موجودہ چیف نہ صرف جنرل راحیل شریف کی پالیسی کوجاری رکھناچاہتے ہیں بلکہ وہ اس سے بھی آگے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔اس امرکااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے جنرل باجوہ نے ذمہ داری سنبھالتے ہی پہلی بارلائن آف کنٹرول سے لیکر قبائلی علاقوں کودورہ کیااورپشاورآکرفیلڈکمانڈروں سے بریفنگ لی جبکہ اعلیٰ عہدوں پرتعیناتیاں بھی مکمل کرلیں۔

افغان حکام کیلئے امریکاکیلئے نومنتخب صدرڈونلڈٹرمپ کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی انتہائی تشویشناک ہے، اس کی حالیہ پریس کانفرنس میں افغان پالیسی سے لاتعلقی نے کابل حکام کوہلا کررکھ دیاہے کیونکہ ٹرمپ اوران کی جانب سے نامزد کردہ انتظامیہ ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنا چاہتی ہے اورایرانی سخت مؤقف کی وجہ سے افغان طالبان کی طرف جھکاؤرکھتے ہیں اورایران نہیں چاہتاکہ افغان طالبان کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوں کیونکہ اگرامریکی صدرایران کے خلاف کاروائی کرناچاہتے ہیں توایران کے پاس نہ صرف یہ کہ طالبان کا آپشن موجود رہے گا بلکہ وہ پاکستان،چین،روس سہ فریقی اتحادمیں شمولیت اختیار کرلے گابلکہ ابھی سے اس نے ترکی کے بعض مطالبات بھی ماننا شروع کردیئے ہیں جس میں شام میں جنگ بندی شامل ہے جبکہ افغان طالبان کوبھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران مسلکی بنیادوں پرکسی بھی تنظیم کی حمائت جاری نہیں رکھے گا اور اس حوالے سے ایران کے بعض عہدیداروں نے ہرات میں افغان طالبان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں جس پرافغان پارلیمان میں گرما گرم بحث ہوئی ہے ۔ روس اورایران کے حوالے سے افغان پارلیمان کے لب ولہجہ میں واضح تبدیلی اورمایوسی کے اشارے نظرآئے۔ روس کی جانب سے پہلی بارکھل کر امریکی اڈّوں پراظہارتشویش اوراسے اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دینے کے بعداب افغانستان کے حالات ایسے نہیں رہ سکتے ہیں جس طرح اشرف غنی یابھارت چاہتاہے کیونکہ شام اوردیگر علاقوں میں روس کی جانب سے مداخلت اورامریکا کی ناکام پالیسی کے بعدروس اس خطے میں قدم جمانا چاہتاہے۔ روس مشرقی یورپ کی بجائے جنوبی ایشیاءاورجنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیاء میں اپنے اثرو نفوذ کو بڑھاناچاہتاہے تاکہ وہ ڈھائی ارب سے زائدانسانوں کی منڈی کواپنے لیے تلاش کرے بلکہ ان کے ساتھ بہترتعلق رکھے،اگرروس اس میں کامیاب ہوجاتاہے توروس کوجو معاشی مسائل کا سامناہے،وہ حل ہوجائیں گے،یہی وجہ ہے کہ روس چین کے ساتھ تکنیکی معاونت فراہم کررہاہے خاص کرگیس کے منصوبوں میں روس کی مشہورکمپنی گیس پرم پاکستان سمیت دنیاکے کئی ممالک میں چینی منصوبوں میں شامل ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ پاکستان اس اہم موقع پر اپنے کارڈ کا بہترین استعمال کیسے کرتاہے جس سے کھوئی ہوئی بازی دوبارہ جیتی جائے اوراپنے ازلی دشمن بھارتی سازشوں کاقلع قمع ہوسکے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231113 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 449

Comments

آپ کی رائے