یہ کیا اندھیر ہے تاریخ کو الٹا پڑھا دینا

(vaseel khan, mumbai)
گذشتہ دنوں ممبرا کے ناز اردو اور نائس انگلش اسکول کی جانب سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں طلباء کو ان کے شاندار ماضی سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی جسے وہ بڑی تیزی سے فراموش کرتے جارہے ہیں
گذشتہ دنوں ممبرا کے ناز اردو اور نائس انگلش اسکول کی جانب سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں طلباء کو ان کے شاندار ماضی سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی جسے وہ بڑی تیزی سے فراموش کرتے جارہے ہیں ،اس دوران انہیں وہ قدیم اسلحہ جات بھی دکھائے گئے جو اس دور کے حکمرانوں نے دوران جنگ استعمال کئے تھے ۔اور وہ تاریخی معلومات بھی فراہم کی گئیں کہ اس دور کے مسلم حکمرانوں کا انداز جہانبانی کیسا تھا اور انہوں نے ملک میں قومی یکجہتی اور رواداری کے قیام کیلئے کس قدر کوششیں کیں ، ان کا ہندؤں کے ساتھ سلوک کیسا تھا اور ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی غرض سے انہوںنے مندروں کی تعمیر کیلئے نہ صرف جگہیں فراہم کیں بلکہ ان کے اخراجات کی تکمیل کیلئے بڑی بڑی جاگیریں بھی دیں ۔اس نمائش کے دوران ۷۱۰ءسے ۱۸۵۷ءتک یعنی محمد بن قاسم سے آخری مغل تاجداربہادر شاہ ظفر تک کے سیاسی ، ثقافتی اور سماجی حالات پر روشنی ڈالی گئی جس میں شیر میسور ٹیپوسلطان شہید ؒکی تلوار اور لوہے کی جالیو ں سے تیار کردہ ان کا جنگی لباس بھی شامل تھا ۔ان مسلم حکمرانوں نے ملک میں قومی یکجہتی اور رعایا کے ساتھ یکساں انصاف کا جو معیار قائم کیا تھا اس کی کوئی نظیر آج تک پیش نہ کی جاسکی ۔سر دست ہم آج میسور کے حکمراں ٹیپوشہید ( ۱۷۹۹۔۱۷۵۰)کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے اس ملک کو انگریزوں کے ظلم و استبداد اور نوآبادیاتی عزائم سے بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگاکر اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کردیا اور تاریخی صفحات میں ہمیشہ کیلئے سلطان ٹیپو شہید کے نام سے محفوظ ہوگئے جن کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ شہید نہ ہوتے اور انگریزوں سے مزاحمت کیلئے انہیں کچھ اور مہلت مل جاتی تو انگریز کبھی ملک میں داخل نہ ہوپاتے ۔ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ ان چند واقعات سے لگایا جاسکتا ہے ، جسے ہم یہاں شمیم طارق کی کتاب ’سلطان جمہورٹیپوشہید ‘کے حوالے سے نقل کررہے ہیں ۔

’’ چند سال قبل جب میسور میں دریائے کاویری پر بند کی تعمیر کیلئے موزوں و مناسب جگہ کی تلاش کیلئے امریکہ و یورپ کے انجینئربلائے گئے، انہوں نے بڑی دقتوںاور تلاش بسیار کے بعد ایک جگہ کھدائی کا کام شروع کیا تو زمین کے نیچے سے فارسی میں ایک کتبہ برآمد ہوا ۔اس کتبہ سے دوباتیں خاص طور سے ظاہر ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ ٹیپو کو کسانوں ،کاشتکاروں سےحد درجہ محبت تھی اور دوسرے یہ کہ دنیا کے ماہرترین انجینئروں نے ڈیڑھ سوبرس بعد بند کی تعمیر کیلئے جو جگہ منتخب کی وہ ٹیپو نے اپنے عہد میں نہ صرف تلاش کرلی تھی بلکہ لاکھوں روپئے صرف کرکے اس پر بند کی تعمیر کا کام بھی شروع کرادیا تھا لیکن اس کتبہ کو قصدا ً ڈیڑھ سو برس تک چھپائے رکھا گیا تاکہ ایک طرف ٹیپوسلطان کی انسان دوستی اور رعایا پروری کی تصویر دنیا کے سامنے نہ آئے اور دوسری طرف مفاد پرست اور ظالم طاقتیں کسانوں کا استحصال کرتی رہیں‘‘ ۔ کتبہ کی وہ عبارت ہم یہاں درج کررہے ہیں جس سے سلطان جمہورکی حب الوطنی اور رعایا پروری کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔

’’بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔یا فتاح ،۲۰؍ذی الحجہ ۱۲۱۶ھ بروز دوشنبہ علی الصباح قبل طلوع آفتاب اچھی لگن اور نیک ساعت میں اللہ کے فضل سے زمین و زمان کے خلیفہ سلطان جہاں حضرت ٹیپوسلطان ظل اللہ ( خداوندتعالیٰ ان کی سلطنت اور خلافت کو برقرار رکھے ) نے کاویری ندی پر دارالسلطنت کے مغرب میں ’محی ‘ نام کے پشتہ کا سنگ بنیادرکھا ۔شروع کرنا ہمارا کام ہے او ر تکمیل تک پہنچانا اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔اس پشتہ کی تیار ی میں جو لاکھوں روپئے سرکار خداداد نے خرچ کئے وہ صرف اللہ کی راہ میں ہی صرف کئے گئے ہیں ۔قدیم یا جدید کاشت کے علاوہ بھی جو کوئی اس تالاب سے آبپاشی کرے گا وہ اس پیداوار یا رقم کا جو رعایا قانونا ً سرکار میں جمع کرتی ہے صرف 3/4حصہ سرکار خدا داد کو دے ،باقی ماندہ 1/4خدا کی راہ میںمعاف ہے اور جوکوئی اس پشتہ سے نئی زمین میں کھیتی باڑی کرے گا تو وہ زمین اس کی اولاد اور وارثوں کے قبضہ میں نسلا ً بعد نسل اس وقت تک رہے گی جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ، اگر کوئی شخص اس میں رکاوٹ ڈالے یا اس کار خیر میں مداخلت کرے تو وہ کمینہ خصلت ملعون ، شیطان کی طرح صرف کسانوں کا ہی نہیں بلکہ تمام نسل انسانی کا دشمن سمجھا جائے گا ۔۴؍مئی ۱۷۹۹ءکو دوپہر کو جب سلطان ٹیپو کو اپنے جانثار و فرمانبردار جرنیل سید غفار ؒکی شہادت کی خبر ملی تو سلطان گھوڑے پر سوار ہاتھ میں تلوارکھینچے اور دوسرے ہاتھ میں دو نلی بندوق لئے اس سمت روانہ ہوئے جہاں بہت بڑی تعداد میں دشمن کی فوج پیش قدمی کررہی تھی ۔اسی دوران سلطان کے ایک مصاحب نے کہا ایسے حالات میں آپ کا تن تنہا موت کے منھ میں گھس پڑنا مناسب نہیں ، آپ کی تلوار سپاہیوں کی تقدیر نہیں بدل سکتی ، اس وقت سلطان نے جوجواب دیا وہ آب زرسے لکھنے کے لائق ہے ۔’’قیامت میں خدائے بزرگ و برتر مجھ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ کس نے کیا کیا اور کس نے کیا نہیں کیا مجھے تو صرف اپنے فرض کی ادائیگی سے متعلق جواب دینا پڑے گا ۔‘‘

کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ آج اسی مرد مجاہد کو ظالم اور متعصب کہہ کر فاشسٹ طاقتیں اس پر الزام تراشیاں کررہی ہیں ۔یہی نہیں بلکہ اس کے خلاف پوری تحریک چلائی جارہی ہے ۔تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس نے مندروں کیلئے جگہیں اور جاگیریں فراہم کیں ۔سری رنگا پٹنم کے متعدد مندروں کی تقریبات کے دوران کچھ مخصوص برتن نکالے جاتے ہیں جن پر سلطان جمہور ٹیپو شہید کے نام کندہ ہیں ۔آج ضرورت ہے کہ ہم نہ صرف اس تاریخ سے واقفیت حاصل کریں بلکہ دوسروں کو بھی واقف کرائیں ۔ممبرا کی یہ نمائش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو قابل تحسین ہے ،ہمیں ان تاریخی ورثوں کو مزید وسیع پیمانے پرپھیلانا چاہئے بلکہ اس شاندار ماضی سے سبق بھی لینے کی ضرورت ہے ۔؍یہ کیا اندھیر ہے تاریخ کو الٹا پڑھا دینا؍ پھپھکتی روح کو بچپن سے وش کنیا بنادینا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: vaseel khan

Read More Articles by vaseel khan: 126 Articles with 61468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2017 Views: 320

Comments

آپ کی رائے