ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے صدر ٹرمپ کا دباؤ

(Ghulam Ullah Kiyani, )
بارک اوباما کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان پر دباؤں ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ یہ دباؤ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں بھی ہے۔جس پرحکومت پاکستان نے لچک پیدا کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی نے اب اعلان کیا ہے کہ پاکستان شکیل آفریدی کی رہائی کے معاملے پر امریکا سے بات کر سکتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ کیا بات ہو گی۔ قانون کا دائرہ کیا ہو گا۔ جب سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس شخص نے ملکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ تو اس کی سزا کیا ہو گی۔

یہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کون ہے۔ امریکہ کا پیارا کیوں ہے۔ صدر اوباما کے بعدصدر ٹرمپ اسے اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ امریکی کانگریس کا اس سے کیا رشتہ ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی اصل میں امریکاکا جاسوس ہے۔جو 33سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس نے 2مئی 2011کو ایبٹ آباد آپریشن کی مدد کی۔طارق فاطمی نے دو ماہ قبل کہا کہ ڈاکٹر آفریدی کو عدلیہ سے گزرنا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے کہ اس کیس کو معافی کے لئے صدر کے پاس بھیجنا درست ہے یا نہیں۔لیکن اب وہ عدالت کے فیصلے کی بات نہیں کرتے بلکہ اب امریکا سے بات چیت کا آپشن زیر غور لا رہے ہیں۔یعنی پاکستان پر امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر آفریدی کے جعلی پولیو قطرے پلانے کی مہم کی وجہ سے اسامہ بن لادن کا پتہ چلا۔ جس میں امریکی کمانڈوز ہزاروں کلو میٹر طے کر کے لڑاکا جہازوں پر آئے۔ پاکستان کی سرحدی یا فضائی حدود کی ہی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر تکگھس کرفوجی آپریشن کیا۔ ملک کے وفاقی دارلحکومت اور جی ایچ کیو کے قریب پہنچ کر اپنے ٹارگٹ کو ایک جنگی کارروائی کے بعد اغوا کر لیا۔ یہ علاقہ بھی انتہائی حساس تھا۔ فوجی چھاؤنی اور فوجی ٹریننگ سنٹر کا علاقہ کیسا ہونا چاہیئے۔ امریکہ نے پاکستان کے تحفظ اور دفاعی نظام پر سوالیہ نشان ڈال دیئے۔ یہ سب کیا ہوا۔ کون زمہ دار ہے۔ غفلت کس نے کی ہے۔ کوئی بات نہیں۔ سب کچھ بھلا دیا گیا ہے۔ کوئی ٹھوس انکوائری نہیں ۔ زمہ داری کا کوئی تعین نہیں۔ عوام پھر اندھیرے میں ہیں۔ ہمیشہ رہیں گے۔جب حکمران خود غافل ہوں تو وہ اپنے ماتحت اداروں سے کیا جواب طلبی کریں گے۔ جب اداروں کے سر براہان یر غمال بنے ہوں۔ چند لوگ انہیں اعتماد دے کر اپنے اشاروں پر نچا رہے ہوں۔ تو وہ ادارے کب تک ڈوبنے سے بچ سکے گا۔ پرویزمشرف کا قوم پر یہ احسان ہے کہ قوم کے عزت اور وقار کو ڈالروں کے بدلے نیلام کر دیا۔ ان کی وکالت کرنے والے یا ملک میں آپریش آپریشن کے نعرے لگانے والے ڈالروں اور پائندز کے بدلے اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں۔ انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ عالمی این جی اوز کے پے رول پر ہیں۔ لیکن ان کے وسائل کا ایک حصہ ملک کے باثر لوگوں پر استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے ان کی پہنچ دور تک ہے۔ ان کے ہاتھ کافی لمبے ہو گئے ہیں۔ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے تو ڈاکٹر آفریدی کا معاملہ اتنا طول نہ پکڑتا۔ اس نے ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔ ملک کے راز کا افشاء کیا ہے۔ سی آئی اے کی ڈالر لے کر کھلی مدد کی ہے۔ ڈالر کے بدلے ملک کی سالمیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ یہ کام دوسرے لوگ بھی کرتے ہوں گے۔ آخر امریکہ ان کو اس کا بدلہ بھی دیتا ہے۔ کھاتے اس ملک کے ہیں گیت امریکہ کے گاتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا یہ ہو گا کہ اس ملک نے انہیں کیا دیا۔ ڈالر امریکی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہوں گے کہ حکومت امریکہ سے مدد لیتی ہے۔ کوئی گناہ نہیں۔ حکمران ڈالر لے کر اپنی تجوریوں میں جمع کرتے ہیں، کوئی گناہ نہیں، وہ بھی امریکہ سے براہ راست ڈیل کر رہے ہیں تو یہ کیسے گناہ ہو گیا۔ ڈاکٹر آفریدی نے امریکہ سے براہ راست ڈیل کی۔ لیکن پکڑے گئے۔ جو پکڑا گیا وہ چور۔ جو بچ گیا وہ کھلاڑی۔ لکن جس طرح ٹرائل ہو رہا ہے ، وہ انتہائی دلچسپ ہے۔ آفریدی کو گرفتاری کے بعد ملک کے خلاف سازش کرنے کے الزامات سہنے پڑے۔ اسے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے 33برس بلا ضمانت قید سنائی ۔ اس سزا کو قبائیلی عدالت نے کالعدم قرار دیا ۔کمشنر ایف سی آر نے اس سزا کو اوور ٹرن کر دیا۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کو دوبارہ کیس کی شنوائی کی ہدایت کی گئی۔ آفریدی آج پشاور سنٹرل جیل میں ہے۔ آفریدی کے وکیل قمر ندیم آفریدی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کو اچھی پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ پاکستان پر امریکی دباؤ کے لئے ہے۔ تا کہ ڈاکٹر آفریدی کو ملک سے غداری کی کوئی سزا نہ ملے اور اسے باعزت رہا کر دیا جائے۔ ریمنڈڈیوس کی طرح۔ریمنڈ ڈیوس نے چند پاکستانیوں کو قتل کیا تھا۔ لیکن امریکہ کا جاسوس تھا۔ امریکہ اسے لے گیا۔ عام شہری کی کیا حیثیت ہے۔ ڈاکٹر عافیہ بھی امریکی جاسوس ہوتیں تو اسے کابل سے ہی باعزت رہا کر دیا جاتا۔ لیکن امریکہ نے اسے بد نام زمانہ انٹروگیشن سنٹر پہنچا دیا۔ امریکی کماندوز وہاں اس پاکستان کی بیٹی کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔
 
سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن پشاور کا دورہ کر کے کیا کرتے تھے۔ وہ ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے ایسے بات کرتے تھے جیسے آفریدی پاکستان کا شہری نہیں بلکہ ہم نے اسے امریکہ سے اغواکیا ہوا ہے۔
 
آفریدی کا کیس ایف سی آر کمشنر کی عدالت میں رہا۔ ٹائمنگ دیکھیں جس دن صدر اوباما شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی امداد کے بل پر دستخط کر رہے تھے اس دن ہی کمشنر کے پاس آفریدی کی پیشی تھی۔ وکیل کو فیس امریکہ دیتا رہا۔ کیا پرواہ ہے۔ وہ کمشنر پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ ان کے پسند والے دن کیس کی شنوائی کی جائے۔ کمشنر کو یہ کیس فاٹا ٹریبونل نے ریفر کیا ۔ سابق کمشنر صاحبزادہ مھمدانیس کی فوتگی کے بعد سے ان کے احکامات کالعدم قرار دینے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس لئے شکوک بڑھ رہے تھے کہ سابق کمشنر کی موت قدرتی نہیں تھی بلکہ اسے قتل کر دیا گیا ۔کیوں کہ وہ کسی سمجھوتے پر راضی نہ تھے۔ اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ نواز شریف حکومت کوئی سمجھوتہ نہ کرنے پر اٹل تھی۔ یہی قوم کی ترجمانی ہے۔ آفریدی کی رہائی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔ ایک غدار کو کیسے رہا کیا جا سکتا ہے۔کیا امریکہ پاکستان کی قیمت لگا رہا ہے۔ امریکہ معلوم نہیں یہاں کے عوام کے جذبات کیوں مشتعل کر رہا ہے۔ یہاں انارکی پھیلانے کے لئے۔ انارکی اور خانہ جنگی سے وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس پر غور کی ضرورت ہے۔شکیل آفریدی نے ملک کے تقریباً ا یک لاکھ پولیو زدہ افراد کی ہلاکت کے اسباب پیدا کئے۔ اس نے اور اس کی ایجنٹوں کی ٹیم نے پولیو ورکرزبن کر قوم کو دھوکہ دیا۔ ایک مقدس پیشے کی آڑ لے کر اسے بدنام کیا۔ ڈاکٹری کوجاسوسی اور غداری میں بدل دیا۔ اب کسی کو پولیو ٹیم پر اعتبار نہیں۔ کیا یہ کسی ملک کے ایجنٹ ہوں گے ۔ جو گھروں پر دستک دے رہے ہیں۔ بچوں کو ٹیکے لگانے اور قطرے پلانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ کہیں اس قوم کو وبائی امراض سے بچانے کے نام پر ناکارہ بنانے کی سازش تو نہیں کی جا رہی ہے۔ لوگوں کے خدشات ہیں۔ ڈاکٹر آفریدی اس کے زمہ دار ہیں۔ جو لوگ پولیو کے نام پر تشدد کا نشانہ بنے۔ ان کا قتل ہوا۔ یہ مقدمہ ڈاکٹر آفریدی پر چلنا چاہیئے۔ ملک کے غدار اور لوگوں کے قاتل کے سزا کیا ہو سکتی ہے۔ امریکہ اس کی باعزت رہائی چاہتا ہے۔ اسے یہاں سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ اس ملک کے قانون کے ساتھ ایک اور مذاق ہے۔ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔البتہ ڈاکٹر آفریدی کے بیوی بچوں کو اس کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے۔ باپ کے بدلے اس کے بچوں کو کسی بھی قسم کے انتقام کا نشانہ نہیں بنایا اج سکتا۔ انہیں شناختی کارڈ اور دیگر شہری سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222237 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
06 Feb, 2017 Views: 298

Comments

آپ کی رائے