عالمی تناظر میں۰۰۰ امریکی صدر کے اختیارات اور عدلیہ کا فیصلہ۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
عالمی سطح پر سوپر پاور کہلائے جانے والا امریکہ ان دنوں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی 90روز تک امریکہ میں داحلہ پر پابندی کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں ہی نہیں بلکہ خود امریکی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج زوروں پر ہے۔واشنگٹن میں ایک امریکی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات ممالک پر لگائی جانے والی پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق سیٹل کے ڈسٹرکٹ جج جیمز رابرٹ نے حکومتی وکیل کے خلاف فیصلہ دیا جس میں وکیل کا موقف تھا کہ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔محکمہ خارجہ کا کہناتھا کہ اب تک 60 ہزار ویزوں کو معطل کیا جا چکا ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف مقدمہ ابتدائی طور پر ریاست واشنگٹن نے درج کروایا جس کے بعد مینیسوٹا کی ریاست بھی اس میں شریک ہوگئی۔واشنگٹن کے اٹارنی جنرل باب فرگوسن نے اس پابندی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا، ان مطابق یہ پابندی لوگوں میں ان کے مذہب کی بنا پر فرق پیدا کر رہی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق وفاقی جج کا یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا اور اہم چیلنج ہے، جسکا مطلب یہ ہے کہ اصولی طور پر جن سات مسلم ممالک پر پابندی لگائی گئی تھی ان کے شہری اب امریکی ویزا کے لیے درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔تاہم انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ملک و بیرون ملک شدید رد عمل سامنے آنے کے باوجود امریکی صدر اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں داخلہ پر پابندی سے متعلق اپنے ایگزیکیٹو آرڈرکا دفاع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے فیصلے کا ہدف مسلمان نہیں ہیں۔اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو ذرائع ابلاغ میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی کا مقصد مسلمانوں پر پابندیاں عاید کرنا نہیں ہے۔انکا کہنا ہیکہ امریکہ میں کسی ملک کے باشندوں کے داخلے پر پابندی کا تعلق کسی مذہب کے ساتھ نہیں بلکہ دہشت گردی اور امریکہ کی سلامتی کے تناظر میں لگائی گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر 90 دن کے بعد امریکہ کی سلامتی کا نظام وضع ہوگیا تو پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملکوں کے شہریوں کے لیے امریکہ کے ویزے بحال کردیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے کا فیصلہ صرف ان کا نہیں بلکہ ان ملکوں کو پچھلی حکومت بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرچکی تھی۔ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 2011 میں سابق صدر باراک اوباما نے بھی عراقی پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر چھ ماہ کے لیے پابندی عاید کردی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا میں 40 سے زاید اور بھی مسلم ممالک موجود ہیں ان ممالک کے شہریوں کیلئے امریکہ میں داخلے پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ ان سات ممالک کے علاوہ پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب پر بھی مستقبل میں پابندی عائد کئے جانے کی خبریں میڈیا میں گردش کررہی ہیں لیکن اس سلسلہ میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ان سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کے بعد ٹرمپ کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم اس کے باوجودامریکی صدر اپنے موقف پر ڈٹے نظر آتے ہیں۔ عالمی طاقتور ممالک کے حکمراں بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلہ کو مخالف مسلم دشمن اقدام سے تعبیر کررہے ہیں ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے امریکہ کی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مخالف مسلم جانبداری کا اظہار ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کے خلاف کارروائی کا جواز پیدا نہیں ہوسکتا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کو غلط اور تفریق پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ان مسلم ممالک کے خلاف پابندی عائد نہیں کئے جن کی وجہ سے امریکی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا رہاہے اور مستقبل میں بھی ان اسلامی ممالک سے دوستانہ تعلقات امریکہ کے لئے نفع بخش ہونگے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی عرب کے حکمراں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان 30؍ جنوری کو ٹیلیفونک بات چیت ہوئی ان دونوں حکمرانوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ کی برقراری کیلئے دوطرفہ تعاون اور اہم عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ سلمان اور ٹرمپ نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران شام میں پناہ گزینوں کے لئے محفوظ زون کے قیام، یمن میں جاری جنگ اور خطہ میں ایرانی سرگرمیوں کو ناکام بنانے ، اقتصادی ، سیکیوریٹی اور عسکری شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ، انتہا پسندی ، دہشت گردوں کی فنڈنگ کی روک تھام، خطہ میں امن و استحکام پر بات چیت کی گئی اور ٹرمپ نے شاہ سلمان کو یقین دلایا کہ ان کا ملک عرب خطہ میں ایرانی مداخلت اور عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیلئے تیار ہے۔ اس طرح امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے وقت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بات چیت کی ہے جبکہ عالمی سطح پر انکے خلاف احتجاج جاری ہے۔ امریکہ کے 16 ریاستوں کے اٹارنی جنرلس نے اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کیخلاف دائر مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا ہے اور دو امریکی کمپنیوں نے غیر ملکی تارکین وطن کو ملازمتیں فراہم کرنے اور ان کی ہر طرح سے امداد کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر نے غیر ملکی تارکین کے ساتھ ساتھ امریکی سرحدوں پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کی ان کے اتحادیوں نے بھی مخالفت کی ہے۔ ہزاروں امریکی شہریوں نے کئی ریاستوں کے ہوائی اڈوں پر جمع ہو کر احتجاج کیا ہے اور غیر ملکی تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ میں زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو امریکی اقدار کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ٹرمپ کے اس اقدام کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 16 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں اس آرڈر کو غیر آئینی، غیر قانونی اور امریکی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی بنیادی امریکی اقدار میں سے ایک ہے اور ان اقدار کو کوئی صدر تبدیل نہیں کر سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کیلیفورنیا، پنسلوانیا، ای نوائے، نیو میکسکیو، میساچیو سے اور ہوائی سمیت 16 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کیخلاف امریکی عدالت میں مقدمے میں معاونت فراہم کریں گے۔ اسی اثناء امریکی صدر ٹرمپ نے ملک کی قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس کو امیگریشن سے متعلق اپنے ایگزیکیٹو آرڈر کی حمایت نہ کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے اور انکی جگہ ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف ورجینیا کی اٹارنی ڈینابوینٹے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیلی یئیٹس نے محکمہ انصاف کے وکلا سے کہا تھا کہ وہ امیگریشن سے متعلق ٹرمپ کے حکم نامہ پر نہ عمل کریں اور نہ ہی اس کی حمایت کریں۔انہوں نے صدر کے حکمنامہ کو ماننے سے انکار کیا اور لکھا کہ جب تک وہ قائم مقام اٹارنی جنرل ہونگی اس وقت تک محکمہ انصاف ایگزیکیٹو آرڈر کے دفاع میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کرے گا۔ ان کے اس عمل کے خلاف وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ایک قانونی حکم نامے، جس کا مقصد امریکی شہریوں کا تحفظ ہے پر عمل کرنے سے منع کرکے محکمہ انصاف کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اسی وجہ سے انہیں سبکدوش کردیا گیا انکی جگہ قائم مقام اٹارنی جنرل ڈینا بوینٹے ہیں جبکہ انکی جگہ ٹرمپ کے نامزد کردہ اٹارنی جنرل جیف سیٹنز اس عہدہ کا جائزہ لیں گے۔اب دیکھنا ہیکہ ونشنگٹن کی عدلیہ کی جانب سے صدارتی حکمنامہ کو معطل کئے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کس طرح اپنے فیصلہ کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہے۔

کینیڈا میں پناہ گزینوں کو خوش آمدیدکے بعد مسجد پر حملہ
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکہ کی جانب سے پناہ گزینوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پربرملا اظہار خیال کرتے ہوئے کینیڈا میں مہاجرین پناہ دینے کے لئے خوش آمدید کہاہے۔کینیڈا کی حکومت کی جانب سے مسلم پناہ گزینوں کو خوش آمد کہے جانے کے دوسرے ہی روز یعنی اتوار کی رات مسلم دشمن عناصر نے کینیڈا کے شہر کیوبک کی ایک مسجد پر فائرنگ کرکے عبادت میں مصروف 6نمازیوں کو شہید کردیا اور 8نمازی اس حملے میں زخمی ہوئے جبکہ اس موقع پر کم و بیش 40نمازی مسجد میں موجود تھے۔

حملہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی ہے ،وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو
کینیڈا کے شہرکیوبک کی مسجد میں فائرنگ کووزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اسے مسلمانوں پر دہشت گردحملہ قرار دیا ہے۔حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں 2 متشبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ یہ واقعہ کیوبیک کی مسجد میں اتوار کی شب اس وقت پیش آیا جب مسجد میں 40 کے قریب افراد نماز کے لئے موجود تھے۔کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو مسلمانوں کے خلاف دہشت گرد حملہ قراردیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے مسلمان اس ملک کے معاشرے کا ایک اہم جزو ہیں۔ ہمارے ملک، شہروں اور کمیونٹیوں میں اس طرح کے بے حس اعمال کی کوئی جگہ نہیں ہے۔کینیڈا کے فیڈرل لبرل قانون ساز گریگ فرگوس نے بھی کیوبک میں واقع مسجد میں حملے کو ایک دہشت گردکارروائی قرار دیا ہے۔ادھر امریکی شہر نیو یارک کے میئر مائکل بلومبرگ نے کہا ہے کہ شہر کی مساجد کے تحفظ کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کے احکامات کے بعد گوگل کا فیصلہ
ٹکنالوی کمپنی گوگل کے مطابق اس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے بعد اپنے ان تمام عملے کو واپس بلا لیا ہے جو بیرون ملک سفر پر ہیں۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ وہ صدر کے اس حکم نامہ پر کافی پریشان ہیں کیونکہ وہ بھی کئی دوسرے امریکیوں کی طرح پناہ گزینوں ہی کی اولاد ہیں۔ گوگل نے اس حکمنامہ یا ایسے کسی بھی حکم یا اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے باصلاحیت افراد امریکہ نہ آسکیں گے۔ان نئی پابندیوں سے وہ ٹکنالوجی کمپنیاں بہت متاثر ہونگی جو خصوصی ایچ ون ، بی ویزے پر بیرون ملک سے ہنر مند افراد کو بلاتی ہیں۔

پاکستان بھی خوفزدہ۰۰۰
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخلہ بند ہونے کی ایگزیکیٹیو آرڈر پر دستخط کئے جانے کے بعدپاکستان نے ایک بڑا اقدام کرتے ہوئے ہندوستان کو مطلوب جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو انکے گھر میں نظر بند کردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور انہیں پکڑوانے کے لئے ایک کروڑ کا انعام بھی رکھا گیا ہے لیکن وہ پاکستان میں کھلے عام گھومتے ہیں اور مختلف تقاریب و پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔پاکستانی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بیان کے مطابق امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کئے گئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ پاکستان ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر دہشت گرد سرگرمیوں کے سدّباب کے لئے اس طرح کا اقدام کیا ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان پر بھی امریکہ پابندی عائد نہ کردے۔اب دیکھنا ہے کہ امریکہ ہندو پاک اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ کس طرح کے اقدام کرتا ہے ۰۰۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95387 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 333

Comments

آپ کی رائے