آپریشن راہ حق سے ضرب عضب اور اب رد الفساد : دہشتگردی کیسے ختم ہوگی!

(Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi)
 2007 ء کی آخری سہ ماہی میں محدود پیمانے پر سوات اور شانگلہ میں مولانا فضل اﷲ اور صوفی محمد (تحریک نفاذ شریعت محمدی) کے خلاف آپریشن راہ حق کیا گیا۔ لیکن علاقے میں امن قائم نہ ہوسکا۔ فروری 2009 ء میں حکومت خیبر پختون خواہ اور صوفی محمد کے درمیان معاہدہ ہواکہ مالاکنڈ اور سوات میں شریعت کا نفاذ ہوگا۔ معاہدے کے بعد امن قائم ہونے کی بجائے، مذہبی انتہا پسندوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مسلح ہوکر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرنا شروع کردیں۔ بین الاقوامی دباؤ اور امن وامان کی خراب صورتحال کو مدّنظر رکھتے ہوئے، اپریل 2009 ء میں تحریک طالبان پاکستان (مولانا فضل اﷲ) اور تحریک نفاذ شریعت محمدی) صوفی محمد کے خلاف سوات ، شانگلہ اور لوئر دیر میں، آپریشن راہ راست کیا گیا۔ اس دفعہ بھی آپریشن کے کچھ عرصے بعد دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا تو آپریشن راہ نجات کیا گیا ۔ لیکن ہر آپریشن کے بعد، دہشت گرد پہلے سے زیادہ منظم ہوکر وسیع پیمانے دہشت گردی کرکے ، اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے۔ دہشت گرد اب کھل عام مساجد، امام بارگاہ ، چرچ ، مندر، اسکول ، فوجی تنصیبات اور مراکز پر خود کش اور بم دھماکے کرنے لگے ۔

موجودہ حکومت نے دہشت گردوں کو مذاکرات کی پیشکش کی۔ مذاکرات جاری ہی تھے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول وقوع پذیر ہوا۔ اس سانحے کے بعد حکومت ، تمام سیاسی جماعتوں اور عسکری اداروں کی مشاورت سے آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونا تھا ۔ لیکن نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومتیں ضرب عضب کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہیں۔ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعوی، اس دفعہ بھی کیا گیا۔ لیکن دہشت گرد وں نے رواں ماہ جو دہشت گردی کی کاروائیاں کیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد وں کا نیٹ ورک اور عزم ابھی بھی کمزور نہیں ہوا ہے۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو سامنے رکھ کر حکومت اور عسکری اداروں نے آپریشن رد الفساد کا فیصلہ کیا اور بڑے پیمانے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی جارہیں ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعدد آپریشنز کے بعد بھی دہشت گردی تھمنے کا نام کیوں نہیں لے رہی؟ اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہی ذہن میں آتا ہے کہ دہشت گردوں کی درپردہ حمایت اوردہشت گردی کی آبیاری ہنوز جاری ہے۔ جب تک دہشت گردوں کی نرسریوں کا خاتمہ نہیں ہوگا ، آبیاری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس لیے نرسریوں کے خاتمے کے ساتھ ان افراد کے خلاف بھی کاروائی کی ضرورت ہے جو پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ آپریشن کے ساتھ ، حکومت کو ایک ایسا لازمی ، بنیادی ومتوازن تعلیمی نصاب ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو مملکت کی تمام اکائیوں اور عوام میں سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ، احترام انسانیت اور آپس میں محبت کا درس دیتا ہو اور یہ نصاب تمام مدارس و اسکول میں، لازمی نصاب کے طور پرنافذ ہو۔ تاکہ نئی نسل کی اٹھان اور سوچ میں ہم آہنگی ہو۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ نکات بھی مد نظر رکھنے چاہئیں کہ دہشت گردوں کے سہولت کار کون ہیں؟ ان کو پناہ، کن مراکز میں ملتی ہے؟ کہیں حکومتی اداروں اور سیاسی شخصیات کی درپردہ حمایت یامدد تو ان دہشت گردوں کوحاصل نہیں؟ اگر ایسا ہے تو ایسے عناصر کے خلاف فی الفور کاروائی کی ضرورت ہے ۔ ہم آپریشن ردا لفساد کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف خاتمہ جڑ الفسا دیا جذر الفساد ثابت ہو۔ تاکہ وطن عزیز اور عوام کو دہشت گردی سے چھٹکارا ملے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Ishtiaq

Read More Articles by Syed Muhammad Ishtiaq: 44 Articles with 19791 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2017 Views: 719

Comments

آپ کی رائے