سیکولر ڈیمو کریسی اور تحفظ ناموسِ رسالت

(Mian Ihsan Bari, )
سیکولرازم کا آجکل بہت چرچہ ہے اور ہر مفاد پرست شخص وہ اقتدار پسند سیاسی گروہ کا راہنماوکارکن ہویا عام کرپٹ ملاوٹ کرنے والا کاروباری فردوہ اپنے آپ کو لبرل و سیکولر کہلانے میں فخر محسوس کر رہا ہے تاکہ برطانوی، امریکی و یہودی سامراج اسے ہی اپنا صحیح پیروکار وتابعدا ر غلام قرار دیکر ھُما قسم کا مخصوص پرندہ اس کے سر بٹھا دے یا اس بیٹھے بٹھائے پرندے کو اس کے سر سے اڑنے ہی نہ دے تاکہ وہ مقتدر رہ کر یا اقتدار پاکر باقی ماندہ پاکستان کے ذخائر کو دل بھر کر لوٹ سکے پھر اڑے اور اپنے آقاؤں کے چرنوں میں جا بسے تاکہ وہیں اس کی آئندہ نسلیں بھی دن رات سکھ چین سے گزار سکیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے یہ نام نہادنئے آقا وہاں بھی اسے تمام سہولتیں مہیا کرتے رہیں گے ہمارے سابقہ صدور سکندر مرزا وغیرہ کی واضح مثالیں موجود ہیں پاکستان کی عظمت شان و شوکت سے ایسے افراد کاتعلق نہ ہے اور نہ ہی اس کی سا لمیت کی فکرکہ انہوں نے تواپنے مخصوص طیاروں میں اڑ کر باہر جا بسیرا کرنا ہے ۔یہاں تک کہ پچھلے دور میں تو ہمارے ایک مشہور سیاسی دینی راہنما نے ایک بڑے سامراجی ملک کے سفیر سے ملاقات کرکے گزارش کرڈالی کہ مجھے وزیر اعظم بنوا دیں تو میں ایسی تابعداریاں کروں گا اور آپ کے وہ وہ حکم بھی بجا لاؤں گا جو پہلوں نے نہیں مانے مگر سفیر یہ سن کر مسکراتا رہا اور دل میں سوچتا ہوگا کہ پاکستانی سیاستدانوں حتیٰ کہ نام نہاد دینی راہنماؤں میں تو ایک سے ایک بڑا"بکاؤ مال" موجود ہے اس میں کوئی شک بھی نہ ہے کہ انگریز تو پاک وہند سے چلا گیا مگر جن کو اپنے دور میں مفادات سے نوازا گیا وہ اور اب ان کی اولادیں ستر سال بعد بھی اپنے آپ کو ان کی تابعداریوں میں دے ڈالنے میں فخر محسوس کرتی ہیں ہمارے سیاسی خواہشات کے غلام تو وہ ہیں کہ صبح صبح اخبار کی خبر نظر سے گزری کہ فلاں سنگھ صاحب آج پنجاب کے گورنر کا حلف اٹھائیں گے خبر کے مندرجات اور تفصیل پر غور کیے بغیر ہی گورنر ہاؤس لاہور کے باہر مفاد پرست گروہوں کے افراد کی لائنیں لگ گئیں جو کہ نئے گورنر سنگھ صاحب سے ملاقات کرکے جلد ازجلداپنی وفاداریوں اور سابقہ انگریز اقتداری دورکی تابعداریوں اور مسلمان بھائیوں سے کی گئی غداریوں کو ان کے گوش گزار کرکے کسی وزارت مشاورت کے طلبگار تھے گورنر ہاؤس کے اسٹاف نے پوچھ ہی لیا کہ اتنے سارے ملاقاتیوں کا رش آخر معاملہ کیا ہے؟تو بتایا کہ پتا چلا تھا کہ نئے لاٹ صاحب(گورنر)آج حلف اٹھارہے ہیں بعد میں جب پتہ چلا کہ وہ تو ہندوستان کے مشرقی پنجاب کا ذکر تھا تو کھسیانی بلی کھبما نوچے کی طرح واپسی کا ٹکٹ کٹوا کر واپس ہو لیے تو یہ ہے ہمارے موجودہ مروجہ سیاسی بدبودار تالاب کی صورتحال جس کے گندے غلیظ پانی سے ہم مچھلیاں تلاش کرتے رہتے ہیں ثابت یہ ہوا کہ موجودہ کرپٹ مفاد پرست سیاسی گروہوں سے نجات اشد ضروری ہے کہ اب تو حالت بہ ایں جا رسید کہ اب یہ گروہ دین کی بنیادوں کو بھی ہلانے سے باز نہیں آرہا۔مفاد پرست کرپٹ افراد اگر یہودو نصاریٰ کی تابعداری میں عظمت سمجھتے ہیں تو پھر یہاں موجودان کے غلاموں قادیانیوں (مرزائیوں)سے بھی اسے یاری نبھانے میں کیا عذر ہے؟ کہ ووٹ تو ان کے بھی ہیں اور وہ انتخابات میں ڈھیروں سرمایہ بھی مہیا کر سکتے ہیں ۔اور ملک میں اب مخلوط بنیادوں پر انتخابات ہوتے ہیں جس میں مرزائی ،یہودی ،عیسائی ،ہندو ،سکھ بھی اکٹھے عام انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔تحفظ ناموس رسالت کے قوانین میں تبدیلی کرکے حکمران اور مقتدر طبقات اور لادین کرپٹ بیورو کریسی قادیانیوں کے سامنے اپنے نمبر ٹانگنے میں مصروف عمل ہے۔کہ کسی طرح1974میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے والی والی آئینی ترمیم ختم ہو جائے یا پھر کم ازکم توہین رسالت کی مخصوص دفعات295/Cجس پر توہین رسالت کے جرم کے مرتکب ہونے والے فرد کو سزائے موت دی جاتی ہے ہی میں ردو بدل ہو جائے بلکہ مرتدین و زندیقین کی خواہش تو یہ ہے کہ یہ سزا ویسے ہی ختم کروا ڈالیں ان کی ایسی خواہشات کو پورا کرنے کے امدادی یہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں ٹرمپ یا برطانوی حکمران انھیں ہی ترجیح دیویں گے اور ان کی درمے سخنے امداد کرکے ان کی انتخابات میں جیت کا سامان پیدا کردیں گے ۔عقل کے اندھے شاید یہ نہیں جانتے کہ ایسا کرنے کے بعد1974کی نشتر کالج کے طلباء اور ان کے راہنماؤں میاں احسان باری و دیگر آئی جے ٹی کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس سے شروع ہونے والی تحریک تحفظ ختم نبوت اور1977میں پی این اے کی طرف سے چلائی گئی تحریک نظام مصطفی ﷺسے بھی زیادہ بڑی تحریک جنم لے گی اور ان کے اقتدار کا بستر بوریا گول کرڈالے گی اور شایدانھیں رہنے کے لیے پاکستان کی زمین بھی تنگ ہو جائے اور انھیں مال متال سمیٹ کر نئے سامراجی آقاؤں کے پاس پناہ لینی پڑے یا پھر یہیں سڑکوں پر گھسٹتے گھسٹتے جان آفریں خدا کے حضور پیش کرنی پڑ جائے کہ امت مسلمہ تحفظ ناموس رسالت پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کو تیار نہ ہے اور قادیانیوں کے مسئلہ پر کوئی آئین ترمیم یا تحفظ ناموس رسالے کے قانون میں تبدیلی برداشت نہیں کرے گی ۔نا موس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کرنے کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ دفعہ295Cکے خلاف قادیانی مرتدین وزندیقین کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے اور اس قانون کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔جناح یونیورسٹی یا کسی اور ادارہ کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے منسوب کرنے سے اجتناب کرے کہ وہ اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے ۔چناب نگر(سابق ربوہ)کو تحریک ختم نبوت 1974 کے بعد کھلا شہر قرار دیا گیا تھا جسے اب قادیانیوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست بنا رکھا ہے جسے غلامان حضرت محمدﷺ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ۔صرف قادیانیوں کو قومیائے گئے ادارے واپس کرنامسلمانوں کے جذ بات کی توہین اور ان کی انا کو مجروح کرنے کے مترادف ہے ایسا ہر عمل بند کیا جائے جب انسدادو امتناع قادیانیت کے قوانین رائج ہو چکے ہیں تو پھر قادیانی چینلز کیسے اسلام دشمن پراپیگنڈا میں مصروف رہ سکتے ہیں۔مزید یہ قادیانی اپنے مخصوص "مرزواڑوں" کو مساجد کا روپ دیکر توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے 295cکے تحت مقدمات اندراج کرکے انھیں تختہ دار پر کھینچ ڈالنا ہی آئینی و قانونی تقاضا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Ihsan Bari

Read More Articles by Mian Ihsan Bari: 278 Articles with 115254 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2017 Views: 363

Comments

آپ کی رائے