مسلمانانِ عالم کے مسائل اور سعودی عرب۔؟

(Rasheed Junaid, India)

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ان دنوں ایک ماہ طویل بیرونی ممالک کے دورے پر ہیں جن ممالک کا وہ دورہ کررہے ہیں ان میں ملائشیا، انڈونیشیا، برونائی دارالسلام، اردون، مالدیپ، جاپان اور چین شامل ہے۔شاہ سلمان سب سے پہلے ملائشیا پہنچے جہاں پر انہوں نے کوالالمپور میں اپنے میزبان ملک کے شاہ کی جانب سے انکے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے ۔ یوں تو سعودی عرب گذشتہ کئی برسوں سے عالمی سطح پر کسی بھی ناگہانی آفات کے بعد وہاں کے شہریوں کو امداد پہنچانے میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے جس کا اعتراف کئی مرتبہ اقوام متحدہ و دیگر عالمی قائدین کی جانب سے کیا گیا۔ شاہ سلمان اپنے دورے کے موقع پر ان ممالک کے قائدین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جس طرح سے دنیا کے مسلمانوں کے مسائل کے حل میں معاونت کی بات کی ہے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن کیا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ان ہندو پاک اور دیگر ممالک کے تارکین وطن اور انکے خاندانوں کی کسمپرسی اور پریشان کن صورتحال کا علم نہیں جنہوں نے سعودی عرب کی تعمیرو ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ جن کی شبانہ روز انتھک محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج مملکت ِسعودی عرب عالمی نقشہ پر ترقی و خوشحالی کے لئے جانا پہنچانا جاتا ہے۔شاہ عبداﷲ کے دورِ حکومت میں سعودیٔ ایزیشن کے ذریعہ تارکین وطن کو مختلف طریقوں سے روزگار سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سعودی شہریوں کی شاہانہ خرچی یا ذمہ داری سے کام چوری کا نتیجہ تھا کہ تارکین وطنوں کو سعودی عرب میں رکھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آج شاہ سلمان بن عبد العزیز کے دورِ حکومت میں پھر سے ایک مرتبہ تارکین وطنوں کو انکے اپنے ملک واپس بھیجنے کے لئے تنخواہوں سے محروم کردیا جارہا ہے ان پر حکومت کی جانب سے لیبر قوانین اور دیگر قوانین کے تحت ایسے مسائل سے دوچار کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے روزگار کے سلسلہ میں سعودی عرب میں مقیم ہندو پاک و دیگر ممالک کے تارکین وطن اپنے ملک واپس ہونے کے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ کئی بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کو کئی کئی ماہ کی تنخواہیں دینا باقی ہے ۔ جب ان کمپنیوں کے مالکان پر ملازمین کی جانب سے دباؤ پڑتا ہے تو انہیں چھ چھ ماہ کی رخصت پر وطن جانے کے لئے کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتاہے کہ وہ روزگار سے محروم کردیئے گئے۔ اگر کوئی چھ ماہ کے لئے اپنے وطن جاکر آئے گا پھر اسے دوبارہ اسی کمپنی میں روزگار ملنا مشکل ہوجاتا ہے یا چھ ماہ کی رخصت اس لئے دی جاتی ہے تاکہ یہ ملازمین کسی دوسری جگہ نوکری تلاش کرلے یا وہ اپنے وطن واپس لوٹ جائے۔ ہزاروں تارکین وطن ان حالات سے دوچار ہوکر اپنے اپنے وطن واپس ہوچکے ہیں اور آج بھی کئی ہزار تارکین وطن ان حالات سے دوچار ہیں یہاں تک کہ انہیں اپنے وطن واپس ہونے کے لئے کوئی ذرائع نہیں۔ روزگار یا انکے بقاجات کی آس میں وہ سعودی عرب میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جس طرح مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے اگر وہ اپنے ملک میں موجود ان ہندو پاک و دیگر ممالک کے تارکین وطن پر توجہ دیتے ہوئے انکے مسائل حل کرتے تو شاید یہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے بہترین فیصلہ ہوتا۔ سعودی عرب میں موجود ہزاروں تارکین وطنوں کو چھٹی پر انکے اپنے ملک آنے بھی کئی دشوار کن صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، یا پھر تجدید اقامہ کے لئے ہزاروں ریال خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سچ ہیکہ گذشتہ دو برس سے سعودی عرب کے حالات خطے میں دہشت گردی کی وجہ سے خراب ہیں۔ یمن اور شام کی جنگ کی وجہ سے سعودی معیشت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کیونکہ عبدربہ منصور ہادی کی درخواست پر سعودی عرب نے جس طرح یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے امریکہ و دیگر مغربی و یوروپی ممالک سے فوجی سازو سامان اور ہتھیار خریدے ہیں اور انکا استعمال کررہا ہے یہ کروڑہا ڈالرس کے ہیں۔ گذشتہ دو سال سے سعودی عرب اپنے بجث کو خسارہ میں بتارہا ہے ، ایک طرف خطے میں پھیلی دہشت گردی سے نمٹنے کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ کمی کا مسئلہ۔ خود سعودی عرب کے حالات دہشت گردی کی وجہ سے انتہائی خراب ہیں کئی مرتبہ مساجد، مقدس مقامات پر خودکش حملے ہوچکے ہیں یہی نہیں بلکہ ان ظالم اور مردودوں نے حرمِ نبوی ﷺ جیسے مقدس ترین مقام پر بھی خودکش حملہ کرکے اس مقدس مقام کی بھی بے حرمتی کی ہے ۔ شاہ سلمان اپنے ملک میں پھیل رہی بدامنی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے دفاعی انتظامات میں اضافہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے سعودی معیشت پر اس کا اثر پڑرہا ہے۔ ان حالات میں شاہ سلمان دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل کے حل میں معاونت کرنے کی بات کررہے ہیں کچھ عجب سا لگ رہا ہے کیونکہ وہ پہلے اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم بناتے ہوئے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ان ہندوستانی اور پاکستان و دیگر ممالک کے تارکین وطنوں کو خوش کریں ۔ امریکہ ، برطانیہ، روس و دیگر عالمی طاقتیں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو صرف اور صرف اس لئے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس وقت ان ممالک کے پاس بے انتہا دولت ہے اور یہی وجہ ہے کہ خطے کے حالات کو ہر روز بدتربناکر پیش کیا جارہاہے تاکہ ان ممالک کے حکمراں اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے فوجی دفاعی سازو سامان جو کروڑہا ڈالرس کا ہے خریدیں۔ ان دنوں امریکہ اور روس عالمی سطح پر اپنے آپ کو سب سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ سال کے بجٹ میں اضافہ کا اشارہ دیدیا ہے۔ تو دوسری جانب روس شام کے صدر بشارالاسد کو ہر ممکنہ تعاون کرکے عالمی سطح پر اپنی ڈھاک بٹھانا چاہتا ہے وہ نہ تو امریکہ کی بات سن رہا ہے اور نہ ہی سعودی عرب و دیگر اتحادی ممالک کی۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ارادے کیا ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن انتخابی تقاریر کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہیکہ وہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی بہانے کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ امریکہ کے 2018کے بجٹ میں دفاعی اخراجات 54ارب ڈالر یعنی نو فیصد کا اضافہ کیا جائے۔ 27؍ فبروری کو مختلف سرکاری ایجنسیوں کو بجٹ کا مسودہ بھیجا گیا تھا جس میں تجویز کردہ مسودے میں ماحولیاتی بجٹ اور غیر ملکی امداد میں کمی کی گئی ہے۔ تاہم ٹرمپ کے پلاک میں بڑے فلاحی پروگراموں جیسے سوشل سکیورٹی اور میڈی کیئر کو نہیں چھیڑا گیا جبکہ ریپلکن پارٹی نے ان میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے مجوزہ بجٹ کا حتمی مسودہ مارچ کے وسط میں پیش کریں گے۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤز میں 27؍ فبروری کو گورنز کی ایک ملاقات میں کہا کہ ہم نے کم وسائل کے ساتھ زیادہ کرنا کرنا ہے، اور حکومت کو کم خرچ پر چلانا ہے اور احتساب کرنا ہے۔ صدرٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں گے اور فلاحی پروگراموں کو محفوظ رکھیں گے۔ اس دوران انکا کہنا ہے کہان کا بجٹ ’’ملٹری ، تحفظ اور اقتصادی ترقی‘‘ پر توجہ دے گا۔امریکہ میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم خواتین کو حجاب کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری جانب نسل پرستی کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی صدر کا خواب ہیکہ وہ امریکہ ہر شعبہ ہائے حیات اور ہر ہر جگہ سب سے آگے رہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کیونکہ روس بھی اب امریکہ سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔ دیکھنا ہیکہ شاہ سلمان ہو کہ ٹرمپ یا کوئی اور اپنے مقاصد کی تکیل اور مسلمانوں کے لئے کیا کرتے ہیں۰۰۰ایران کے وزیر خارجہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی خطے کے مسائل کے حل میں علاقائی ملکوں کے تعاون کی ضرورت پرزوردیا ہے۔ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے امید ظاہر کی کہ علاقے کے ممالک، مسائل کے حل میں علاقے کے ملکوں کے تعاون کی ضرورت کو محسوس کریں گے اور علاقائی تعاون کی یہ ضرورت، غلط بیانی کا متبادل قرار پائے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور مصر کے درمیان مستقبل میں تعلقات میں بہتری کے امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مشترکہ علاقائی مسائل کے حل کے سلسلے میں بتدریج قدم آگے بڑھایا جائے۔اب دیکھنا ہے کہ خطے کے مسائل کے حل کے لئے کون آگے بڑھ پاتا ہے اور کون اندرونی سازشوں کے ذریعہ دشمنی میں اضافہ کرتا ہے۰۰۰
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Junaid

Read More Articles by Rasheed Junaid: 255 Articles with 95431 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2017 Views: 307

Comments

آپ کی رائے