اقتصادی تعاون کی تنظیم ۔معاشی بنیادوں پربنایاگیامسلم اتحاد

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)
بیسویں صدی کے نصف آخر میں کرۂ ارض پر بہت سے تجارتی ومعاشی اتحاد بنے۔ای۔سی۔او ۔بھی ایسی ہی بنیادوں پر ترتیب دیاگیا تھا۔یہ تنظیم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔پہلے1964ء سے 1979ء تک ایران،ترکی اور پاکستان تجارتی تعاون کرتے رہے۔1985ء میں اسے ای۔سی۔او ۔ کا نام دیاگیا پھرافغانستان اورچھ سنٹرل ایشیائی ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہوگئے۔تنظیم کے ارکان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔سیکرٹریٹ ایران کے داروالخلافہ تہران میں قائم ہے۔شاعر مشرق کے دل میں بھی ایسی ہی خواہش تھی۔
تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

رکن ممالک کی تہذیب وتمدن بھی ایک ہی جیسی ہے۔پورا علاقہ زرعی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔تیل وگیس کے وسیع ذخائر یہاں موجود ہیں۔بحیرہ کیسپین،خلیج بنگال اور بحیرہ عرب کے پانیوں تک یہ اتحاد پھیلاہواہے۔7۔ممالک جو Land Lockedہیں وہ مواصلات کو ترقی دیکر ایرانی اور پاکستانی بندرگاہوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔سی۔پیک میں شامل ہوکر ان تمام کے لئے سمندروں سے فائدہ اٹھانا بہت ہی آسان ہے۔بیسویں صدی کے نصف میں یورپی یونین کے لئے اقدامات شروع ہوگئے تھے۔نیفٹا اور آسیان بھی باہمی تجارت بڑھانے کے لئے ترتیب دیئے گئے تھے۔ای۔سی۔او ۔کا مقصد بھی باہمی معاشی تعاون کرکے تجارت کو بڑھانا تھا۔یہ بلاک 46کروڑ 30لاکھ محنتی افراد اور80۔لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے۔روس،سائبیریا اور چین سے لیکر خلیج بنگال اور بحیرہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔قازقستان بھی اسی میں شامل ہے۔جو رقبہ کے لہاظ سے بھارت سے بھی بڑا ہے۔اس اتحاد کا مقصد بھی یورپی یونین کی طرح ایک تجارتی منڈی بننا ہے۔رکن ممالک سے توقع کی جاتی ہے۔کہ وہ آہستہ آہستہ تجارتی راستے کی ٹیرف اورنان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرلیں گے۔پاکستان،ایران اور ترکی کی اشیاء بغیر کسٹم کے سنٹرل ایشیائی ریاستوں میں جائیں اور ایسے ان ریاستوں کی اشیاء باقی ارکان میں آئیں۔2000 ء کے بعد ای۔سی۔او ۔ اپنے مقاصد تیزی سے حاصل کرتی نظر آتی ہے۔آپس کی تجارت 175۔ارب ڈالر سے بڑھ کر688۔ارب ڈالر ہوچکی ہے۔عالمی تجارت میں علاقہ کا حصہ1.7۔فیصد سے بڑھ کر 2.10فیصد ہوچکا ہے۔ای۔سی۔او ۔ممالک کی کل قومی آمدنی2000میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تھی جو اب بڑھ کر تقریباً2۔ارب ڈالر کے قریب آرہی ہے۔ایک اور خوش کن صورت یہ بھی ہے کہ پورے علاقے نے 15سالوں میں4.49فیصد شرح کے لہاظ سے معاشی ترقی کی ہے۔جب کہ باقی دنیا2.78فیصد شرح سے آگے بڑھی۔علاقے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے ادارہ بن گیا ہے۔اس ادارے کی میٹنگ یکم تا2جون2016ء کو اسلام آباد میں ہوچکی ہیں۔یہاں سائنس اور ماحول کو صاف رکھنے کے لئے کافی سفارشات مرتب ہوئیں۔ممبران نے اس پر عمل درآمد کا یقین دلایا۔تہران مرکز میں اور بھی کئی موضوعات پر کانفرنسز ہوتی رہتی ہیں۔اتحاد کی تجارتی سرگرمیوں کی سہولت کے لئے تینوں بنیادی ممبران نے بنک قائم کرلیا ہے۔اور ایسے ہی ایک مشترکہ انجنئیرنگ کمپنی بھی قائم ہوگئی ہے۔ایک بڑا کام جو اتحادی رکن ممالک کے لئے کرنا ضروری ہے۔وہ آئل اور گیس کی پائپ لائنوں کا ایسا نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔جس سے انرجی کی کمی کسی بھی ممبر ملک کو محسوس نہ ہو۔ان10۔ارکان کو3۔کاموں کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ریل اور سڑکوں کا جدید ترین نیٹ ورک پورے ای۔سی۔او ۔ علاقے میں پھیلا دیاجائے۔اس سے لوگوں کی پورے اتحاد علاقوں میں آمدورفت آسان ہو جائیگی۔تجارت بھی تیزی سے بڑھے گی۔اور علاقہ دنیا کے بڑے تجارتی زون میں بدل جائے گا۔سائنس فاونڈیشن اگرچہ بن چکی ہے۔لیکن علاقے کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں سائنسی اور تکنیکی تحقیقات کے لئے بڑی مقدار میں فنڈز مختص کئے جائیں۔صنعت ،زراعت اور کان کنی میں جدید ٹیکنالوجیز جو خود تخلیق کی گئی ہوں ان کا استعمال کیاجائے۔مسلم علاقوں میں سب سے بڑی کمی صرف ایک ہی ہے کہ ان کی ٹیکنالوجیز دوسرے ممالک سے حاصل کردہ ہوتی ہیں۔تخلیق کارجحان بہت ہی کم ہے۔ترکی،ایران اور پاکستان اگرچہ سائنسی تعلیم و تحقیق کے لہاظ سے بہتر نظر آتے ہیں۔لیکن مغرب کے بالمقابل اب بھی بہت پیچھے ہیں۔اتحاد کے ارکان کو اپنے قابل اور ذہین طلباء کو جدید سماجی علوم اور قدرتی علوم کی تحقیق میں لگانا ضروری ہے۔کچھ نیا کرنا اور نئی ٹیکنالوجیز پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔دنیا اب مریخ پر جانے کی تیاری کررہی ہے۔وہاں انسانی بستیاں بسانے کا پروگرام ہے۔اور مریخ کا زمین سے فاصلہ4۔کروڑ 75لاکھ کلومیٹر ہے۔ہمیں انکی تکنیکی ترقی کا تصور ذہن میں لاکر اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہئے۔وسائل ہوتے ہوئے بھی گزشتہ 5۔صدیوں میں مسلمانوں نے اس خصوصی شعبہ میں کچھ نہیں کیا۔معیشتیں اور تجارت اسی تکنیکی ترقی سے آگے بڑھتی ہیں۔اسی پورے اتحادی علاقے میں نشہ آور اشیاء کی پیداوار اور آمدورفت بہت زیادہ ہے۔اس سے آنے والی نسلیں متاثر ہونے کا بڑا خطرہ ہے۔اس کے خاتمے کے لئے بڑے پیمانے کی ماثر کوششیں درکار ہیں۔نشہ آور اشیاء کی پیداوار اور تجارت کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ آئندہ نسلوں کو نشہ سے بچانا ایک بڑی خدمت ہوگی۔یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس بڑا اہم رہا ہے۔ممبر ممالک نے طے کیا کہ علاقے سے دہشت گردی مکمل طورپر ختم کردی جائیگی۔مغرب سے کہاگیا ہے کہ دہشت گردی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے ۔خطہ کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہرکوشش کرنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ایک نقطہ بڑا اہم ہے کہ مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔اسے پہلے کے بعد دوسرا قدم قرار دیاجاسکتا ہے۔یہ بھی طے کیاگیا کہ آئندہ پانچ سالوں میں آپس کے تجارتی حجم کو دگنا کر دیاجائے گا۔یہ تو ظاہر ہے کہ زراعت ،صنعت اورکان کنی کی پیداوار بڑھے گی تو تجارتی حجم زیادہ ہوگا۔یوں غربت میں بھی کمی آئیگی۔فورم میں معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے تمام عوامل پر غور کیاگیا۔عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنے،علاقائی رابطے کے لئے سیاسی،معاشی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔تعلیمی اور سائنسی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی اسلام آباد اعلامیہ میں جگہ دی گئی ہے۔اس سے لگتا ہے کہ تنظیم مستقبل پر بھی نظر رکھے ہوئے۔اعلامیہ انتہائی متوازن ہے لگتا ہے کہ تنظیم کا سیکرٹریٹ ہر شعبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔2سال بعد ہونے والے اجلاس میں طے کردہ اہداف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔2025ء وژن کے لئے اہداف طے کئے گئے ہیں۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقتصادی تعاون کی تنظیم اپنی منزل کی جانب صحیح انداز سے گامزن ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 32650 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2017 Views: 318

Comments

آپ کی رائے