آزادکشمیر اسمبلی ممبران کی مراعات اور مظفرآباد،گلگت کے اختیارات؟

(Tahir Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)

آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتہ تک جاری رہنے کے بعد غیر مبینہ مدت کیلئے ملتوی ہو گیا ہے۔ جس میں آخری دو دن اپوزیشن نے سپیکر ڈپٹی سپیکر وزراءممبران اسمبلی کی مراعات میں اضافے کی مخالفت اور مشیر خارجہ پاکستان سرتاج عزیز کیطرف سے گلگت بلتستان کے حوالے سے پیش کردہ سفارشات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا جس کا اظہار خالد ابراہیم ملک نواز عبدالماجد خان نے بائیکاٹ کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ،بات خالد ابراہیم کی کی جائے تو ان کے قول ،فعل کرداروعمل پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کیا جاسکتا ہے مگر باقی اپوزیشن کو بائیکاٹ کے بجاے مراعات و گلگت سمیت دیگر معاملات پر ایوان میں اپنے موقف دلیل کے زریعے نقطہ نظر کو ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔ بائیکاٹ نیم رضا مندی سے میلاپ رکھتا ہے۔ اور گلگت بلتستان کی آئین حیثیت کے تناظر میں خالد ابراہیم کا نقطہ نظر سی پیک کے حامی ہیں۔ مگر اس سمیت کوئی بڑی سے بڑی سہولت یا مفاد جو تحریک کشمیر کو متاثر کرنے کا موجب بنے قبول نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جائے بھی سرتاج عزیز کی طرف سے پیش کردہ سفارشات پر کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیا جائے ۔یہ جا ئز اوربرحق مطالبہ ہے مگر اصل ایشو پھر بھی حل نہیں ہوتا آزاد کشمیر کا سیٹ اپ بالکل ایک پوری ریاست کے نظام جیسا ہے وہ سب جنکا روزگار خزانہ سرکار سے منسلک ہے کیلئے بھی شاندار ہے۔ مگر جب بات اختیارات وسائل طریقہ کار کے گورکھ دھندے پر آتی ہے تو داستان غم کوہ طور تک جاتی ہے۔ بات نکلے تو دور تک جاتی ہے کہ مصداق باقی عوام کہاں جائیں جنکی محرومیوں کے خاتمے اور چاروں صوبوں کیطرح باوقار حیثیت کیلئے قومی اقتصادی کونسل ارساءسمیت فیصلہ ساز اداروں میں نمائندگی ہو نا ضروری ہے جسکے لئے ستر سال سے اب تک کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔ ہاںپیسہ پرستوں اور ریاست ریاست کے نعرے لگانے والوں نے زخموںپر بیٹھنے والی مکھیوں کی طرح خون چوستے ہوئے اپنی سیاست مفادات کا تخفظ یقینی بنائے رکھا۔ اور بات اپنے کردار کی آئی توکھسیانی بلی کی طرح الزام اسلام آباد پر لگا دیے اگر اخلاص خدمت خلق کا صحیح معنوں میں انداز اختیار کیا جاتا تو یقینا ایسے حل یا راستے تلاش کیے جاتے جن سے آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں ترقی خوشحالی اور باوقار نظام کی مثالیں دیکر ساری دنیا میں بتایا جاتا یہ خطے کتنے باوقار اور خوشحال ہیں جو حقیقی معنوں میں تحریک آزادی کشمیر کی بھی خدمت ہوتی اب دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ میڈیا کا دور ہے اور سوشل میڈیا سب پر سبقت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں ہونے والے واقعات تبدیلیاں ایک لمحے میں سب کے سامنے آجاتیں ہیں لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ اسطرف والے تحریک آزادی پر واقعتا رحم کھائیں اور ہر معاملے میں تحریک آزادی لانے کے بجائے آزاد کشمیر گلگت بلتستان والوں کے ستر سال سے جو خواب دکھاتے آرہے ہیں انکی تعبیر بھی سامنے آنے دیں آئین پاکستان میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی شق میں تا وقت کہ راکے شماری نہیںہو جاتی ناصرف قومی و اقتصادی کونسل سمیت تمام اداروں میں چاروں صوبوں جیسی نمائندگی بلکہ سینٹ نیشنل اسمبلی میں بھی بطور ممبران و یساہی کردار تسلیم کیا جائے جو چاروں صوبوں کو حاصل ہے تاہم متنازعہ خصوصی حیثیت کو تا وقت تصفیہ برقرار ہر قیمت پررکھا جائے اس ضمن میں دونوں خطوں کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو جذباتی تسکین والے نعروں کی آگ کا ایندھن بننے کے بجائے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کہ آپ خود مضبوط ہو ںگے کسی پوزیشن پر ہوںگے تو دوسروں کے بھی کام آسکیں گے ورنہ جو ممبران اسمبلی اپنی مراعات تنخواہوں سے مطمئن نہ ہوں ان سے زیادہ توقعات رکھنا خواب خیالی ہے آزاد کشمیر اسمبلی میں سپیکر ڈپٹی سپیکر وزراءممبران اسمبلی انکی فیملی کے اندرونی بیرونی سرکاری غیر سرکاری علاج کے اخراجات کے بلات کی تصدیق کا اختیار خود ان کے دیا گیا ہے ممبران اسمبلی کا ٹریولنگ الاﺅنس فی کلو میٹر دس روپے سے بڑھا کر پندرہ روپے ایڈشنل ٹر یولنگ الاﺅنس سات سے دس ہزار ماہانہ ہاﺅس رینٹ دس کے بجائے 29ہزارٹیلی فون الاﺅنس پانچ سے ہزار دو مزید یوٹیلٹی الاﺅنس وغیرہ کی مد میں ماہانہ 16ہزار ملینگے اسطرح مجالس قائمہ کے چیئرمین سرکاری کار ڈرائیور کے بجائے اپنی زاتی گاڑی استعمال کرنا چاہیں توماہانہ ایک لاکھ ملے گا اس طرح تقریباََ پونے دو لاکھ ماہانہ تنخواہ الاﺅنسز ہونگے جو اسمبلی مجالس قائمہ کے اجلاسوں کے الاﺅنس فی دن پانچ ہزار کے علاوہ ہیں اچھا ہوتا کہ سیکرٹری یا گریڈ 20 اکیس کے برابر مراعات طے کر دیتے اتنا خوف زدہ اور محتاط محتاط مدات بڑھانے کا طریقہ کار عجیب سا تھا تاہم فاروق حیدر حکومت نے جس طرح چیئرمین کمیٹیوں کیلئے کار اور ماہانہ 45ہزار کے بجائے نجی کار کی صورت میں ایک لاکھ دینے کا قانون پاس کیا ہے یہ خزانہ سرکار سے منسلک آفیسران ماسوائے فیلڈ سٹاف سب کیلئے قانون بنا دیں تو ریاست کو سالانہ اربوں کی بچت ہو گی کیونکہ اپنی ملکیتی چیز کا تو ہر کوئی خیال رکھتا ہے؟؟؟؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 205 Articles with 71285 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2017 Views: 380

Comments

آپ کی رائے