دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کامیابیاں اور بھارتی رسوائی

(Syed Asif Jah, )

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشتگردوں کیخلاف شروع کیا جانیوالا آپریشن ردالفساد وسیع پیمانے پر کیا جارہا ہے اور یہ آپریشن کسی بھی خاص نسل،فرقے یا کسی بھی خاص گروپ کے خلاف نہیں ہے بلکہ ردالفساد دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے کیا جارہا ہے۔آرمی ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں کورکمانڈرز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں پاک فوج قومی جذبے کے تحت حصہ لے گی اور اسے انجام تک پہنچائے گی۔کورکمانڈرز اجلاس میں سی پیک،دورہ قطر،فوجی عدالتوں و دیگر امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے جیو سٹرٹیجک اور سلامتی کی صورتحال، بطور خاص داخلی سلامتی، کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاک افغان سرحد کی صورتحال پر غور کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کی قیادت سے ملاقاتوں کی تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ ان کا دورہ کامیاب رہا اور اس کے نتیجہ میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ شرکاء نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا جواب دینے اور لاہور میں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے ضمن میں عمدہ کارکردگی کی تعریف کی۔ شرکاء نے نیشنل ایکشن پلان پر بھی غور کیا اور کہا کہ ملک میں پائیدار امن کیلئے آپریشن ردالفساد کے ذریعہ تمام سٹیک ہولڈرز کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مل کر تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف نے شرکاء کو حکومت کے ساتھ آخری سکیورٹی کانفرنس میں ہونے والی بحث، جس میں پاک افغان سرحد پر مرحلہ وار باڑ کی تنصیب، افغان مہاجرین کی واپسی، عدالتی، پولیس اور مدارس کی مجوزہ اصلاحات اور فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کو موت کی سزا دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے جیسے موضوعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ شرکاء نے فوجی عدالتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم یہ بھی کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جو کامیاب رہا اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا گیا،اب لاہور،سیہون،کوئٹہ دھماکوں کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشن ردالفساد کا اعلان کیا جس میں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی ہو گی،پنجاب جس پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہیں ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا دیرینہ مطالبہ کہ پنجاب میں بھی رینجرز آنی چاہئے وہ پورا ہو ا اور اب ملک بھر میں فسادیوں کے خلاف نہ صرف آپریشن جاری ہے بلکہ دہشت گردوں کی جائے پناہ افغانستان پربھی پاک فوج کے دلیر جوانوں نے حملے کئے اور انہیں ملیا میٹ کیا۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔،دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیں جنھیں’’ را‘‘ سمیت دوسری دشمن ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے۔دہشت گرد کا کوئی مذہب اور صوبہ نہیں ہوتا ،ردالفساد آپریشن کے نام میں ہی پیغام ہے کہ ہم نے فسادی لوگوں کو رد کرنا ہے اور پاکستان میں استحکام کو واپس لانا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بہت سے آپریشن ہوئے اور تمام آپریشن کامیاب رہے ، ردالفساد کا مقصد دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو ختم کرنا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے تمام ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی تمام ادارے اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے دہشت گردوں پر فزیکل کنٹرول حاصل کر لیاہے اور اپنے تمام علاقے کلیئر کر لئے ہیں،زیادہ تر دہشت گرد مارے گئے اور باقی افغانستان بھاگ گئے ، فوج نے آپریشن کے ذریعے ریاست کی رٹ بحال کی ۔ افغانستان خود بھی دہشت گردی میں گھرا ہوا ہے مگر افغانستان کو حالات حاضرہ کا جائزہ اینٹی پاکستان نظریے سے نہیں بلکہ افغانستان کے مفاد کے حساب سے لینا ہوگا۔دشمن ممالک ایک مشترکہ منصوبے کے تحت پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں اور اس صورتحال کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے افغانستان کی سرزمین ایک لانچنگ پیڈ کے طور استعمال ہورہی ہے۔ مغربی اور صیہونی طاقتوں کی سازش سے پہلے ہی کئی عرب اور افریقی مسلم ممالک میں قتل و غارت گری اور بربادی کی آگ بھڑک رہی ہے اور اب برادر کْشی کی یہ صورتحال یہاں بھی پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ افغان سرحد ی قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں تین چوکیوں پر افغانستان سے حملے ہوئے جن میں پاک فوج کے جوان شہید ہوئے۔افغانستان اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ آپس کے اختلافات اور غلط فہمیوں کو دور کرکے ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوشش کریں اور ان قوتوں کا مل کر مقابلہ کرنے کی سوچیں، جو پوری مسلم امہ کا خاتمہ چاہتی ہیں اور اس مقصد کے لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ لڑا کر کمزور بنانا چاہتی ہیں۔ پوری مسلم دنیا میں پاکستان کی جو اہمیت اور افادیت ہے، وہ اپنی جگہ مسلّم ہے اور یہ ملک مسلمانوں کے لئے ہر حیثیت سے ایک قلعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد تمام مسلم دشمن قوتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور وہ اس ملک کو ہر ممکن طریقے سے کمزور اور غیر مستحکم بنانا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے جہاں مغربی طاقتوں نے اس خطے کو سازشوں کا اڈہ بنایا ہے، وہاں بھارت بھی تمام تر ذرائع کام میں لاکر اس ملک میں افراتفری اور بے چینی پھیلانے کے درپے ہے۔ اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف رچائی جارہی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے افغانستان کی سرزمین بھی استعمال ہورہی ہے۔بھارت پاکستان کو ہمیشہ عدم استحکام سے دوچار ررکھنا چاہتا ہے۔پاکستان کے پانیوں پر بھارت نے ڈیم بنائے،وطن عزیز میں دہشت گردی کروائی۔لیکن پاک فوج نے ہمیشہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا،سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کر نے والے بھارت کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب اس کے اپنے فوجیوں نے کہا کہ ہمیں مرنے کے لئے بارڈر پر بھیج دیا جاتا ہے لیکن کھانا نہیں دیا جاتا۔سی پیک کے منصوبے سے بھی بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔پاکستان میں بتیس ممالک کی بحری فوجی مشقیں بھی انڈیا کو ابھی تک ہضم نہیں ہوئی ۔پاکستان کو تنہا کرنے کا اعلان کرنے والا انڈیا آج خود تنہا ہو چکاہے اور پاکستان کامیابی سے سفر کر رہا ہے۔دنیا میں کسی بھی ملک کی فوج دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں کامیاب نہیں ہوئی،امریکہ افغانستان میں نیٹو کے ساتھ آیا لیکن کامیاب نہیں ہوا اور اس کے مقابلے میں پاکستان نے جتنے بھی آپریشن کئے ہمیشہ کامیابیاں ملیں کیونکہ پاک فوج کے جری جوان تنخواہوں کے لئے نہیں بلکہ جوش،جذبے،جنون کے ساتھ اپنے وطن پر قربان ہونا سعادت سمجھتے ہیں۔یہی وہ جذبہ ہے جو پاکستان کے لئے باعث فخر ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔پاکستانی قوم بھی دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ہمیشہ ساتھ تھی،ہے اور رہے گی۔ردالفساد اسوقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک میرے ملک کا ایک ایک چپہ پرامن نہیں ہو جاتا،بارود کی بو ہمیشہ کے لئے ختم ہونی چاہئے اور دہشت گردوں،ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق کاروائی سے ایسا ممکن ہے۔پاک فوج میدان عمل میں ہے اور قوم اس کارخیر میں انکے ساتھ ہے۔منزل قریب ہے اور کامیابی ملنے والی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Asif Jah

Read More Articles by Syed Asif Jah: 2 Articles with 604 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2017 Views: 337

Comments

آپ کی رائے