امین ملت حضرت پروفیسر سیدشاہ محمد امین میاں قادری مدظلہ العالی

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
برکاتی کوئز سے

صاحب سجادہ، خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ
سوال۱: حضرت امین ملت دام ظلہ کی ولادت کب ہوئی؟
جواب: ۱۳۷۱ھ مطابق ۱۵؍ اگست ۱۹۵۲ء کو قصبہ کاسگنج کے ’’مشن‘‘ اسپتال میں ہوئی۔
سوال۲: آپ کی پی۔ ایچ۔ڈی۔ کس موضوع پر ہے اور کہاں سے مکمل ہوئی؟
جواب: میر تقی میر پر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل ہوئی۔
سوال۳: آپ کو بیعت و خلافت کن سے ہے؟
جواب: حضور تاج العلماء نے بچپن ہی میں آپ کو بیعت و خلافت سے نواز دیا تھا۔ والد ماجد حضور احسن العلماء نے ۱۹۵۶ء میں اپنی سجادہ نشینی کے روز اجازت و خلافت سے سرفراز کیانیز عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم ہند نے ایک دن میں تین بار خلافت عطا کی۔
سوال۴: آپ کی زوجہ کا نام کیا ہے؟
جواب: سیدہ آمنہ خاتون نقوی بنت جناب سید عابد علی مرحوم۔
سوال۵: آپ کے کتنے صاحبزادے ہیں؟
جواب: دو: (۱) مولانا سید محمد امان قادری مصباحی (۲) سید محمد عثمان قادری اور ایک صاحبزادی سیدہ ایمن۔
سوال۶: آپ کی تصانیف کون کون سی ہیں؟
جواب: (۱) سید شاہ برکت اللہ حیات اور علمی کارنامے (۲) ترجمہ اردو سراج العوارف (۳) ترجمہ اردو آداب السالکین (۴) ترجمہ رسالہ چہار انواع (۵) میر تقی میر (۶) ادب، ادیب اور اصناف (۷) قائم چاند پوری حالات اور علمی کارنامے (۸) شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن مجید کی جدید انداز میں ترتیب۔
سوال۷: اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کون سے شعبے میں کس عہدے پر فائز ہیں؟
جواب: شعبۂ اردو میں سینئر پروفیسر ہیں۔
سوال۸: اہل سنت میں آپ کس لقب سے جانے جاتے ہیں؟
جواب: حضور امین ملت کے لقب سے۔
سوال۹: آپ کی اہم خدمات کیا ہیں؟
جواب: (۱) ۲۰۰۴ میں جامعہ البرکات کا قیام (۲) ۱۹۹۹ء میں مجلس برکات کا قیام (۳)جامعہ اشرفیہ میں ۲۰۰۴ میں مجلس شرعی کا احیا (۴) ۲۰۱۲ء میں مارہرہ شریف میں جامعہ احسن البرکات کا قیام۔
سوال۱۰: حضرت امین ملت کس بین الاقوامی اعزاز سے سرفراز ہوئے؟
جواب: حضرت امین ملت کو امریکہ اور جارڈن اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے باہمی اشتراک سے ہوئے سروے میں پوری دنیا کے ۵۰۰ مشاہیر مسلمانوں میں ۴۴ واں مقام دیا گیا اور آپ پچھلے کئی سالوں سے عالمی مشاہیر کی اس فہرست میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔
سوال۱۱: آپ کے خلفاء کے نام بتائیں۔
جواب: (۱)سید شاہ نجیب حیدر نوری (۲) سید محمد امان قادری (۳) سید محمد عثمان قادری (۴) سید حسن حیدر نوری (۵) سید شاہ گلزار اسماعیلی، واسطی، مسولوی(۶) امام علم و فن خواجہ مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ (۷) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللہ علیہ (۸) مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب، جامعہ اشرفیہ (۹) مولانا محمد احمد مصباحی صاحب، جامعہ اشرفیہ(۱۰) مفتی سید عارف علی صاحب (۱۱) مولانا شہاب الدین صاحب، لکھیم پور کھیری (۱۲) مولانا محمد عبد المبین نعمانی صاحب (۱۳) مفتی عبد الحلیم نوری، چھپرہ (۱۴) مفتی حبیب یار خاں، اندور (۱۵) مولانا عسجد رضا خاں (۱۶) قاری اسحاق محمد، انجینئر، جودھ پور (۱۷) مفتی ولی محمد ناگوری (۱۸) حاجی محمد عارف پردیسی (۱۹) سید نور اللہ شاہ بخاری ، سہلاو شریف، راجستھان (۲۰) علامہ عبد الستار ہمدانی، پوربندر (۲۱) سید عبد الجلیل صاحب، بمبئی (۲۲) مفتی محمد محمود اختر ، ممبئی (۲۳) مولوی محمد حنیف صاحب ، ناگور (۲۴) بابا عبد النبی صدیقی، ممبئی وغیرہم۔
بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب : محمد حسین مُشاہد رضوی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 353778 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
16 Mar, 2017 Views: 779

Comments

آپ کی رائے