خوشحال اور پر امن پاکستان کی ضمانت

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان میں اس وقت جس قسم کی سیاست متعارف کروائی جا رہی ہے یا جس قسم کی سیاست کی جا رہی وہ نا صرف آج بلکہ مستقبل کے لئے بھی بہت ہی خطر ناک ہو سکتی ہے اس وقت وہ تمام جماعتیں جو ماضی میں کسی نہ کسی طور پر پر امن سیاست کی بات کر تی تھی اب تشدد ،عدم برداشت اور گالی گلوچ کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں یہ جاننے کے باوجود کے اس وقت حالات پاکستان مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد چل رہا ہے ساتھ ساتھ ہمارے پڑوسی ممالک میں بیٹھ کر دہشت گرد ہم پر حملے کر رہے ہیں ایسے میں پوری قوم یکجا ہونا چاہتی ہے مگر ہمارے سیاست دان اس وقت بھی خلفشار اور انتشار ،تشدد ،عدم برداشت اور گالی گلوچ کی سیاست کو پروان چڑھا رہے ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح اقتدار ان کو مل جائے اس کے لئے وہ ملکی سالمیت کو نہیں سمجھ رہے بلکہ ان کے لئے سب سے اہم اقتدار کا حصول ہے ۔ دیکھاجائے تو پاکستان کا مستقبل دھرنے اور گالم، گلوچ ،تھپڑ وں، گھونسوں،تشدد ،عدم برداشت کی سیاست میں نہیں 'چوکوں اور چوراہوں پر فیصلوں کی جو غلط روایت چل پڑی ہے اس کے لئے عوام کو چاہئے کہ اس خلفشار کیخلاف آواز اٹھائیں ۔ملک میں کرپشن ختم کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہر کوئی کرپشن ختم کرنے کی بات تو کرتاہے مگر جب بات خود اس کے گھر تک پہنچتی ہے تو اس کا فلسفہ تبدیل ہو جاتا ہے ہر کوئی کرپشن کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کرتا نظر آتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کرپشن ہماری جڑوں میں سرائیت کر چکی ہے اور اس میں اوپر سے لیکر نیچے تک کے لوگ ملوث ہیں جن کی سر کوبی کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کے لئے آپریشن ردالکرپشن کرنا ہو گا جس میں کسی امیر ،وزیر، مشیر،بیوروکریٹ کے بچنے کی کوئی امید نہ ہو تب اس کو ختم نہ سہی لیکن کم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر باتوں سے یہ کرپشن ختم ہوتی تو جتنی باتیں اس بارے میں پاکستان میں ہوئی ہیں یہ اب تک بلکل ختم ہو چکی ہوتی ۔پاکستان کا مستقبل دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نہیں ہے پاکستان کا مستقبل ترقی و کامرانی ہے ہم نے اپنے رویوں سے اپنے کاموں سے قوم کو اتحاد اور اتفاق کی طرف لے کرجانا ہے وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرسکتیں جو تقسیم کا شکار ہوں جو داخلی خلقشار کا شکار ہوں دنیا کے جس ملک نے بھی ترقی کی اس کے فیصلے چوکیوں اور چوراہوں پر نہیں ہوئے بلکہ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں ہوئے ہیں۔ہماری یہ اجتماعی خواہش ہے کہ ہم ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کریں ہم باربار اس کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے قوم کے قیمتی ستر سال ضائع کردئیے ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والی قومیں خوشحالی کی بلندیوں پر ہیں جبکہ ہم ابھی تک ہر شعبے میں پیچھے ہیں لیکن محرومی کے اس احساس کے باوجود ہم اس پر غور نہیں کرتے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے ہم نے ترقی کیوں نہ کی اسکی وجوہات کیا تھیں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم نے زیادہ عرصہ آمریت میں گزارا اور آمروں کے اشاروں پر محاذ آرائی کی سیاست کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست جب عروج پر آپہنچی تو طے شدہ منصوبے کے تحت لولی لنگڑی سول حکومت کو گھر بھیج کرفوجی آمر نے اقتدار سنبھال لیا' ایک مخصوص طبقہ سہولیات اور مراعات سے مستفید ہو تا رہا اور عام آدمی کے معاشی حالات ابتر ہوتے چلے گئے 'ہمیں ترقی کی خواہش کے ساتھ انتشار اور محاذ آرائی کی سیاست سے بھی علیحدگی اختیاز کرنی ہوگی' انتشار اور خلفشار دراصل ہماری ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں جب تک ہم ان دشمنوں نے نجات حاصل نہیں کرینگے اپنے سماجی اور معاشی حالات کو بہتر نہیں بنا سکیں گے۔ آج کے حالات ہم سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم گالی گلوچ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر کے اپنے سنہری مستقبل کا سوچیں ان قوموں کے دیکھیں جن کا ماضی جنگوں اور فساد سے بھرا ہو اہے اس کی سب سے بڑی مثال جرمنی کی ہے جو ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس نے کئی سال جنگوں میں ضائع کیے مگر انھوں نے اس جنگ و جبرسے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان جنگوں نے ان کے مستقل کو بہتر نہیں کیا جا سکتا اس لئے انھوں نے برداشت تحمل اور رواداری کو اپنایا اور آج دنیا میں وہ قومیں ترقی یافتہ کہلا رہی ہیں مگر ہم ہیں کہ جس دین کے ہم پیروکار ہے وہ سب سے پہلے امن ،محبت ،بھائی چارے کا درس دیتا ہے مگر ہم اس دین کو اپنی مرضی کی تشریح دے کر ناصرف خود بلکہ دوسروں سے بھی جینے کا حق چھین لینے کی کوشش میں ہے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خلفشار اور عدم برداشت کے رویوں کو ترک کرتے ہوئے وطن عزیز میں خوشحالی ترقی اور امن و مان کی صورت حال بہتر بنائی جائے اور وہ تما م اقدامات اٹھائے جائیں جن سے قوم میں اعتماد ،حب ا لوطنی اور امن کا بھول بھالا ہو سکے اس کے لئے ضروری ہے اس راہ پر چلیں جہاں امن و امان ہو جہاں ہر راستہ ترقی و کامرانی کی طرف جاتا ہو جہاں کسی خوف ظلم و جبر کا نشان تک نہ ہو جہاں بات کی جائے تو اتحاد کی جہاں مخالفت کی جائے تو انتشار کی دنیا کی تمام بڑی اقوام نے آج اگر ترقی کی ہے تو انھوں نے مساوات کو اپنا اپنے رویوں میں اعتدال لایا تب جا کر وہ قومیں دنیا کی عظیم قومیں بنی ہیں ہمیں اگر ان قوموں کے ہم پلہ بننا ہے تو ہمیں گالی گلوچ اور عدم برداشت کو ختم کرنا ہو تب جاکر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو خوشحال اور پر امن پاکستان کی ضمانت دے سکتے ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 132662 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
17 Mar, 2017 Views: 468

Comments

آپ کی رائے