صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کی سزا کے پس پردہ حقائق اور رہائی اور سعودی شہزادے کا خط

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حج انتظامات میں بدعنوانی کے مقدمے میں سزا پانے والے سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو اس مقدمے میں بری کردیا ہے۔

انسداد بدعنوانی کی عدالت نے حامد سعید کاظمی،ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور وزارت مذہبی امور کے جوائینٹ سیکرٹری راجہ آفتاب کو جرم ثابت ہونے کی بنا پر اُنھیں 16،16 سال قید کی سزا سنائی تھی۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سنہ 2010 میں سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد کی طرف سے لکھے گئے ایک خط اور حاجیوں کی شکایات پر حج انتظامات میں بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا۔عدالت نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم تھی جنہوں نے اپنی تحقیقات میں حامد سعید کاظمی، ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب کو بدعنوانی اور سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے پر قصوروار قرار دیا تھا۔

انسداد بدعنوانی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر گذشتہ برس جون میں تینوں مجرموں کو سولہ سولہ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔اس سزا کے خلاف مجرمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ عدالت نے حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلہ نہیں کیا اور حقائق کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

مجرمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے دوران ایسے کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے جس کی وجہ سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُن کے موکل اس گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے مجرمان کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور کچھ دیر کے بعد مجرموں کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے اُنھیں اس مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ابھی تک عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

حامد رضا کاظمی، راو شکیل اور راجہ آفتاب ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔پیپلز پارٹی کے زرداری دور حکومت میں نظامِ مصطفےٰ پارٹی کے سربراہ صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں وفاقی وزیر امور مذہبی و امور حج بنے۔ اِس دوران حج سکینڈل سامنے آیا جس میں کرپشن کی ہوش اُڑا دینے والی داستانیں منظر عام پر آئیں۔صاحبزادہ حامد سعید کاظمی گرفتار ہوئے بعد ازاں ضمانت پر رہا ہوئے۔ اُن کا ٹرائل سپیشل سنٹرل کورٹ اسلام آباد میں ہوا اور جون کی تین تاریخ 2016 کو اُنھیں بارہ سال قید اور14 کروڑ اور 85 لاکھ جُرمانے کی سزا سُنائی گئی تھی۔ پاکستان میں عدلیہ کے فیصلوں کو وہ سند حاصل نہیں ہے جس کا تقاضا انصاف کرتا ہے۔ وجہ وہی ہے کہ بڑا آدمی جب جُرم کرتا ہے تو صاف بچ نکلتا ہے اور غریب آدمی کے جُرم پر اُسے ایسی سزا ملتی ہے کہ وہ اور اُس کی آنے والی سات نسلیں بھی یاد رکھتی ہیں۔دنیا بھر کے معاشروں میں انصاف کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمران اشرافیہ نے اپنی مرضی کے افراد کو کرسی انصاف پر نوکری دئے رکھی ہوتی ہے۔ یوں جو کام ملازم کا ہے وہی کام اُس نے سر انجام دینا ہوتا ہے۔لیکن پاکستان میں شاہ و گدا کا انجام بعض اوقات ایک جیسا بھی ہوا ہے جب شاہ ہی گدا بنا دیا گیا ہو۔ جب بڑی طاقتیں امریکہ وغیرہ کسی کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں تو تب پھر منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی کو نااہل قرار دئے دیا جاتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں عدالتیں انصاف کے لیے آنے والوں سے ایسا سلوک کرتی ہیں کہ وہ معاشی طور پر نفسیاتی طور پر دیوالیہ ہوجاتا ہے لیکن اُسے انصاف نہیں ملتا۔ ایک کیس میں اگر اُس کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو اُس فیصلے کے خلاف اپیل پھر ایک نیا باب کھل جاتا ہے اگر دو تین دہائیاں سخت محنت کے بعد اپیل کا فیصلہ اُس کے حق میں آتا ہے تو پھر ایک اور اپیل۔ یوں ستم کا سلسلہ دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں جا گیر داروں وڈیروں سرمایہ داروں کے علاوہ ایک اور طبقہ بھی اب معاشی اور سماجی طور پر کافی مضبوط ہے اور وہ ہیں۔ گدی نشین، سجادہ نشین اور پیر۔مذہبی جذبات اور روایتی پیر پرستی کی وجہ سے پیروں کی اولادوں نے اپنے حلقہ اثر کے دائرہ کار کو بڑھایا ہے اور خانقاہی نظام کے سرپرستوں کی اولادوں نے ہی اِس نظام کو برباد کر دیا ہے۔سندھ اور پنجاب میں تو بہت بڑئے بڑئے وڈیرئے بھی پیر ہیں اور یوں مذہبی چھاپ کی وجہ سے وٹرووں کے ساتھ اُن کے عقیدت مندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یوں یہ پیر جس پارٹی میں ہوتے ہیں مرید بے چارئے اُس پارٹی کا دفاع کرتے ہیں۔صاحبزادہ حامد سعید کاظمی جو کہ نہ تو کسی جاگیر دار وڈیرئے کی اولاد ہیں اُن کے والد محترم تو ایک عظیم علمی وروحانی شخصیت تھے غزالی دوراں کا خطاب کے حامل جناب احمد سعید کاظمی صاحبؒ نے تشنگان علم و روحانیت کو اپنے فیض سے بہرہ مند فرمایا۔اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے 5 برس بعد حج کرپشن کیس میں سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی، سابق جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب السلام اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو جرم ثابت ہونے پر سزا کا حکم سنا دیا تھا۔ عدالت نے سابق وزیرمذہبی امور اور سابق جوائنٹ سیکرٹری کو 12، 12 سال قید اور پندرہ پندرہ کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی جبکہ مقدمے کے مرکزی ملزم سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو مجموعی طورپر 40سال قید اور 15کروڑ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔ تینوں ملزموں پر سال 2010 کے حج انتظامات کے دوران مالی بے ضابطگی کے الزامات تھے۔ جن کے مطابق انہوں نے جدہ، مکہ اور مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کے لئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی کی اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔ عدالتی فیصلے کے بعد تینوں ملزموں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا اور ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ حامد سعید کاظمی اور راجہ آفتاب السلام کو جرمانہ اداکرنے پر بارہ سال قید کی سزا سنائی ہے، عدم ادائیگی پر دونوں کو مزید چار سال قیدکاٹنا ہو گی۔ عدالت نے سابق وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور سابق جوائنٹ سیکرٹری مذہبی امور راجہ آفتاب السلام کو سیکشن 409/34 تعزیرات پاکستان کے تحت چھ سال قید جبکہ دفعہ 420,468,471 تعزیرات پاکستان کے تحت مزید چھ سال کی سزا اور پندرہ پندرہ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے حج کرپشن کیس کے مرکزی ملزم سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو 409/34 کے تحت چھ سال قید اور 14کروڑ 73لاکھ 97ہزار چھ سو روپے جرمانہ کی سزا عدم ادائیگی پر دو سال مزید قید راوشکیل پر دفعہ 420,468 اور 471کے تحت بالترتیب چھ چھ سال قید اور دس دس لاکھ روپے بالترتیب جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔عدم ادائیگی پر دو دو سال بالترتیب مزید قید کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔ ملزم کو زیر دفعہ 5(2)47 پی سی اے کے تحت 6سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے مذکورہ کیس میں اشتہاری قرار دیے جانے والے ملزم احمد فیض کی درخواست ضمانت منسوخ کردی تھی جس پر ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
تینوں ملزموں پر 2010ء کے حج انتظامات کے دوران مالی بے ضابطگیوں کے الزامات تھے، عازمین حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ کرائے پر عمارتیں لی گئی تھیں، اس وقت ایک سعودی شہزادے نے سپریم کورٹ کو معاملے کا نوٹس لینے کیلئے خط لکھا تو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کی تفتیش ایف آئی اے کے سپرد کی، ایف آئی اے نے اس کیس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کی اہلیہ اور بیٹے عبدالقادر گیلانی کو بھی شامل تفتیش کیا۔ ان پر سابق ڈی جی حج راؤ شکیل سے مبینہ طور پر 5کروڑ روپے کے عوض انہیں ڈی جی حج تعینات کرنے کا الزام تھا تاہم تفتیش کے بعد ان کا نام مقدمے سے خارج کر دیا گیا۔ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی پر مالی بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا تاہم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے راؤ شکیل اور فیض احمد نامی شخص کی سعودی عرب میں تعیناتی کے شواہد موجود تھے۔ ملزموں پر الزام تھا کہ انہوں نے مکہ اور مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کیلئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی کی اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔ بی بی سی کے مطابق مجرموں کی سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور اس لحاظ سے یہ 6 سال کا عرصہ جیل میں گزاریں گے۔حامد سعید کاظمی کا مؤقف کیا ہے؟سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو 16برس قید کی سزا ہوگئی، پاکستان میں کرپشن کے اس دلچسپ کیس میں سعودی حکومت بھی فریق ہےَ ۔ سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود نے اس وقت کے پاکستان میں چیف جسٹس کو طالبان مخالف علامہ کاظمی کے خلاف خط لکھا اور انہوں نے سوموٹو ایکشن لے لیا۔حامد سعید کاظمی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2009 میں دوران حج ناقص 11عمارتیں ایک کروڑ ریال دے کر کرائے پر لیں اور یہ استعمال نہیں کی گئیں۔حامد سعید کاظمی کے مطابق جبل ہندی کی جن عمارتوں کے حوالے سے ان پر الزام لگایا گیا، وہ ہر سال کرائے پر لی جاتی ہیں مگر استعمال کی نوبت نہیں آتی کیونکہ سعودی حکومت کا قانون کے کہ حاجیوں کی کل تعداد سے ایک فیصد زیادہ رہائش کا انتظام رکھا جائے۔اس کیس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی خط میں کہا گیا ہے کہ حاجیوں کو ان عمارتوں میں بھیج کر زیادہ کرایہ وصول کیا گیا جبکہ علامہ کاظمی کے مطابق یہ عمارتیں سرے سے ہی استعمال نہیں ہوئیں۔دلچسپی کی بات یہ ہے یہ عمارتیں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا مکی کی ملکیت ہیں اور وہی ہر سال ان کا کرایہ بطور نذرانہ لیتے ہیں۔جب ان عمارتوں کو کرائے پر لینے کے حوالے سے کرپشن کے الزامات لگے تو حامد سعید کاظمی نے ایک ہائرریویو کمیٹی خود بنائی تھی اور ایف آئی اے علامہ کاظمی کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے چکی تھی۔2009میں حجاج کو 25ہزار روپے کی رقم کی واپس کی گئی تھی۔ مگر سوال ضرور اٹھیں گے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں انتہاپسندی کے مخالف ایک ہی طرز فکر کے لوگ چاہے وہ مذہبی ہی کیوں نہ ہوں۔ آخر کیوں سزاوار ٹہرتے ہیں۔حامد سعید کاظمی کو اِس کیس میں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا اور اُنہیں خبر ہی نہ ہوسکے کہ اُن کے پہلو میں بیٹھے ہوئے لوگ اُن کے دوستوں کے روپ میں دُشمن ہیں۔ اپنی درویش طبع عادت کی وجہ سے اور دین کی محبت کے سبب حامد سعید کاظمی کو اُنکے ارگرد جمع ہونے والے فصلی بٹیروں نے اِس طرح اندھیرئے میں رکھا کہ خانقاہی نظام کا ایک نیک سپوت ایسے معاملات میں پھنسا دیا گیا کہ جس کا اُنہیں اندازہ نہ تھا۔ یوں سیاست میں عام آدمی کے سے انداز میں اُبھرنے والی روحانی خانودائے سے منسلک شخصیت کو بدنما داغ لگا دیا گیا۔ مورخ کا قلم اپنے یا غیر کسی کی تمیز نہیں کرتا تاریخ ثابت کرئے گی کہ کس طرح اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھنے والواں نے کاظمی صاحب کو اِس کیس میں پھنسایا۔ انتہائی محترم ترین مذہبی و روحانی شخصیت جناب احمد سعید کاظمی ؒ کی اولاد کو جس طرح کے کٹھن سفر کا سامنا ہے ۔ شاید قدرت کو اِن کے صبر کا امتحان مقصود ہے۔اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اﷲ کے اِس نیک بندئے کو کس طرح کی گردش دوراں کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔عدالت نے اِس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حامد سعید کاظمی پر مالی بد عنوانی ثابت نہیں ہوئی ہے۔پھر پیپلز پارٹی کی حکومت وہ بھی زرداری صاحب کی قیادت میں، اِن حالات میں اعلیٰ افسران کی تقررریاں تو کہیں اور سے ہوتی رہی ہیں اور ملتان کی سر زمین سے ایک نیک نام روحانی خانوادئے کے چشم و چراغ کو سیاسی مداریوں نے اپنی ہوس کی بھینت چڑھادیا۔آخر قید کی صوبتیں برداشت کرنے کے بعد آزادی کا پروانہ مارچ کی بیس تاریخ کو کاظمی صاحب کو مل گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 226357 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
21 Mar, 2017 Views: 384

Comments

آپ کی رائے