کرہ ٔ ارض پر مسلمانوں کی حیثیت

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)

ایک زمانہ تھا کہ مسلمان اس کرۂ ارض کے بڑے رقبے کو فتح کرچکے تھے۔تب کی معلوم دنیا یورپ،ایشیاء اور افریقہ تک محدود تھی۔پھر1492ء کے بعد نئی دنیا دریافت ہونا شروع ہوئی۔یورپین مہم جو کئی مہمات کے بعد براعظم شمالی امریکہ دریافت کرچکے تھے۔سپین کے مہم جوؤں نے وسطی امریکہ اور لاطینی امریکہ بھی معلوم کرلیا۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک یورپی لوگ ہی پہنچے۔اس دورمیں سپین سے غرناطہ کی آخری مسلم ریاست بھی ختم ہوگئی۔لٹے پھٹے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں شمالی افریقہ واپس آگئے۔یورپ میں آگے بڑھنے والے عثمانی تھے۔جو چند صدیوں تک اپنا رعب و دبدبہ برقرار رکھنے کے بعد واپس اپنے ہوم لینڈ ترکی آگئے۔گزشتہ چند صدیوں میں مسلمان پیچھے تو ہٹے لیکن کسی نئے علاقے کو فتح نہ کرسکے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب سپین اور پرتگال کے لوگ نئے نئے براعظم دریافت کررہے تھے اور وہاں یورپ کی عیسائی اقوام کو بسارہے تھے۔مسلمان تب کہاں تھے؟۔نئی دنیا کی دریافت کی صدیوں میں عثمانیوں کا رعب ودبدبہ کرۂ ارض پر محسوس کیاجاتا تھا۔ایران اور ہندوستان میں بھی مسلم بادشاہوں کی طاقتور حکومتیں قائم کی تھیں۔کرۂ ارض پر نئی دنیا کی دریافت کرنے والا بڑا واقعہ ہورہا تھا۔لیکن مسلمانوں کی طرف سے ان نئے علاقوں کی طرف کوئی بحری مہم روانہ نہیں کی گئی۔مسلمان لوگ اپنے ابتدائی فتح کئے ہوئے علاقوں تک محدود رہے۔اوریہ علاقہ صرف ایشیاء اور افریقہ کی پرانی معلوم دنیاتک ہی تھا۔جب صلیبی جنگیں لڑی جارہی تھیں تب عیسائی دنیا صرف اور صرف یورپ تک محدود تھی۔مشرق وسطیٰ کے قدیم آباد علاقوں میں بھی عیسائی قوم موجود تھی۔لیکن آج اگر ہم کرۂ ارض پر نظر ڈالیں تو منظر1492ء سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔ایک نقشے میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاقوں کو رنگوں سے ظاہر کیاگیا ہے۔مسلمانوں کے لئے سبز رنگ اور عیسائی اقوام کے لئے سرخ رنگ رکھا گیا۔سرخ رنگ پورے کرۂ ارض پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔یورپ تو قدیم زمانے سے ہی عیسائی ہے۔نئی دریافت ہونے والی تمام دنیا براعظم شمالی امریکہ،براعظم جنوبی امریکہ،براعظموں جیسا بڑا علاقہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اب عیسائی ہے۔روس جس کے پاس اب بھی کرۂ ارض کا بڑا علاقہ ہے یہ شمال مشرق اور مغرب دونوں طرف پھیلا ہو ا ہے۔اور پھر افریقہ کا صحرائی علاقہ اور جنوب ایشیاء میں فلپائن اور جنوبی سوڈان۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سرخ رنگ نے پورے کرۂ ارض پر قبضہ جما رکھا ہے۔اگر عیسائیوں اور مسلمانوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو کوئی بہت بڑا فرق نظرنہیں آتا۔2010ء کے ایک عالمی سروے کے مطابق عیسائیوں کی تعداد 2.2بلین جو کل آبادی کا32 %ہیں۔اس کے بالمقابل مسلمانوں کی تعداد1.6بلین جو کل آبادی کا23% ہیں۔ہندوایک ارب سے کم اوربدھ مت کو ماننے والوں کی تعداد50کروڑ کے قریب ہے۔بدھ مت اور ہندومت کو ماننے والے صرف ایشیاء میں رہتے ہیں۔تعداد میں تو مسلمان کافی ہیں لیکن اگر نقشے پر سبز رنگ کے علاقے کو دیکھتے ہیں تو وہ سرخ رنگ کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا ہے۔نقشے کو دیکھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرۂ ارض سرخ یعنی عیسائی ہے۔اور مسلمان عیسائی کرۂ ارض کے ایک چھوٹے سے حصے پر زندگی گزار رہے ہیں۔جو علاقے یا براعظم عیسائی دنیا کے پاس ہیں۔وہاں کے بے شمار وسائل وہ استعمال کررہے ہیں۔زرعی زمین،جنگلات،معدنیات،پانی کے وسائل،انرجی کے لئے ہوا کے بے شمار وسائل سولر وسائل،لاکھو میلوں پر پھیلے سمندری وسائل۔گزشتہ5صدیوں میں یورپ اور امریکہ نے سماجی علوم اور قدرتی علوم میں بے شمار ترقی کی۔اور انہی علوم نے آگے بڑھ کرنئی سے نئی ٹیکنالوجیز پیدا کیں۔نئی سے نئی ایجادات کے مراکز بھی یورپ اور امریکہ ہی معلوم ہوتے ہیں۔کائنات کے نئے نئے گوشے بھی یورپ اور امریکہ والوں کی جدوجہدکا نتیجہ ہیں۔چاندکی تسخیر تو اب قصہ یارینہ ہوچکی ہے۔اب تو مغرب ہماری زمین سے4کروڑ75لاکھ کلومیٹر دور مریخ پر جانے کی تیاری کررہا ہے۔مریخ پر اب تک چارگاڑیاں (لیبارٹریز) پہنچائی جاچکی ہیں۔سورج کے گرد گھومنے والے تمام سیاروں کے بارے مغرب کی تیارکردہ رصد گاہوں اور دوربینوں نے بے شمار معلومات اکٹھی کرلی ہیں۔مغرب کی طاقت کاایک راز سائنس اور ٹیکنالوجیز کی وجہ سے ہے۔اور وہ لوگ اب بھی تحقیقی کاموں پر اربوں ڈالر خرچ کرکے نئی سے نئی اشیاء بناتے چلے جارہے ہیں۔اب مغرب کا دور سروسز کا دور کہلاتا ہے۔اسے آپ پوسٹ انڈسٹریل دوربھی کہہ سکتے ہیں۔مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اب کبھی بھی مغربی دنیا(عیسائی دنیا) کو Catch upنہیں کرسکیں گے۔رقبے اور سائنس وٹیکنالوجی نے اب بہت بڑا Gapپیدا کردیاہے۔مغرب جب چاہتا ہے مسلم دنیا کو روند دیتا ہے۔9/11 کے بعد جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ ہم سب کو بہت اچھی طرح یاد ہے۔گزشتہ 20سالوں کے دوران عیسائی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اندازہ یہ لگایا جارہا ہے کہ اب سے20سالوں کے بعد مسلم بچوں کی مجموعی تعداد سالانہ حساب سے بڑھ جائیگی۔لیکن یہ تو صرف ایک پہلو آبادی کی خبر ہے۔کیا ہم رقبے کا فرق کم کرسکتے ہیں؟۔یہ آج کل کے ماحول میں ناممکن ہے۔اقوام متحدہ کو بھی آپ عیسائی کلب کہہ سکتے ہیں۔عیسائیوں کے157ممالک کے بالمقابل مسلمانوں کے صرف50ممالک۔ان میں سے بہت سے ایسے جو صرف گنتی کے لئے ہیں۔آج کل بھی2۔بڑی عیسائی طاقتیں روس اور امریکہ شام میں کھلی مداخلت کررہے ہیں۔مسلم ممالک کچھ روس کے ساتھ اور کچھ امریکہ کے حامی۔مسلمانوں کی اجتماعی سوچ مرچکی ہے۔اسے زندہ کرناضروری ہے۔40۔ممالک کا اتحاد۔امید کی ایک کرن ہے۔مسلمانوں کے لئے "ایک ہوجانا" ہی بچنے کا طریقہ ہے۔آخری بات جو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔تمام مسلم اقوام سائنس وٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھیں۔اپنی تحقیقات کو نئی نئی ٹیکنالوجیز میں ڈھالیں۔اپنے تمام شعبہ جات میں اپنی تخلیق کردہ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنا سیکھیں۔مغرب اور دوسرے ممالک سے بنی بنائی(تیارشدہ) اشیاء نہ منگوائیں بلکہ خود اشیاء سازی کریں۔مسلمان اقوام انڈسٹریل دور میں تیزی سے داخل ہوں اور اشیاء ومشینری میں خود کفیل ہوں۔پھر یہاں سے مشینری ایکسپورٹ کریں۔اس طرح دولت جو اب مشرق یعنی مسلم ممالک سے مغرب کو جاتی ہے۔اس کے سفر کا رخ بدل جائے گا۔مسلم اقوام جمود کا شکار ہیں۔ذہنی جمود کو توڑ کر آگے کی طرف سفر کرنا شروع کریں۔مسلمان کرۂ ارض پر اپنا وجود بطور ایک"قوت" کے ثابت کرکے ہی وقار سے زندگی گزار سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 33035 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Apr, 2017 Views: 370

Comments

آپ کی رائے