تلنگانہ میں بی جے پی کی روک کے لئے KCR کی نئی حکمت عملی

(MD Mushahid Hussain, )

از: سید حمید الدین احمدمحمود جرنلسٹ

آندھرا پردیش سے تلنگانہ کی علیحدگی کے بعد چندراشیکھر راؤ نے ریاست میں اقتدار حاصل کیا ۔ تلنگانہ تحریک دراصل آندھرا ئی عوام کے ظلم ، سیاسی معاشی سماجی ، تہذیبی ، لسانی ، برتری کے خلاف جدوجہد سے معنون ہے ۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ آندھرائی عوام کو تاملناڈ و کے عوام نے بھی کئی معاملات میں اختلافات کی بناء پر تعلقات کو محدود کرلیا تھا ۔ تلنگانہ کے کسان ، سرکاری ملازمین تاجر پیشہ ، برادری سب ہی آندھرائی تسلط سے تنگ آچکے تھے ۔ یہ تحریک لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید 1956سے ہی دبی چنگاری کے مانند تھی جس کا اعتراف پنڈت جواہر لعل نہرو ۔ اور دیگر قومی لیڈروں کو بھی تھا ۔ ریاستوں کے قیام میں فضل علی کمیشن کے سربراہ نے بھی یہ بات واضح کردی تھی کہ آندھرائی عوام کے مقابلہ میں تلنگانہ کے عوام سیدھے سادھے بھولے بھالے اور بہت زیادہ مہمان نواز ہوے ہیں۔ جس کی وجہہ سے مکارانہ ۔ عیارانہ سیاست ، خود غرضی مزاج ، تلنگانہ کے عوام کا استحصال کرسکتا ہے حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی ۔ 1956سے 2012تک کے حالات کاجائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ کس طرح آندھرائی عوام نے تلنگانہ کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا انہیں ملازمت سے محروم کردیا ۔ ان کی اراضیات پر قابض ہوگئے ۔ ان کی معیشت کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔

تعجب خیز بات یہ رہی کہ جب آندھرا۔ رایلسیماء ، تلنگانہ ، ایک ریاست تھی تو اس میں آندھرا کے 10اضلاع رایلسما ء کے 4اضلاع اور تلنگانہ کے 10اضلاع تھے لیکن ریاست کی مجموعی معیشت کا انحصار تلنگانہ کے اضلاع پر ہی موقوف تھا ۔ تلنگانہ کامالیہ آندھرا کی ترقی پر خرچ کیا جاتا رہا ۔ آندھرا کی ترقی کا راز تلنگانہ کی معیشت کا رخ موڑنے کا سبب رہا برخلاف اس کے تلنگانہ پسماندگی کی جانب بڑھنے لگا ۔ آندھرائی حکمران کا یہ دعویٰ کہ تلنگانہ کی ترقی ان کی مرہون منت ہے صرف ایک پر فریب پروپیگنڈہ دھوکہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام دکن کے دور ہی سے حیدرآباد اسٹیٹ مالا مال ترقی یافتہ رہی حیدرآبادی گنگاجمنی تہذیب ایک دوسرے کا احترام عظیم جذبہ رواداری ، سے حیدرآباد اور تلنگانہ کو دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں کے لئے مقبول عام بنادیا ۔ چونکہ کانگریس ایک طویل عرصہ تک اس پر برسراقتدار رہی اس لئے کانگریس سے وابستہ مسلم لیڈر ان بھی ان کے درباری قصیدہ خواں بن کررھ گئے تھے ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کی ترقی میں کانگریس کے وزراء اعلیٰ آندھرائی بیورو کر یسی نے جتنی روکاوٹیں کھڑی کیا تھا وہیں اس وقت کی کانگریس کی اقلیتی سل کے طورپر کام کرنے والی مسلم سیاسی جماعت نے بھی علاقہ کو پسماندہ رکھ دینے میں اپنی عافیت محسوس کی ۔ کے برہمانندا ریڈی کے دور وزارت اعلیٰ میں مجلس نے تلنگانہ کی جم کر مخالفت کی اور اس کے بدلے تحائف ، انعامات ، مفادات ، کی تکمیل کی بعد ازاں کا نگریس کے لئے وہ ایک اثاثہ ثابت ہوئی کیونکہ مسلمانوں کی مجموعی ترقی کے لئے مختص کئے جانے والے فنڈ کا اگر صرف 5تا 10%اس سیاسی جماعت کو دے دیا جائے تو وہ مسلمانوں کو لوریاں دے کر سلانے کا کام کرتی رہے ۔ ایک طویل عرصہ تک تلنگانہ کے مسلمان یہ محسوس نہیں کرپائے کہ ان کا دشمن غیر ہے یا اپنا ہی کیونکہ دیگر اوربھی کئی عوامل تھے جس کی وجہہ سے یہ محسوس کرنے میں تاخیر ہوتی رہی ۔

حیدرآبادمیں جب تک تعمیر ملت کے بانی وصدر خلیل اﷲ حسینی بقید حیات تھے مسلمان ایک سنجیدہ فکر تعلیم یافتہ دانشور کے طورپر انہیں تسلیم کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کا انہیں حقیقی بہی خواہ تصور کرتے رہے ۔ مرحوم خلیل اﷲ حسینی نے ڈاکٹر ایم چناریڈی کے دور میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے لئے مسلمانوں کی تائید وحمایت کو لازم قرار دیا تھا لیکن مجلس نے ان کی تعمیری ، ٹھوس ، دور اندیشانہ اقدام کی اس لئے مخالفت کی کیونکہ اس میں ان کے ذاتی مفادات کو ضرب لگنے کے امکانات تھے ۔ خلیل اﷲ حسینی ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انور العلوم کالج کے پرنسپل کے طورپر اپنی مابقی زندگی گذارتے ہوئے مسلمانوں کو علم کی جانب راغب کروانے میں کامیابی حاصل کی ۔ خلیل اﷲ حسینی مرحوم کی تقاریر ، تحریریں ، اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ وہ ملت اسلامیہ کے معیار کو بلند کرنے کا جذبہ رکھتے تھے تلنگانہ کے قیام میں مسلسل رکاوٹیں جہاں تلنگانہ کے غیر مسلموں کو زبردست نقصان پہنچایا وہیں اسکا 15%فیصد مسلمانوں کی آبادی پر بھی منفی اثر پڑا کے چندر شیکھر ان تمام حقائق حالات کو محسوس کرتے ہوئے پھر ایکبار تلنگانہ کی علیحدگی کا نعرہ بلند کیا ۔ لیکن انہوں نے اس بار ہوشیاری سے عثمانیہ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعہ اس تحریک میں طلباء نوجوانوں کو شامل کرتے ہوئے تحریک کو تقویت بخشی ، عثمانیہ یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کی دیگر یونیورسٹیوں ۔ کا کتیہ نے بھی اس میں اہم رول ادا کرتے ہوئے تحریک کو طلباء نوجوانوں کی تحریک بنادیا ۔ مجلس آخری وقت تک تلنگانہ کی مخالفت میں ڈھول بجاتی رہی ۔ نغمے گاتی رہی ، خود کو تلنگانہ کے مسلمانوں کی واحد جماعت قرار دے کر ملک بھر کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس کی حمایت کے بغیر تلنگانہ کاقیام ناممکن ہے زمینی حقائق کا مطالعہ کرنے کے بعد کانگریس کے سپریمو سونیا جی نے تلنگانہ کے قیام کو قانونی اخلاقی اعتبار سے استحکام بخشتے ہوئے بلآخر تلنگانہ کے قیام کا اعلان کردیا ۔ چندر شیکھر نے اس ضمن میں بی جے پی ، اور کانگریس دونوں ہی جماعتوں سے اشتراک طلب کرتے ہوئے اپنے مقصد کو پالیا ۔ سیاست کو بندروں کا کھیل تصور کیا جاتا ہے کیونکہ سیاست میں مفادات ، ہی سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ۔

اخلاقیات ، اقدار ، انسانیت ، روایات ، وفاداری ، کا اس سے کوئی رشتہ یا تعلق نہیں ہوتا ۔ سیاست ایک ایساکھیل ہے جو صرف دولفظوں پر ہی محیط ہے ۔ ’’چمتکار کو نمسکار ‘‘کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے مسلمانوں کی حمایت کے حصول کے لئے رومی ٹوپی بھی پہنی ، شیروانی بھی زیب تن کی ۔ سوئیاں بھی خوب کھانے اور نظام سرکار کے دور کی تعریفوں کی انتہاء کردیا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی طرح کانگریس کا ووٹ بینک اور مجلس کی جانب سے کانگریس کی حمایت کے زور کو توڑتے ہوئے مسلمانوں کو اعتماد میں لے لیاجائے اس میں انہیں کامیابی بھی ہوئی کیونکہ مجلس کے پرانے کبوتروں کی جگہ نئے پرندوں نے جگہ لے لی تھی وہ یہ اندازہ نہیں کرپائے کہ جوجھولے میں جھول رہے ہیں اور جو جھولا جس درخت پر باندھا گیا ہے اسے ہی کاٹ دیا جارہا ہے ۔ جب پیڑ گٹ گیا یعنی کا نگریس کا وجود مٹ گیا ، توپھر بوکھلائی ہوئی علاقائی سیاسی جماعت کے پرندے چندرشیکھر راؤ ، کے پاس پہونچ کر نظام کے دور کا سلام پیش کرنے لگے چندر شیکھر راؤ کو بحالت مجبوری گلے لگالیا ۔

کے چندر شیکھر راؤ نے فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے بغلگیر ہونے کے بجائے صرف مصافحہ پر ہی اکتفاء کیا اور یہ تاثر دیا کہ ’’دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہو‘‘یہی وجہہ ہے کہ اب دوستی بھی قائم ہے فاصلوں کے ساتھ ۔ چندر شیکھر راؤ نے حالات کی مجبوری میں تلنگانہ کے حصول کے لئے بی جے پی سے مدد لی تھی لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اس کی بھاری قیمت بی جے پی وصول کرسکتی ہے ۔ تلنگانہ میں اب بی جے پی اقتدار کے خواب دیکھ رہی ہے کیونکہ ملک کے موجودہ حالات عارضی ہی سہی بی جے پی کے حق میں چل رہے ہیں ۔اقتدار جب چھین لیئے جانے کے خدشات کے چندر شیکھر راؤ کے قلب اور دماغ پر چھاگئے تو انہوں نے ایک بار پھر تحفظات کے نا م پر پسماندہ اقوام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اعتماد میں لینے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کو تلنگانہ میں موجودہ 4فیصد تحفظات کی جگہ 12فیصد کردینے یعنی مزید 8فیصد بڑھادینے کا کارڈ تیار کیا ہے ۔ اسی طرح شیڈول ٹرایب طبقہ کے لئے جہاں 6فیصد تحفظات کا موقف تھا مزید اس میں 4فیصد تحفظات حاصل ہیں ۔ اسے 10فیصد کرنا چاہتے ہیں ۔ شیڈول کاسٹ کے لئے جہاں 15فیصد تحفظات حاصل ہیں اسے جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ بیاک ورڈ کلاسس پسماندہ اقوام کے لئے جو 25فیصد تحفظات حاصل ہے اسے بھی اسی حالت میں برقرار رکھنے کی پالیسی بنائی ہے ۔ اس طرح سابق میں 50فیصد تحفظات کے برخلاف اب اس میں 12فیصد کاگراف آگیا ہے ۔ چندرشیکھر راؤ نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی وکالت کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے یہ اقدام صحیح ہے ۔ اس کے لئے اخبار سیاست کے ذمہ داران ، زاہد علی خان ، ظہر الدین علی خان ، عامر علی خان قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے مسلم دانشوروں ۔ اور حقیقی ملی مفاد کے جذبہ کے تحت چندرشیکھر راؤ کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا ۔ حالات کی مجبوری ہویا دیگر کوئی عوامل لیکن سیاست کی تحریک کاہی یہ اثر ہے کہ مسلمانوں کے تئیں حکومت کا مثبت ٹھوس اقدام سامنے آیا ورنہ مسلمانوں کو اگر سائیکل رکشہ بھی دینے کا حکومتی منصوبہ ہوتا تو اس میں علاقائی مسلم سیاسی جماعت شراکت دار بن جاتی تھی ۔ اس ضمن میں تلنگانہ حکومت نے بل کو قطعیت دے دی ہے یقینا یہ بل مسلمانوں کو تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ملازمتوں ، ودیگر امور میں مراعات دئے جانیکا موجب ہوگا اس سلسلے میں تلنگانہ لیجسلیٹو اسمبلی میں رسمی طورپر کوٹہ بل کی منظوری لائی گئی ۔ اس ضمن میں بیاک ورڈ کلاس کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھی اہم رول ادا کیا ۔ او ر اس کی سفارشات کو بھی مد نظر رکھا گیا اب اس بل کی عمل آوری پر تمام ہی طبقات کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اس سے زمینی سطح پر کتنے عوام استفادہ کرینگے اور اس سے پسماندہ اقوام کی معیشت کو کس حد تک استحکام حاصل ہوگا ۔ یہ آنے والے اعداد وشمار ہی بتائینگے ۔

لیکن اس بل پر کانگریس کے سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر جنہیں مسلمانوں کا خود ساختہ 4% تحفظات کا چیمپین کہلانے کا جنوں یاخبط سوار ہے ۔ اپنے سیاسی کیریر کے لئے نقصان دہ محسوس کررہے ہیں اس سابقہ وزیر کے بارے میں خود کانگریسوں کی یہ رائے رہے ے کہ وہ کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کی جڑوں کو کاٹنے کا ذمہ داررہا ہے ۔ ایک گروپ کا یہ کہنا ہے کہ سابقہ وزیر اعلیٰ راج شیکھر ریڈی کے دور میں اس نے منی کنڈہ کی اربوں روپیے کی اوقافی جائیدادادوں کو کوڑیوں میں فروخت کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ موجودہ ایم ایل سی سابقہ وزیر محمد علی شبیر کا یہ احساس ہے کہ کانگریس اس کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن قانونی دشواریوں کا حل انہیں سے نظر نہیں آتا ۔ بی جے پی کے ایم ایل اے کشن ریڈی کا استدلال ہے کہ تلنگانہ حکومت کیوں مسلمانوں اور شیڈول کاسٹ کا مشترکہ بل تیار کیا ہے ، عدلیہ سے اس میں ناکامی ہوسکتی ہے ۔ اور سیاسی جو کر تلنگانہ تلگو دیشم ایم ایل اے کایہ کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کی بہ لحاظ آبادی تحفظات میں اضافہ ناگزیر ہے تو پسماندہ اقوام کے لئے 25فیصد سے 52فیصد کردیا جانا چاہئے تھا کانگریس کے ساتھ سینئر لیڈر و ٹی آر ایس لیڈر ڈی سرینواس نے مرکزی وزیر وینکیانائیڈو کی جانب سے تلنگانہ تحفظات بل پر دئے گئے بیان کی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات بل ایک اور پاکستان کی قیادت کرے گا ۔ تحفظات کے مسئلہ پر ہر شخص ہر جماعت اپنی سوچ پارٹی پالیسی کے تناظر میں بیانات دے رہے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ چندر شیکھر راؤ قانونی طورپر اس کے حل کے لئے کیا منصوبے رکھتے ہیں ۔

اورکہا ں تک تلنگانہ کے مسلمانوں کے حقوق بحال کئے جاتے ہیں ۔ تلنگانہ سرکار کو بیاک ورڈ کمیشن نے اپنی سفارشات میں مسلمانوں کے لئے تحفظات میں چھ فیصد کے اضافہ کی تجویز پیش کی ۔
موجودہ موقف
بی سی گروپ (e) 4فیصد
پسماندہ مسلمان 6فیصد
شیڈول ٹرائب 15فیصد
شیڈول کاسٹ 25فیصد
پسماندہ طبقات ۔۔۔
جملہ :50فیصد

تحفظات نئے اضافہ شدہ :
8فیصد
4فیصد
کوئی اضافہ نہیں
۔۔۔
62فیصد

جملہ :
12فیصد
10فیصد
15فیصد
25فیصد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MD Mushahid Hussain

Read More Articles by MD Mushahid Hussain: 13 Articles with 9864 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2017 Views: 195

Comments

آپ کی رائے