انصاف

(Dr B.A Khurram, Karachi)

آج یہ موضوع نہیں کہ سی پیک کا افتتاح کس سیاسی شخصیت نے کیا اور پھر اس عظیم منصوبے پہ کون کام کر رہا ہے ملک عزیز میں بجلی کا بحران کب پیدا ہوا ،کون اس کے ذمہ دار ہیں کس سیاسی رہنما نے جوش خطاب میں کہہ دیا تھاکہ’’اگر چھ مہینوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا تو میرا نام۔۔۔۔۔نہیں ہوگا‘‘عوام کے نام پہ کون اقتدار میں آیا اور اسلام کے نام پہ اپنے اقتدار کو کس نے طول دیا ،جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ مستانہ لگا کر کس نے صوبائی عصبیت کو ہوادی ،مسٹر ٹن پرسنٹ کسے کہا گیا ،رائے ونڈ محل سے لے کر سرے محل تک کن کن سیاستدانوں کی داستانیں زبان زد عام ہوئیں ،لاہور کی سڑکوں پہ کسے گھسیٹنے کے دعوے کئے گئے اور پھر اپنے اقتدار کی ناؤ ڈوبتی دیکھ کر 72 کھانوں سے استقبال کرتے ہوئے اقتدار کس نے بچایا،’’مفاہمتی جادوگر‘‘ نے اپنا اقتدار کا دورانیہ کیسے پوراکیا،عروس البلاد شہر میں کچرے اور آلودہ پانی پہ کون سیاست کر رہا ہے کون کچرا اٹھا رہا اور کون پھینک رہا ہے اربوں روپے کی کرپشن میں ڈوبے ہوئے سیاست دان کیسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے نکل کر ملک بدر ہو جاتے ہیں یہاں ہم اس ماڈل گرل کا بھی ذکر نہیں کریں گے جو منی لانڈرنگ میں سرکاری مہمان بنیں اور پھر بیرون ملک جا بسیں ،یوں تو وطن عزیز سمیت دنیا پھر میں پانامہ کا چرچا ہے ’’پانامہ ‘‘سے کس کا ’’پاجاما‘‘ اترے گا اس پہ بھی نہیں لکھنا کیونکہ فیصلہ’’ محفوظ‘‘ اور ملک کی عوام ’’غیر محفوظ ‘‘ہے نئے پاکستان کی بات کون کرتا ہے ’’پرانے اور پیارے ‘‘ پاکستان کو کون دیمک کی طرح کھائے جارہا ہے کون شوبازیاں کرتا ہے کون کسے اور کیسے بیوقوف بناتا ہے آج اس پہ نہیں لکھناکیونکہ ان موضوعات پہ اہل قلم نے بہت کچھ لکھا اور لکھتے بھی رہیں گے آج کی تحریر میں بات صرف ایک ایسے شخص کی ہوگی جس نے 35برس محکمہ تعلیم میں ایک سکول ٹیچر کی حیثیت سے ملک کے نونہالوں کو علم کی روشنی سے روشناس کرانے میں بسر کر دیئے اور اب یہ پرائمری سکول ٹیچر ریٹائر منٹ کے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ کن مشکلات میں گھرا ہوا ہے اس ایماندار اور محنتی سکول ٹیچر کو بہتر اور اچھا مستقبل دینے کی بجائے اس کیخلاف سازشوں کا جال بن کر اسے اور اس کے خاندان کو مالی مشکلات کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے یہ فرض شناس ٹیچر جس نے 35برسوں میں کوئی چھٹی بھی نہیں لی کن کن مسائل کا شکار ہورہا ہے اور اسے کون کون پریشان کر رہا ہے قارئین انہیں کی زبانی سنیں-

’’میرا نام لیاقت علی واہلہ ہے میری رہائش بورے والہ کے نواحی علاقہ435۔ای بی میں ہے محکمہ تعلیم میں اپنی زندگی کی 35بہاریں نونہالوں کا مستقبل سنوارنے میں صرف کردیں اب جبکہ میں ریٹائرڈ منٹ کے قریب ہوں تو میرا اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے میری سرکاری ملازمت کا عرصہ اس بات کا گواہ ہے ہے میں نے اپنی ڈیوٹی انتہائی دلجمعی ،فرض شناسی اور ایمانداری سے نبھائی حالیہ وقت میری پوسٹنگ شہر کے نواحی گاؤں 263۔ای بی میں ہے 17مارچ 2017ء کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ایلیمنٹری مردانہ عبدالرحمان نے اے ای او اسد علی کے ہمراہ سکول کا دورہ کیااور ہیڈ ماسٹر کی غیر حاضری کی رپورٹ اپنی مرضی کے مطابق بجھوانے کے لئے حکم دیا اور کہا کہ اگر ہماری منشا کے مطابق آپ نے ہیڈ ماسٹر کی رپورٹ نہ بجھوائی تو آپ کو محکمانہ انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑے گاانہوں نے مزید کہ کہ مجھے محکمہ تعلیم میں ملازمت کرتے ہوئے 35 سال ہو چکے ہیں دوران ملازمت اپنی ڈیوٹی پوری دلجمعی اور ایمانداری کے ساتھ نبھائی کوئی رخصت بھی نہ لی ملازمت سروس میں مجھ پہ کوئی ایلیگیشن بھی نہیں لگی مجھ پہ اے ای او اسد علی اور ڈپٹی ڈی ای او عبدالرحمن کے دباؤ کے باوجود میں نے ہیڈ ماسٹرکی غیر حاضری رپورٹ نہیں کی کیونکہ وہ امتحانی ڈیوٹی پر تھے جس کے نتیجہ میں مجھے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے معطل کر دیا گیا اب میری انکوائری آفیسر انکوائری کر رہا ہے یہ بھی واضح رہے حالیہ انکوائری آفیسر سے قبل دوانکوائری افسران سے بھی انکوائری کرائی گئی جو بوگس ثابت ہوئی میری ڈپٹی کمشنر وہاڑی،مانیٹرنگ آفیسر وہاڑی،ڈائریکٹر تعلیم ملتان ،کمشنر ملتان سے موئدبانہ اپیل ہے کہ بندہ کو انصاف فراہم کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے‘‘-

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیا قانون نافذ ہے اربوں روپے ہڑپ کرنے والے ،منی لانڈرنگ کرنے والے،سماج دشمن عناصراوردہشت گردبے گناہ ومعزز شہریوں کی جانیں لینے کے باوجود آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں ان کا حصار تنگ نہیں کیا جاتا قانون ان سے کوسوں دور ہے امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے اور جو لیاقت علی واہلہ جیسے ایماندار سکول ٹیچرہیں انہیں بلاوجہ انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے تنگ کیا جاتا ہے انہیں کون انصاف فراہم کرے گا کون ان کے دکھوں کا مداوہ بنے گا یہ ہم سب کے لئے ایک سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 553 Articles with 238733 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2017 Views: 249

Comments

آپ کی رائے