پاکستان میں نئے موضوعات نئی صورتحال کا پیش خیمہ

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
پاکستان کے حالات و واقعات اور عوامل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اختیارات و اقتدار کی بالادستی کی کشمکش بغیر تعطل جاری ہے۔اب یہ تاثر عام ہے کہ فوج کی مدد اور حمایت کے بغیر کسی سرکاری ادارے کی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا،سول حکومتیں عوامی مفاد میں اقدامات کے بجائے محض ''بار گینگ'' کی حکمت عملی نظرئیہ ضرورت کے طور پر اپناتے چلی آ رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت میں آنے کے لئے مارشل لاء حکومتوں کے اقدامات کو جائز قرار دینے سے سیاسی جماعتوں نے اپنے لئے '' سو جوتے سو پیاز'' کی سزا خود اختیار کی ہے۔پاکستان میں پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں الیکشن جیتنے اور اپنی سیاسی ساکھ کی بہتری کے لئے تو ضرور کی جاتی رہیں گی لیکن سنجیدہ حلقے جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں پالیمنٹ کی حقیقی بالادستی کی اہلیت کے تقاضوں سے کوسوں دور ہیں۔

پانامہ کیس میںسپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے عمل کے ساتھ ہی ''نیوز لیکس'' کے معاملے میں وزارت داخلہ کی رپورٹ مکمل ہو کر وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔وزیراعظم نوازشریف کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ'' نیوز لیکس'' پر کمیٹی کی رپورٹ چند گھنٹے پہلے وزیراعظم آفس میں موصول ہوگئی ہے ،اگلے چند روز میں کمیٹی کی سفارشات سے سب کو آگاہ کردیا جائے گا ۔ ترجمان نے بتایا کہ کمیٹی کی 6اور ذیلی کمیٹی کی 16میٹنگز ہوئیں ،کمیٹی نے اتفاق رائے سے معاملات کو آگے بڑھایا ۔پانامہ کیس کے معاملے پر ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے پہلے ہی وزیر اعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے کے امکانات پر تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی طرف سے حکومت کی مخالفت میں تیزی آتی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت بلاشبہ دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے اور اب دیکھنا ہے کہ مسلم لیگی حکومت اپنے دفاع میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔آئندہ سال کے عام انتخابات کے تناظر میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی دائو پیچ کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

پاکستان کے حالات و واقعات اور عوامل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اختیارات و اقتدار کی بالادستی کی کشمکش بغیر تعطل جاری ہے۔اب یہ تاثر عام ہے کہ فوج کی مدد اور حمایت کے بغیر کسی سرکاری ادارے کی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا،سول حکومتیں عوامی مفاد میں اقدامات کے بجائے محض ''بار گینگ'' کی حکمت عملی نظرئیہ ضرورت کے طور پر اپناتے چلی آ رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت میں آنے کے لئے مارشل لاء حکومتوں کے اقدامات کو جائز قرار دینے سے سیاسی جماعتوں نے اپنے لئے '' سو جوتے سو پیاز'' کی سزا خود اختیار کی ہے۔پاکستان میں پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں الیکشن جیتنے اور اپنی سیاسی ساکھ کی بہتری کے لئے تو ضرور کی جاتی رہیں گی لیکن سنجیدہ حلقے جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں پالیمنٹ کی حقیقی بالادستی کی اہلیت کے تقاضوں سے کوسوں دور ہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف غیر معینہ مدت کی جنگ،کرپشن،سیاسی محاذ آ رائیوں اور پارلیمنٹ کے غیر موثر ہونے کے حالات و واقعات نے پاکستان میں مقبوضہ کشمیر میں شدیدعوامی جدوجہد اور ہندوستان کے بہیمانہ مظالم کی صورتحال کو پس پشت ڈال دیا ہے۔لندن میں مقیم کونسل برائے انسانی حقوق جموں و کشمیر کے سربراہ ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کی طرف سے 4اپریل کو اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر پر آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ،ظلم و ستم،مسئلہ کشمیر کی قانونی پوزیشن ،مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق عالمی سطح پہ کوششیں، پاکستان کے کردار اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لئے صورتحال کا جائزہ اور تجاویز اس کانفرنس کے موضوعات ہو سکتے ہیں۔کسی غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے اس کشمیر کانفرنس کا انعقاد اہم ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ کانفرنس کئی ملکی اور غیر ملکی اداروں کی توجہ حاصل کرے گی۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں بھی وزیر اعظم نواز شریف کے حق میں قرار داد منظور کی گئی۔اس سے پہلے مظفر آباد میں خواجہ فاروق کی سربراہی میں 'پی ٹی آئی' کے مظاہرے پر پولیس کا لاٹھی چارج کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔سرکاری جواز یہ پیش کیا گیا کہ یہ مظاہرہ اجازت کے بغیر کیا گیا اور دفعہ144کی خلاف ورزی کی گئی ۔اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان کی طرف سے احتجاج اوراسمبلی اجلاس کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے پر سپیکر کی طرف سے توہین رسالت کے الزام میں چند ارکان کی رکنیت رواں اجلاس کے لئے معطل کی گئی جو اگلے روز بحال کر دی گئی۔سنجیدہ حلقوں نے ایک شریف النفس معزز بزرگ سیاستدان خواجہ فاروق اور ان کے ساتھیوں کے مظاہرے کے خلاف پولیس کاروائی کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔اسی طرح اسمبلی میں سیاسی مخالفت پر توہین رسالت کے الزام کے عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔آزاد کشمیر میں پاکستانی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ(ن) اور پھر تحریک انصاف کے قیام سے پاکستان کی سیاسی مخالفت کے سائے گہرے طور پر آزاد کشمیر کی سیاست پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔چند دن قبل ہی مقبوضہ کشمیر سے ایک سرگرم کشمیری صحافی نے سوشل میڈیا پر تحریک آزادی کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی صورتحال سے متعلق آزاد کشمیر کی بے حسی پر بات کی۔سرینگر میں مقیم اس صحافی کو شاید معلوم نہیں کہ آزاد کشمیر میںکشمیر کاز سے متعلق بے حسی کی بات پرانی ہو چکی ،اب معاملہ بے حسی کی حدود کو عبور کر کے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔آزاد کشمیر کے قول و فعل کا تضاد اب بھی نمایاں طور پر درپیش ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 624 Articles with 329872 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
27 Apr, 2017 Views: 567

Comments

آپ کی رائے