فرانسیسی انتخابات

(Rehman Mehmood Khan, )

’’امانوئیل میکرون‘‘ صدر منتخب
چونکہ فرانس میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے،اور فرانس براہ راست بین الاقوامی سیاست میں بھی حصہ لیتا ہے
اس لیے وہاں پر حکومت کا تبدیل ہونااس بات کا مظہر ہے کہ اُس کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی ہو سکتا ہے

رحمان محمود خان
جمہوریہ فرانس مغربی یورپ میں واقع ہے، جس کے چند علاقے سمندر پار شمالی و جنوبی امریکا، بحر الکاہل اور بحر ہند میں بھی واقع ہیں۔ فرانس ایک متحدہ، نیم صدارتی، جمہوری اٹیمی ریاست اور ترقی یافتہ ملک ہے جس کی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔فرانس یورپی یونین کے بانی ارکان میں سے ہے اور رقبے کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ یہ نیٹو اور اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے بھی ہے اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی۔فرانس میں مقننہ اور انتظامیہ کی شاخوں کے لیے عہدیداروں کا انتخاب براہ راست یا باالواسطہ طورپر شہر یوں کی جانب سے کیا جاتا ہے یا ان کو منتخب شدہ عہدیداروں کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے جب کہ فرانس میں مختلف مسائل خاص طورپر آئین میں ترمیم کے سلسلے میں ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے بھی لی جاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے فرانس کے صدارتی انتخابات میں لبرل سنٹرسٹ کے امیدوار ’’امانوئیل میکرون‘‘ نے ’’میری لاپین‘‘ کو شکست دے دی ۔ نتائج کے مطابق’’امانوئیل میکرون‘‘فرانس کے کم عمر ترین صدرمنتخب ہوئے۔انھوں نے انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میری لاپین کو 35 کے مقابلے میں 65 فیصد سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔لبرل سنٹرسٹ کے امیدوار ’’امانوئیل میکرون‘‘1958ء کے بعد ملک میں دو بڑی روایتی جماعتوں کو شکست دینے والے پہلے صدر ہوں گے۔ انھیں ملک کے کم عمر ترین صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوگا۔گزشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نتائج کے بعد اپنے پہلے پیغام میں ’’امانوئیل میکرون‘‘نے کہا کہ’’امید اور اعتماد کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے‘‘۔

23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 11 صدارتی امیدوار تھے جن میں سرفہرست آنے والے دو امیدواروں نے فرانس کے لیے بالکل مختلف نظریات پیش کیے ۔ ان انتخابات میں گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی بہت کم رہا ہے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ووٹرزکا ٹرن آؤٹ 2012ء کے انتخابات سے 6 فیصد سے کم تھا۔ یاد رہے کہ 2012 ء کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 72 فیصد تھا۔2007ء کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 75.1 فیصد تھا جو کہ 2017ء کے انتخابات سے 10 فیصد زیادہ ہے۔ووٹنگ فرانس کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ہوئی جہاں فرانسیسی شہری حقِ رائے دہی استعمال کیا۔لندن اور برلن میں ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔انتخابات کے لیے ملک بھر میں تقریباً 50 ہزار پولیس اہلکار اور سات ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ انتخابات سے چند روز قبل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مسلح حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے تھے۔اس حملے کے بعد ملک میں صدراتی انتخابات کے لیے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔انتخابی مہم کے دوران بھی نیشنل سکیورٹی گفتگو کا مرکزی نکتہ رہی ہے، تاہم امیدواروں پر حالیہ حملوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

چونکہ فرانس میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے اور بسلسلہ روزگار وہاں موجود ہے اس لیے وہاں پر حکومت کا تبدیل ہونااس بات کا مظہر ہے کہ اُس کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی ہو گا، اور فرانس چونکہ ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست کا بھی حصہ رہتا ہے، اس لیے یہاں پر حکومت کی تبدیلی نمایاں اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ اور اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو پوری دنیا نے فرانس کے انتخابات کو مانیٹر کیا اور اپنی اپنی آراء پیش کیں۔ بین الاقوامیتجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین کو خدا حافظ کہنے جیسے جذبات رکھنے کی وجہ سے فرانس کے حالیہ انتخابات کو یورپی یونین کے مستقبل کے لیے نہایت ہی اہم تصور کیا جارہا تھا۔یورپین کمیشن کے سربراہ ین کلاڈینکر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا،’’خوشی ہے کہ فرانسیسیوں نے یورپ کے مستقبل کو چنا ہے‘‘۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹر پر نومنتخب صدر میکرون کو مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ،’’امینول میکرون کو فرانس کے اگلے صدر کے طور پر کامیابی کے اس بڑے دن کی مبارکباد ، مَیں ان کے ساتھ آگے کام کرنے کا خواہش مند ہوں‘‘۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ٹویٹ کی کہ’ ’مسٹر میکرون نے مضبوط اور متحد یورپ کے لیے کامیابی حاصل کی ہے‘‘۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے مبارکباد کے پیغام میں کہا کہ’’فرانس ہمارے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے اور ہم نئے صدر کے ساتھ کام جاری رکھیں گے‘‘۔اس کے علاوہ فرانس کے موجودہ صدر’’ فرانسوا اولاند‘‘نے میکرون کو نیا صدر منتخب ہونے پر مباکباد دی اور کہا کہ’’نتائج بتاتے ہیں کہ فرانسیسی ریپبلک کی اقدار کو متحد کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

لبرل سنٹرسٹ امانوئیل میکرون بزنس اور یورپی یونین کے حامی ہیں جب کہ ماری لا پین نے پناہ گزین مخالف پروگرام اور’’فرانس فرسٹ‘‘یعنی سب سے پہلے فرانس کے نعرے پر اپنی مہم چلائی ہے۔ وہ ملکی سطح پر یورو کرنسی کو ترک کرنا چاہتی ہیں اور یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنے پر ریفرینڈم کرانا چاہتی ہیں۔ جرمنی اور برطانیہ میں ہونے والے انتخابات سے قبل فرانس کے ان انتخابات کو یورپ میں بغور دیکھا جا رہا ہے کیونکہ برطانیہ‘یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔امانوئیل میکرون موجودہ صدر فرانسوا اولاند کی حکومت میں وزیر برائے معیشت رہ چکے ہیں۔ وہ کبھی بھی ممبر اسمبلی نہیں رہے اور انھیں حکومت کا تجربہ قدرے کم ہے۔
٭٭٭
BOX
فرانس میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟
فرانسیسی پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں۔فرانس میں سربراہ ریاست اور قانون ساز کا انتخاب قومی سطح پر کیا جاتا ہے۔ صدر کا انتخاب پانچ سالہ مدت کے لیے شہریوں کی جانب سے براہ راست ہوتا ہے۔فرانسیسی پارلیمنٹ کے دو ایوانوں میں قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 577 ہے جنہیں شہریوں کی جانب سے پانچ سال کی مدت کے لیے براہ راست چنا جاتا ہے۔اس طرح ایوان بالا سینیٹ کے ارکان کی تعداد 348 ہے جن میں 328 کو ایک الیکٹرول کالج کے ذریعے 6 سال کی مدت کے لیے چنا جاتا ہے جبکہ دیگر20 ارکان کو دیگر مختلف اداروں بشمول بیرون ملک مقیم فرانسیسیوں کی تنظیم’’French Assembly of French Citizens Abroad‘‘کی جانب سے چنا جاتا ہے۔

فرانسیسی شہری کئی طرح کی مقامی حکومتوں کو بھی منتخب کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض غیر سیاسی عہدوں کے لیے بھی سرکاری الیکشن ہوتے ہیں جیسا کہ مختلف عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی کے لیے الیکشن وغیرہ۔ جن میں ورکر اور ملازمین ووٹ دیتے ہیں۔فرانس میں مکمل طورپر دوجماعتی نظام نہیں ہے بلکہ فرانس کا نظام ایسا ہے کہ اس میں اگرچہ کئی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں لیکن ان میں سے دو سیاسی پارٹیاں ہی حقیقت میں اصل طاقت رکھتی ہیں۔ان میں بائیں بازو کی پارٹی دی سوشلسٹ پارٹی اور دائیں بازو کی پارٹی یو ایم پی ہے۔الیکشن آئین میں دیے گئے قواعد وضوابط اور انتخابی قواعد کے مطابق ہوتے ہیں۔
فرانس میں الیکشن ہمیشہ اتوار کو ہوتے ہیں۔انتخابی مہم الیکشن سے پہلے جمعے کے روز ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کسی قسم کا انتخابی اشتہار یا براڈ کاسٹ نہیں ہو سکتی۔ پولنگ اسٹیشن چھوٹے قصبوں میں صبح 08:00بجے سے لے کر شام06:00بجے تک کھلے رہتے ہیں جبکہ شہروں میں صبح آٹھ بجے سے لے کر رات08:00 بجے تک کھلے رہتے ہیں۔اگرچہ قانون کے تحت مقررہ وقت سے پہلے الیکشن کے نتائج شائع یا ان اعلان کرنا ممنوع ہے لیکن بیلجیئم اور سوئیٹرزلینڈ کے میڈیا کے ذریعے یا غیرملکی انٹرنیٹ سائٹس پر ان کے نتائج معلوم کیے جاسکتے ہیں۔
٭٭٭
فرانس کے نو منتخب صدرکی محبت
امانوئیل میکرون اب فرانس کے سب سے کم عمر صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں اور ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ہمیشہ بریڑٹ کے مشورے کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔جب وہ فرانس کے وزیر خزانہ تھے تب کئی اجلاسوں میں بریڑٹ موجود رہی تھیں اور صدر بننے سے پہلے بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ جیتتے ہیں تو بریڑٹ بھی کوئی نہ کوئی اہم کردار ضرور ادا کریں گیں۔

امانوئیل میکرون کی 64 سالہ بیوی بریڑٹ ٹروغنو ان سے 24 سال بڑی ہیں اور وہ اس سکول میں استاد تھیں جہاں میکرون نے تعلیم حاصل کی تھی۔جب 15 سالہ امانوئیل میکرون شمالی فرانس کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھے۔ اس عمر میں ہی امانوئیل میکرون کو اپنے ہم عصروں میں باصلاحیت مانا جانے لگا تھا۔امانوئیل میکرون ہمیشہ کتابوں میں گم رہتے تھے۔اسی سکول میں امانوئیل میکرون کے ساتھ بریڑٹ ٹروغنو کی بیٹی لارنس بھی پڑھتی تھیں۔ایک دن لارنس نے اپنے گھر میں بتایا کہ ان کی کلاس میں پڑھنے والے امانوئیل کو سب کچھ آتا ہے۔اس وقت بریڑٹ ٹروغنو 40 سال کی تھیں اور 20 سال کی عمر میں ہی ان کی شادی ایک مقامی بینکر سے ہو چکی تھی جن کے ساتھ ان کے لارنس سمیت 3 بچے تھے۔اپنی بیٹی کی باتوں سے متاثر ہوکر بریڑٹ کو امانوئیل سے ملنے کا شوق ہوا۔میکرون سکول میں ڈرامہ گروپ کا حصہ تھے۔ ایک بار جب ملان کنڈیرا کی کتاب پر مبنی ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے میکرون سٹیج سے اترے تو ان کی نظر بریڑٹ پڑگئی۔امریکن نیوز ایجنسیکے مطابق بریڑٹ نے ایک فرانسیسی دستاویزی فلم میں بتایا’’وہ دوسروں جیسے نہیں تھے، وہ کم عمر نوجوانوں کی طرح بھی نہیں تھے، اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ان کا برابری کا رشتہ تھا‘‘۔

ایک دن میکرون ڈرامہ لکھنے کے لیے بریڑٹ کے پاس پہنچ کر بولے،’’کیوں نہ ہم اسے مل کر لکھیں؟ بریڑٹ کی رضامندی کے بعد دونوں ہر جمعہ کو ملنے لگے۔بریڑٹ ٹروغنو اسی سکول میں ٹیچر تھیں جہاں امانوئیل میکرون پڑھتے تھے۔دستاویزی فلم میں بریڑٹ اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ،’’میں نے سوچا تھا کہ یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، مجھے لگا کہ وہ بور ہو جائیں گے لیکن ہم نے ساتھ لکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ میں میکرون کی ذہانت سے مکمل طور پر متاثر ہوگئی‘‘۔

پیرس میں فٹ بال میچ کے دوران دیے ایک انٹرویو میں بریڑٹ نے بتایا،’’ میں اس رشتے میں آہستہ آہستہ ڈوبتی چلی گئی اور یہ بات جلد ہی میکرون کے گھر تک پہنچ گئی۔ ان کے والدین سکتے میں آ گئے کیونکہ انہیں یہ لگتا تھا کہ میکرون کی دوستی لارنس (بریڑٹ کی بیٹی) سے ہے‘‘۔

ایسے میں میکرون کے والدین نے انھیں پیرس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔میکرون کی سوانح عمری تحریر کرنے والی مصنفہ این فلڈا نے اپنی کتاب کے سلسلے میں میکرون کے والدین سے بھی بات چیت کی جس میں میکرون کی والدہ نے فلڈا کو بتایا کہ’’ہمیں تو یقین ہی نہیں ہوا‘‘۔بیٹے کی فکر میں مبتلا والدین بریڑٹ سے بھی ملے اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کا مشورہ دیالیکن بریڑٹ نے ان دونوں کو واضح طور پر کہہ دیا،’’میں آپ سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتی‘‘۔کیونکہ بریڑٹ کو معلوم تھا کہ میکرون نے 17 سال کی عمر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اُن سے ہی شادی کریں گے۔ ان حالات میں بریڑٹ اور ان کے پہلے شوہر آندرے کے درمیان 2006ء میں طلاق ہوئی اور2007ء میں میکرون اور بریڑٹ نے شادی کر لی۔میکرون اور بریڑٹ کی کوئی اولاد نہیں ہے لیکن میکرون بریڑٹ کے تین بچوں کے والد اور ان کے سات بچوں کے سوتیلے دادا ضرور ہیں۔ بریڑٹ کے ایک صاحبزادے تو عمر میں امانوئیل میکرون سے 2 سال بڑے ہیں۔بریڑٹ اپنے شوہر اور نومنتخب فرانسیسی صدر امانوئیل کے بارے میں کہتی ہیں کہ ،’’وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں۔ جن میں غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی انسانیت کی خصوصیات ہیں۔ وہ ایک فلسفی ہیں جو پہلے بینکر بنے اور اور اب سیاستدان‘‘۔
٭٭٭
صدارتی انتخابات کے امیدوار
فرانس میں ہونے والے ان صدارتی انتخابات میں کل 11 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جن کا تعلق مختلف نظریات کی حامل جماعتوں سے ہے۔اِن انتخابات کو یورپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا‘ جس میں 04 امیدوار صدرات کے عہدے کے انتہائی قریب تصور کیے جارہے تھے۔ان چار امیدواروں میں کنزرویٹیو’’ فرانسوا فیوں‘‘، انتہائی دائیں بازو کی ’’ماری لا پین‘‘،لبرل سنٹرسٹ کے امیدوار ’’امانوئیل میکرون‘‘ اور انتہائی دائیں بازو کے ’’ژاں لوک میلوں شوں‘‘ شامل ہیں۔ان تمام امیدواروں نے ملک میں انتخابی مہم کے دوران کئی مباحثے کیے اور سب کے سب نے یورپ، امیگریشن، معیشت اور فرانسیسی شناخت کے حوالے سے مختلف نظریات اور تصورات پیش کیے۔فرانسیسی صدارتی الیکشن کے تین اہم ترین امیدواروں میں سے ایک انتہائی دائیں بازو کی ایسی خاتون سیاستدان تھیں، جن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تعریف کر چکے ہیں۔ دوسرے ایک ایسے قدامت پسند سیاستدان ہیں، جنہیں ایک بڑے اسکینڈل کا سامنا رہا تھا اور تیسرے ایک ایسے 39 سالہ سابقہ سرمایہ کاری بینکار جنہیں اب تک ووٹروں کی غیر متوقع حد تک زیادہ حمایت حاصل ہوئی ہے۔

مارین لے پین
فرانسیسی خاتون سیاستدان مارین لے پین 2011ء میں اپنی یورپی یونین اور تارکین وطن کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کی سربراہ بنی تھیں۔ ان پر سیاست میں نسل پرستانہ رویوں کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔ مارین لے پین اپنی اور اپنی پارٹی کی سوچ کا دفاع یہ کہتے ہوئے کرتی ہیں کہ وہ فرانسیسی صدارتی امیدوار کے طور پر ملکی مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی قائل ہیں۔

48 سالہ لے پین کے بارے میں سیاسی ماہرین یہ بھی کہتے رہے کہ اگر وہ پہلے مرحلے کے بعد دوسرے انتخابی مرحلے میں پہنچ گئیں تو ان کے لیے مئی میں اپنے حریف پر سبقت لینا اس لیے کافی مشکل ہو گا کہ حتمی کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کو کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 50 فیصد سے زائد حاصل کرنا ہوں گے۔مارین لے پین ایک سابقہ وکیل ہیں، انہیں دو مرتبہ طلاق ہو چکی ہے اور وہ تین بچوں کی والدہ ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی مہم میں یہ نعرہ لگایا کہ وہ اور ان کی پارٹی ایسے ’’محب وطن‘‘ ہیں جو فرانس کے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں جبکہ دیگر حریف امیدوار وہ ’’عالمگیریت پسند‘‘ ہیں، جو مزید تارکین وطن کی آمد اور کھلی قومی سرحدوں کی حمایت کرتے ہیں۔

امانوئیل میکرون
انہی انتخابات میں دوسرے اہم ترین صدارتی امیدوار39سالہ سابق سرمایہ کاری بینکار امانوئیل میکرون تھے، جو نہ صرف موجودہ صدر فرانسوا اولانڈ کے مشیر اور ملکی وزیر اقتصادیات رہ چکے ہیں بلکہ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے فرانس کی تاریخ کے سب سے کم عمر ملکی صدر بھی بننا چاہتے ہیں۔امانوئیل میکرون گزشتہ برس اولانڈ حکومت سے علیحدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے سیاسی طور پر اپنی ایک اعتدال پسند سیاسی تحریک شروع کی تھی، جس کا نام En Marche یاOn the Move ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امانوئیل میکرون اور لے پین کے مابین بہت سخت مقابلہ ہو گااور پھر تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ماہرین کے مطابق اگر دوسرے مرحلے میں یہی دو امیدوار آمنے سامنے ہوئے تو امانوئیل میکرون بڑی آسانی سے لے پین کو ہرا دیں گے۔

امانوئیل میکرون نے اب سے پہلے کبھی بھی کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنی بزنس اور یورپی یونین کے حق میں پالیسیوں کے ساتھ فرانسیسی معاشرے اور معیشت کو وہ تحریک دے سکتے ہیں، جس کی اس ملک کو اس وقت سخت ضرورت ہے، وہ بھی اس لیے کہ اس وقت فرانس میں بے روزگاری کی شرح دس فیصد سے زیادہ ہے۔

فرانسوا فِیوں
فرانسیسی صدارتی الیکشن کے تین اہم ترین امیدواروں میں سے ایک فرانسوا فِیوں تھے، جو سابق صدر نکولا سارکوزی کے دور میں ملکی وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں اور ایک تجربہ کار قدامت پسند سیاستدان ہیں۔ 63 سالہ فِیوں ایک راسخ العقیدہ کیتھولک مسیحی ہیں اور وہ سرکاری اخراجات میں کمی کے حامی تھے۔ اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو اگلے پانچ برسوں کے دوران عوامی شعبے میں قریب پانچ لاکھ ملازمتیں ختم کر دی جائیں گی۔رواں سال کے آغاز پر فِیوں سب سے مضبوط صدارتی امیدوار تھے لیکن پھر انہیں ایک ایسے مالی اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس کے مطابق وہ خود اپنی ہی بیوی کو اپنے پارلیمانی دفتر میں ایک نام نہاد ملازمت دے کر سرکاری رقوم کے غلط استعمال کے مرتکب ہوئے تھے۔فِیوں اس بات پر افسوس کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ان سے کچھ غلطی ہوئی تھی لیکن وہ قانوناً کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنی صدارتی امیدواری سے دستبردار ہونے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ فِیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو محض سرکاری دستاویزات میں اپنی پارلیمانی اسسٹنٹ ظاہر کر کے انہیں کی جانے والی ادائیگیوں کے طور پر جو سرکاری رقوم غلط استعمال کیں، ان کی مالیت لاکھوں یورو بنتی ہے۔
٭٭٭
ڈیک:

الیکشن آئین میں دیے گئے قواعد وضوابط اور انتخابی قواعد کے مطابق ہوتے ہیں۔فرانس میں الیکشن ہمیشہ اتوار کو ہوتے ہیں۔انتخابی مہم الیکشن سے پہلے جمعے کے روز ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کسی قسم کا انتخابی اشتہار یا براڈ کاسٹ نہیں ہو سکتی

بریڑٹ اپنے شوہر اور نومنتخب فرانسیسی صدر امانوئیل کے بارے میں کہتی ہیں کہ ،’’وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں۔ جن میں غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی انسانیت کی خصوصیات ہیں۔ وہ ایک فلسفی ہیں جو پہلے بینکر بنے اور اور اب سیاستدان‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 6 Articles with 4739 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2017 Views: 358

Comments

آپ کی رائے