گلگت بلتستان

(M Aslam, karachi)

گلگت ، بلتستان جانے کیلئے مئی سے اگست کے دوران سفر بہت سود مند رہتا ہے کیونکہ راستے کھل چکے ہوتے ہیں اورموسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے ۔اس موسم میں سوائے خنجراب کے آپ کو بھاری جیکٹس کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ شام کو سوئیٹر پہن لینا چاہیے۔

ہنزہ تک کیسے پہنچا جائے؟
ہنزہ پہنچنے کیلئے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ کاغان ویلی سے ہوتے ہوئے بابوسر پاس جایا جائے اور وہاں سے چلاس پہنچا جائے ۔دوسرا راستہ شاہراہ ریشم کا ہے جس کے لئے بشام اور کوہستان کے علاقوں داسو اور پٹن سے گزرنا پڑتا ہے ۔یہ دوسرا راستہ بہت طویل اور خطرناک ہے جہاں داسو سے چلاس تک شاہرا ہ ریشم کی حالت بھی خراب رہتی ہے ۔

بہتر ہوگا کہ ہنزہ کسی ٹورنگ کمپنی کے ساتھ آیا جائے کیونکہ محض بیس ہزار میں آپ ساری ہنزہ وادی کا لطف اٹھا سکتے ہیں جس میں قیام و طعام دونوں شامل ہیں جبکہ ذاتی گاڑی میں یہ سفر خاصا مہنگا ثابت ہوسکتا ہےپارٹ 2

چلاس پہلی منزل :
چلاس ایک چھوٹا سا شہر ہے اور یہاں قیام کیلئے شنگریلا ہی سب سے بہترین ہوٹل ہے جوسندھو دریا کے کنارے واقع ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ یہ ہوٹل بھی سندھو میں غرق ہوجائے گا مگر یہ بات ہم دوہزار گیارہ سے سن رہے ہیں۔ اس ہوٹل کے سوا چلاس میں باہر سے کھاناکھانے سے اجتناب کریں تو بہتر ہوگا۔

کریم آباد دوسری منزل:
کریم آباد میںرہائش کے لئےتین ہزار یومیہ میں آپ آرام دہ رہائش کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔کریم آباد میں’’ بلتت فورٹ‘‘نہایت دلفریب مقام ہے۔ یہاں ایک دلکش باغیچہ بھی ہے جبکہ’ بلتت فورٹ‘‘ کریم آباد شہر میں بلندی پر واقع ہے ۔ بلتت فورٹ تبت کے لہاسا پیلس اور لہہ کے قلعے سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں سے راکا پوشی ،گولڈن پیک ،لیلیٰ پیک اور التر گلیشیر کا بھی دیدار کیا جاسکتا ہے ۔قلعے کی چھت پر بنی بالکونی اپنی مثال آ پ ہے ۔

خنجراب پاس تیسری منزل:
خنجراب پاس کے راستے میں ’’گلمت‘‘ نامی ایک دلکش قصبہ آتا ہے جو ہنزہ کی دیہی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔یہاں سے تین گھنٹے دور ’سوست ‘کا قصبہ ہے جو پاکستان کا آخری قصبہ ہے جس کے بعد چین تک کوئی آبادی نہیں ہے ۔یہاں سے سفر قدرے بلند ہے اور خنجراب پاس سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے ۔اونچائی کی وجہ سے سر درد اور ابکائی آنا عام بات ہے ۔’’ خنجراب بارڈر‘‘ ایک برفانی سرحد ہے جہاں باوجود دھوپ کے شدید سردی ہوتی ہے ۔ لہذا یہاں اپنے ساتھ گرم کپڑے رکھنا بہت ہی ضروری ہے ۔مگر یہاںسرحد پر واہگہ بارڈر والی کشیدگی کی جگہ دوستی کی گرم جوشی محسوس ہوتی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Aslam
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2017 Views: 784

Comments

آپ کی رائے