بنکاک کے آبی بازار

(Rafi Abbasi, Karachi)
پانی پر تیرتی ہوئی دکانوں پر خواتین دکاندار اور خواتین ہی خریدار ہوتی ہیں

ہے نا حیرت کی بات کہ، خواتین دکان دار اور خواتین ہی خریدار، وہ بھی پانی پر تیرتے ہوئے بازار کی دکانوں میں۔یہ ہے تھائی لینڈ جہاںکے شہر بنکاک میں ایسی دس مارکیٹیں ہیں جو نہر ، جھیل یا دریا کے بہتے پانی پر کشتیوںمیں بنی ہوئی ہیں، ان میں اکثر دکان دار صرف خواتین ہیں جہاں پر زیادہ تر خریداری کے لیے بھی صرف عورتیں ہی جاتی ہیں۔ تھائی لینڈ کی مقامی زبان میں پانی پر تیرتی ہوئی مارکیٹوں کو ’’تلت نام‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی تیرتے ہوئے بازار کے ہیں۔اس نوع کے بازار انڈونیشیا اور ویت نام میں بھی بنے ہوئے ہیں، جب کہ کشتیوں پر بنی ہوئی ایک آبی مارکیٹ لندن میں بھی واقع ہے جس میں نصف شب تک کاروبار ہوتا ہے۔لندن کی مذکورہ مارکیٹ ایک بڑی نہر کے وسط میں ہے، جس میں خریداری کے لیے گاہک کشتیوں میں بیٹھ کر آتے ہیں۔ اٹلی کے شہر وینس کو آبی شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر نہروں پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں زیادہ تر کاروبار کشتیوں اور گنڈولوں پر ہوتا ہے۔ لیکن بنکاک کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس شہر میں دنیا کے سب سے زیادہ آبی بازار واقع ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند بازاروں کا تذکرہ آپ کی نذر۔۔

ڈیمنن سدواک فلوٹنگ مارکیٹ
دریائے کوائی کے سینے پر کشتیوں پر تیرتے ہوئے ڈیمنن سدواک بازار کو بنکاک کی سب سے بڑی فلوٹنگ مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ شہرکے نواحی علاقے میں ہونے کی وجہ سے اس بازار میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے جن میں زیادہ تعداد خواتین گاہکوں کی ہوتی ہے۔ اس بازارکی زیادہ تر دکانوں میں صرف پھل فروخت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تیرتی ہوئی فروٹ مارکیٹ بھی کہلاتی ہے۔کشیتوں پر قائم اس بازار کی شہرت بیرونی دنیا میں بھی ہے جس کی وجہ سے تھائی لینڈ کی سیر کے لیے آنے والے سیاح، بنکاک آنے کے بعد سدواک کے آبی یا کشتی بازار کو دیکھنے ضرور جاتے ہیں۔ جاتے تو وہ صرف تفریح کے لیے ہیں، لیکن مذکورہ دکانوں پر انتہائی خوب صورتی اور نفاست سے سجائے گئے پھل ، سبزیوں اور انہیں فروخت کرنے والی خواتین کو دیکھ کر وہ یہاں خریداری پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ گاہکوں کا مسکراہٹیں بکھیر کر استقبال کرتی ہیں اور اس مسکراہٹ کی قیمت وہ مطلوبہ اشیا مہنگے داموں فروخت کرکے وصول کرتی ہیں۔ یہ تھائی لینڈ کا سب سے قدیم بازار ہے۔ کشتیوں میں سوار خواتین گردو نواح کے علاقوں میں واقع باغات سے تازہ پھل اور سبزیاںمنگواتی ہیں، جن میں انگور، چینی انناس، آم، ناریل، کیلے اوردیگر پھل شامل ہیں، جو انتہائی خوش ذائقہ اور رسیلے ہوتے ہیں۔ یہ مارکیٹ سہ پہر تین بجے کھلتی ہے اور رات بارہ بجے تک یہاں گاہکوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اس بازار میںخرید و فروخت کا کاروبار روایتی طریقے سے ہوتا ہے۔خریداری کے لیے آنے والی مقامی خواتین دکان داروں کے اخلاق سے اتنی متاثر ہوتی ہیں کہ وہ ان کی دوست بن جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات بیٹی اور بیٹوں کے رشتے بھی اسی کشتی بازار میں طے کرلیے جاتے ہیں۔

امفوا فلوٹنگ مارکیٹ
بنکاک سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے مائی کھلانگ پر،یہ تھائی لینڈ کی دوسری بڑی فلوٹنگ مارکیٹ ہے۔ دریا کے سینے پر واقع یہ بازار ڈیمنن سدواکفلوٹنگ مارکیٹ جیسا وسیع و عریض تو نہیں ہے لیکن سیاحوں اور مقامی خریداروں میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔مذکورہ آبی بازاردریائے مائی کھلانگ اور ایک نہر کے سنگم پر واقع ہے۔ جب علاقے میں یہ مارکیٹ بنائی گئی ہےتواس کے قریب سترھویں صدی عیسوی میں ایک چھوٹا سا گاؤں واقع تھا۔ بنکاک شہر سے چھٹیاں گزارنے کے لیے لوگ اس گاؤں میں آیا کرتے تھے، جہاں دریا کے ساتھ فارم ہاؤسز اور دیگر تفریحی مقامات واقع تھے۔ مقامی لوگوں نے سیر و تفریح کی غرض سے آنے والے افراد کو اشیائے خوردونوش و ضروریہ کی فراہمی کے لیے ، دریا کے کنارے کھانے کے اسٹال بنالیےبعد میں کھانے پینے کی اشیا کے یہ مراکز کشتیوں پر بھی قائم ہوگئے۔سہولتوں کی فراہمی کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی جس کے بعد یہاں ایک تیرتا ہوا کارباری علاقہ وجود میں آگیا۔ لکڑی کے تختوںسے بنائی گئی کشتیوں میں پھل، سبزی، پرچون اور دیگر اشیا کی دکانیں قائم ہوگئیں ،جن کا زیادہ تر کاروبار خواتین نے سنبھال لیا، جس کی وجہ سے یہاں خریداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں کی سیر کے لیے آنے والے افراد، کشتیوں میں قائم ریستوران کے کچن میں بنائے ہوئے مچھلی کے کباب، بڑے جھینگوں سمیت مختلف سمندری خوراک سےلطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس علاقے کی مقبولیت بڑھنے کےبعد تھائی لینڈ کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی یہاں تفریح اور خریداری کی غرض سے آنے لگے، جس کے بعد کشتیوں پر خوش رنگ سائبان لگا کر انہیںایک ترتیب میں کھڑا کرکے اسے بازار کی شکل دے دی گئی جس کے بعد امفوافلوٹنگ مارکیٹ وجود میں آگئی۔ امفوا کے آبی بازار میںمختلف اقسام کی مچھلی،جھینگے، پھل، سبزی اور دیگر اشیا مناسب داموں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس بازار کے قریب دریا کے کنارے پر وٹ پنگ کونگ کا قدیم معبد واقع ہے جو بدھسٹ سیاحوں کے لیے متبرک مقام ہے۔

تالنگ چن فلوٹنگ مارکیٹ
بنکاک سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے کلانگز پر تالنگ چن کی آبی مارکیٹ واقع ہیں، جو خوب صورت مناظر اورتازہ پھل اور سبزیوں کی وجہ سے ملکی و غیرملکی سیاحوں کے لیے باعث کشش ہے۔ سیاح یہاں کے آبی ریستوران میں دریا کے پانی پر ہچکولے لیتے ہوئے سمندری خوراک کے لنچ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں داخلے کے لیے ایک چھوٹے سے پل پر سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے ساتھ دریا کے کنارے سے لے کردرمیان تک لاتعداد کشتیاں کھڑی ہوتی ہیں، جن میں واقع دکانیں پھل، سبزی ، بیکری کے سامان، مٹھائی اور کاسمیٹکس سے سجی رہتی ہیں۔ جب کہ ان سے ذرا فاصلے پر ریستوران، اسنیک بار اور قہوہ خانےبنے ہوئے ہیں جن میںخوش ذائقہ سمندری خوراک فروخت ہوتی ہے۔

تھاخا فلوٹنگ مارکیٹ
سمٹ سونگ خرام کے صوسے میں امفوا کے فلوٹنگ بازار سے صرف پندہ منٹ کی مسافت پر تھافا فلوٹنگ مارکیٹ واقع ہے۔ یہ مارکیٹ ایک بڑی سی نہر کے اندر کشتیوں پربنی ہوئی ہے۔ ویسے تو یہ ما رکیٹ، خوش ذائقہ پھل اور تازہ سبزیوں کی فروخت کی وجہ سے مشہور ہے لیکن اس کی وجہ شہرت یہاں کی دکانوں پر سجے ہوئے مقامی دست کاروں کی تیار کی ہوئی گھریلو اشیا اور کان میں پہننے والے خواتین کے زیورات کی وجہ بھی ہے۔ بازار میں خریداری کے لیے آنے والے بعد میں ایک تنگ سی نہر میں کشتی رانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ڈون وائی فلوٹنگ مارکیٹ
پانی پر تیرتے ہوئے اس بازار کا شمار بھی کشتیوں پر قائم ایک خوب صورت مارکیٹ میں ہوتا ہے۔ یہ دریائے نیخن چیسی پر واقع ہے اور بنکاک شہر سے صرف 45منٹ کی دوری پر ہے۔اس بازارمیںگردونواح میں واقع کھیتوں میں کاشت ہونے والی سبزیاں ، پھل، مویشوں کے فارم ہاؤسز سے حاصل کیا ہو اصلی گھی، مکھن اور تھائی لینڈ کی مخصوص مٹھائی فروخت ہوتی ہے۔ کشتیوں پر قائم اس آبی بازار کے ساتھ بنے ہوئے ریستورانوں میں بھی انتہائی منفرد اور لذیذ خوراک تیار ہوتی ہے، خاص کراس علاقے کے مخصوص پکوان ابلی ہوئی بطخ کی شہرت تو پورے تھائی لینڈ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس بازار میں ہروقت لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور یہ مارکیٹ صبح چھ بجے سے کھل جاتی ہے۔

بنگ نامفنگ فلوٹنگ مارکیٹ
حال ہی میںسماٹ پاراکان کے صوبے میںدریائے چاڈفرایا سے نکلنے والی نہر پر بنگ نامفنگ کی فلوٹنگ مارکیٹ بنائی گئی ہے۔ اس مارکیٹ میں بھی تمام کاروبار، نہر کے وسط میں ڈولنے والی کشتیوں پر ہوتا ہے۔ لوگ کشتیوں پر بیٹھ کر مذکورہ دکانوں پر جاتے ہیں اور اپنی مطلوبہ اشیا کی خریداری کرتے ہیں۔ ان کشتیوں پر تقریباً سو دکانیں بنی ہوئی ہیں جن میں پھل، سبزیوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی بنائی ہوئی دست کاری اور گھریلو اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ بنکاک سے اس مارکیٹ تک بذریعہ کشتی، جاتے ہیں۔

بنگ نوئی فلوٹنگ مارکیٹ
امفوافلوٹنگ مارکیٹ سے تھوڑے سے فاصلے پر بنگ نوئی کا آبی بازار ہے۔ یہ دریائے مائی کلونگ سے نکلنے والی ایک نہر پر واقع ہے۔ اس مارکیٹ کا شمار بھی بنکاک کی قدیم مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔ ایک صدی قبل ،یہ بازار اس علاقے کے سو تاجروں نے بارٹر سسٹم کے تحت اشیا کی خریداری کے لیے قائم کیا تھا۔ نہر پر کشتیوں کے اندر مختلف اشیا خریدی اور بیچی جاتی تھیں۔ عام خریداروں کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے یہ بازار ختم ہوگیا۔ امفوا فلوٹنگ مارکیٹ کی مقبولیت کے بعد حکومت نے مزید ایک مارکیٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے بنگ نوئی کی فلوٹنگ مارکیٹ کو از سر نو فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے یہاں کے دکانداروں کو مالی تعاون مہیا کیا گیا جب کہ لوگوں کی یہاں تک رسائی کے لیے راستے اور پل بنائے گئے ہیں۔ اس آبی بازار میں پھل، سبزی، گارمنٹس، کاسمیٹکس سیمت تمام ضروری اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔

آیوتھایا فلوٹنگ مارکیٹ
بنکاک کے شمال میں آیوتھایا کے صوبے میں دو نئی تیرتی ہوئی مارکیٹ بنائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیوتھایا فلوٹنگ مارکیٹ ہے ، جوایک نہر میں بنائی گئی ہے۔ نہر کے کنارے پر ہاتھیوں لیے بنائے گئے مخصوص مقامات ہیں۔ بازار میں جانے سے قبل ہاتھی کی سواری سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔اس بازار میں آنے والوں کے لیے ہاتھی پر بیٹھ کر یہاں کے سفاری ایریا کی مفت سیر کی جاسکتی ہے۔ کشتیوں میں واقع دکانوں پر ہمہ اقسام کے موسمی و بے موسمی پھل، سبزیاں، مقامی افراد کے ہاتھوں سے بنائی گئی اشیافروخت ہوتی ہیں۔ مذکورہ آبی بازار صبح 10بجے سے رات 9 بجے تک کاروبار کے لیے کھلتا ہے۔

آیوتھایاکلونگ سابوا فلوٹنگ مارکیٹ
آیوتھایا میں ہی واقع یہ دوسرا آبی بازار ہفتے میں صرف ایک بار، ویک اینڈ پرصبح دس بجے سے شام 5.30بجے تک خرید و فروخت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ دنیا کا یہ واحد بازار ہے جس میں داخلے کے لیے فیس وصول کی جاتی ہے۔ لوگ مذکورہ فیس کی ادائیگی کرتے ہیں لیکن کشتیوں پر واقع دکانوں میں خریداری کی غرض سے نہیں بلکہ اس میں واقع تفریح گاہوں کی سیر کے لیے۔ کشتیوں پرواقع دکانوں میں صرف اشیائے خوردونوش فروخت ہوتی ہیں۔ اس میں ایک آبی تھیٹر بنایا گیا ہے ، کھانے اور فاسٹ فوڈ ریستوران میں بیٹھ کر لوگ اس تھیٹر کے مختلف شوز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79473 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2017 Views: 676

Comments

آپ کی رائے