’’مدین‘‘

(Rafi Abbasi, Karachi)
سوات کی ایک دل فریب وادی
برف کی چاندی میں نہائی ہوئی سر بہ فلک چوٹیوں کے دامن میں واقع ہے

مداین کی تصویریں

وادی سوات کا شمار پاکستان کے دل موہ لینے والے تفریحی مقامات میں ہوتا ہے ۔ اس کے طول و عرض میں بے شمار خوب صورت اور جنت نظیر وادیاں پھیلی ہوئی ہیں، جن کی وجہ سے اس خطہ کو ایشیاء کے سوئٹزرلینڈ کا خطاب دیا گیا تھا، یہاں ایک ’’ مدین‘‘ کا علاقہ بھی ہے ، جس کا شمار سوات کی حسین ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔۔ سوات میںسیاحوں کا پہلا پڑاؤ مینگورہ کے قدیم و جدید امتزاج کےحامل شہرمیں ہوتا ہے ۔ وہاں سے وہ اپنی اگلی منزل کی جانب عازم سفر ہوتے ہیں۔ منگورہ سے مختلف علاقوں کی جانب جانے کے لیے کئی بس اسٹینڈ موجود ہیں جن میں سے جنرل بس اسٹینڈ سے مدین کی جانب جانے والی گاڑیاں ملتی ہیں۔ گھاس کے سر سبز میدانوں، گھنے جنگلات اوربرف کی چاندی میں نہائی ہوئی سر بہ فلک چوٹیوں کے دامن میں واقع یہ حسین و جمیل وادی، منگورہ شہر سے 52 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بلند و بالا درختوں کے سائےمیں، پہاڑی جھرنوں ، دریا اور شفاف پانی کے ندی نالوں کے ساتھ بلندیوں کی طرف جاتی ہوئی ایک خوب صورت سڑک کے ذریعے منگورہ سمیت دیگر خوب صورت مقامات سے منسلک ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 4334 فٹ ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی آب و ہوا فرحت بخش اور موسم انتہائی خوش گوار رہتا ہے۔ وادی کے ہر طرف پر فضا ماحول، رنگینیاں، دل فریب مناظر حُسن و رعنائیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے پر واقع فطرت کا یہ حسین شاہ کار یہاں کی سیر کے لیے آنے والوں کو اپنے سحر میں گرفتار کرلیتا ہے۔ جو لوگ اس ارضی جنت کی تفریح کی غرض سے آتے ہیں ، وہ یہاں کے مسحور کن مناظر میں اتنے گم ہوجاتے ہیں کہ ان کا اس علاقے سے جانے کا دل نہیں کرتا۔ مدین کی حدود پیا خوڑ (پیاندی) سے شروع ہوتی ہیں اور مشکون گٹ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مدین کی وادی کا قدیم نام ’’چوڑڑئی‘‘ ہے۔ اس کا یہ نام بودھ مت کے عروج کے دور میں اُسے دیا گیا تھا۔سوات میںایک ریاست کی شکل اختیار کرنے اور یہاںمسلمانوں کی حکمرانی قائم ہونے کے بعد والیِ سوات میاں گل عبدالحق جہان زیب کے دور میں اُسے مدین کے نام سے تبدیل کیا گیا۔ اس خوب صورت قصبے کی کل آبادی تقریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی قدیم تہذیب اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے راسخ العقید ہ مسلمان ہیں، جنگ و جدل کو پسند نہیں کرتے، اسی لیے یہ وادی صدیوں تک امن و امان کا گہوارہ بنی رہی، بعض انتہا پسند گروہوں کی دراندازی کی وجہ سے یہاں کا چین و سکون کئی عشرے تک متاثر رہا،جس کی وجہ سے سیاح یہاں آنے سے گھبراتے تھے، لیکن فوج نے مذکورہ گروہوں کے خلاف آپریشن کرکےاس میں امن و آشتی کی فضا دوبارہ بحال کرادی اور یہاں کے تفریحی مقامات ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مدین کے مقام پر بائیں طرف جانے والی سٹرک پر محض ایک کلو میٹرکے فاصلے پرٹراؤٹ فش فارم واقع ہے۔یہاں فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے دفاتر ‘ ٹریننگ سنٹر ‘ایک بڑا سا فش فارم اورہیچری‘ اس سے ملحق خوبصورت’’ٹراؤٹ پارک‘ ‘اور ایک ریسٹورنٹ موجود ہیں۔مذکورہ سیر گاہیں اور ریسٹورنٹ سڑک کے بائیں طرف نیچےکی جانب ایک وسیع و عریض ندی کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔

مدین کے گردو نواح میںہرے بھرے قطعات اورسر سبز پہاڑی بلندیوں پر بے شمار حسین و جمیل قصبات ہیںجن میں بشی گرام،شنڑکو، تیراتھ، بیلہ، قندیل، دامانہ، مورپنڈئ، چورلکہ، ، آریانہ ،شاہ گرام، الکیش، کالاگرام، شیگل اور گڑھی نامی گاؤں اپنے حسین مناظر کی وجہ سےکافی مشہور ہیں۔ان علاقوں کے پرفریب مناظرقابل دید ہیںمگر ان میں سے بیشتر علاقوں تک رسائی کے لیے پختہ سڑکیں موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر وادیاں آج بھی سیاحوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ مدین کے ان ہی حسین قصبات میں سے تیراتھ کاحسین و جمیل علاقہ بھی ہے جو مدین سے جنوب کی طرف دریائے سوات کی مغربی سمت میںواقع ہے۔ اس مقام تک جانے والی سڑک ، دریائے سوات کے اوپر تعمیر کیے گئے خوب صورت پل کے ذریعے منگورہ سے آنے والی جرنیلی سڑک کے ساتھ منسلک ہے۔ تیراتھ کا علاقہ گندھارااور بودھ مت کے تہذیب و ثقافت،تاریخ و تمدن اور آثارِ قدیمہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر قدیم آثارمیلوں وسیع رقبے پر محیط ہیں۔ کچھ عشرے قبل ان تاریخی آثارِپرحکومتی سطح پر باضابطہ طور پر کام شروع کیا گیاتھا جس کے نتیجے میں بُودھ مت اور گندھارا تہذیب سے متعلق بے شمار قیمتی اشیاء اور نوادرات برآمد ہوئے تھے۔ یہاں مولا مولئی کے مقام پر ایک چٹان پر انسانی پاؤں بھی ثبت پائے گئے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مہاتما بدھ کے قدموں کے نشانات ہیں۔ اسی کے قریب ایک دوسری چٹان کے بارے میں قدیم روایات مشہور ہیں کہ اس چٹان کے پتھروں پر گوتم بدھ نے اپنے گیلے کپڑے خشک کرنے کے لیے پھیلائے تھے۔یہ پہاڑی چٹانیں بودھ مت کے پیروکاروں کے لیے متبرک درجہ رکھتی ہیں اور دنیا بھر سے لوگ ان کی زیارت کے لیے یہاں آتے ہیں۔ جُونوسر،بابوسر، شاہی سر اور میخو سر تیراتھ کی مشہور پہاڑی چوٹیوں پر بھی خوب صورت تفریحی مقامات بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے’’نو سر‘‘ کی چوٹی کو تاریخی حیثیت حاصل ہےجو تقریباً پندرہ ہزار فٹ بلند ہے۔یہاں مہم جو حضرات کے لیے کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے وسیع مواقع حاصل ہیں ۔یہ پہاڑسوات کی صدیوں پرانی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں اگر ایک طرف سوات میں رہنے والے قدیم باشندوں کی گم شدہ کڑیاں ملتی ہیں تو دوسری جانب ایسے آثار بھی پائے گئے ہیں جن سے زرتشت مذہب، بُدھ مت ،ہندو مت اور آریا تہذیب سے متعلق بیش قیمت معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس پہاڑ کی بلندیوں پر ’’سوما‘‘ نامی بوٹیپائی جاتی ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رِگ وید کے مطابق اس پودے کے استعمال سے انسانی صحت پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ جسمانی قوت بڑھانے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ آج کے دور میں ادویہ ساز ادارے اس کے پودوں کو ایفیڈرین حاصل کرنے کے لیے کام میں لاتے ہیں جب کہ قدیم زمانے میں بودھ مت کے پیروکاراسے روحانی قوت بڑھانے کاذریعہ بھی قرار دیتے تھے۔ قدیم کتابوں میں اس پودے کے محیر العقول کرشمے بیان کئے گئے ہیں۔ تیراتھ اور مدین کے درمیان تین چار مقامات پر دریائے سوات پر لکڑیوں کے پل بنے ہوئے جنہیں مضبوط رسیوں سے باندھا گیا ہے۔ ان کے ذریعے مقامی آبادی کو آس پاس کی بستیوںتک آمد رفت کی آسانی رہتی ہے۔ مدین کے قصبے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤںچیل ہے جو صحیح معنی میں ارضی جنت کا نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔مدین کے لکڑی اور ٹین سے بنی ہوئی دکانوں سے مزین بازار سے جنوب مغرب میں سیاہ سلفیٹ کی سرمئی سڑک، چیل گاؤںکی طرف جاتی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان کیف و سرورکی کیفیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ہر طرف سر سبز میدان،موسیقی بکھیرتے ہوئے پہاڑی جھرنے اور آب شار، پر شور اور متلاطم ندی نالے دل کش منظر پیش کرتے ہیں۔یہاں آ کر سیاحوں کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سوئٹزرلینڈ کے کسی پہاڑی مقام کی سیر کررہے ہیں، جہاں ہر سو ہریالی ہے، بلند و بالا پہاڑ اور برف کی چادر اوڑھے ہوئے آسمان کو چھونے والی چوٹیاں ہیں۔ان کے درمیان سے پہاڑی بلندیوں پر بل کھاتی ہوئی سڑک بے انتہا حسین لگتی ہے۔ مذکورہ سڑک کے ساتھ بشی گرام کی پہاڑی ندی بہتی ہوئی چلتی ہے، جس کے اطراف میں خوش رنگ اور عطر بیز پھول تمام وادی کی فضاء کورنگین اورخوش بو سے مہکاتے ہیں۔ ندی کا پانی جب اطراف میں بکھرے ہوئے چٹانی پتھروں سے ٹکراتا ہے تو پرشور آوازوں کے ساتھ اس میں لہریں بلند ہوکر وادی کے اطراف میںگرتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ سوات کی سیر، مدین کی سیاحت کے بغیر ادھوری ہے اور مدین آکر چیل گاؤں نہ دیکھا تو کچھ بھی نہ دیکھا۔

مدین کےجنوب مشرق کی طرف آٹھ گھنٹے کی پیدل مسافت پر بشی گرام کا قصبہ واقع ہے جو قدرتی مناظر اور سحر انگیز ماحول کی وجہ سے سیاحت کا ایک خوب صورت مرکز ہے لیکن دشوار گزار اور پرصعوبت پہاڑی گزرگاہوں کی وجہ سے سیر و تفریح کے دل دادہ افراد یہاں آتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ اس علاقے میں بشی گرام جھیل بھی واقع ہے جس کا شمار پاکستان کی حسین جھیلوں میں ہوتا ہے اور زیادہ تر سیاحوں کو تمام تر دشواریوں کے باوجود اس جھیل کی کشش کھینچ کر یہاں تک لاتی ہے۔اس علاقے کی خوب صورتی اور رعنائی قابلِ دید ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لئےمدین سے شنڑ کو نامی گاؤںتک چھ کلومیٹر کاسفربذریعہ بس یا ویگن طے کیا جاتا ہے ۔ اس سے آگےبشی گرام تک کا تمام سفر پہاڑی بلندیوں،پگڈنڈیوں اور گھاٹیوں پر پیدل چلتے ہوئے آٹھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ بیس کلومیٹر کا یہ راستہ اگرچہ انتہائی کٹھن ہے لیکن اطراف کے خوب مناظر اور قدرت کے حسین شاہ کار، مہم جو سیاحوں کو تھکاوٹ اور بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ بشی گرام ایک انتہائی دل کش اور خوب صورت قصبہ ہے۔ یہاںزندگی اپنےحقیقی رنگ و روپ میں نظر آتی ہے لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے ذرائع آمدرفت نہ ہونے کی وجہ سے بشی گرام کی جنت نظیر وادی لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں طعام وقیام کی بھی سہولت میسر نہیں ہے۔ بشی گرام کی سیر کے لیے آنے والے زیادہ ترافراد اپنے ساتھ خیمے، بستر، گرم کپڑے اور کھانے پینے کا سامان وافر مقدار میں لے کر آتے ہیں۔۔

مدین کے اطراف پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیاں ہر وقت برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑوںنے چاندی کا لبادہ پہنا ہوا ہے۔وادی کے ایک طرف دریائے سوات چپختا چنگھاڑتا ہوا بہِہ رہا ہے جب کہ دوسری طرف چیل خوڑندی دریائے سوات سے جا ملتی ہے۔اس ندی کو دریائے بشی گرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دریا، دریائے سوات کا معاون دریا ہے اور اس کے پانی کا مخرج بشی گرام جھیل سےہے، جو اس جھیل میں برف پوش چوٹیوں اور پہاڑوں کی برف پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مدین کےلکڑی کے پلوں پرسے دریائے بشی گرام اور دریائے سوات کے سنگم کے دل فریب مناظر انتہائی سحر انگیز لگتے ہیں۔ مدین کوپھولوں اور پھلوںکی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ علاقے میں ہر طرف وسیع و عریض باغات اور کھیت ہیں جہاں سیب، اخروٹ، آلو بخارا، املوک، عناب، جوار، مکئی، آلو وغیرہ کی کاشت ہوتی ہے۔یہاں شہد کی مکھیوں کی فارمنگ بھی ہوتی ہے اور ان مکھیوں سے حاصل ہونے والا شہد سیاح سوغات کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ مدین کے پہاڑوں پر گھنے جنگلات ہیں، جو مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں سے بھرے ہوئے ہیں ، جو ادویات سازی میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ ان جنگلات میں مشک ولا ہرن بھی پایا جاتا ہے، جس سے مشک بالا حاصل ہوتی ہے۔

مدین کی وادی کے عین وسط میںوادی کا مرکزی بازارہےجواس کے مختلف حصوں میں پھیلا ہوا ہے۔ لکڑی کی دکانوں پر مشتمل اس بازار میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء باآسانی مل جاتی ہیں۔ اس بازار کا ایک حصہ قدیم بستیوںپر مشتمل ہےجن کی جانب جانے کے لیے بازارمیں سے چھوٹی چھوٹی گلیوں کی صورت میں راستے نکلتے ہیں۔ یہ بستیاںقدیم طرزِ تعمیر کا خوب صورت نمونہ ہیں۔مکانات کی تعمیر میں لکڑی کے مضبوط شہتیروں اور تختوںکو استعمال کرکے انفرادیت پیدا کی گئی ہے۔ اس بازار کا دوسرا حصہ دریائے
بشی گرام کے پل کی دوسری جانب ہے۔ یہاںسیاحوں کے لیے جدید رہائشی ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں۔ لکڑی کی بنی ہوتی دکانوں میں مقامی لوگوں کی بنائی ہوئی دست کاری، نوادرات اور سوات کے قدیم علاقوں سے برآمد ہونے والی تاریخی اشیاء سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتی ہیں۔ چیل روڈ پر ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کا ایک فارم ہاؤس بھی واقع ہے۔ یہ فارم سرکاری سطح پر کام کررہا ہے اور یہاںسے ٹراؤٹ مچھلی کی نسل بڑھانے کے لیےاس کےچھوٹے کو دریائے اوشو و اتروڑ وغیرہ میں ڈالا جاتا ہے۔ اس وادی میں ملکی و غیرملکی سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے خاص کرگرمیوں کا سیزن یہاں کی تفریح کے لیے انتہائی موزوں ہوتا ہے۔ اس موسم میںفیملی کے لئے ہوٹلوں میں کمروں کی باآسانی بکنگ کے علاوہ مقامی لوگ اپنے مکانوں کے پورشن بھی کرایہ پر دیتےہیں۔سفری سہولتوں کی آسانی ہے اور اندرون و بیرون ملک سے مینگورہ پہنچنے والے سیاحوں کو مدین کی وادی پہنچانے کے جنرل بس اسٹینڈ سے پانچ دس منٹ کے وقفہ سے فلائنگ کوچ، ویگن اور پرائیویٹ گاڑیاں چلتی ہیں۔ سڑک کی حالت کافی بہتر ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وادی مدین کےاطراف میں واقع جنت نظیر علاقوں تک باآسانی رسائی کے لیے پختہ سڑکیں تعمیر کی جائیں تاکہ وہ قصبے اور گاؤں جو اپنے تمام تر حسن و جمال کے باوجود سیاحوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں، اپنی حسر سامانیوں کے ساتھ سیر و تفریح کے دل دادہ افراد کی توجہ حاصل کرسکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 81242 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2017 Views: 1070

Comments

آپ کی رائے