کیا امریکہ کعبے کاپاسبان بن سکتا ہے؟

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)

 امریکی صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے دوران ایسا ہی تاثر دیاگیا۔اس سے پہلے کبھی بھی امریکی صدر کا ایسا شاہانہ اور والہانہ استقبال دیکھنے میں نہیں آیا۔کچھ روایات یہاں ٹوٹتی بھی نظر آئیں۔لیکن جب سپر پاور کے صدر کو کعبے کا پاسبان سمجھ لیاجائے تو اس کے لئے سب کچھ ہی کرنا پڑتا ہے۔امریکی اسلحہ کے معاہدے پہلے بھی ہوتے رہتے ہیں اب بھی110۔ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا۔دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی اسلحہ کی خرید کے بڑے بڑے معاہدے کئے۔ان اسلحی معاہدوں کے فوراً بعد صدر امریکہ نے اسے امریکہ میں روزگار کی بحالی سے لنک کردیا۔دورہ کے دوسرے دن مسلم ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی نشانہ بنایا گیا۔داعش اور القاعدہ سے زیادہ ایران کو دہشت گردوں کا مرکز قرار دیاگیا۔اسے تنہا کرنے کی باتیں زور وشور سے صدر امریکہ اور شاہ سلمان صاحب کی طرف سے کی گئیں۔مجھے وہ زمانہ یاد آرہا ہے جب عربوں اور مسلمانوں کے سربراہی اجلاسوں میں اسرائیل کے خلاف تقریر یں ہوتی تھیں۔اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے پروگرام بنتے تھے۔اب تو عربوں نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔حتیٰ کہ جب صدر ٹرمپ ریاض سے اسرائیل پہنچے تو نیتن یاہو نے بڑے تیقن سے کہا کہ جیسے آج صدرٹرمپ ریاض سے سیدھے تل ایویو پہنچے ہیں اسی طرح آئندہ جلد میرا طیارہ تل ایویو سے ریاض پہنچے گا۔مجھے تو مشرق وسطیٰ کا منظر مکمل طورپر بدلتا ہو ا نظر آرہا ہے۔صدیوں کے یہودی دشمن اب عربوں کو دشمن نظر نہیں آتے۔2۔روزہ دورہ ریاض کے دوران کسی بھی مسلم سربراہ نے ایک لفظ بھی اسرائیل کے خلاف نہیں کہا۔توپوں کا رخ ظاہراً دہشت گردی لیکن حقیقتاً ایران کے خلاف تھا۔یہاں ایران کی پالیسی کو درست ہرگز نہیں کہا جارہا ہے۔اپنے مسلک جسے ایران نے اپنے اردگرد کے ممالک کو برآمد کیا ہے اور اس کے ذریعے اپنے اثرورسوخ کو بڑھایا ہے۔شام اور عراق میں مداخلت کی ہے۔اس پالیسی کو مسلمانوں کا اکثریتی مسلک درست نہیں سمجھتا۔مسٔلہ کا اصل حل یہ ہے کہ ایران کی غلطیوں کو ان کے سامنے واضح کیاجاتا۔ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنے کے لئے کوئی بیچ کی راہ نکالتے۔اس وقت جو صورت حال بنتی نظر آرہی ہے وہ یہ کہ سنی ممالک نے امریکہ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنی توپوں کا رخ اسرائیل کی بجائے اب ایران کی طرف کرلیا ہے۔ایران کی طرف داری پہلے ہی روس کررہا ہے۔شام کے معاملے میں بشارالاسد کے ساتھ ایران اور روس دونوں موجود ہیں۔مجھے تو مسلمان آپس میں ٹکراتے نظر آتے ہیں۔روس اور امریکہ خوش ہیں کہ ان کی اسلحہ کی فیکٹریوں میں شفٹوں کی تعداد بڑھنے سے بے روزگاری میں کافی کمی آجائیگی۔جیسے یہ بات ریاض میں کھلم کھلا کہی گئی۔اس سے پہلے کبھی نہ سنی گئی تھی۔سنی ۔شیعہ اختلافات کو ریاستی سطح پر کم کرنا عقلمندی ہے۔بڑھانے کو بے وقوفی ہی کہاجائے گا۔امریکہ اور یورپ "کعبے" کے پاسبان نہ کبھی پہلے رہے اور نہ آئندہ بنیں گے۔تقسیم کرو اور لڑاؤ بس یہ انکی پالیسی ہے۔یہ پالیسی تو سامنے دیوار پر لکھی نظر آرہی ہے۔کسی گہری سوچ بچار کی بھی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ہمیں سعودی عرب کا دفاع بہت ہی عزیز ہے۔اگر اسلامی ملٹری اتحاد یہ کام کرے تو یہ اچھا حل ہے۔لیکن سعودی دفاع کے لئے امریکہ آئے۔دل اور دماغ دونوں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔90ء کی دہائی کے شروع میں بھی جب سعودی عرب کو خطرہ پیدا ہوا تھا تو امریکی کمان میں19مسلم اور غیر مسلم ممالک کی افواج سعودی عرب پہنچ گئی تھیں۔جنگ کے بعد بڑی مشکل سے انہیں سعودیہ سے نکالا گیا ہے۔یہ بات25سال پہلے کی ہے۔اب تک سعودی عرب نے اپنے دفاع کا انتظام کیوں نہیں کیا؟۔مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق سعودی ملٹری فورس کی تعداد صرف3۔لاکھ ہے۔اور اس ملک کی سرحدیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مکہ اور مدینہ کی وجہ سے اسکی دفاعی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔سعودی عرب کے پاس مالیاتی وسائل کی ہرگز کمی نہیں ہے۔کیا ان بے پناہ مالیاتی وسائل سے اسلحہ کی جدید فیکٹریاں نہیں لگ سکتیں؟۔کیا صرف امریکی اور مغربی اسلحہ پر ہی انحصار ضروری ہے؟۔کئی دہائیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ سعودی عرب نے امریکہ سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ خریدا ہے۔اسلحہ اور سپاہی اپنے ہوں تو دفاع مکمل ہوتا ہے۔غیروں پر انحصار سے کبھی جنگیں نہیں جیتی جاسکتیں۔کوئی ایسا ملک جس کے پاس اسلحہ سازی کے وسائل اور تکنیک نہ ہو۔وہ عارضی طورپر کچھ اسلحہ خریدے تو بات اور ہے۔سعودی عرب کے پاس اگر اسلحہ سازی کی تکنیک کی کمی ہے تو پاکستان ،ترکی اور ملائیشیاء جیسے ملک کمی پوری کرسکتے ہیں۔دہائیوں سے غیروں پر انحصار سعودی عرب کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔سعودی عرب مرکز اسلام ہے۔یہاں اسلحہ سازی کی جدید ترین فیکٹریاں ہوں اور دوسرے مسلم ممالک یہاں سے خریدیں۔سعودی عرب میں بڑی آرمی ،بڑی ائیرفورس اور جدید ترین نیوی ہونی چاہئے۔یہاں سے بوقت ضرورت دوسرے مسلم ممالک کی مدد کی جائے۔ایران پر پابندیوں کے دور میں اسلحہ سازی کو بہت ترقی دی گئی ہے۔اور وہ دوسروں کی مدد کا ضرورت مند نہ ہے۔وسائل سے مالا مال عرب ممالک کو بھی جدید ترین اسلحہ سازی میں خود کفیل ہونا ضروری ہے۔تیل سے حاصل شدہ ڈالر اگر اسلحہ کی خریدکے لئے واپس امریکہ جاکر امریکی بے روزگاری ختم کرنے کا سبب بنیں تو منظر کچھ اچھا نہیں لگتا۔سعودی عرب کو اسلامی عسکری اتحاد بنانے کے بعد اسلحہ سازی اور جدید طرز کی فوجی ٹریننگ میں بہت آگے بڑھنا چاہئے۔دفاعی لہاظ سے اب عربوں کو مکمل طورپر خود کفیل ہونا چاہئے۔عربوں اور ایرانیوں دونوں کو یہ سوچنا چاہئے۔کہ کبھی عیسائیوں نے آپس کی لڑائیوں کے وقت مسلمانوں سے مدد لی؟۔یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ عیسائیوں کے2۔بڑے فرقے پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک کئی کئی دہائیوں تک لڑتے رہے۔30سالہ مذہبی جنگ یورپ کی بڑی ہی معروف ہے۔لیکن مسلمانوں سے تب کسی نے بھی مدد نہیں لی۔لیکن مسلمان اب امریکہ اور روس کی مدد لے رہے ہیں۔مسلمانوں کو اپنے جھگڑے خود ہی حل کرنے چاہئے۔روس اور امریکہ کو دورہی رکھا جائے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ امریکہ نے2003ء میں عراق پر حملہ کرکے اس پورے خطے کو غیر مستحکم کردیاتھا۔اس کا رد عمل اب تک عراق،شام اور لبنان میں موجود ہے۔یہیں امریکہ کے حملوں کے بعد داعش پیدا ہوئی جو اب سنی اور شیعہ تمام طرز کے مسلمانوں کو للکار رہی ہے۔امریکہ اور اسرائیل خوش ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑکر تباہ ہورہے ہیں۔اسرائیل محفوظ ہوگیا ہے۔امریکی اسلحہ کے خریداربے شمار لڑاکا گروپس اور ممالک ہیں۔یہ غیر مسلم طاقتوں کے لئےWin,winکی صورت ہے۔تباہی ہر طرف مسلمانوں کی ہے۔پاکستان کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ وہ ریاض میں جاکراجلاس میں شریک ہوجائے۔ایران اور سعودی عرب میں اختلافات کم کرانا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانا اور خطہ میں پھیلتی ہوئی فرقہ وارانہ آگ پر قابو پانا بھی ذمہ داری میں آتا ہے۔محترم نواز شریف کو آگے بڑھ کر یہ رول ادا کرنا چاہئے۔آخر واحد ایٹمی مسلم قوت کچھ تو منفرد طرز کا رول اداکرے۔محمد نواز شریف کے لئے ایرانی سرکاری دورہ تو ضروری ہوگیا ہے۔پاکستان کا بھی اس دورہ سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔سعودی عرب اور ایران کو شام اور یمن میں مداخلت سے باز رکھ کر کوئی نہ کوئی مسلم اتحاد کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔یہ سوچ کہ امریکہ کعبے کا پاسبان ہے اورعربوں کے لئے مخلص دوست ثابت ہوگا۔خام خیالی ہے۔عربوں اور غیر عرب مسلمانوں کو فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر اپنے مفادات کے لئے سوچنا ضروری ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 32738 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2017 Views: 357

Comments

آپ کی رائے