محبتوں و ایثار کے شہر مظفرآباد میں قبروں پر جھگڑے اور مکافات عمل؟

(Tahir Farooqi, Muzaffarabad)
محبتوں و ایثار کے شہر مظفرآباد میں قبروں پر جھگڑے اور مکافات عمل؟؟؟؟؟؟

آزاد کشمیر کا دارلحکومت مظفرآباد محبتوں اخلاص ایثار و قربانی برداشت کے جذبات سے بھرپور احساسات رکھنے والے لوگوں کا شہر ہے جس میں لاہور کراچی، پشاور ، راولپنڈی، اسلام آباد جیسے شہروں کی طرح نا صرف ملک کے کونے کونے سے مختلف اداروں کمپنیوں کاروبار سے منسلک ملازمتیں کرنے والے ہنر مند و مزدور پیشہ وافراد بڑی تعداد میں خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر سری نگر سمیت تمام شہروں دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے خاندان بھی سب سے زیادہ آباد ہیں تو آزاد کشمیر کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ بھی نسل در نسل یہاں کے ہی ہو کہ رہ گئے ہیں کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان بھی یہاں ملازمتوں کاروبار کے لیے آئے اور پھر ان میں سے بہت سارے یہاں ہی آباد ہو گئے سیز فائر لائن خصوصاِِ ضلع نیلم وادی لیپہ کے لوگ پندرہ سالہ بھارتی فائرنگ کے دوران یہاں آکر مقیم ہوئے اور پھر اسی شہر کے آدی ہو گئے یہاں گھر بنائے کاروبار شروع کیئے ان میں سب ہی بالخصوص نیلم جہلم سے منسلک علاقوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔ جو تعصبات کی آگ سے محفوظ خالصتاََ ایک خاندان کی طرح شعور انسانیت کی تہذیب و ثقافت کے رنگوں میں رنگے مل جل کے رہتے رہے ہیں سارے خطے میں ایک حلقہ سے تعلق رکھنے والا بڑا سے بڑا لیڈر دوسرے حلقے میں جا کر انتخاب لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا نہ اب ایسا ممکن ہے مگر مظفرآباد حلقہ 3 میں حویلی سے راجہ ممتاز حسین راٹھور نے یہاں آکر نا صرف گھر بنایا بلکہ انتخابات میں حصہ لیکر کامیابی حاصل کی اور وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ حلقہ چکار سے تعلق رکھنے والے موجودہ وزیر اعظم فاروق حیدر کے والد اپنے خاندان سمیت مظفرآباد شہر میں ہی قیام رکھتے تھے جن کی تیسری نسل بھی یہاں ہی آباد ہے اور راجہ فاروق حیدر ناصرف ممبر اسمبلی منتخب ہوئے بلکہ ان کی صف اول کی قیادت میں آکر وزارت عظمیٰ کے دروازے میں داخل ہونے کا راستہ مظفرآباد کی تحریک سے کھلا جو سب پر بالادستی اختیار کر گئے ۔سب ہی بڑے لوگوں کے یہاں گھر کارو بار ہیں دیگراضلاع تحصیلوں سے آکر یہاں بہت سارے لوگ صرف ایم ایل اے ہی نہیں کونسلر سمیت بہت سارے شعبوں کی قیادت میں ابھر کر سامنے آئے جو شاہد اپنے آبائی علاقوں میں ان کیلئے ممکن نہ تھا ۔ اپنی تحریکی سیاسی ثقافتی تاریخ میں منفرد مقام رکھنے والے اس شہر میں زلزلے کے بعد ایک بار پھر تمام ہی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ آکر آباد ہوئے اور پھر یہاں ہی ان کا دانا پانی لکھا گیا۔ جس کے باعث یہاں آبادی کا بے پناہ دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ مکانیت کا بہت بڑا چیلنج پیدا ہو گیا زمینیں مہنگی ہو گئیں کرایئے آسمانوں سے باتیں کرتے ہوئے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں مہنگائی اسلام آباد کو بھی پیچھے چھوڑ گئی بہت سارے تنازعات ، مسائل مشکلات حشرات الارض کی طرح پھیلنے لگے مگر یہ سب کچھ برداشت ہوتا رہا حکومتوں اداروں قیادتوں نے اس طرف توجہ ہی نہ دی نئے شہر نئی ہاؤسنگ کالونیاں بنائیں ۔ شہر کو پھیلاتے ہوئے نیلم سے جہلم تک لوگوں کے وہ سب سہولیات دیں جن سے وہ اپنے آبائی علاقوں میں ہی آباد رہیں اور یہاں سے خوشی خوشی واپس ہو جائیں۔ جس کے باعث باقی سب ٹھیک مگر انتہائی الم ناک اور سفاک نتیجہ یہ نکلا لوگوں کو مرجانے پر قبر کی جگہ دینے پر بھی جھگڑے معمول بن گئے یہاں ایک شخص کو اپر اڈا اپنے والد کو دفنانے میں انسانیت سوز کرب و الم کا سامنا کرنا پڑھ گیا جو بعد میں یہاں ہی مشیر حکومت بنے تو خاکروب عیسائی خاندان کی معصوم بیٹی کو بھی قبر نہیں دی گئی ۔ورثاء اپنی میت کو کوڑے کی گاڑی میں پاکستان لے گئے اور واپسی پر یہ بھی دریا کی نذر ہو کر زندگی سے ناطہ توڑ گئے یہ زلزلے سے پہلے کے واقعات ہیں میرا یقین کامل ہے رب اپنے حوالے سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے مگر اجتماعی سماجی نا انصافیوں کی سزا سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر مل کر رہتی ہے۔ افسوس ہم نے سبق نہیں سیکھا بلکہ زلزلے کے بعد جھوٹ منافقت مصلحت مجبوری دورغ گوئی لالچ طمع حسد چاپلوسی،حقدار کا حق مارنا انفرادی اجتماعی ناسور کی طرح سارے جسم چہرے کو داغ دار کر چکی ہے ۔1988ء کی تحریک سے پہلے یہاں وہ سب کمزوریوں خامیوں کو گن کر پار والوں کیلئے طعنے دیئے جاتے تھے اور اپنی خوبیوں تاریخ پر رشک کیا جاتا تھا یہاں تم بھی اٹھو اہل وادی کے ترانے سنوائے جاتے تھے وادی والوں نے عزت غیرت جرات و دلیری کی ایسی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی جس پر آسمان بھی نازاں رہیں گے مگر وہ سب طعنے جو ان کو دیئے جاتے ہیں اب یہاں والوں کیلئے مکافات عمل بن چکے ہیں جس میں لوگوں کی میتوں کو قبروں کی جگہ نہ دینے کے سفاک واقعات معمول بن چکے ہیں صرف رواں سال میں چہلہ بانڈی طارق آباد نیا محلہ ماکڑی اور پھر وہاں جہاں انسانیت سے محبت وفاء کی سب سے عظیم تر تاریخ رقم کر کے قربان ہو جانے والے شہداء کربلاء کے زکر ہو تا ہے ۔ مرکز کے ساتھ قبرستانوں میں لوگوں کے اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانے نہ دیا گیا ناصرف ان سب بلکہ پولیس کو ملنے والی سات لاکھ لاشوں کو سینٹر پلیت قبرستان میں دفنایا گیا جہاں محکمہ صحت عامہ چار دیواری بنانے کے نام پر آکھڑا ہوا ہے یہ اس کی ملکیت ہے یہ قبریں بند رہی تھیں تو یہ محکمے کہاں مر گئے تھے اب فساد برپا کردیا ہے خیر یہاں مظہر ڈار سے لیکر ذوالفقار بیگ چوہدری رزاق ساجد جگوال قاضی ایوب سراج دین اعوان راشد اعوان ثاقب اعوان راشد مغل، زاہد مغل، سردار ہارون، فاروق میر سمیت سب ہی اہلیان سنٹر پلیٹ خراج تحسین کے حقدار ہیں جو انسانیت کے جذبے کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر حکومت اداروں بلکہ مظفرآباد کے سب فرزندوں کا فرض ہے یہاں پہلے والے مظفرآباد کا کلچر جو انسانیت کا چہرا تھا کو بحال کریں تو حکومت ادارے قبرستانوں سمیت پارک سپورٹس گراؤنڈ دیگر سہولیات کو سب سے پہلے پورا کرنے کا اہتمام کرے اور کم ازکم کسی کو قبر میں دفنانے سے روکتے ہوئے یہ ضرور سوچ لیں کیا تمہارے کسی پیارے کی لاش پاکستان کے کسی شہریادیہات سے بلکہ پوری دنیا سے واپس آئی ہے جو جہاں آباد ہو گئے وہاں ہی دفن ہوئے ہیں تو پھر کیوں وہ رویے اختیار کرتے چلے جارہے ہوں جو مکافات عمل بن جائیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 205 Articles with 71301 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2017 Views: 539

Comments

آپ کی رائے