سعودی غلاموں کی آواز

(محمد اشکان بھٹی, لاہور)
آج کے بظاہر ترقی یافتہ دور میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں روز گار کے لئے آنے والے غیر ملکیوں کا پاسپورٹ ائر پورٹ پر ہی کفیل اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد انسانیت کی تذلیل کا نا ختم ہونے والا سلسہ شروع ہو جاتا ہے اس کے بعد کفیل در حقیقت روزگار کے لئے آنے والے لوگوں کی زندگی کا مالک ہوتا ہے اس لئے کہ کفیل کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا اور ہر ماہ ایک خاص رقم کا تقاضہ کیا جاتا ہے ۔

جای سی رافائل

جای سی رافیل ایک انڈین صحافی ہیں تحقیقاتی صحافت میں ان کا نام انڈیا میں ایک معتبر حوالہ ہے وہ پچھلے ۳۸سال سے شعبہ صحافت سے وابسطہ ہیں اور مختلف ممالک میں اپنے صحافتی فرائض انجام دے چکے ہیں اسی طرح سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے اکثر ممالک میں صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لئے مقیم رہے ہیں۔

سعودی عرب میں جب وہ اپنے صحافتی فرائض کے سلسلہ میں مقیم تھے تو انہوں نے انڈین مزدوروں پر مقامی کفیلوں کے مظالم کا نزدیک سے مشاہدہ کیا اسی لئے انہوں نے ان مظلوموں کی آواز بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے کفیل سسٹم کے خلاف قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور چشم دید واقعات کی بنیاد پر انہوں نے کتاب SLAVES OF SAUDISلکھی اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں انڈیا سے کام کے لئے جانے والے لوگوں کے ساتھ غلاموں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے انہوں نے کفیل سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے اس سسٹم کو دور جدید کی بدترین غلامی قرار دیا ہے۔

کفیل سسٹم کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ قانون نہیں کہ روزگار کے لئے جانے والے غیر ملکی کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا جائے اور پاسپورٹ کے مالک کو کسی بھی طرح کی نقل و حرکت سے روک دیا جائے حتی اگر اسے کسی ھنگامی صورت حال میں اپنے ملک جانا پڑے تو بھی اس کو نا صرف پاسپورٹ واپس نہ کیا جائے بلکہ واپس جانے کے لیے اس سے خطیر رقم کا مطالبہ کیا جائے۔
لیکن آج کے بظاہر ترقی یافتہ دور میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں روز گار کے لئے آنے والے غیر ملکیوں کا پاسپورٹ ائر پورٹ پر ہی کفیل اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد انسانیت کی تذلیل کا نا ختم ہونے والا سلسہ شروع ہو جاتا ہے اس کے بعد کفیل در حقیقت روزگار کے لئے آنے والے لوگوں کی زندگی کا مالک ہوتا ہے اس لئے کہ کفیل کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا اور ہر ماہ ایک خاص رقم کا تقاضہ کیا جاتا ہے ۔

اگر کوئی اپنی محنت سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لے تو کفیل دوکان پر آ کر تما م تقم لے کر غائب ہو جاتا ہے اور کاروبار کرنے والا شخص بے چارہ مجبوری میں کچھ بھی نہیں کر سکتا اس صورت حال میں وہ مقامی پولیس کو بھی اطلاع کرتا ہے تو نا صرف مقامی عدالت اسے کوڑے کی سزا دیتی ہے بلکہ دوبارہ اسی کفیل کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناتا ہے جای رافائل نے روزگار کے متلاشیوں کو در حقیقت سعودی عرب کا غلام قرار دیا ہے جن سے سعودی جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں ۔

اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتے ہوئے احترام انسانیت کا درس دیتا ہے اسی طرح اسلام کسی بھی انسان پر ظلم کو گناہ عظیم سمجھتا ہے لیکن ان حالات میں سعودی حکمران نا صرف اسلام کے سنہری اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہم سعودی حکمرانوں کے تمام تر مظالم کو دیکھتے ہوئے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ ایک ھندو صحافی کلی طور پر کفیلوں کے مظالم کے ستائے لوگوں کی آواز بن رہا ہے ان حالات میں ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں یا ایک ھندو؟

ابھی تک سعودی عرب میں حاکم ظالمانہ کفیل سسٹم کے خلاف اسلامی ممالک میں سے کوئی آواز نہیں اٹھی اس کی وجہ یہی ہے کہ سعودی عرب نے مالی طاقت کے بل بوتے پر ہر اسلامی ملک میں پراکسی وار مجاہدین پال رکھے ہیں جو حرمین شریفین کی حرمت کو بنیاد بنا کر سعودی حکمرانوں کے تمام تر کرتوتوں پر ناصرف پردہ ڈالتے ہیں بلکہ ان کو اسلام کا نمایندہ قرار دیتے ہیں۔

جای رافائل کی آواز کتنی توانا ہے اور اس نے کفیلوں کے ستائے ہوئے لوگوں کی مشکلات کو کہاں تک کم کیا اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن ایک ھندو نے مظلوموں کی خاطر آواز اٹھا کر در حقیقت اسلام کے حکم پر عمل کیا ہے وہ حکم جس پر عمل کرتے ہوئے مسلمان گھبراتے ہیں۔
جای رافائل زندہ باد۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اشکان بھٹی

Read More Articles by محمد اشکان بھٹی: 11 Articles with 6192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2017 Views: 768

Comments

آپ کی رائے
good job
By: faisal, swat on Jun, 02 2017
Reply Reply
0 Like
بھائی میں سعودی عرب میں رہ کر آیا ہوں وہاں انسانیت نہیں حیوانیت ہے میں مسلمان تھا لیکن میرے ساتھ جو ہوا وہ میں ہی جانتا ہوں ہندو اور بنگلہ دیشیوں کی حالت تو بہت ہی خراب ہے۔میں سعوی عرب میں کفیلو ں کے ظلموں کو قریب سے دیکھا ہے لیکن بھائی ہم غلام کچھ بھی نہیں کر سکتے اس ھندو نے اگر کتاب لکھی ہے تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔حل یہی ہے کہ اپنے ہی ملک میں رہنا چاہئے اور سعودی عرب صرف حج کے لئے جانا چاہئے اور بس۔
By: عبدالکریم, muzafrgharh on May, 31 2017
Reply Reply
0 Like