خوشحالی کے نئے دور کا آغاز؟

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 ’’خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہونے کو ہے ․․․نیا بجٹ عوام اور کسان دوست ہے‘‘۔ یہ بیان پنجاب کے خادمِ اعلیٰ نے نئے بجٹ کے بارے میں جاری کیا ہے، چونکہ بات وزیراعلیٰ نے کی ہے، اس لئے نہ تو اب کوئی خوشحالی کے راستے کو روک سکتا ہے اور نہ ہی عوام اور کسانوں کی اس بجٹ دوستی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ ’’دور‘‘ تو ایک عرصے سے اپنا ہی ہے، بلکہ پاکستان اور پنجاب کی تاریخ میں جتنا وقت میاں برادران نے حکومت میں گزارا ہے، اس سے ان کی مقبولیت اور عوامی پذیرائی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ تین ادوار میں ایسا بھی ہوا کہ مرکز اور پنجاب میں بھی انہی کی حکومت تھی ۔ اگر مرکز میں کسی دوسری جماعت کی حکومت ہو اور صوبے میں دوسری جماعت کو موقع ملے تو عموماً یہ گلہ ہی رہتا ہے کہ مرکز راہوں میں روڑے اٹکا رہا ہے، یا ایک دوسرے پر تعاون نہ کرنے کے الزامات تو لگتے ہی رہتے ہیں۔ مگر جب ہر طرف خود ہوں اور خود بھی ایک ہی خاندان کے لوگ ہوں، بلکہ دو سگے بھائی ہوں، تو پھر ترقی اور خوشحالی کو روکنے کا خیال بھی دل میں نہیں آسکتا۔

میگا پراجیکٹس کو دیکھا جائے تو موجودہ حکومت اس کام میں بڑی مہارت حاصل کر چکی ہے، موٹر وے، میٹرو، اورنج ٹرین، لیپ ٹاپ، دانش سکول، سستی روٹی اور اسی قسم کے دیگر پروگرام۔ اگرچہ یہ میگا پراجیکٹس عوام کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں اور ان کا فائدہ بھی لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ مگر ٹھنڈے دل سے سوچنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پراجیکٹس پر رقم زیادہ خرچ آتی ہے اور فائدہ کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ مثلاً میٹرو کا فائدہ ابھی تین شہروں کے مخصوص لوگوں کو پہنچا، مگر کتنے ہی علاقوں کے فنڈز کاٹ کر یہاں لگا دیئے گئے۔ دانش سکول میں چند سو بچے داخل ہوتے ہیں ، جبکہ کون نہیں جانتا کہ پنجاب کے بھی ہر ضلع میں تقریباً پچاس ہزار کے قریب بچے سکولوں سے باہر ہیں، ایک دانش سکول پر اب ایک ارب روپے کے قریب خرچہ اٹھتا ہوگا، جبکہ ان کو چلانے کے لئے بھی کروڑوں روپے ماہانہ کی کہانی ہے۔ دوسری طرف بچوں کے لئے سکولوں کا وجود ہی نہیں۔ یہ کھلا تضاد ہی نہیں، بہت زیادہ استحصال بھی ہے۔ دانش سکولوں کے بارے میں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس سے شرح خواندگی میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں بچے چھٹی کلاس سے داخل کئے جاتے ہیں۔یہ لیپ ٹاپ اربوں روپے کے تقسیم ہو چکے ہیں، بہت سے لوگ دو مرتبہ بھی ہاتھ مار چکے ہیں۔ بہت سے مستحق (یعنی میرٹ پر اترنے والے نوجوان اچھی ملازمتیں بھی کررہے ہیں) ۔ لیپ ٹاپ کی تقسیم سے بھی شرح خواندگی میں اضافے کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ بڑوں کو ملتے ہیں۔ تاہم نوجوانوں کو رام کرنے اور عمران خان کے سحر سے نکالنے کے لئے کچھ جتن تو کرنے ہی تھے۔

جب سال بہ سال بجٹ آتا ہے، اور ترقی اور خوشحالی کے نئے ادوار کے آغاز کی بات ہوتی ہے تو عقل محو حیرت ہے کہ بیسیوں سالوں میں ترقی اپنی منزل کو کیوں نہیں پہنچی؟ جب بلاشرکت غیرے کئی حکومتیں آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہی رہی ہیں، تو حالات ترقی پذیر ہی کیوں ہیں؟ بجٹ میں اربوں روپے تعلیم پر خرچ کئے جاتے ہیں تو لاکھوں بچے سکولوں سے باہر کیوں ہیں؟ لاکھوں ہی ’’چھوٹے‘‘ کے طور پر چائلڈ لیبر کا شکار کیوں ہیں؟ اینٹوں کے بھٹوں والوں کے بچے سکولوں میں داخل کرنا قابلِ قدر اقدام ہے، مگر ایسے ہی لاکھوں بچے اور بھی ہیں۔ چند ہزار بچے دانش سکولوں میں پڑھانے سے کون ساتعلیمی انقلاب آگیا؟ فنڈز کو میگا پراجیکٹس پر لٹانے کی بجائے پورے علاقوں کے عوام کو فائدہ دیا جانا زیادہ ضروری تھا۔ ہسپتالوں کے معاملات بھی حکومت کے قابو میں نہیں آتے۔ خود لاہور میں بھی ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں، جو کسی پسماندہ علاقے کی روایت ہوتے ہیں۔ چھوٹے ، عام اور دوردراز شہروں کے ہسپتالوں میں سہولتوں کا بھی حکمرانوں کو بخوبی اندازہ اور اعتراف ہے، وہاں ذمہ داروں کی سرزنش کرتے اور مختلف اعلانات کرتے پائے جاتے ہیں۔ سہولتیں تو کم ہیں ہی، خود ہسپتال عوام کی ضرورت سے بھی بہت کم ہیں۔ پینے کے صاف پانی کے دعوے حد سے زیادہ ہیں، مگر اس کے لئے مختص فنڈز شاید کسی میٹرو وغیرہ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ جو بھی ہے، اب خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے، کیونکہ وزیراعلیٰ نے کہہ دیا ہے، وہ جو کہتے ہیں، وقت سے پہلے پورا کرکے دکھاتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 250610 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2017 Views: 517

Comments

آپ کی رائے