اردو ناول کی تنقید کا اہم نام ڈاکٹر ممتاز احمد خان

(صابرعدنانی, Karachi)
فکشن گروپ جیسی ادبی تنظیم سے وابستہ رہے جہاں علی حیدرملک، شہزاد منظر، محمدرضاکاظمی، شاہین بدر، صبااکرام، احمدزین الدین اور اے۔خیام جیسے ساتھی ملے۔ وہاں اپنے افسانے پڑھے۔ ناول پر تنقیدی مضامین سنائے، بڑی ادبی تربیت ہوئی۔ فکشن گروپ میں پورے پاکستان اور بیرون پاکستان سے آنے والے اہم ادیبوں اور نقادوں سے ملاقات رہی۔ فکشن گروپ ان کی زندگی میں موسم بہار تھا۔

یادوں کی مختصر کتھا
ممتاز احمدخان۔ والد اشفاق احمدخان
سابق وطن بریلی(یوپی)انڈیا۔ان کے والد نے دہلی میں آٹو ورکشاپ قائم کیا۔ بہت کامیاب رہے۔ پاکستان کی تحریک چلی۔ دہلی میں سب سے پہلے قرول باغ ہی میں فسادات شروع ہوئے مجبوراً سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آنا پڑا۔ سکھر میں قیام پذیر ہوئے۔ ماڈرن ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ پرنسپل عبدالصمد خان نے اسسٹنٹ ٹیچر کی حیثیت سے تقرر کردیا۔اسلامیہ کالج سکھر سے انٹرکامرس اور بی کام کیا۔ یہ پوسٹ گریجویٹ کالج تھا اور سندھ یونی ورسٹی سے ڈگری ملتی تھی۔ انھوں نے یہاں سے ایم اے (انگریزی ادب)کیا ایم۔اے معاشیات پرائیوٹ طور سے کیا۔ یہیں پرپرنسپل محمداحمدصاحب کی مہربانی سے انگریزی میں لیکچرار شپ ملی۔ یہاں کی یادیں ان کے لیے سرمایہ ہیں۔ ۱۹۷۲ء میں کالج قومیالیا گیا۔ تھوڑے عرصے بعد روہڑی، رانی پور اور مورو تبادلہ ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ مورو کے پرنسپل علی بخش شاہ صاحب بہت ملنسار، نفیس اور مہذب انسان تھے اور روہڑی (عطا حسین شاہ موسوی کالج) کے پرنسپل غلام رسول سومرواور علی بخش شاہ بہت یاد آتے ہیں۔دونوں بڑے پیارے محبت کرنے والے انسان تھے۔

پھرپریمیرکالج (شام)ناظم آبادکراچی تبادلہ ہوگیا۔ ۱۷ سال بعد پریمیر(صبح) میں تبادلہ ہوا اور ۱۹۹۸ء میں سینٹ پیٹرکس کالج (شام) میں بھیج دیا گیا جہاں سے وہ ۲۰۰۴ء میں واپس پریمیر کالج آگئے اور وہاں سے ۱۳ستمبر۲۰۰۶ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

ان کے لکھنے لکھانے کا سلسلہ سکھر سے کراچی تک چلتا رہا۔ فکشن گروپ جیسی ادبی تنظیم سے وابستہ رہے جہاں علی حیدرملک، شہزاد منظر، محمدرضاکاظمی، شاہین بدر، صبااکرام، احمدزین الدین اور اے۔خیام جیسے ساتھی ملے۔ وہاں اپنے افسانے پڑھے۔ ناول پر تنقیدی مضامین سنائے، بڑی ادبی تربیت ہوئی۔ فکشن گروپ میں پورے پاکستان اور بیرون پاکستان سے آنے والے اہم ادیبوں اور نقادوں سے ملاقات رہی۔ فکشن گروپ ان کی زندگی میں موسم بہار تھا۔ فکشن اور فکشن کی تنقید کے لیے فکشن گروپ کی چالیس سالہ خدمات بے مثال ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جمیل الدین عالی صاحب کی خواہش پر انجمن ترقی اردو پاکستان کے ماہنامہ قومی زبان کے مدیر بنے۔ آج کل صاحب فراش ہیں، اور قومی زبان کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوگئے ہیں۔آپ نے خاصے افسانے لکھے، البتہ کتاب نہیں آئی۔

ڈاکٹرممتاز احمدخاں کی ناول سے متعلق اہم کتب اور اردو یونی ورسٹی کی تاریخ پر مبنی مرتبہ کتاب ناول کی تاریخ اور اردو یونی ورسٹی کے ارتقائی مراحل کی بازگشت کے حوالے سے اہم کتب ہیں۔

ناول کی تنقید اور تحقیق کے ضمن میں بڑی بحثیں ہوچکی ہیں۔ کسی بھی ناول یا قصے میں کردار ایسی علامت ہوتا ہے جو ناول کو زندہ رکھنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔کیوںکہ انسان انسان میں دلچسپی رکھتا ہے اس لیے سماجی جانور کہلاتا ہے۔

ڈاکٹر ممتاز احمدخان نے صرف ناول کی تنقید کا بار سنبھالا ہوا ہے۔ وہ گزشتہ بیس سال سے اردو ناول کی عملی تنقید سے وابستہ رہے ہیں تاکہ اس بڑی صنفِ ادب کو تسلسل میں دیکھ کر اس کے اسالیب، رجحانات، تیکنیکوں، متنوع ماجروں اور نقطۂ ہائے نظریہ محاسن ومعائب کا جائزہ لیا جاسکے۔ انھوں نے اردو ناولوں کے علاوہ ناول کے مسائل پر بھی لکھا ہے۔جس کی ضرورت بھی تھی اس کی مثالیں یہ ہیں: ناول کی حشرسامانیاں، ناول کی تنقید وتحقیق کی صورت حال، جدید اردو ناول میں موضوعاتی تنوع، فنتسیائی (Novels of Fantasy) کے امکانات (بحوالہ اردو ناول کے چند اہم زاویئے)، ناول کی تفہیم وتعبیر کی دشواریاں، ناول کی عظمت اور ضرورت، پاکستانی ناول کا آئندہ ناول اپنی تعریفوں (Definitions) کے آئینے میں، اردو ناول۔ اختلافات وتحقیقی مغالطے وغیرہ۔

جو نقاد ناول پر لکھ رہے ہیں اور اس کی عملی تنقید کو ثروت مند بنارہے ہیں ان میں ایک ڈاکٹر ممتاز احمدخان بھی ہیں۔

ڈاکٹرممتاز کی ناول کی تنقید سے متعلق اہم کتب درج ذیل ہیں۔

اردو ناول کے بدلتے تناظر (ویلکم بک پورٹ، کراچی/مغربی پاکستان اردو اکادمی، لاہور)
پی ایچ ڈی مقالہ ’’آزادی کے بعد اردو ناول، ہیئت، اسالیب اور رجحانات(۱۹۸۷ء۔۱۹۴۷ء) انجمن ترقی اردو کراچی سے اور اس کا دوسرا ایڈیشن کئی اضافوں کے ساتھ وہیں سے ۲۰۰۸ء میں شائع ہوا
اردو ناول کے چند اہم زاویئے(انجمن ترقی اردو پاکستان)
اردوناول کے ہمہ گیر سروکار (فکشن ہاؤس)
اردو ناول (کرداروں کا حیرت کدہ) (فضلی سنز، کراچی)
ڈاکٹرممتاز احمد خان آج کل علیل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی انھیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: صابرعدنانی

Read More Articles by صابرعدنانی: 34 Articles with 39869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jun, 2017 Views: 2045

Comments

آپ کی رائے