رفیع عباسی ......... کلاس روم سے نیوز روم تک

(Rafi Abbasi, Karachi)

رفیع عباسی ......... کلاس روم سے نیوز روم تک !
ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی
میں سمجھتا ہوں کہ صحافی کا مزاح نگار بننا ایک مجبوری ہے۔ بطور صحافی اسے اپنی خبروں /رپورٹوں /تجزیوں میں Objectivity(معروضیت) کو مدّنظر رکھنا ہوتا ہے۔یہ تحریریں’’کھانچے بازی‘‘(Angling)کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔پس، وہ محفوظ طریقے سے، پوری آزادی کے ساتھ دل کی بھڑاس نکالنے کی خاطر طنزومزاح کے ’’کانسٹی ٹیوشن ایوینیو‘‘ (Constitution Avenue)پر آجاتا ہے۔ اب وہ اپنے قلم کو بند کر کے رکھ دیتا ہے اور نشتر ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے تا کہ معاشرے کی دکھتی رگوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر تا رہے۔

رفیع عباسی بھی یہی کچھ کررہے ہیںلیکن بڑی ہوشیاری کے ساتھ۔ جو اِن کی صحافت کے وار سہہ جاتا ہے وہ اِن کی ظرافت کے آگے ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر ان کا اسلوبِ نگارش ان کی شخصیت کی طرح ـ’’بیبا‘‘ ہے۔یہی وجہ ہے کہ موصوف بڑی معصومیت کےساتھ ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں کہ اگر سنجیدگی سے کہی جائیں تو قابل دست اندازی’’پُلس‘‘ قرار پائیں۔ مزاح کا خاصہ ہے کہ اس میں لکھے گئے ہر لفظ کے معنی پیاز کی طرح تہ درتہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔مزاح نگار اگر کسی کو ’’شریف‘‘ لکھ دے تو اس کا قاری حقیقت کی تلاش میں بابرہ شریف تک جاپہنچتاہے۔ مزاح نگاروں کے پیش امام حضرت اکبر ؔالہ ٰ آبادی نے غلط تھوڑی کہا تھا ؎
سرد موسم تھا ،ہوائیں چل رہی تھیںبرف بار
شاید معنی نے اوڑھا تھا ظرافت کا لحاف

’’نام میں کیا رکھا ہے‘‘ رفیع عباسی کی پہلی ادبی کاوش ہے جو ان کے مضامین /کالموں پر مبنی ہے۔کتاب کا نام انہوں نے شیکسپیئر سے بطور قرض حسنہ لیا ہے۔سولہویں صدی کے اس عظیم ڈرامہ نگار کا کہنا تھا ’’نام میں کیا رکھا ہے؟ گلاب کو کسی بھی نام سے پکاریں وہ ویسی ہی فرحت بخش خوشبو دے گا‘‘(’’رومیواینڈجولیٹ‘‘) ۔تاہم شیکسپیئر کے اس ڈائیلاگ کا جواب بیسویں صدی کے نامور امریکی مزاح نگار جارج ایڈ (George Ade) نے یوں دیاکہ’’نام ہی میں تو سب کچھ ہے۔ گلاب کو کسی بھی نام سے پکاریں وہ ویسی ہی فرحت بخش خوشبو دے گا۔۔۔ مگر سردیوں میں اس کی قیمت آدھی ہوجاتی ہے۔‘‘رفیع عباسی اسی مسلک کے پیروکارنظر آتے ہیں۔انہوں نے درست لکھا ہے کہ ’’نام بہرحال انسانی شناخت و پہچان کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔‘‘ میں اس میں اتنا اضافہ کروں گا کہ جب کوئی نام دلوں میں اپنی جگہ بنالیتا ہے تو پھرکہا جاتا ہے__ نام ہی کافی ہے ! مجھے خوشی ہے کہ رفیع عباسی نے نام بنانے کا سفر پورے طمطراق سے شروع کردیا ہے ع دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہرہونے تک!

اس کتاب میں جتنے مضامین ہیں اتنے ہی موضوعات ہیں۔اگر ان کی درجہ بندی کی جائے تو یوں سمجھئے کہ رفیع عباسی نے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی، تعلیمی، تاریخی، ثقافتی، صحافتی، ادبی، مذہبی،فلمی،علمی،حتیٰ کہ طبّی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں ایک کینیڈین برانڈ ’’شیخ الاسلام‘‘ سے سوال کیا ہے’’ٹوپی کے نیچے کیا ہے؟‘‘ میں رفیع عباسی سے سوال کرتا ہوں ’’بھیجے کے اندر کیا ہے؟‘‘ یقیناً وہاںکوئی ایسی چِپ (Chip)ہے جو انہیں بھنورے کی طرح مختلف النوع موضوعات کے پھولوں کا رس چوسنے پر اکساتی رہتی ہے۔آپ کو ان کے ہر مضمون میں غزل کے اشعار کی طرح ایک نیا موضوع ملے گا اور یہی میرے نزدیک اس کتاب کا سب سے بڑا وصف ہے۔پھر متن کی شگفتگی اور اختصار کے باعث قاری شروع سے آخر تک اس کی گرفت میں رہتا ہے۔

مزاح نگار مسائل حل نہیں کرتا، نہ وہ بگاڑ دور کرنے کا دعویٰ کرتا ہے (اگر مزاح پڑھ کر کسی غلط کار کو غیرت آجائے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوگا)۔مزاح نگار اولاً مسائل کا ادراک پیدا کرتا ہے(آئن اسٹائن کے مطابق مسئلے کا ادراک اس کے حل کی طرف پہلا قدم ہے) اور ثانیاًوہ اپنے قاری کو مسائل کے انبوہِ کثیر کے درمیان ہنسی خوشی جینا سکھاتاہے جسے رفیع عباسی نے ’’مک مکا‘‘ کا نام دیا ہے۔اس کی ایک مثال ان کے مضمون’’مچھرہمارے بھائی‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔مچھر انسان کا ازلی دشمن ہے اور اس کی ہولناکیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔رفیع عباسی مچھر کی کمینی حرکات کو یقینی برکات ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اگر طبّی نقطہ نظرسے دیکھا جائے تو پاکستان کے ہر شخص کی رگوں میں اپنے ذاتی خون کے علاوہ مچھر کا خون بھی دوڑرہاہے جو وہ اکثر و بیشتر بلڈ ٹرانسفیوژن کے اپنے قدرتی طریقہ کار کے مطابق ہماری رگوں میں منتقل کرتا رہتا ہے۔ مچھر دنیا بھر کے انسانوں کو انتقال خون کے ذریعے خونی رشتے میں منسلک کرنے کا فریضہ بھی رضاکارانہ طور پر انجام دیتا ہے۔یہ ایک صحت مند شخص کا خون چوس کر دوسرے کمزور شخص کے بدن میں منتقل کرتا ہے۔‘‘ اس سے مصنف کے تخیل کی بلند پروازی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔کتاب کے دیباچے سے علم ہوا کہ رفیع عباسی اسکول کے زمانے میں اپنے کلاس روم میں ساتھی طلبا اور اساتذہ کے ساتھ شرارت کرتے تھے۔ میرے خیال میں وہ اسی شرارت کو ظرافت کا روپ دے کر نیوز روم تک لے آئے ہیں۔

میں شاہر اہ مزاح پر رفیع عباسی کی آمد کا خیر مقدم کرتاہوں۔ اس کتاب کے مضامین میں پوشیدہ پیغام کو ایک شعر کے قالب میں ڈھالا جائے تو وہ یوں ہوگا ؎
ہر مصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
اس طرح گردش دوراں کو بھلایا میں نے
7جنوری 2013؁ء

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79456 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jun, 2017 Views: 789

Comments

آپ کی رائے