مزاح نگار رفیع عباسی

(Rafi Abbasi, Karachi)

مہناز حسن زیدی
انگریزی کے مقبول مزاح نگار مارک ٹوین (Mark Twein)کے الفاظ میں ’’مزاح کا خفیہ ماخذ خوشی نہیں بلکہ غم ہے۔ جنت میں مزاح نہیں ہوگا‘‘ ۔ ممتاز مزاح گو شاعر انور مسعود نے کہا
بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے
کوئی دیوار گرِیہ ہے ترے اشعار کے پیچھے

فکاہیہ کالم نگار مجید لاہوری مرحوم کے حالات زندگی میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وہ بچپن ہی سے پدرانہ شفقت و محبت سے محروم رہے تھے اور ان کو مجید لاہوری بنانے میں ان کی ہمت و استقامت اور غیروں کی معاونت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ رفیع عباسی اور مجید لاہوری کی زندگی میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے کیوں کہ رفیع بھی 4سال کی عمر سے ہی ان رشتوں سے محروم ہوگئے تھے۔ انسان زخمی روح کے ساتھ جینے پر مجبور ہوتا ہے لیکن بعض لوگ دکھوںکو اپنی طاقت بنالیتے ہیں اور عزم و حوصلے کے ساتھ جینے کی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں اور انہی میں سے اچھے مزاح نگار اور فنکار وجود میں آتے ہیں۔
رفیع نے 1975ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے انگریزی روزنامہ مارننگ نیوز سے صحافت کے عملی میدان میں قدم رکھا۔ 1981ء میں مارشل لاء مخالف سرگرمیوں کی بناء پر وہاں سے ان کی ملازمت ختم ہوگئی۔ اخبارات میں مضامین لکھنے کا آغاز 1982ء سے کیا۔ روزنامہ ڈان کے چیف فوٹوگرافر مجیب الرحمٰن کی کاوشوں سے روزنامہ حیدر راولپنڈی کے چیف ایڈیٹر رفیع بٹ نے انہیں اپنے اخبار کا کراچی کا بیوروچیف اور اسپیشل کارسپانڈنٹس مقررکیا۔ اس اخبار میں انہوں نے کراچی کی ڈائری کے عنوان سے ہفتہ وارکالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا ۔ وہاں سے وہ کراچی سے شائع ہونے والے جریدے ہفت روزہ ’’رابطہ‘‘ میں چلے گئے جہاں وہ شہر کی سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کے بارے میں’’سوشل راؤنڈ اپ ‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم تحریر کرتے تھے۔ ہفت روزہ رابطہ میں انہوں نے فنون لطیفہ سے وابستہ مختلف شخصیات جن میں فلم ساز شباب کیرانوی، مصور اقبال مہدی، کارٹونسٹ وائی ایل (یوسف لودھی) نامور خطاط انور انصاری، کارٹونسٹ جمشید انصاری، عزیزکارٹونسٹ، مصور انور جلال شمزا مرحوم کے انٹرویو اور مضامین بھی شائع کئے جبکہ ماضی کے اداکار اور فلمساز طاہر علی خان کی فلم ’’سنگتراش‘‘ کے ریلیز نہ ہونے کے اسباب کے بارے میں ایک فیچر تحریرکیا جو روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا۔

1990ء میں انہیں روزنامہ جسارت میں ملازمت مل گئی اور کچھ ہی عرصے میں وہ ہفت روزہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ کے بھی معاون میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگے اس میں ان کے مضامین بھی شائع ہونے لگے جنہیں خاطرخواہ پذیرائی ملی۔ ان کے بیشتر مضامین ٹائٹل اسٹوری بنے جن میں ’’امریکا کا تنخواہ دار ملازم، بطروس غالی‘‘، ’’امریکا برائے فروخت‘‘، بھارت میں اقلیتوں پر مظالم‘‘، عالمی نشریاتی اداروں کی خلائی جنگ‘‘، ’’سی آئی اے کا ایجنٹ صدام حسین‘‘ قابل ذکر ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت ، سہ روزہ دعوت دہلی، روزنامہ جنگ کراچی، روزنامہ جنگ لندن، اردو نیوز جدہ سعودی عرب، ہفت روزہ اخبار خواتین، ہفت روزہ رابطہ کراچی، ہفت روزہ سماعت کراچی، روزنامہ پاکستان ، روزنامہ جسارت کراچی، ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل، روزنامہ الشرق کراچی؍ دوبئی اور ادبی جریدے ماہنامہ ادب پاک کے علاوہ برطانیہ، یورپ، امریکا اور کینیڈا کے اردو اخبارات و جرائد میں ان کے 150سے زائد مضامین شائع ہوچکے ہیں ۔ چند سال قبل ماہنامہ ادب پاک انٹرنیشنل میں شائع ہونے والے مضمون ’’موبائل زدہ معاشرے کے باسی‘‘ کو پڑھ کر معروف ریسرچ اسکالر، ادیب اور شاعر پروفیسر ڈاکٹر احمر رفاعی نے ایک دوسرے ادبی جریدے طلوع افکارمیں مذکورہ مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں مستقبل کا بڑا مزاح نگار قراردیا ۔

1992ء میں جسارت چھوڑ کر وہ روزنامہ جنگ میں آگئے جہاں انہیں ملک کے نامور ادیبوں اور صحافیوں کی سرپرستی میں اپنی ادبی صلاحیتیں بڑھانے میںکافی رہنمائی ملی۔ ان کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین میں حالات و واقعات کا مکمل احاطہ و تجزیہ کرتے ہیں اور ان واقعات کے محرکات و کرداروں پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے جب وہ اپنی تفتیش و تحقیق کو تحریر میں سموتے ہیں تو ان کی تحریریں پڑھنے والوں کیلئے معلوماتی (informative)بن جاتی ہیں۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا ان کا مضمون ’’ٹیکنوکریٹ ڈیموکریسی‘‘ غلام محمد اور اسکندر مرزا کے دور اقتدار سے لے کرآج تک جمہوریت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ان کی مضمون نگاری کا ایک کمال یہ ہے کہ وہ چند سطر کی خبر کو اپنی ذہانت سے ایک لمبے چوڑے مضمون کی شکل میں ڈھال لیتے ہیں۔ ان کی بذلہ سنجی، طبیعت میں شوخی و شرارت اور تحریر میں اثر پذیری کو دیکھتے ہوئے معروف مزاح نگار اور صحافی نعیم ابرار نے ان کی ادبی رہنمائی کی۔ انہوں نے ان کے مضامین پر تعمیری تنقید کرتے ہوئے اور ان کی روزمرّہ کی گفتگو میں شوخی و شرارت کو محسوس کرتے ہوئے انہیں مزاح نگاری کی طرف مائل کیاجس کے بعد انہوں نے کے ٹی سی کے کنڈیکٹروں کے بارے میں چند سطری خبر کو ایک مزاحیہ کالم کی شکل دی اور چند روز بعد ’’کے ٹی سی کے کروڑ پتی کنڈیکٹر‘‘ کے عنوان سے ان کا پہلا مزاحیہ مضمون روزنامہ جنگ کراچی اور جنگ لندن میں بیک وقت شائع ہوا، اس کے بعد ان کی مزاح نگاری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد ایک دوسری خبر سے انہوں نے ’’حکمرانوں کی کچن ڈپلومیسی‘‘ کے عنوان سے ایک اور مضمون لکھاجس میں انہوں نے شگفتہ پیرائے میں سانحہ بہاولپور کے رونما ہونے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد سابق وزیر اعظم کی طرف سے ایک فوجی جرنیل کو تمغہ جمہوریت پہنانے کے اسباب کے بارے میں ’’پوشیدہ حقائق‘‘ بیان کئے۔ مذکورہ مضمون روزنامہ جنگ لندن اور بعد ازاں جنگ کراچی میں شائع ہوا جس کے بعد کراچی سے لندن تک سیاسی فضا میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد سے منسوب ایک سیاسی انکشاف پر مبنی چھ سطری بیان کو مذکورہ مزاح نگار نے ایک ایسا معرکۃ الآرا مضمون بنادیا جس کے بعد لندن میں مقیم ملک کے ایک با اثر سیاسی رہنما کو سانحہ بہاولپورکی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرنا پڑا۔

1972ء میں زمانہ طالب علمی کے دوران انہیں پریمیئرکالج کے شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر لطیف انور نے ان کی طبیعت میں شوخی و شرارتوں کی وجہ سے ’’Happy Prince‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ لطیف انور صاحب کو کیا معلوم تھا کہ ان کا ہیپی پرنس اپنے قلم کے ذریعے خوف و ہراس کی فضا کا شکار عوام کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرے گا۔ زیر نظر کتاب میں ان کے بیشتر وہ مضامین شامل ہیں جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف اخباروں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ لوٹا کریسی پر ہمیشہ سے تنقید ہوتی رہی ہے لیکن رفیع عباسی ’’لوٹا کریزی‘‘ کے عنوان سے مضمون تحریر کرکے سیاستدانوں کے پارٹیاں بدلنے کے (CRAZE)کو ایک نئے انداز میں سامنے لائے ۔ لطیف پیرائے میں تحریر کیا ہوا ان کا مذکورہ مضمون ملک کے ایک بڑے اخبارکے ادارتی صفحے پر شائع ہوا جسے ملک بھر کے ادبی، صحافتی و سیاسی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون کی اشاعت کے بعد مذکورہ اخبار کے ادارتی صفحے کے انچارج نے مضمون نگار کے مذکورہ مضمون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کا مضمون بہت اچھا تھا، بہت پسند کیا گیا، لیکن آپ آئندہ نہیں لکھئے گا‘‘۔ رفیع عباسی لکھنا تو نہ چھوڑ سکے بلکہ ان کی تحریروں میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید نکھار آتا گیا۔

حال ہی میں اسی اخبار کے ادارتی صفحہ پر ان کے شائع ہونے والے مضامین ’’ہمت نسواں مدد خدا‘‘، ’’ٹوپی کے نیچے کیا ہے‘‘، ’’آپریشن نہیں فزیو تھراپی‘‘ بہت پسند کیے گئے جبکہ الیکشن 2013ء کے سلسلے میں روزنامہ جنگ کے مڈویک میگزین میں شائع ہونے والے ان کے مضامین ’’پاکستانی سیاست میں جوتے کا کردار‘‘، ’’خواجہ سرا سیاست میں‘‘، ’’پاکستانی سیاست اور ہچ ہائیکنگ‘‘ اور ’’سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ‘‘ نے انتخابات کے دوران امن و امان کی مخدوش صورتحال میں بھی پڑھنے والے لاکھوں قارئین کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیریں اس کے بعد زیادہ تر مضمون نگاروں نے خواجہ سراؤں کی سیاست پر طبع آزمائی کی۔ کتّوں پر پطرس بخاری سمیت کئی مزاح نگاروں نے دلچسپ اور جامع مضامین لکھے لیکن روزنامہ جنگ کے میگزین کے صفحات پر ’’دیسی بدیسی کتّے‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مضمون نے اردو ادب کے جیّد نقّادوں کو چونکادیا اور انہیں رفیع عباسی کی صورت میں عصر حاضر کا بڑا مزاح نگار نظر آیا۔ مذکورہ مضمون پڑھ کر محمد اختر جونا گڑھی نے اس مضمون کو پطرس بخاری کے مضمون کا ہم پلّہ قرار دیا جبکہ نعیم ابرار نے انہیں اپنی تحریروں کو مزید پُرمزاح بنانے کی تلقین کی۔ ان کے مضامین پڑھنے اور ان کی تحریروں کو پسند کرنے والوں کا ملک کے طول و عرض میں ایک بڑا حلقہ پیدا ہوگیا۔
جہاں رفیع کی تحریروں نے ان کے لاتعداد چاہنے والے پیدا کئے، وہیں ان کا واسطہ ادبی حاسدین سے بھی پڑا۔ میدان صحافت میں بڑی قدآور شخصیات موجود تھیں، ان میں سےبعض لوگ خودکو پطرس بخاری، ابن انشاء، شوکت تھانوی، مشفق خواجہ، عظیم بیگ چغتائی، مرزا فرحت اللہ بیگ، مجید لاہوری، رشیداحمد صدیقی جیسے عظیم مزاح نگاروں سے زیادہ اعلیٰ پائے کا مزاح نگار قرار دلوانے پر مصر رہتے تھے لیکن جب رفیع عباسی ادبی میدان میں ایک مزاح نگار کے طور پر وارد ہوئے اور ان کے مضامین کو ہر جگہ پذیرائی ملنے لگی تو انہیںاپنے چاہنے والوں کے علاوہ اس قسم کے ادبی حاسدین سے بھی واسطہ پڑا لیکن وہ ادب کی دنیا میں ایک بڑے مزاح نگار کی حیثیت سے اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ رفیع عباسی کی سادگی اور طبیعت میں انکساری دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ شخص ایک ایسا باصلاحیت مزاح نگار ہوسکتا ہے جس کا تحریر کیا ہوا ہر جملہ قاری کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیردیتا ہے۔ درحقیقت یہ مقام ابن صفی مرحوم کے بعد رفیع عباسی کے حصے میں ہی آیا ہے کہ ان کے مزاح کی چاشنی سے پڑھنے والے بار بار محظوظ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لوگ ان مضامین میں لکھی ہوئی تجاویز و سفارشات کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی زیر نظرکتاب کا ہر مضمون ان کی اپنی روزمرہ کی زندگی کے حالات پر بھی پورا اترتا ہے اور اس میں دیئے گئے تمام واقعات زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔ملک بھر میں ان کا حلقہ احباب نہایت وسیع ہے جب کہ ان کے مضامین کی وجہ سے ان کے پرستار غیر ممالک میں بھی موجود ہیں۔

رفیع عباسی نے ایک اچھا مضمون نگار بننے کے لئے کافی محنت کی اورانہیں نامساعد حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سفر تنہا شروع کیا تھا لیکن راہ میں انہیں بے شمار ہم سفرملے جن میں جناب محمود شام، روزنامہ امروز لاہورکے ایڈیٹر اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر سید محمود جعفری، خان آصف مرحوم، ڈاکٹر رحیم الحق ، سید عبدالباری جیلانی، اعجاز ہاشمی (سابق فوٹوگرافر روزنامہ جسارت اور دی نیوز موجودہ سپرنٹنڈنٹ پولیس)،شاعر و دانشور ایڈووکیٹ جلیل ہاشمی کی محبت، شفقت اور مخلصانہ کاوشوں سے آج وہ ایک اچھے قلمکار کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے طنز ومزاح کے مضامین پرمشتمل زیر نظر کتاب ان کی پہلی کاوش ہے جس کی اشاعت میں اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی طنزومزاح کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ادبی معاصرین کی طرف سے یہ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے مزید زندگی دی اور ان کے قلم سے مزاح کی روانی یوں ہی جاری رہی تو مستقبل قریب میں مزاحیہ ادب میں ان کی کئی کتابوں کا مزید اضافہ ہوگا اور قارئین کو اچھی مزاحیہ تحریریں پڑھنے کو ملیں گی جو مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں پریشان حال،دہشت گردی سے خائف اور اس تمام صورتحال سے تھکے ہوئے ذہنوں اور ڈیپریشن کے شکار قارئین کو مسکراہٹیں دے کر ان کی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کریں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 81181 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jun, 2017 Views: 856

Comments

آپ کی رائے