آس

(Rao Anil Ur Rehman, Lahore)
محترم انشا صاحب میں آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہوں ، اور ان سے بہت خوش ہوتی ہوں ، اور میں یہاں پر لیاری میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر ہوں -

کوئی دو مہینے بعد میں کراچی گیا تو انشا جی کے دفتر ملنے پہنچا-

انشا بیٹھا کام کر رہا ہے - ہم گپ لگا رہے ہیں - ادھر کی باتیں ، ادھر کی باتیں بہت خوش -

ایک لڑکی آئی- اس کی صحت بہت خراب تھی ، اس کی آنکھوں میں یرقان اتنا نمایاں تھا کہ جیسے رنگ بھرا ہو پیلا

اس نے چھپانے کے لیے اپنی آنکھوں میں سرمے کی بہت موٹی تہہ لگا رکھی تھی تو کالا برقع اس نے پہنا ہوا ، آ کھڑی ہو گئی انشا جی کے سامنے -

اس نے ایک خط ان کو دیا وہ خط لے کر رونے لگا - پڑھ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا ، پھر میز پر رکھا ، پھر دراز کھولا -

کہنے لگا بٹی ! میرے پاس یہ تین سو روپے ہی ہیں - یہ تم لے لو ، پھر بعد میں بات کریں گے -

کہنے لگی ! بڑی مہربانی -

وہ بچکی سی ہو گئی بیچاری ، اور ڈر سے گئی ، گھبرا سی گئی -

اس نے کہا ، بڑی مہربانی دے دیں - وہ لے کر چلی گئی -

جب چلی گئی تو میں نے انشا سے کہا ، انشاءیہ کون تھی ؟
کہنے لگا پتا نہیں -
میں نے کہا ، اور تجھ سے پیسے لینے آئی تھی - تو تو نے تین سو روپے دے دیے تو اسے جانتا تک نہیں -

کہنے لگا ، نہیں میں اتنا ہی جانتا ہوں - یہ خط ہے - اس میں لکھا تھا !

محترم انشا صاحب میں آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہوں ، اور ان سے بہت خوش ہوتی ہوں ، اور میں یہاں پر لیاری میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر ہوں -

اور میری دس ہزار روپے تنخواہ ہے - میں اور میرے بابا ایک کھولی میں رہتے ہیں - جس کا کرایاپانچ ہزار روپے ہوگیا ہے ، اور ہم وہ ادا نہیں کر سکتے ، اور آج وہ بندہ سامان اٹھا کر باہرپھےنک رہا ہے -

اگر آپ مجھے تین سو روپے دے دیں تو میں آہستہ آہستہ کر کے سو-سو کر کے اتار دونگی -

میں کراچی میں کسی اور کو نہیں جانتی سوائے آپ کے ، وہ بھی کالم کی وجہ سے -
میں نے کہا ، اوئے بے وقوف آدمی اس نے تجھ سے تین روپے مانگے تھے تو تو نے تین سو دے دیے -

کہنے لگا ، میں نے بھی تو " دتوں میں سے دیا ہے ، میں نے کونسا پلے سے دیا ہے - "
اس کو بات سمجھ آ گئی تھی -

یہ نصیبوں کی بات ہے ، یعنی میری سمجھ میں نہیں آئی میں جو بڑے دھیان سے جاتا تھا ، ڈکٹیشن لیتا تھا ، کوششیں کرتا تھا جاننے کی -

کہنے لگا ، میں نے کچھ کالم لکھے تھے یہ ان کا معاوضہ تھا - یہ تین سو روپے میرے پاس ایسے ہی پڑے تھے - میں نے دے دیے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Anil Ur Rehman

Read More Articles by Rao Anil Ur Rehman: 88 Articles with 132016 views »
Learn-Earn-Return.. View More
24 Jun, 2017 Views: 396

Comments

آپ کی رائے