شاہی کے وفادار

(Tanvir Sadiq, Lahore)

اقتدار کے ایوانوں میں کوئی کسی کا مستقل دوست ، بھائی یا عزیز نہیں ہوتا۔حاکم وقت کوئی بھی ہو لوگ اس کے وفادار ہوتے ہیں۔حاکم تھوڑا کمزور ہوا تو اسی کے ساتھی، اسی کے وفادار، اسی کے عزیز و اقارب اس کی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں ،محلاتی سازشیں شروع ہو جاتیں ہیں اور حکمران اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ تاریخ ایسے گھناؤنے اور سفاک واقعات سے بھری پڑی ہے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ہندستان میں مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے ہر چیز عیاں ہو جاتی ہے۔ بہت کم حکمران ایسے ہیں جن کی اقتدار سے علیحدگی باوقار اور قابل عزت انداز میں ہوئی ہو، زیادہ تر کو قتل کیا گیا یا انہوں نے زندگی کے آخری ایام قیدو بند میں گزارے۔ یہ اقتدار کے مزے لوٹنے کا فطری انعام ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔آج کے نام نہاد جمہوری حکمران عوام کا نام لے کر اقتدار قائم کرتے ہیں۔وہ عوام کی خاطر نہیں اْقتدار کے لالچ میں ہر کام کرتے ہیں ۔ باعزت انداز میں حکومت چھوڑنے کا ان میں حوصلہ نہیں ہوتا۔وہ ا قتدار کے لالچ اور اور عوام کو انسان نہ سمجھنے کے اپنے طرز عمل کی وجہ سے برے انجام سے دو چار ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو حکمرانوں کے طرز عمل سے شاکی ہوتے ہیں اسے مکافات عمل کہتے ہیں۔
مسلمان سلطان سبتگین اور اس کے بیٹے سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں ہندستان پر حملہ آور ہوئے۔اور کچھ حصے پر اپنی حکومت قائم کی۔ 1030؁ میں محمود کی وفات پر اس کے بیٹوں میں اقتدار کی جنگ ہوئی۔اس جنگ میں مسعود نے اپنے بھائی محمد کی پہلے آنکھیں نکالیں۔ پھر اسے بے دردی سے قتل کیا اور اس کا سر کاٹ کر دربار میں اس کی نمائش کی گئی۔غزنویوں کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

غزنوی خاندان کے بعد غوری خاندان اقتدار میں آیا۔اس خاندان کا سربراہ غیاث الدین غوری اپنے بھائی شہا ب الدین غوری کے ساتھ حکمران ہوا۔ ان کی سلطنت میں موجودہ بنگلا دیش، ہندستان، افغانستان، پاکستان، ایران، تاجستکان اورترکمنستان سمیت بہت سے علاقے شامل تھے۔ 1186 ؁ میں شہاب الدین غوری پنجاب پر قابض ہوا اور چند سالوں میں پورے ہندستان پر حکمران ہو گیا۔1206؁ میں ہندستان سے واپسی پر جہلم سے ذرہ آگے سوہاوہ کے مقام پر مقامی کھوکھروں نے اسے قتل کر دیا۔

غوری کے بعد اس کے وارث ہندستان کے بادشاہ اس کے جرنیل قطب الدین ایبک، علاؤالدین التمش اور غیاث ا لدین بلبن ہوئے۔ یہ تینوں بنیادی طور پر غلام تھے اس لئے اس کے دور کو خاندان غلاماں کا دور کہا جاتا ہے۔خاندان غلاماں کے پہلے بادشاہ قطب الدین ایبک نے فقط چار سال حکومت کی اور چوگان کھیلتے ہوئے گر کر زخمی ہوااور فوت ہو کر لاہور میں دفن ہوا۔ایبک کے بعد ایک سال تک آرام شاہ کی حکومت رہی مگر التمش کے ساتھ دہلی کے قریب لڑائی میں ٓرام شاہ گرفتار ہوا اور مار دیا گیا۔چوبیس سال حکومت کرنے کے بعد 1236؁ میں التمش فوت ہوا تو سیاسی بے چینی اور قتل و غارت کا دور شروع ہوا، یکے بہ دیگرے التمش کے بیٹے رکن الدین فیروز، بیٹی رضیہ سلطانہ سمیت بہت سے لوگ اقتدار میں آئے اور مار دئیے گئے۔
یہ کشمکش کا دور 1266 ؁ میں ختم ہوا جب غیاث الدین بلبن ہندستان کا بادشاہ بنا۔1290؁ میں خاندان غلاماں کا خاتمہ ہو گیا اوراس کے بعد خلجی خاندان حکومت پر قابض ہوا۔خلجی خاندان کے بانی جلال الدین فیروز خلجی نے چھہ سال حکومت کی اور اسے اس کے سگے بھتیجے اور داماد علاؤ الدین خلجی نے اسے ایک دعوت پر بلا کر دھوکے سے قتل کیا اور خودبادشاہ بن گیا۔ علاؤ الدین خلجی نے بیس سال حکومت کی اور اس کی وفات کے بعد اگلے چار سال میں اس خاندان کے بہت سے لوگ اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں مارے گئے۔آخری خلجی فرمانروا قطب الدین مبارک خلجی اپنے ایک سپہ سالار خسرو خان کے ہاتھوں مارا گیا۔پنجاب میں موجود سپہ سالار غازی ملک نے فوری مداخلت کی ۔ خسرو خان اپنے انجام کو پہنچا اور غازی ملک نے سلطان غیاث الدین تغلق کے نام سے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔اس طرح خلجیوں کے بعد تغلق خاندان کا دور شروع ہوا۔

سلطان غیاث الدین تغلق نے پانچ سال حکومت کی اور ایک سازش کے نتیجے میں اس پر چھت گرا کر اسے مار دیا گیا۔محمد بن تغلق جس پر اپنے باپ کو مارنے کی سازش کا الزام تھا 26 سال برسر اقتدار رہا۔اس کے بعد 38 سال تک فیروز شاہ تغلق کا دور رہا۔جس کے بعد سول وار شروع ہوئی اور بہت سے تغلق حکمران قتل و غارت کا شکار ہوئے۔تیمور کے دہلی پر حملے کے دوران دہلی مکمل برباد کر دی گئی اور ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے۔ 1414؁ میں تیمور واپس جاتے جاتے دہلی کی سلطنت، ملتان کے گورنر خضر خان کے سپرد کر گیا۔جو سید خاندان کا پہلا بادشاہ تھا۔سید خاندان کا دور حکومت ایک پر امن دور تھا۔آخری سید تاجدار، علاؤالدین عالم شاہ ایک انتہائی کمزور بادشاہ تھا جس نے اپنا اقتدار خود ہی پنجاب کے نامور سپہ سالار بہلول خان لودھی کے سپرد کر دیا۔ تاریخ میں اس طرح اقتدار کی منتقلی کے و اقعات بہت کم ملتے ہیں۔لودھی خاندان کا دوسرا بادشاہ سکندر لودھی تھا۔لودھی خاندان کے تیسرے اور آخری بادشاہ ابراہیم لودھی کو مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر نے 1526 ؁ میں پانی پت کی لڑائی میں شکست دی اور ہندستان پر قبضہ کر لیا۔ ابراہیم لودھی لڑائی میں مارا گیا۔

بابر کے بیٹوں ہمایوں اور کامران کے درمیان بہت سی لڑائیاں ہوئیں۔ہمایوں نے آخری فتح کے بعد کامران کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر اسے اس کی بیوی اور خدمت گار کے ہمراہ مکہ بھیج دیا ۔شیر شاہ سوری کے بیٹوں اسلام شاہ ، عادل شاہ اور دوسرے عزیزوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی میں شیر شاہ خاندان کے بہت سے لوگ قتل ہوئے۔شہنشاہ اکبر اور اس کے بیٹے جہانگیر کے درمیان زبردست کشمکش رہی ۔ جہانگیر نے بغاوت کی اور باپ کو زہر دیا جس سے وہ قولنج کے مرض میں مبتلا ہوا اور مر گیا۔اکبر اپنے پوتے خسرو کو تخت کا وارث بنانا چاہتا تھا۔ مگر جہانگیر نے اقتدار کی جنگ جیتنے پر سگے بیٹے خسرو کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی۔

شاہجہان اور اس کے بھائی پرویز میں بھی اقتدار کی جنگ ہوئی ۔پرویز اتفاقاً بیمار ہو کر مر گیا اور شاہجہاں فاتح قرار پایا۔شاہجہان کے چاروں بیٹوں، دارا، مراد، اورنگ زیب اور شجاع کے درمیان زبردست جنگ ہوئی جس میں اورنگ زیب اپنے تینوں بھائیوں کو مار کر ہندستان کا شہنشاہ کہلوایا۔اورنگ زیب کے بعد مغلوں میں جنگ وراثت اس قدر ہولناک رہی ہے کہ بہت سے شہزادے چند دن کے لئے بادشاہ بنتے اور قتل کر دئیے جاتے رہے۔ آخری تاجدار بہادر شاہ ظفرتک کے المیہ حالات بیان کرنے کے لئے کئی صفحے درکار ہیں۔
ٓآ ج بھی بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ کھرا خاندان ہی کے دائیں بائیں نظر آئے گا۔ حکمرانوں کے ساتھ جو وفاداروں کی فوج نظر آتی ہے وہ حکمرانوں کی نہیں، حکومت کی وفادار ہوتی ہے ۔ یہی وفادارجو آج کے حکمرانوں کے سامنے سجدہ ریز نظر آتے ہیں، کسی بھی تبدیلی کی صورت میں انہی کے سب سے بڑے حریف نظر آئیں گے اسلئے کہ وفاداریاں شاہی کے لئے ہوتی ہیں۔ کسی شخص کے لئے نہیں۔اور زیادہ شور مچانے والے سب لوگ فطرتاً زیادہ ہلکے، زیادہ بے مروت ، زیادہ بے شرم، زیادہ بے حیا اور ہمیشہ شاہی کے زیادہ وفادار ہوتے ہیں کسی شاہ کے نہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے اور بدلتے حالات اس کی تصدیق کریں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 227223 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
05 Jul, 2017 Views: 1246

Comments

آپ کی رائے