شہدائے 1931کی یاد میں

(Ghulam Ullah Kiyani, )

آج شہدائے 1931کی یاد ایسے موقع پر تازہ ہورہی ہے جب پوراکشمیر لہو لہو ہے اور ہر دن یوم شہداء بن چکاہے۔85سال قبل 13جولائی کو جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر کے قتل عام کی طرح سرینگر میں معصوم کشمیریوں کو قتل کیا گیا۔آج بھارتی فورسز کشمیریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔انگریز ڈائر کی جگہ ہندو بنیئے نے لے لی ہے۔امرناتھ یاتریوں کو بھارتی فورسز نے قتل کر کے الزام کشمیریوں پرڈال دیا ہے۔ یہ بھی چھٹی سنگھ پورہ جیسا واقعہ ہے۔ برہان وانی اور ان کے رفقاء کی شہادت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر پیلٹ گن اور دیگر مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ایک سو سے زیادہ کشمیری شہید ہوئے۔ سیکروں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔ ہزاروں کی آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں یا متاثر ہیں ۔ ہزاروں ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں۔وادی میں نوجوانوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔آزادی پسند قائدین کو پابند سلاسل بنا دیا گیا ہے۔ادویات، بچوں کے دودھ، اشیائے خورد ونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔فوجی انخلاء کے بجائے مزید بھارتی فوج مقبوضہ ریاست میں داخل ہو رہی ہے۔تا کہ کشمیریوں کو بندوق کی نوک پر غلام بنائے رکھا جا سکے۔آزاد کشمیر سے جنگ بندی لائن کی طرف مارچ کے بجائے نام نہاد بیس کیمپ کے سیاستدان اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کر رہے ہیں۔ احتجاجی مارچ کے بجائے یہ آزاد کشمیر کے عوام کو خانہ جنگی کی تربیت دے رہے ہیں۔یہ بیس کیمپ کی یک جہتی کی مثال ہے۔

گزشتہ 8 دہائیوں سے کشمیری 13جولائی کویوم شہداء کشمیر کے طور پر مناتے ہیں اور آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں ۔ یہ عہد بھی کیا جاتا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کو شہداء کے قبرستانوں پراقتدار یا مراعات و مفادات کے محلات تعمیرکرنے کی اجازت دی جائے گی ۔اس آزادی کے لئے اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں ۔ہزراوں کو معذور بنادیاگیا۔1931 ء سے لاکھوں کشمیری مہاجرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔لاتعداد وادیوں،پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں، بیابانوں میں بے گوروکفن دفن ہوگئے ۔لاتعداد اپنے گھروں سے دور کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہیں ۔ 13جولائی کو ہر برس جموں وکشمیرکی خونی لکیر کے دونوں اطراف تقاریب کا انعقاد کیاجاتاہے ،ریلیاں اور جلوس نکالے جاتے ہیں ۔آزادی کے حق میں مظاہرے کئے جاتے ہیں۔اور شہداء کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاجاتا ہے ۔

سانحہ جلیانوالہ باغ کے 12سال بعد13 جولائی 1931 ء کو سرینگر میں ڈوگرہ فورسزنے 22 کشمیریوں کو اندھا دھندفائرنگ کرکے بے دردی سے شہید کردیا تھا۔کشمیریوں کے قتل عام کا یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب جموں وکشمیر میں ڈوگروں کے مظالم میں اضافہ ہوگیا۔مسلمانوں کے خلاف مظالم کے پے در پے واقعات رونما ہونے لگے۔23 اپریل 1931ء کو جب مسلمان عید الاضحی منارہے تھے ۔جموں کے میونسپل باغ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نمازعید ادا کرنے کے لئے جمع تھی۔ مفتی محمد اسحاق خطبہ دے رہے تھے ۔وہ اسلامی تاریخ کے حوالے دے رہے ہیں۔ جب ہندوپولیس انسپکٹر کھیم چند نے خطبہ عید فوری طور پر بند کرنے کا حکم سنایا۔جس پر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پھیل گیا اور وہ مذکورہ پولیس افسر کے خلاف کا رروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے مسلمانوں کے احتجاج اور مطالبے پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ پر امن مظاہرین کو گرفتار کرلیا،اس دوران جموں کے سانبہ علاقے میں مسلمانوں کو پانی کے چشمے پر جانے سے روک دیاگیا۔اور 4 جون کو ایک مسلمان قیدی فضل داد کو پولیس اہلکار لامبارام نے قرآن پاک کی تلاوت سے روک دیااوراس کی بے حرمتی کی ۔جس کے خلاف جموں وکشمیر میں ہڑتال کی گئی ۔جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے 25 جون کو وادی کشمیر میں شدید مظاہرے ہوئے ۔مسلمانوں کی بڑی تعداد سرینگر کی خانقاہ معلےٰ کے باہر جمع ہوئی۔جس میں مورخین کے مطابق 60ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔جلسے کی آزاد کشمیر کے سابق صدر مولانا میرواعظ یوسف شاہ نے صدارت کی ۔جبکہ چوہدری غلام عباس ،سردار گوہررحمان ،شیخ عبدالحمید ،خواجہ غلام نبی گلقار ،خواجہ غلام نبی عشائی ،آغا حسین شاہ جلالی ،مولانا عبدالرحیم ،مفتی جلال الدین وغیرہ نے خطاب کیا ۔اسی دوران ایک نوجوان سٹیج پر آیا اور خطاب شروع کردیا۔اس نوجوان کا تعلق کسی نے پنجاب اورکسی نے اترپردیش اور کسی نے پشاور سے جوڑا ہے ۔تاہم سب کو اس کے نام پر اتفاق ہے ۔عبدالقدیر نامی اس نوجوان نے اپنے خطاب میں جذباتی انداز میں کہا ’’ مسلمانو!جلسے جلوس سے کچھ بھی نہ ہوگا۔مسلمانوں پر مظالم بند نہیں ہونگے ۔اب عمل کا وقت آگیا ہے ۔ہم قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتے ‘‘۔ نوجوان نے ڈوگرہ شاہی محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ اٹھو اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادو۔:: اس تقریر نے لوگوں میں جوش وجذبہ پیدا کردیااور لوگ اٹھ کھڑ ے ہوئے اور شاہی محل کی طرف دوڑنے لگے ۔تاہم کسی مورخ نے اس کے بعد کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔اس دوران ڈوگر ہ فورسز نے عبدالقدیر کوجھیل ڈل کی ایک ہاؤس بوٹ سے گرفتار کرلیا ۔اس کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتاہے کہ وہ کسی انگریز سیاح کے ساتھ کشمیر آیا تھا اور اس کے باورچی کی خدمات انجام دے رہا تھا ۔اس نوجوان کی گرفتار ی کے چرچے دور دور تک ہونے لگے ۔اور جب عدالت نے اس کے خلاف کارروائی شروع کی تو لوگوں کا ہجوم امڈآیا۔عبدالقدیر کامقدمہ ڈسڑکٹ جج کرشن لعل کچلو کی عدالت میں سنا جارہا تھا ۔لوگ عبدالقدیر کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار تھے ۔جج نے گھبرا کر مقدمہ کی شنوائی عدالت کے بجائے سنٹرل جیل میں شروع کردی ۔12 جولائی کو عمائدین شہر کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عبدالقدیر کے مقدمے کوکھلی عدالت میں سناجائے ۔13 جولائی کو مقدمہ کی شنوائی سنٹرل جیل میں شروع کردی گئی۔لوگوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہوگئی ۔لوگ نعرہ تکبیر اﷲ اکبر اسلام زندہ باد ،عبدالقدیر زندہ باہ کے نعرہ لگانے لگے۔اس دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا۔مسلمانوں نے جیل کے باہر نماز ادا کرنے کیلئے اذان دینے کا فیصلہ کیا،اذان دینے کے لئے ایک نوجوان اٹھا تو ڈوگرہ فورسز نے اُسے گولی مار کرشہید کردیا۔اس طرح اذان مکمل کرنے تک 22نوجوانوں کو شہید کردیاگیا۔
 
13 جولائی کشمیر کی تاریخ میں جدوجہد آزادی کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔شیخ محمد عبداﷲ اپنی خودنوشت آتش چنار میں لکھتے ہیں کہ اس دن ایک زخمی نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا، ’’شیخ صاحب ہم نے اپنا فرض ادا کردیا،اب آپ کی باری ہے‘‘، اور یہ الفاظ کہنے کے بعد ہی شہید ہو گیا،شیخ محمد عبداﷲ نے محاذ رائے شماری کے پلیٹ فارم سے کشمیر کی آزادی کے لئے تحریک چلائی ۔برسوں جیل بھی کاٹی لیکن بالآخرنہروکی دوستی اور اقتدار کی لالچ سے وہ مغلوب ہو گئے۔کشمیری آج اپنی قیادت کی اناپرستی،مفادپسندی ،اقتدار اور مراعات کے حرص کی سزا بھگت رہے ہیں ۔موجود ہ مسلح جدوجہد کے دوران بھی بعض کشمیریوں نے یک طرفہ اور ذاتی مفادیااپنی پارٹی ،تنظیم یا علاقے کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے ۔مشاورت سے کنارہ کشی کی ۔پارٹی بالادستی کا سہارالیا۔ڈیڑ ھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد تعمیر کیں ۔جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اب بھی کفارہ ادا کرنے کا وقت ہے ۔ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھاجاسکتاہے ۔شیخ عبداﷲ کے حشر کوسامنے رکھ کراپنی پالیسی پر ازسر نوغور کرنا غلط نہ ہوگا ۔یوم شہداء کشمیر صرف تقاریر، جلسے جلوسوں،نعروں کانہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے ،1931 ء سے اب تک لاکھوں کشمیریوں نے قربانیاں پیش کی ہیں ،ان قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا تو کشمیری سوائے رسوائی کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہو گا کہ شہداء کے مشن کو جاری رکھنے کیلئے اتحاد واتفاق کے ساتھ خلوص ونیک نیتی سے مؤثر وبا مقصد عملی اقدامات کئے جائیں ۔ تحریک آزادی کو منجمد کرنے یا آئندہ نسلوں پر چھوڑنے کے بجائے سیاسی، عسکری، سفارتی اور میڈیا سمیت تمام محاذوں پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔اور یکسوئی سے تحریک سے وابستہ لوگ متحرک کردار ادا کریں۔جو لوگ مفادات اور مراعات حاصل کرنیکے لئے یا دیگر بہانوں سے منظرسے ہٹ گئے اور خود سائیڈ لائین ہو گئے یا اپنے حال میں مست ہوئے، وہ بھی اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے کردار پرنظر ثانی کریں۔اپنے وعدے اور دعوے یاد کریں۔ ’’ بیس کیمپ‘ کا کردار بھی متعین کرنا ہو گا۔ ’’ تم بھی اٹھو اہل وادی‘‘کے ترانے بجانے والوں کو بھی جواب دینا ہو گا کہ وہ کیوں خاموش ہو گئے اور اقتدار اور کرسی کے لئے شہداء کی قربانیوں کو کیوں بھلا دیا گیا۔آج بلا شبہ اظہار یک جہتی ہوتی ہے لیکن عملی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے لازوال قربانیوں سے جوڑنا نا مناسب ہے۔ جنگ بندی لکیر کی طرف مارچ یا لاکھوں انسانوں کا کوئی دھرنا ابھی تک نظر نہیں آیا۔ ہزاروں کی تعداد بھی پوری نہیں ہو سکی ہے۔ یہ وقت ہے جب آزاد کشمیر کے با ہمت اور مخلص عوام کی خواہش پر یہاں کے سیاستدان بھی لبیک کہیں۔ متحد ہو کر جدوجہد کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیں۔ ملین مارچ کی تیاری کریں۔ تا کہ وادی اور جنگ بندی لکیر پر معصوموں کے قتل عام میں مصروف بھارت تک پیغام جائے۔ وہ اس للکار کو سنے اور اپنی جارحیت پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان کی طرف دیکھنے اور سب کچھ اسلام آباد پر ڈالنے سے کیا ہو گا۔ پاکستان ایک فریق ہے اور وکیل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت سے آگے کوئی اعتراف کرنا سیاسی اور سفارتی تنہائی سمھی جاتی ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشتگردی بھی اس سے کم نہیں ہوتی۔ اس لئے کوئی غیر روایتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ شہدائے کشمیر ایسے موقع پر منایا جا رہا ہے کہ جب کشمیریوں نے ابھی ابھی برہان وانی کا پہلا یوم شہادت منایا ہے۔آزاد کشمیر نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ آر پار کشمیریوں کی قربانیاں تقاضا کرتی ہیں کہ قوم مزید اتحاد اور اتفاق سے آگے بڑھنے کی فکر کرے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219485 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
12 Jul, 2017 Views: 552

Comments

آپ کی رائے