بھارتی ٹائی ٹینک ڈبونے کیلئے امریکی دوستی ہی کافی ہے (پہلی قسط)

(Sami Ullah Malik, )

اقتصادی راہداری اہم شعبوں میں تعاون پرمبنی اقدامات اور منصوبوں کاایساجامع پیکیج ہے جس میں اطلاعات نیٹ ورک،بنیادی ڈھانچے، توانائی،صنعتیں،زراعت،سیاحت اورمتعدد دوسرے شعبے شامل ہیں۔ اقتصادی راہداری منصوبہ صرف چین اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئےحکمت عملی کا نام نہیں بلکہ یہ اس پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم کرداراداکرے گا۔اس اہم منصوبہ کی تکمیل کیلئے پاکستانی آرمی کے ایک میجرجنرل، تین بریگیڈیئرفوج کی نو بٹالین اس منصوبے کی تعمیرمیں مکمل سیکورٹی فراہم کررہی ہیں کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ چینی صدر کے وژن کی عکاسی ہے،جس میں چین کی معروف کمپنیاں اور تجربہ کار سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔
پاک چین تعلقات کومزیدمضبوط کرنے کیلئے۱۵مارچ۲۰۱۷ء کوآرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ تین روزہ سرکاری دورے میں چین کی اہم سیاسی اورعسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔بیجنگ میں آرمی چیف کی چین کے ایگزیکٹو نائب وزیراعظم زینگ گاولی اوروائس چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن،چیف آف جوائنٹ سروسز،کمانڈر پیپلزلبیرشن آرمی کادفاعی تعاون پرچینی قیادت کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ خطے میں سیکیورٹی اوراستحکام کیلئےپاکستان اپناکردارادا کرتا رہے گا۔ آرمی چیف کی اہم چینی عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں پاک چین دفاعی اور عسکری تعاون پربھی اتفاق کیا گیا۔ چینی قیادت نے خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کوسراہا،چینی قیادت نے خطے کی سیکیورٹی اورجیوپولیٹکل صورتحال کے تناظرمیں دوطرفہ تعلقات کومزید مضبوط بنانے پرزوردیا۔چینی قیادت نے داعش،ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ممکنہ ابھرتے خطرات اور پاکستان میں القاعدہ، پاکستانی طالبان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے نیٹ ورکس کے خاتمے کی کوششوں کوبھی سراہا۔

ادھرسی پیک کوعملی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ۱۳مئی ۲۰۱۷ء کوبیجنگ میں ون بیلٹ اینڈ ون روڈ فورم کاآغاز کااعلان کرکے اپنے مستقبل کے معاشی پروگرام کااعلان کردیا۔جہاں افتتاحی سیشن سے چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر ممالک کے سربراہان اوررہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ ترکی اور روس نے بھی ون بیلٹ اینڈ ون روڈ منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے شمولیت کااعلان کیا۔چینی صدر نے اقوام عالم پریہ واضح کیا کہ پاک چین راہداری منصوبہ نہائت اہمیت کا حامل ہے اورون بیلٹ اینڈون روڈکی بنیادہے جس سےخطے میں پائیدارامن میں مددملے گی۔ ترک صدررجب طیب اردوان نے فورم سے خطاب میں کہاون بیلٹ اینڈون روڈ فورم سے دنیاکامستقبل وابستہ ہے۔روسی صدرولادیمرپیوٹن نے ون بیلٹ اینڈون روڈ فورم کی بھرپورحمایت کرتے ہوئے کہااکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بیلٹ اینڈروڈ فورم اہم منصوبہ ہے اورہم سرمایہ کاری کیلئے تیارہیں ۔اقوا م متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گترس نے خطاب میں کہا دنیامیں پائیدارامن کیلئےسرمایہ کاری کی ضرورت ہے،موسمیاتی تبدیلیاں سنگین خطرہ ہیں۔عالمی رہنماؤں نے اس امید کا اظہارکیا،فورم سے تعلیم،سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں روابط کو فروغ ملے گا۔ بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ فورم میں۲۹ممالک کے سربراہان کی شرکت نے اس کی کامیابی پرمہرثبت کردی۔
اب چین کی ابھرتی ہوئی قوت اگرکسی سے نہیں دیکھی جارہی تووہ بھارت ہے۔ اِدھرچین چاہتاہے کہ ایشیاکوکسی نہ کسی طورایک بھرپوربلاک کی شکل میں عالمی معیشت کے بڑے عنصرکے طورپرسامنے لائے اوردوسری طرف نئی دہلی کے پالیسی سازچاہتے ہیں کہ چین کی قوت میں اضافے کی رفتار روکی جائے۔ سوال چین کی ترقی روکنے کاہے مگراِس کے نتیجے میں خود بھارتی ترقی بھی متاثرہوسکتی ہے مگرفی الحال اس کاخیال کسی کونہیں۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیاکے چندممالک کے ساتھ مل کرچین کے خلاف اتحاد بنانے کی سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔ سنگا پورکے ساتھ حالیہ فوجی مشقیں اِسی سلسلے کی ایک کڑی تھیں۔ اس وقت بھارتی قیادت چین کے خلاف کس حد تک جاناچاہتی ہے اورکیا کرنا چاہتی ہے؟علاقائی سطح پراتحاد کیلئے کی جانے والی کوششیں چین کاراستہ روکنے سے متعلق کیاہیں؟
چین کی تیزی سے پنپتی ہوئی معیشت نے ایشیا کی کئی اقوام کوپریشانی سے دوچارکردیاہے۔ وہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کاسامنا کرنے کیلئے اتحاد کی راہ پرگامزن ہیں۔ جنوبی اورجنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں کا کہناہے کہ عالمی معیشت وسیاست میں چین کی مستحکم ہوتی ہوئی پوزیشن متعدد ممالک کیلئے پریشانی کا سبب ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طور چین کو محدود کیا جائے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چین کا سامنا کرنے کیلئے امریکا پرکلی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کا سامنا کرنے کیلئے متعدد ممالک امریکااوریورپ پر انحصار کیے ہوئے تھے مگر اب انہیں اندازہ ہوچلا ہے کہ ان دونوں خطوں کے اپنے مسائل اوراندرونی سطح پر شدید کشمکش کی وجہ سے ان پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔

بھارت، جاپان، ویتنام اور آسٹریلیا خاصی خاموشی سے آپس میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ دفاعی امور کے حوالے اشتراکِ عمل کی بنیادیں وسیع اورمضبوط کی جارہی ہیں مگریہ سب کچھ اس احتیاط کے ساتھ کیاجارہاہے کہ چین کوبرانہ لگے۔ کسی رسمی اتحادکی بات فی الحال کوئی نہیں کررہا۔ایشیا وبحرالکاہل کے خطے کے مرکزی سیکورٹی فورم شینگری لا ڈائیلاگ کادوجون کوافتتاح کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا کہ آج کی جری دنیا میں ہم اپنے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے بڑی طاقتوں پرانحصار پذیرنہیں رہ سکتے۔ اپنی سلامتی اورخوشحالی یقینی بناناخودہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ سمجھناہوگا کہ دوستوں اور پارٹنرزکے ساتھ اجتماعی قیادت کے بوجھ کوبانٹنے سے قوت بڑھتی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم کے یہ الفاظ تین روزہ کانفرنس کے دوران گونجتے رہے اور ان پرتبادلہ خیال بھی کیاجاتارہا۔

ایشیا وبحرالکاہل کے خطے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام اورتجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے تحت کام کرنے والی انتظامیہ کے حوالے سے اور ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ سے امریکاکے الگ ہوجانے پربداعتمادی کی فضا پیداہوئی ہے۔ رہی سہی کسر ماحول سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکاکی علیحدگی نے پوری کردی۔ ایشیا وبحرالکاہل کے خطے میں بہت سوں کویہ اندیشہ لاحق ہے کہ امریکاخطے کی سلامتی کے حوالے سے اپنے روایتی کردار پرنظرثانی کرتے ہوئے خود کومعاملات سے الگ کررہا ہے۔ ایسی صورت میں اس خطے کیلئے سیکورٹی کا معاملہ خطرناک اورپریشان کن صورت اختیار کرجائے گا۔امریکا فوری طورپرکوئی ایساتاثرنہیں دیناچاہتا کہ وہ بحرالکاہل کے خطے سے یکسر لاتعلق ہوچکاہے۔ سنگاپورفورم میں امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا کہ امریکا اب بھی ایشیا وبحرالکاہل کے خطے کی سیکورٹی کواپنی ذمہ داری کے طورپر دیکھتاہے۔ امریکابحیرہ جنوبی چین کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے غافل نہیں رہے گا۔(جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231187 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2017 Views: 418

Comments

آپ کی رائے