منافق(پارٹ3)

(Sana, Lahore)

جنت کو چینج کروا کے اور گھر کے دوسرے کام ختم کر کے اب شیزرے کو نمرہ سے بات کرنی تھی ۔ نمرہ کے کمرے کے باہر پہنچ کے شیزرے کے قدم جیسے جم گۓ تھے اندر سے باتوں کی آواز آ رہی تھی پر آواز صرف نمرہ کی تھی وہ غالباً کسی سے فون پہ بات کر رہی تھی ۔۔۔ہاں تم سہی کہتے ہو اس گھر میں کسی کو میری پروا نہیں ہے جہنم لگتا ہے مجھے یہ گھر اور اس گھر کے لوگ عذاب لگتے ہیں پتا نہیں اللہ نے مجھے اس گھر میں کیوں پیدا کیا صرف تم ہو جو مجھے چا ہتے ہو۔ شیزرے کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی کہ نمرہ کے پاس موبائل کہاں سے آیا اور نمرہ یہ سب کس کو کہہ رہی ہے ۔ نہیں اللہ پاک جی میری بچی نہیں میرے مولا ۔شیزرے کا دل کیا تھا اندر جا کے نمرہ سے موبائل لے اور اسے بہت زور سے تھپڑ مارے اتنی زور سے کہ وہ جاگ جائے کیوں کہ وہ ابھی صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچ کہ سو ہی رہی ہے ایسے خوابوں کی دنیا میں جن کی کوئ حقیقت نہیں ہے۔ نمرہ تم تو میرے دامن پہ لگی گندگی کو دھو سکتی تھی ۔نہیں میری جان میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی ۔شیزرے نے سوچ لیا تھا وہ نمرہ کو بہت پیار سے سمجھائے گی ۔نمرہ ابھی بچی ہے ابھی تو میڑک کیا ہے اس نے ابھی اس کا ذہن بہت کچا ہے۔

کمرے سے آواز آنا بند ہو گئ تھی بات ختم ہو چکی تھی شیزرے ابھی نمرہ کو کچھ بھی ظاہر نہیں کروانا چاہتی تھی کہ وہ جانتی ہے کے نمرہ کسی لڑکے سے بات کرتی ہے ۔کمرے کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوتے ہی جو آنکھوں کے سامنے تھا شیزرے اس پہ بلکل حیران نہیں ہوئ تھی نمرہ کتاب کھولے کچھ پڑھ رہی تھی اولاد بھی کیا چیز ہے ہر گزرے وقت کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے ۔آنکھوں میں شدید دکھ کے باعث چبھن ہو رہی تھی پر ابھی کچھ بھی نمرہ پہ ظاہر نہیں کرنا تھا۔ نمرہ میری جان سوئ نہیں۔ دیکھ نہیں رہیں پڑھ رہی ہوں اب اس گھر میں کچھ پڑھ بھی نہیں سکتے ۔ پڑھ سکتی ہو کیوں نہیں پڑھ سکتی اچھا ادھر آؤ میرے پاس میری گود میں سر رکھو ۔ماما کیا ہوا ہے آج میرا اتنا خیال کیوں آرہا ہے آپ کو کیا ہوا آ ج پھر کہیں بابا نے روم سے تو نہیں نکال دیا ۔شیزرے کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں کہ وہ یہ بات کیسے جانتی ہے ۔ایسے کیا دیکھ رہی ہیں اکثر راتیں آپ کو روم سے باہر گزارتے دیکھا ہے میں نے کبھی لان میں تو کبھی سٹور روم میں بابا آخر کیوں کرتے ہیں ایسے ۔شیزرے کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ نمرہ کو کیا کہے پر اسے یہاں خاموش نہیں رہنا تھا نمرہ میری جان یہ بابا اور میرا معاملہ ہے لیکن وہ آپ کے بابا ہیں ان کے بارے میں برا نہ سوچا کرو بہت پیار کرتے ہیں آپ سے ۔ماما پیار کرتے نہیں ہیں کرتے تھے شاید میں سات سال کی تھی جب ہم آخری بار ساتھ باہر گۓ تھے بابا تب بہت اچھے تھے آپ ہنستی تھیں تب بابا کیسے آپ کے لیے سب سے لڑ پڑتے تھے یاد ہے ماما جب دادو نے آپ کو مریم پھوپھو کے سامنے ڈانٹا تھا جب پھوپھو کی انعم نے پلیٹ توڑ دی تھی اور اس کے پاؤں پہ لگ گئی تھی دادو آپ کو بول رہی تھیں کہ آپ نے پلیٹ نیچے کیوں رکھی بابا کیسے آپ کے آگے کھڑے ہو گۓ تھے آپ کواپنے ساتھ کمرے میں لے آئے تھے کہ میری بیوی کو کوئ کچھ نہ بولے لیکن اب اب ماما ہم سب غلط ہیں ان کے لیے ان کو آپ کو سناتے ہوئے اور ہمیں بولتے ہوئے بلکل احساس نہیں ہوتا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana

Read More Articles by Sana: 13 Articles with 19106 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2017 Views: 1798

Comments

آپ کی رائے
waiting for next part????????????????//
By: Abdul Kabeer, Okara on Aug, 13 2017
Reply Reply
0 Like
outstanding story...boht achi ja rhi hai story......
By: Abdul Kabeer, Okara on Aug, 04 2017
Reply Reply
1 Like
Thank you..
By: Sana, Lahore on Aug, 04 2017
0 Like