منافق(پارٹ2)

(Sana, Lahor)
یہ کہانی آج کل کے حالات کے بارے میں ہے ہم دوسروں کو منافق کہتے ہیں پر منافقت ہم میں بہی ہے ۔۔۔۔۔غور کرنے کی دیر ہے۔۔

نی مر جانیے جدوں دی توں آئ ائیں رول دیتا اے سانوں نی سندی کیوں نہیں شیزرے خاموشی سے اماں جی کی باتیں سن رہی تھی اور پودں کو پانی ڈال رہی تھی یہ خاموشی اسنے اپنے لیے چن لی تھی کوئ کچھ بھی کہے اسے خاموش رہنا تھا۔ نیں کون پچھلا مر گیا اے تیرا بول دی کیوں نہیں ۔ماں جی میرے پچھلوں کو کچھ نا کہا کریں وہ تو پہلے ہی شیزرے تڑپ کر رہ گئ تھی ۔نی کیوں نا کہواں اپنا عزاب ساڈے اتے پا چھڈیا اے ۔شیزرے بےبسی سے آسمان کی طرف دیکھ پا ئ تھی۔کی ویکھن ڈی ایں اسمان ول میرے ول ویکھ منہوس ماریے تو کیوں نہیں میرے پتر نوں سکون نال رہن دیندی ۔اماں جی وہ پھول نمرہ لائ تھی اور اسی نے رکھے تھے ۔لو دسو ماں کم سی تیاں وی شروع ہو گیاں نے ۔اماں جی وہ کل اس کی سالگرہ تھی ریحان بھول گۓ تھے اس نے رکھ دیے میں نے اسے بہت ڈانٹا ہے اماں جی۔ ہاے ہاے ایہو جۂی اولاد جیہڑی پیو کولوں بدلے لئے گی پر اودا وی کوئ قصور نہیں ماں دا اثر تے پینا سی ریحان نال گل کراں گی دماغ ٹھیک کرے اودا اماں جی میری بات سنیں اماں جی رکیں ۔
یا اللہ رحم فرما نمرہ تم نے کیوں کیا ایسا کیوں تم تو میری اولاد ہو تم تو مجھے سمجھو اللہ پاک جی آپ تو دیکھ رہے ہیں مجھے معاف کر دیں ۔
نمرہ نمرہ کہاں ہو میں کہتا ہوں سامنے آؤ میرے۔ پاس بیٹھی جنت باپ کی آواز سن کر سہم گئ تھی۔کہاں ہے تمہاری بہن ۔وہ وہ بب بابا ووہ ککمررے مییں ہے۔تم پھر سے ایسے بولنے لگی ہو تمہیں سمجھایا بھی تھا کہ یہ رک رک کے بولنے والا ڈراما میرے سامنے نہ کرنا ۔آج تمہیں ٹھیک سے سمجھاتا ہوں ۔ریحان نے ابھی مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا یا ہی تھا کہ شیزرے نے جنت کو پیچھے کر لیا تھا ۔ ریحان کیا ہو گیا ہے آپکو بچی ہے ۔آپ کو پتا ہے یہ ڈرامے نہیں کرتی جب کوئ اونچا بولتا ہے تو سہم جاتی ہے ٹھیک سے نہیں بولا جاتا اس سے ۔بکواس بند کرو تم اپنی پہلے تم نے میری زندگی کا سکون چھینا ہے اب اپنی اولاد کو اس کام پہ لگا دیا ہے ۔مرتے بھی نہیں تم لوگ ۔ ریحان یہ سب کہہ کے جا چکا تھا پر شیزرے کو پھر کسی پرانی یاد نے گھیر لیا تھا ۔ریحان اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میں مر گئ تو شیزرے پلیز چپ کر جاؤ کتنی بار کہا ہے ایسی باتیں نہ کیا کرو تم ہو تو میں ہوں ۔ماما ماما جنت نے ماں کو ہلایا تھا ۔ہاں میری جان !ماما وہ مجھے پتا نہیں لگا جنت نے زمین کی طرف اشارہ کیا تھا ۔یہ کیا کیا آپ نے جنت میں نے سمجھا یا بھی ہے جب بھی بی بی آۓ باتھ روم جانا ہے۔اب آپ بڑی ہو گئ ہو ۔ماما وہ بابا نے ڈانٹا تھا تو ۔دیکھو میری جان وہ بابا ہیں بہت پیار کرتے ہیں آپ سے ۔آئندہ ایسے نیہں کرنا آو میں آپ کو چینج کروا دوں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana

Read More Articles by Sana: 13 Articles with 18797 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2017 Views: 2015

Comments

آپ کی رائے
دل کو چھو لینے والی سٹوری،لیکن ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا۔جو ایسے لوگ ہیں اللہ پاک ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔آپ کی ایک بہت ا چھی کاوش
By: Abdul Kabeer, Okara on Aug, 04 2017
Reply Reply
1 Like
شکریہ اور اللہ پاک سب کو ہدایت دیں۔۔۔۔۔۔۔
By: Sana, Lahore on Aug, 04 2017
0 Like
heart touching story.... parh ker dil dehal gya :-( kya baap itna sifaak-dil ho skta hai....ALLAH reham kry
By: Faiza Umair, Lahore on Aug, 02 2017
Reply Reply
1 Like
Dunia her trhan ky logon sy bhari pari hy bus ALLAH PAK SB ko hadayat dyn (AMEEN)
By: Sana, Lahore on Aug, 02 2017
0 Like