بیسویں صدی ، مسلمانوں کا سیاسی وفکری بحران اور عبیداللہ سندھی کا انقلابی طرز فکر(2)

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)

اقبال نے اپنے اشعار میں عجم اور قومیت کی جو مسلسل مخالفت کی ہے مولانا کو اس پر اعتراض تھا مولانا کہتے تھے’’کہ ایسا کرنا اسلامی تاریخ کے حقائق کا انکار کرنا ہے۔ان کے نزدیک تاریخ اسلام کے اموی دور میں مسلمانوں کے جماعتی تصورات وخیالات اور ان کی ثقافت میں شامی عیسائی اور یہودی عناصر مؤثر تھے ،عباسی عہد میں ایرانی تہذیب وادب اور یونانی فلسفہ ومنطق برسر کار آئے ۔۔۔۔اسی سے تصوف اور علم کلام واسلامی فلسفہ پروان چڑھے اور ان کے ذریعہ عجمیوں نے اسلام کی ہر لحاظ سے خدمت کی اور ہندوستان میں ہندی فکر نے اسلام کے تصورات وثقافت کو جلا دی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ تاریخ اسلام کے عربوں کے دور کو مقدس سمجھ لیا گیا اور ایرانیوں،ترکوں اور ہندوستانیوں کے عہدوں کو زوال کا زمانہ مان لیا گیا ۔حالانکہ اسلام کے عالمگیر انقلاب کے اعتبار سے یہ سب دور ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اس انقلاب کا پنے مختلف مراحل میں قومی رنگ اختیار کرنا بالکل فطری تھا ۔بدقسمتی سے اقبال اسلامی تاریخ کے ارتقاء کے ان قدرتی مظاہر کو نہ سمجھا اور وہ ساری عمر عجم وعجمیت کی مذمت اور عرب وعربیت کی تعریف کرتا رہا۔‘‘(5)

مزید بیان کرتے ہیں کہ’’پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستان کے مسلمان زعماء نے کیا کچھ قربانیاں نہیں دیں محمد علی کو دیکھو ،ابولکلام کو دیکھو ،حسین احمد اور مرشد کے ساتھ مالٹا میں قید کیا جاتا ہے ہم وطن چھوڑ کر کابل جاتے ہیں ۔اپنی بساط کے مطابق سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں جنگ ختم ہونے کے بعد امر تسر میں جلیانوالہ باغ کا خونی واقعہ ہوتا ہے۔1920ء میں تحریک خلافت ،تحریک عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تحریک اس زور شور سے اٹھتی ہے کہ صرف ہندوستانی مسلمانوں میں سے ہزار ہا آدمی جیل جاتے ہیں دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زبردست شہنشاہیت کے خلاف ہندوستانی مسلمان اٹھتے ہیں یہ کتنی بڑی ہمت وجرائت کا کارنامہ ہے اور اس میں ہمارے عوام نے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں لیکن اسی زمانے میں اقبال کا فارسی کا کلام ’’پیام مشرق‘‘شائع ہوتا ہے اور اس میں امیر امان اللہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے اقبال ہندوستانی مسلمان کا ذکر یوں کرتا ہے۔
مسلم ہندی شکم را بندہ خود فروشے ،دل زدیں بر کندہ
(مسلم ہندی شکم کا بندہ ہے اپنے آپ کو بیچنے والا ہے اور اس کا دل دین سے خالی ہے)
اس کے مقابلے میں وہ افغانوں کا ذکر اس طرح کرتا ہے
ملت آوارہ کوہ ودمن در رگ او خون شیراں موجزن
زیرک وروئیں تن درروشن جبین چشم او چوں جرہ بازاں شیر بیں

ذرا اندازہ کرو کہ ہم اور ہمارے ساتھی ہندوستانی مسلمان جو افغانستان میں سالہا سال سے انگریزوں کے خلاف سیاسی جدو جہد کر رہے تھے یہ شعر چھپنے کے بعد افغانوں کے سامنے کیسے اونچی آنکھیں کر سکتے تھے اور تمیں معلوم ہونا چاہئے کہ دوسرے ملکوں میں باہر سے جانے والوں کے بارے میں تھوڑی بہت غیرت اور تعصب ضرور پایا جاتا ہے اور خاص کر سیاسی کام کرنے والوں میں اس قسم کا احساس زیادہ ہوتا ہے سیاسی کارکنوں کی باہمی رقابت اور مسابقت تو مشہور ہے یہ ہے صاحب تمہارے اقبال کا کارنامہ اور انگریزوں کے خلاف لڑنے والے ہندوستانی مسلمانوں پر اس کا احسان۔‘‘(6)

مولانا عبید اللہ سندھی علامہ اقبال کی قومیت ووطنیت دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں
’’میں مسلمانوں کی الگ الگ قومیتوں کے انکار کے خلاف ہوں بلکہ میرے نزدیک تو خود اس بر عظیم میں بڑی بڑی زبانیں بولنے والی آبادیاں قومیں ہیں،ایک خاص خطے اور ایک خاص ماحول میں رہنے والے زندگی کا ایک خاص رنگ جو سب میں مشترک ہوتا ہے اختیار کر لیتے ہیں ان کی ایک زبان ہوتی ہے اسلام کی ترقی اور نشر وشاعت کے لئے ان قومیتوں کا اعتراف ضروری ہے اور اس سلسلے میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کی عالمگیر تعلیم کو ان قوموں کی زبان میں پھیلایا جائے۔

ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے اور اس غلطی کو اپنی نہایت دل آویز،انتہائی مؤثر بڑی زوردار شاعری کے ذریعہ نوجوان مسلمانوں کے دلوں اور دماغوں میں بہت گہرا اتارنے میں اقبال کا سب سے بڑا حصہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے الگ الگ قوم ہونے کا انکار کیا اور اپنے آپ کو بس ایک عالمگیر اسلامی برادری کا ایک حصہ سمجھتے رہے۔اب امر واقعہ یہ ہے کہ مصری،عراقی ،ایرانی،ترکی یہاں تک کہ حجازی بھی ۱۰/۹ قومی ہیں اور۱۰/۱ مسلمان اور ان کے مقابلے میں ہم۱۰/۱۰مسلمان ہیں،اور ہمیں کسی قوم میں ،میں سے ہونے میں عار آتی ہے۔‘‘(7)

مزید بیان کرتے ہیں
’’اس فرضی سیاسی اسلامیت کی بدولت جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں تھی ہم مرزا غلام احمد جیسے نبی مصلح اور اقبال جیسے پیغمبر شاعر پیدا کر سکے لیکن رہے ہوا ہی میں معلق ۔کسی دوسرے مسلمان ملک میں آپ کو اس زمانے میں اس طرح کے مہدی ،مسیح معود اور نبی بننے والے مذہبی پیشوا اور قومی امنگوں اور وطنی وملکی مطالبوں وآرزؤں کو قابل توجہ نہ سمجھنے والے پیغمبر شاعر نہیں ملیں گے وہاں قومی شخصیتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے پس ماندہ محکوم اور خستہ ونزار عوام کو قومیت کے فطری جذبے کے تحت بیدار کرنے کی کوششیں کیں۔اقبال نے جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کو تو بے حدسراہا لیکن شیخ محمد عبدہ اور مصطفیٰ کمال کو نظر انداز کر دیا حالانکہ جہاں تک شیخ محمد عبدہ کا تعلق ہے مصر اور ایک حد تک سارے عربی ممالک کا دینی فکر ان سے متاثر ہے اور مصطفیٰ کمال نے تو ترکی کی ساری کایا ہی پلٹ دی ہے۔ان کے مقابلے میں نہ سید جمال الدین اور نہ حلیم پاشا کا مصر اور ترکی پر کوئی دیرپا اثر مرتب ہوا۔‘‘(8)

مولانا سندھی کے نزدیک اقبال کی زندگی کی بے عملی اور ان کی شخصیت کے تضادات اور ان کے اسلامیت قومیت کے بارے میں کیا نقطہ نظر تھااس بیان سے ملاحظہ فرمائیں
’’جوانی میں فکری ہوش سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے وطن کا ’’شخص‘‘یعنی تصوراتی وجود اقبال کے دماغ پر حاوی ہوا آگے چل کر اس کی جگہ مسلمانوں کی جماعت تصوراتی وجود نے لے لی،اور آخر تک جماعت کا یہ کابوس اس کے دماغ پر برابر سوار رہا ،کبھی کبھی خود اس کی اپنی ذات کے نفسی تقاضے جماعت کی بندھنوں کے خلاف بغاوت بھی کرتے لیکن یہ بغاوت محض شعر وشاعری تک محدود رہتی اس ضمن میں اقبال کو ایک مستقل عقلی وفکری مثبت رائے،جسے فلسفیانہ رائے کہہ سکتے ہیں کبھی نصیب نہ ہوئی ،چنانچہ اس نے جماعت کے جبر کے خلاف شاعری میں تو بغاوت ضرور کی لیکن نثر میں جہاں تشبیہات واستعارات میں اصل غرض چھپائی نہیں جا سکتی اس بارے میں انہوں نے کچھ نہ لکھا ۔‘‘(9)

مزید بیان کرتے ہیں
’’اقبال نے جماعت کو جسے وہ ملت اسلامیہ کہتے تھے ایک بت بنا لیا ان کے طبعی تقاضے ،گرد وپیش کے حالات اور خود ان کی اپنی فکری شخصیت کچھ اور مانگتی تھی وہ ان طبعی ،سیاسی اور معاشی مطالبوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈال دیتے اور جو زمانے کا چلن ہوتا،اس کا ساتھ دیتے لیکن جماعت کا ’’شخص‘‘یعنی تصوراتی وجود اور اس سے جو خصائص وامتیازات انہوں نے متعلق رکھے تھے اور اس سے جو احکام وہدایات وہ لیتے تھے یہ سب چیزیں ان کے نیم شعور میں اس طرح رچی ہوئی تھیں کہ جیسے ہی ان کو موقع ملتا وہ ان کے شعور میں عود کر آتیں اور فلسفی اقبال ایک روایت پرست بلکہ توہم پرست لاہوری مسلمان ہو جاتا ،اس حالت میں وہ اپنے آ پ کو کوستا اپنی گناہ گاری کا اعتراف کرتا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے روتا بھی ،یہاں اس کی عقلیت جواب دے دیتی۔

سچ پوچھو تو اقبال ایک روایت پرست یہودی کی طرح مسلمانوں کی موہوم جماعت کو پوجتا ہے وہ جماعت کی قیود سے نکلتا تو تھا لیکن اس کی یہ بغاوت منظم فکر کی بغاوت نہ تھی بلکہ یہ فکری آزاد روی ہوتی ،جو شعر کا موزوں لباس پہن لیتی اس کا دل اس جبر کی مخالفت کرنے کو چاہتا لیکن نوعمری کی عقیدتوں پر تشکیل شدہ شخصیت اس میں آڑے آتی چنانچہ وہ ساری عمر انہی الجھنوں میں برابر پیچ وتاب کھاتا رہا۔‘‘(10)

مزید بیان کرتے ہیں
’’میں مانتا ہوں کہ اقبال دل سے چاہتے تھے کہ قرآن کی حکومت بروئے کار آئے اور اسلام پر بالکل ایک نئی دنیا کی تعمیر ہو لیکن قرآن اور اسلام کی عملی تشریح جو آج کے زمانے میں قابل قبول اور قابل عمل ہو سکے،یہ ان کے بس میں نہ تھی کیونکہ وہ جماعت کے روایتی اثرات اور اس کے قوانین وضوابط سے ذہناً باہر نہیں نکل سکتے تھے اور قرآن واسلام کے نظام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر پیش کرنے کا وہ حوصلہ نہیں کر سکتے تھے اس لئے فکراً خواہ وہ کچھ بھی ہوں اقبال کا اسلام عملاً ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام تھا ۔‘‘(11)

درج بالا اقتباسات سے یہ لب لباب سامنے آیا کہ اقبال کی فکر عصری سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ نہ تھی کیونکہ ان کا عملی طور پر سیاسی جدو جہد میں کوئی کردار نہ تھا نیز وہ اسلامیت،کے ایک ایسے دائرے میں بند تھے اور ماضی کی تاریخ کی خوش فہیوں میں اس طرح مقید تھے کہ انہیں عربی سیادت کے علاوہ کوئی نہیں سوجتا تھا اور عجمی قوموں8 کا اسلام کی تحریک کے لئے جو کردار تھا اسے نظر انداز کیا اور جو اسلام کی ہمہ گیریت اور انسانیت دوست تحریک کا تعارف کروا کر ایک اجتماعی اور سیاسی تبدیلی کے لئے راہ ہموار کی جاتی اس کا کوئی تصور ان کے ہاں نہیں ملتا ۔مولانا عبید اللہ سندھی اقبال کے مقابلے میں ایک عملی سیاسی آدمی تھے انہوں نے دنیا کے انقلابات کا بذات خود مشاہدہ کیا ،سیاسی تنظیموں کی تشکیل وترتیب اور مختلف حکمت عملیوں اور پلان سے کام لیا،باقاعدہ تنظیم سازی کی ،سیاسی افکار وضع کئے اور باقاعدہ سیاسی ورکر کے طور پر قربانیاں دیں اور مشکلات اٹھائیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے باقاعدہ سیاسی استادوں سے تربیت حاصل کی ۔دوسرا یہ کہ مولانا سندھی اسلامیت کے دائرے میں ہی بند نہ تھے بلکہ انہوں نے انسانیت کی بنیاد ایک ہمہ گیر اجتماعی تبدیلی کا نظریہ دیا اور اقوام کی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسی اسلامی تحریک کو متعارف کروایا جو کہ کل انسانیت کی فلاح کی ضامن ہے ۔یعنی مولانا سندھی کی سیاسی اسلامی تحریک کے کارکن ایک ہندو بھی ہو سکتا ہے ایک عیسائی بھی اور ایک یہودی بھی۔اگر ان سب کا مطمع نظر عدل کی بالا دستی ہو اور انسانی حقوق کا نظام نافذ کرنا ہو ۔یہ تھی مولانا سندھی کی دینی تحریک کا نچوڑ ۔

یہاں مولانا سندھی اور اقبال کے رحجانات کا تقابل کرنے سے یہ صورت سامنے آتی ہے کہ اقبال نے اسلام کے حوالے سے جس فکر کو پیش کیا ،ایک تو جو عصری سیاسی تبدیلیاں تھیں ان کو مدنظر نہیں رکھا بلکہ ماضی کے عروج کی خوش فہمیوں اور یاد رفتہ کی سحر انگیزیوں سے نوجوانوں کو محصور رکھا۔اور پھر اسلام کی تحریک کو ایک دائرے میں بند رکھا۔اسلام کی انسان دوست ہمہ گیریت کو پیش نہیں کیا ۔لہذا ان کے افکار جن کا تعلق عمل سے کم اور فقط ذہنی آسودگی سے زیادہ تھا نے معاشرے کو ایک ایسے اسلام سے متعارف کروایا جو کہ صرف مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کا آئینہ دار تھا اور جو صرف اسلامی دائرے کی فلاح وبہبود کے لئے محرک ہو سکتا ہے نیز ایک ایسا اسلام جو کہ اجتماعی جدو جہد کی بجائے ہیرو ازم کی طرف لے جاتا ہے۔ایک ’’مرد مومن‘‘ ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔جو کہ نوجوان نسل کو ہیرو ازم کے تصور کی طرف لے جاتا ہے۔یقیناً آج بھی اس کے اثرات ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ عقیدہ بنا ہوا ہے کہ جب کوئی ہیرو یعنی صلاح الدین ایوبی،طارق بن زیاد ،ٹیپو سلطان پیدا ہو گا تو انقلاب آئے گا۔اور اسی نظریئے کی پیداوار یہ سوچ بھی ہے کہ کوئی خمینی آئے گا تو حالات بدلیں گے ۔یعنی ایک تنظیمی طاقت پیدا کر کے اجتماعی تبدیلی کی جدو جہد کرنے کی بجائے ماضی کے ہیروؤں کو یاد کر کر کے ان جیسے کسی ہیرو کی پیدائش کا انتظار کرتے رہیں اور ماضی کے خوش کن گیت گاتے رہیں نتیجہ یہ نکلا کہ اس قسم کے نظریات نے پورے معاشرے کو انفرادیت کے روگ میں مبتلا کر دیا۔اسی طرح ہیرو کے انتظار میں آج پوری مسلم دنیا اور معاشرے ذلت کے دور سے گذر رہے ہیں ۔جب اجتماعی سیاسی زوال آتا ہے تو یقیناً یہ فطری تقاضہ ہے کہ اس اجتماعی زوال کو اجتماعی طاقت اور جدو جہد ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں کے بیسویں صدی کے معاشروں میں پیدا ہونے والے ان مفکرین نے زوال کے حقیقی اسباب کو سمجھے بغیر اجتماعی سوچ دینے کی بجائے گروہیت اور ہیرو ازم کو پروان چڑھایا جس کی وجہ سے شخصیت پرستی کے جراثیم پورے معاشرے میں سرایت کر گئے جو آج تک معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔جماعت سازی پر توجہ دینے کی بجائے شخصیت پرستی کا عروج ہے ایک شخصیت جب چاہے جس طرح چاہے معاشرے کو لے جائے۔سیاسی تنظیمیں ،مذہبی حلقے ،سماجی ادارے شخصیت پرستی کی اسی بیماری میں مبتلا ہیں۔لہذا جب تک شخصیت رہتی ہے ادارہ رہتا ،پارٹی ترقی کرتی ہے ،لیکن شخصیت کے رخصت ہوتے ہی نہ تو ادارہ ،اور نہ پارٹی اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہے ۔اس طرح شخصیات کا سحر ایک اجتماعی صلاحیت پیدا ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔یقیناً آج کا معاشرہ تبدیلی کا تقاضہ کرتا ہے لیکن کسی ہیرو کے انتظار کی بجائے ہر نوجوان کو خمینی،ایوبی اور ٹیپو بنایا جا سکتا ہے یا ان کو یہ نظریہ دیا جا سکتا ہے کہ ہم مل کر ایک ایسی تنظیم سازی کریں ایک ایسی مضبوط اجتماعیت بنائیں جس کا ہر نوجوان خمینی ہو، ایوبی ہو اور ٹیپوہو اور ایک ہمہ گیر انسانی نظرئیے پر سماجی نظام کو بدل دیں ۔مولانا سندھی اور اقبال کے نظرئیے میں بنیادی فرق اسی انفرادیت اور اجتماعیت کا ہے۔۔۔۔۔(جاری ہے)حوالہ جات آخری قسط کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70148 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
04 Aug, 2017 Views: 824

Comments

آپ کی رائے