عید الانصاف یا یوم الحزن؟ فیصلہ وقت کرے گا۔

(Qazi Naveed Mumtaz, )

نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چے
پاکستان کے قیام کے بعد بیرونی سازشوں کا بچھایا گیا دشمن کا جال اس لیے کارگر ثابت ہوتا رہا کہ وطن عزیز میں سے اسے مہرے میسر آتے رہے ۔ قائد اعظم کو لیاقت علی خان سے الگ کرکے مسلم لیگ میں دراڑ ڈالنے کیلئے جب مہرے کی ضرورت پڑی تو غلام محمد نے اپنی خدمات پیش کردیں ۔ لیاقت علی خان کا خاتمہ کرنے کی ضرورت پڑی تو مشتاق گرمانی بطورمہرہ سامنے آگیا۔ خواجہ ناظم الدین وطن عزیز کو دستور دینے کے قریب پہنچے تو مولوی تمیز الدین مہرہ بنا اور انہیں برطرف کردیاگیا تو اسی طرح محمد علی بوگرا، حسین شہید اور ابراہیم اسماعیل چندری گڑھ بھی غلام محمد اور سکندر مرزا کا شکار بنے۔ ایوب خان کے دور حکومت میں نظریۂ ضرورت کی نبیادرکھی گئی ۔ جرنیل کے آئین شکن اقدام کو ججوں نے تحفظ دیکر تاریخ میں منصف کے ہاتھوں انصاف پر خود کش حملہ کرادیا۔ 1964کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح مادر ملت کو دھاندلی کے ذریعے شکست دلوائی گئی ۔ ایک طرف قائد اعظم کی بہن اور ایک طرف اسٹیبلشمنٹ تھی ․․․․․ اور اسٹیبلشمنٹ جیت گئی ۔ اس قوم نے اپنے بانی کی بہن کو انصاف نہ دیا ۔ یحییٰ خان کا دور آیا تو یہی کہا جاسکتاہے :
تو ادھر اُدھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کہاں لُٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے

جب وہ اقتدار سے الگ ہوا تو پاکستان دولخت تباہ وبرباد ہوچکا تھا مگر بھٹو جیسے بااختیار اور طاقتور وزیر اعظم کو بھی یحییٰ خان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوئی لیکن وطن عزیز کی مٹی نے اپنے قائد سے وفا کی اور یحییٰ خان کی آخری آرام گاہ پاکستان میں نہیں ، لیکن بھٹو کا انجام کیا ہوا؟ نواب احمد قصوری کے قتل کے جرم میں ججز نے بظاہر اسے پھانسی دی مگر نسیم حسن شاہ مرتے مرتے یہ بتا گئے کہ ججز کا وہ فیصلہ دراصل کہیں اور لکھا گیا تھا اور ججز تو صرف بطور مہرے استعمال ہوئے ۔ محمد خان جونیجو فلپائن کے سرکاری دورے پر ہوتے ہوئے برطرف کردئیے گئے تو یہ غیر آئینی اقدام نہ تھا لیکن سری لنکا کے دورے پر گئے جب ایک آرمی چیف کو برطرف کیاگیا تو چند لمحوں میں بدلنے والوں نے نقشہ ہی بدل دیا اورپھر قوم کے نوسال ایک مردواحد نے برباد کردیئے۔ لال مسجد میں جرم کے مرتکب عبدالعزیز اور عبدالرشید تھے مگر سفاک حکمران نے سینکڑوں بچے بچیوں کو قتل کرکے مسجد کو مقتل بنادیا۔ لائبریری یہ سمجھ کر اڑا دی گئی کہ شاید اس میں اسلحہ ہو۔ اکبر بگٹی کو سیاسی دھارے سے الگ کرکے قتل کر دیا گیااور بلوچستان میں وہ آگ لگی جو آج تک نہیں بجھی۔ عافیہ صدیقی کو طشت پہ رکھ کر امریکہ کو پیش کردیا گیا۔ مشرف نے ہر پاکستانی کی قیمت وصول کرکے اپنے ایئر بیس اور اڈے تک امریکہ کے حوالے کردئیے۔ 60حاضر سروس ججز کو قید کردیاگیااور 12مئی کو کراچی میں پاکستانیوں کے بہتے لہو پر مکے لہرا کر جشن منایا گیا۔جب اس کے اقتدار کا سورج ڈوبا تو اس کے محافظ میدان میں آگئے اور بالآخر آرٹیکل 6کے چنگل سے نکلتا وہ شخص کمردرد کا بہانہ کرتا دبئی جا پہنچا جہاں سے وہ مومن بن کر ایک ایسے میڈیا گروپ پر پروگرام کررہا ہے جس کو قائم کرنے کا مقصد ہی اس نظریے کو فروغ دینا تھا اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ’’ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے جیئے۔‘‘

گزشتہ پی پی پی دور میں عمران خان ، قادری اور شیخ رشید بطور سیاسی مہرے سامنے آئے ۔ گیلانی صاحب اگر بجث کا وہ حصہ اسمبلی میں Discussکرنے پر آمادہ نہ ہوتے کہ جو آج تک نہیں ہوا تو شاید میمو گیٹ ، توہین عدالت اور قادری کا دھرنا بند نہ ہوتا۔ یہ وہی میمو گیٹ تھا جس پہ میاں صاحب کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ آئے تھے لیکن زرداری نے چالاکی ، عیاری اور مک مکا سے 5سال پورے کئے او ر مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوئی جو 28جولائی 2017کو تاریخی فیصلے کے باعث ختم ہو گئی اور اس فیصلے نے بظاہر نواز شریف خاندان کی پارلیمانی سیاست ختم کردی۔ دھاندلی سے شروع ہونے والا یہ ڈرامہ طویل دورانیے کاسلسلے وار کھیل تھا جس میں دھرنا ون، دھرنا ٹو ، لاک ڈاؤن، پانامہ ، اقامہ اور آسمانی فرشتوں کی JITکی قسط وار سیریل چلتی رہی ۔ ڈائریکٹر، رائیٹر اور ہدایتکار تو وقت سامنے لائے گا لیکن مہرے یعنیاداکار واضح ہیں عمران خان، شیخ رشید اور دیگر۔ فیصلے کے بعد ایک مخصوص میڈیا گروپ بول نے جس کا یہ الزام تھا کہ جیو اور اس کے ہم خیال میڈیا ہاؤسز نواز شریف کا تحفظ کررہے ہیں اور اس سے پیسہ کھارہے ہیں کے جانبدارانہ صحافت کی ایک تاریخ رقم کی ۔ باقاعدہ فتح کے شادیانے بجا کر سازش کی کامیابی میں اپنے کردار پر آپس میں مبارکباد شیئر کی۔ اس کو عید الانصاف کہہ کر فیصل جاوید ، فیصل عزیز ، سراج الحسن و دیگر نے اپنی چرب زبانی سے یہ ثابت کیا کہ صحافت ہے ہی زرد، وہ اُدھر ہو یا ادھر لیکن مجھے ذاتی طور پر افسوس اور تکلیف تب ہوئی جب میں نے علم و حکمت کے لبادے میں لپٹے ایک مذہبی سکالر کہ جنہیں اپنی فصاحت و لیاقت پر مان ہے کوغیبت ، بہتان درازی، گالم گلوچ کرتے سنا۔ ان کی عادت ہے کہ وہ فوراً خود کو نہ پسند آنے والے حکمران کو یزید بنا کر اسے کربلا تک لے جاتے ہیں جبکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ موصوف22اگست تک الطاف حسین جیسے ہلاکو کے ترجمان اور مشیر رہے ، کیونکہ ہمارے ہاں 700چوہے کھانے کے بعد بلیاں حج پہ جاتی ہیں او رپھر حاجی کہلاتی ہیں تو ان ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے ۔ PTIاور ا سکے حامیوں کا جشن تو سمجھ آتا ہے لیکن سب سے بڑے میڈیا گروپ کے دعویداروں کا تین روزہ عیدالانصاف منانا سمجھنا ہو تو قصہ مشتاق گرمانی اور تمیز الدین سے شروع کرنا پڑتا ہے ۔ آئین کا آرٹیکل 62اور63کسی ایک فرد واحد کیلئے تلوار نہیں ۔ اب یہ آرٹیکل اپنا دائرہ کاروسیع کرتے ہوئے ہر فیصلہ ساز قوت کو صادق اور امین کے ترازو میں تولے کیونکہ سیاستدانوں کو منتخب ہونے کے بعد چند لمحوں میں گھر بھیجنے کی 70سالہ روایت پر جاری رہنا ریاست کیلئے کوئی نیک شگون نہیں اور آئین شکن جرنیل کا عدالتوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر کمر درد کا بہانہ کرے کے ڈانس پارٹیوں میں شریک ہونابھی وہ شگونِ بد ہے کہ جس پر ریاست کو توجہ دینی ہوگیا۔ ان تاریخی حقائق کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ لیاقت علی خان سے نواز شریف تک ہمیشہ سویلینز ہی زد میں آئے۔ گولی سے شروع ہونے والا سفر برطرفی ، تختہ دار اورجلاوطنی طے کرتا ہوا نااہلی تک پہنچا لیکن انہی معزز عدالتوں نے مشرف کو وہ بھی عطا کیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔ آج ایبٹ آباد کمیشن ، محمود الرحمن کمیشن، لیاقت علی قتل کیس کی رپورٹس قومی سلامتی اور قومی مفاد کے نام پر دبادی جاتی ہیں لیکن ایک فرشتوں کی JITمخبر کے ذریعے غیر تصدیق شدہ کاغذات کے انبار لگا دیتی ہے اور اس کی رپورٹ کو بنیاد بناکر اسے اتنی عزت دی جاتی ہے کہ اب وہ اپنے دفتروں میں جن کے ماتحت ہیں وہ نہ انہیں ٹرانسفر کرسکتے ہیں اور نہ ہی پوچھ گچھ کرسکتے ہیں۔ گزشتہ کئی مضامین میں سابق حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی ،اختلاف اور مثبت تنقید پر کاربند رہتے ہوئے قطعاً ایسا نہیں کہ سول بالا دستی کا نظریہ میری ذات سے علیحدہ ہوگیا اور نہ ہی تاریخی حقائق کو فراموش کیا جاسکتا ہے ۔ عید الانصاف پہ شکرانے کے نوافل پڑھنے والوں کواپنے کارکنوں کو فرض نمازوں کی ترغیب بھی کرنی چاہئے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ذاتی بغض ، کینہ اور حسد میں اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ TVپہ سرعام تمسخر اڑائے اور گالیاں دے ، سکالر 12مہینے کا سکالر ہوتاہے صرف رمضان ،محرم او رربیع الاول میں نہیں ۔ ہمارے ہاں وقت ہی ہے جو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرتا ہے ۔ پانامہ ایک حقیقت تھی یا فسانہ ؟ عمران خان او رمختلف پارٹیوں سے آئے اس کے حواری انصاف پسند ہیں یا سیاسی مہرے ،نواز شریف کو ق لیگ سے آئے سیاسی لوگوں نے اداروں سے الجھایا یا پھر وجہ سی پیک ہے ؟شریف خاندان کی سیاست کا خاتمہ ہوا یا انہیں یہاں سے ایک نیا نقطۂ عروج ملے گا۔ مشرف آئین شکنی کے الزام میں کٹہرے میں لایا جائے گا یا ایک بار پھر ایوان صدر میں بٹھایا جائے گا؟ 62اور 63کی تلوار کیا اور بھی سیاست دانوں کو اپنا شکار کرے گایا یہاں انصاف کے معیار کسی کیلئے کچھ کسی کیلئے کچھ ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم پارلیمانی نظام سے ایک بار پھرصدارتی نظام کی جانب سفر کررہے ہیں ۔ پاکستان کا آئندہ سیٹ اپ الیکٹڈ ہوگا یا سلیکٹڈ؟اس 4سالہ ڈرامے کے اداکاروں کولکھاری کسطرح اور کن عہدوں پر بیٹھ کر نوازے گا؟ قوم بول اور اس کے ہم خیال جماعت اور اداروں کے ساتھ عید الانصاف منائے یا PMLNیا سول بالا دستی کی خواہش رکھنے والوں کے ساتھ یوم الحزن؟ ان تمام سوالات کا جواب آنے والا وقت ایک ایک کرکے قوم کے سامنے لے آئے گالیکن اختلافات میں الجھی قوم کو یکجا ہوکر اپنے ارد گرد منڈلانے والے تباہی کے بادل بھانپ کر وطن کے دفاع کیلئے متحد ہونا ہوگا۔ یہی اس جشن یوم آزادی کا تقاضا ہے اور یہی اس بارکا ’’کڑوا سچ‘‘ ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Naveed Mumtaz

Read More Articles by Qazi Naveed Mumtaz: 28 Articles with 13368 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2017 Views: 197

Comments

آپ کی رائے