قیام پاکستان کا مقصد……!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ آج ہر پاکستانی 70 واں جشن آزادی پاکستان پورے جوش و جذبے کیساتھ منائے، اور جشن آزادی مناتے ہوئے قیام پاکستان کے مقصد پر غور کرے۔ ذہن کے گوشہء میں سوئے ہوئے افکار کو زندہ کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کی یادیں تازہ کرے ، اپنی بصیرت سے قیام پاکستان کے لئے چلائی گئی تحاریک کودیکھے، قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کے حالات کو چشم تصور میں لائے ، اور قیام پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے غور کرے کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا ۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کس ریاست کا خواب دیکھا تھا؟بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کس لئے ایک علیحدہ ریاست کی جدو جہد کی تھی؟ پھر یہ حقیقت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ مختلف صوبوں، علاقوں، قوموں اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جس قوت نے ایک متحد قوم بنا دیا وہ قوت اسلامی نظریہ تھا۔ کلمہ طیبہ کی برکت اور طاقت سے 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947ء کے دن اﷲ ربّ العزت کے خاص فضل و کرم سے ایک آزاد خود مختار، اسلامی فلاحی ریاست، پاکستان کامعرض وجود میں آنا بلاشبہ عوام پاکستان کے لیے قدرت کا ایک بہت بڑا انعام ہے، اور کلمہ طیبہ ہی ہمارا نظرئیہ پاکستان ہے۔ نظرئیہ پاکستان کے دو الفاظ کو اگر ایک لفظ میں ادا کرنا ہو تو وہ اسلام ہے۔ گاندھی اور نہرو کی مطالبہ پاکستان کے خلاف دلیل یہی تھی کہ تبدیلی مذہب سے قوم تبدیل نہیں ہوتی، نیشنلسٹ علماء بھی یہی نقطہ نظر رکھتے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے مذہب سے نہیں لیکن شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح دونوں کا پرزور موقف یہ تھا کہ مسلمان اپنے الگ مذہب کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم ہیں۔ گویا جتنی چاہے بحث اور تجزیہ کر لیں تحریک پاکستان کی بنیاد اسلام ہے، اسلام ہی نے ہمیں قیام پاکستان کے مخالفین کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار بنا دیا تھا۔ قائد اعظم کے مشہور سلوگن ایمان، اتحاد اور تنظیم پر ہی غور کر لیں کہ ایمان کی طاقت نے ہمیں متحد کیا، ہم ایک قوم بنے اور ہم اپنے لئے ایک الگ علاقہ، مملکت اور وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ 8مارچ 1944ء کی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائد اعظم کی تقریر کا یہ مختصر ترین اقتباس دیکھیں۔ ’’پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے،وطن اور نسل نہیں‘‘۔ قیام پاکستان کی نظریاتی بنیاد کے جو دشمن یہ اظہار خیال کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ قرار داد لاہور میں اسلام کا حوالہ موجود نہیں اور نہ ہی قیام پاکستان کے بعد نفاذ اسلام کا کوئی عزم و ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر غور کریں کہ قائد اعظم کے نزدیک کلمہ توحید کے مختصر ترین الفاظ کا مفہوم کتنا وسیع تھا کہ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان اسی دن معرض وجود میں آگیا جب ایک ہندو مسلمان ہو گیا۔ قائد اعظم نے اسلام کو پاکستان کا جذبہ محرکہ اور وجہ جواز بھی قرار دیا ۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جس کا حقیقت کی دنیا میں تو کیا خواب میں بھی کوئی وجود نہ تھا، صرف اسلام نے دنیا کے نقشے کو تبدیل کر کے اس نئے ملک کی بنیاد رکھ دی اور ساتھ ہی دنیا میں ایک نئی مثال قائم ہو گئی کیوں کہ صرف مذہب کے نام پر ہندوستان تقسیم ہوا تھا۔ سیکولر ازم کا ڈھول بجانے والے اگر اس دور کے ہندو اخبارات میں ہندو سیاست دانوں کے بیانات پڑھ لیں تو انہیں علم ہو جائے گا کہ ہندو طبقہ پاکستان کی مخالفت ہی اس وجہ سے کر رہا تھا کہ وہ پاکستان کے مطالبہ کو اسلام ازم کی ایک کڑی سمجھتے تھے ۔

قیام پاکستان کا مقصد تھا کہ یہاں اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم پر نازل ہونے والی اﷲ کی آخری اور جامع کتاب قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق نظام حکومت قائم کیا جائے گا ۔ قائد اعظم کے درج ذیل فرمان کو ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوجی امور، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے‘‘۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کا یہ حکم بھی یاد کروایا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن حکیم کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھے تاکہ وہ اس سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کر سکے۔‘‘ قائد اعظم نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’پاکستان سے صرف حریت اور آزادی مراد نہیں اس سے فی الحقیقت مسلم آئیڈیاجی مراد ہے جس کا تحفظ ضروری ہے‘‘۔ غور کریں اگر قرآنی تعلیمات اور قرآنی احکامات کو نافذ کرنے کا مطلب سیکولر ازم نہیں ہے تو پھر قائد اعظم کی سوچ کو سیکولر کیسے کہا جا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جس نظریہ کی برکت سے ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا اسی نظریے یعنی قرآن کریم کی اصولی ہدایات پر عمل کر تے ہوئے اور اسوہ رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی پیروی سے ہم پاکستان کو ایک خوبصورت اور بہترین ملک بنائیں۔ آج ا سلام دشمن اور پاکستان دشمن عناصر تو پاکستان کے خلاف متحد نظر آتے ہیں مگر ہم اہل پاکستان مختلف فرقوں ، قوموں ، اور گروہوں میں بٹے ہیں ، آج ہمارے درمیان باہمی اتفاق و یکجہتی کا فقدان ہے ۔پاکستان کی بہادر مسلح افواج اہل پاکستان کو امن و امان کی فراہمی کیلئے برسر پیکا ر ہے ، عوام پاکستان کے سکون کی خاطر آئے روز افواج پاکستان کے بہادر سپاہی جام شہادت نوش کررہے ہیں ، مگر ہم اہل پاکستان کی تو جیسے کوئی زمہ داری ہی نہیں۔ آج ہم اہل پاکستان کو باہمی تنازعات اور فرقہ بندیاں، صوبائی و علاقائی تعصب بھلا کر پاکستان کو امن و امان کا حامل ایک مضبوط و محفوظ ملک بنانا ہے، بلاشبہ ہم قرآن کریم کی اصولی ہدایات پر عمل ، اور سوہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی کر تے ہوئے اپنے بہترین اخلاق اور مثبت کردار سے پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 782 Articles with 336809 views »
Journalist and Columnist.. View More
15 Aug, 2017 Views: 280

Comments

آپ کی رائے