امّاں رتھ فاؤ

(Munir Bin Bashir, Karachi)
کئی مرتبہ جذام کے مریض کے لواحقین اپنے مریض کو چھوڑ جاتے تو پھر دوبارہ دیکھنے نہیں آتےتھے -ایسی صورتحال میں اس مریض کے انتقال کی صورت میں یہ نیک دل خاتوں اس کے اسلامی طریقے سے جنازے کا انتظام بھی کرتی تھیں -

واللہ یحب المحسنین
بے شک اللہ احسان کرنے والوں (اچھا کام کر نے والوں ) کو دوست رکھتا ہے

امّاں رتھ فاؤ نے بھی تو اچھے ہی کام کئے تھے -
ہاں امّاں رتھ فاؤ -
جرمنی کی خاتون جنہوں نے پاکستان میں جذام اور کوڑھ کے خاتمے کے لئے علاج گاہوں کا ایک سلسلہ کھولا اور اس مرض کا پوری طرح سے قلع قمع کر کے دم لیا -

ان علاج گاہوں میں ایک علاج گاہ ‘ منگھو پیر کراچی میں تھی - وہاں کے مقامی افراد انہیں امّاں کہہ کر ادب سے بلایا کرتے تھے - جب وہ لوگ انہیں امّاں کہتے تو لگتا کہ دل کے اندر چھپی ہوئی پوری محبت ان کے اس لفظ امّاں میں انڈیل دی گئی ہے -
جذام اور کوڑھ کی بیماری کیا ہے ؟ میری نسل کے افراد تو اسکے بارے میں بخوبی آگاہ ہیں لیکن شاید ہماری نوجوان نسل اس سے واقف نہیں کیوں کہ جب انہوں نے جنم لیا تو امّاں رتھ فاؤ اسے نیست و نابود کر چکی تھیں -

ملحقہ تصویر دیکھئے --لوگوں کے ہاتھ پاؤں جھڑ گئے ہیں - انگلیاں غائب ہیں - پیپ بہہ رہا ہے - کھال سفید ہو کر خود بھی پیپ سے آلودہ لگ رہی ہے -
ہاں کوڑھ اور جذام ایسی ہی ہیبت ناک بیماری تھی کہ مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا تھا ‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہےتھی اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہےتھا ‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی تھی - کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے تھے- ان کے جسم کی حالت دیکھ کر کئی لوگوں کو تو ابکائی بھی آجاتی تھی - اس بیماری کو نہ وبائی بیماری کہا جاتا اور نہ ہی اسے خدائی بلکہ اسے بد دعائی بیماری قرار دیا جاتا اور کہا جاتا کہ بددعا کا علاج نہیں -
چنانچہ جب علاج ہی نہیں تھا تو جسے کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا کئی ممالک میں اسے شہر سے باہر ڈال دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔ اگر گھر میں رکھتے تو دور دراز ایک کونا اس کا مسکن قرار پاتا اور کھانافاصلے سے پھینک دیتے یا کسی برتن میں رکھ کر لاٹھی کے ذریعے آگے کھسکا دیتے تھے -

تھا کوئی مسیحا اس ملک پاکستان میں جو لوگوں کو اس سے نجات دلاتا ؟

یہ مرض ترقی یافتہ ملکوں میں بہت کم تھا اس لئے اس کے بارے میں تحقیق بھی کم ہوئی تھی سو پاکستانی ڈاکٹر بھی اس کے علاج سے واجبی سی آگاہی رکھتے تھے - ایک مشورہ دیا جاتا منگھو پیر کراچی جاؤ - وہاں گندھک کے پانی کے چشمے ہیں اور بہت سے مگر مچھ بھی رہتے ہیں - وہاں کے مگر مچھوں کی خدمت کرو اور گندھک کے پانی سے نہاؤ شاید بد دعا کا اثر ختم ہو جائے -- یہ تھا اس کا درمان یا علاج -
دنیا میں کئی بڑے بڑے واقعات حیرت انگیز طریقے سے ظہور پذیر ہوئے -اسی طرح بڑی بڑی ایجادات عجیب طریقے سے وجود میں آئیں - مثلا" کولمبس کو ہی دیکھیں ہندوستان کا نیا راستہ ڈھونڈنے نکلا تھا اور امریکہ دریافت کر بیٹھا - اسی طرح 1960میں رتھ فاؤ 31 سال کی عمر میں بھارت کے لئے نکلی تھیں کہ وہاں کے لوگوں کی خدمت کروں گی لیکن کسی سبب سے انہیں پاکستان رکنا پڑا اور یہاں اس مرض کے شکار لوگوں کو دیکھ کر یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا اور پھر ساری عمر یہاں بتا دی - ان کا انتقال 88 برس کی عمر میں اگست 2017 کو کراچی میں ہوا -

انہوں‌نے اپنی خدمت کا آغاز ایک ٹینٹ نما خیمہ لگا کر کیا اور تین سال تک ایسے ہی حالات میں اپنی خدمات جاری رکھیں - تین سال بعد مناسب کلینک کھولنے کے قابل ہوئیں - وہ کہتی ہیں کہ جب میں‌وہ پاکستان آئیں انہیں بھی اس بیماری کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا - صرف کتابیں پڑھ کر اور اندازے سے علاج کیا کرتی تھیں لیکن بعد میں تربیت کے لئے بھارت گئی اور وہاں سے واپسی پر زیادہ بہتر انداز میں جذام کے مریضوں کا علاج کر نے لگیں‌ -

چودھری افضل حق اپنی کتاب "زندگی " میں کہتے ہیں کہ بہبود کے کام کو خوش قسمت اقوام کامیابی سے ہم کنار کرتی ہیں - خود غرض افراد سے یہ کام نہیں ہوتا -

اماں رتھ فاؤ کی زندگی کا جائزہ لیں تو اس میں کافی حقیقت دکھائی دیتی ہے - یہ ان کی بے غرضی تھی کہ بالاخر پاکستان سے جذام کا جڑ سے خاتمہ ہو گیا - اور پاکستان ایشیا کا پہلا ملک قرار پایا جس نے اس مرض سے چھٹکارہ پایا - نئی نسل کو پتہ ہی نہیں کہ ہم پرانی نسل والے ماضی میں کیسے اس کرب ناک دور سے گزرے ہیں - ایک نئی نسل کے نوجوان نے فیس بک پر کہا "نئی نسل ان باتوں سے بے زار ہے " لیکن اللہ تعالیٰ تو بیزار نہیں بلکہ وہ تو سورہ طہٰ کی آیت 128 میں کہتا ہے “ جہاں تم چل رہے ہو -جن علاقوں میں تم رہ رہے ہو -انہی علاقوں میں کتنی ہی اقوام (یا افراد ) کو اس سے قبل ہلاک کردیا تھا -کیا یہ چیز تمہارے لئے باعث ہدایت نہیں بنتی - “

نئی نسل کو چاہیئے کسی سے کچھ معلوم کر لے اور نہیں کرنا چاہتا تو انٹر نیٹ سے ہی مدد لے لے کہ جذام اور کوڑھ سے کتنے افراد ہلاک ہو رہے تھے اور کیسی درد ناک موت ہوتی تھی اور اس کے بعد سوچے کہ کیا سبق سیکھا یا کیا ہدایت حاصل کی -امّاں رتھ فاؤ کی خدمت کے یہ پہلو ہمارے لئے کئی اسباق رکھتے ہیں -

امّاں رتھ فاؤ نے اپنے ایک انٹرویو جو کہ اخبار جہاں میں پاکستان کی جشن طلائی کی تقریبات کے موقع پر شائع ہوا تھا کہا تھا کہ ان اداروں کو چلانے کے لئے تقریبا" اسی فیصد پیسہ جرمنی سے آتا ہے - 1960 میں جب میں آئی تھی تو تب پاکستان واقعی غریب ملک تھا لیکن اب 1997 میں نہیں - میرے خیال میں تو یہاں بہت سے لوگ جرمنی سے زیادہ خوشحال ہیں -وہ اپنے ملک کے لئے ہی تھوڑی بہت امداد تو دے سکتے ہیں یہ مریض انہی کے ملک میں بستے ہیں -آخر کب تک یہ لوگ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا ئیں گے "

پاکستان میں یہ مرض اس زمانے میں صوبہ پختونخوا میں کافی پھیل رہا تھا - وہہاں اس بیماری پر قابو پانا بقول اماں رتھ فاؤ ایسا ہی تھا جیسا کہ ایک خونخوار کتا جو کہ پاگل بھی ہو گیا ہو پر قابو پانا - اس میں احتیاطی تدبیر یہی ہے کہ جذام کا مریض چھینکتا ہے یا سانس لیتا ہے تو جراثیم کی منتقلی سے دوسرے کو بیماری لاحق ہو جاتی ہے - اس کے علاوہ اور بھی دوسری احتیاطی تدابیر ہیں -

جذام کے مریض کو دیکھ کر گھن سی آتی ہے اور سونے پر سہاگہ اس کے جسم سے جو بدبو نکلتی ہے وہ اس گھن اور کراہت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے - لیکن آفرین ہے اس خاتون پر جس نے کبھی ان مریضوں سے کسی قسم کی نفرت کا اظہار نہیں کیا اور انہیں گلے بھی لگا لیتی تھیں تاکہ ان کا حوصلہ نہ ٹوٹے اور ان میں ہمت پیدا ہو -
یہ دنیا اللہ تعالی نے امتحان گاہ بنائی ہے -- جذام کے مریضوں کا علاج کر نا بھی ایک امتحان تھا - بلا شبہ امّاں رتھ فاؤ اس امتحان میں کامیاب رہیں - بیشک انسان خسارے میں ہے اگر اس کا آج گزرے کل سے بہتر نہیں -امّاں رتھ فاؤ نے بھی تو ہمارا آج گزرے کل سے بہتر بنایا تھا - کئی مرتبہ جذام کے مریض کے لواحقین اپنے مریض کو چھوڑ جاتے تو دیکھنے بھی نہیں آتے -ایسی صورتحال میں یہ نیک دل خاتوں اس کے اسلامی طریقے سے جنازے کا انتظام بھی کرتیں تھیں -

جذام کے مریض صحت یاب ہو کر بالکل عام آدمی کی طرح زندگی کے دن گزار سکتے ہیں یہ بات اس زمانے میں لوگوں کو سمجھانا آسان نہیں تھا - اسے سمجھانے کے لئے انہوں نے اپنے ادارے میں کچھ ملازم وہ افراد رکھے جو ماضی میں جذام کے شکنجے میں پھنس چکے تھے لیکن امّاں رتھ فاؤ کے علاج کی بدولت صحیح ہو گئے تھے - یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آخری رسومات کے موقع پر ان کے جنازے میں بہت سے افراد ایسے تھے جو ماضی میں اس مرض میں مبتلا تھے اور انکی جد و جہد سے شفا یاب ہوئے تھے - وہ ان کے جسد خاکی کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے

یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت سندھ نے ان کی خدمات کا ادراک کرتے ہوئے کراچی کے سول ہسپتال کا نام رتھ فاؤ سول ہسپتال رکھنے کا اعلان کیا ہے -

( اس کالم کی تیاری کے لئے جنگ کی رپورٹ “ڈاکٹر فاؤ ، ایک تاریخ ، ایک دور “ سے بھی مدد حاصل کی گئی )-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 696 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134724 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

بہت اچھے طریقے سے انکی خدمات پر روشنی ڈالی -بہت عمدہ -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Aug, 21 2017
Reply Reply
0 Like
Language: